دستور المرکبات
 

جوارِشِ تفَّا ح
وجہ تسمیہ
تفّاح (سیب)

جزءِ خاص ہونے کی وجہ سے اِس نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی معدہ و احشاء ، مقوی قلب و دماغ، مقوی ہضمَ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سیبِ اصفہانی ۵۰۰ گرام چھیل کر اُن کے تخم نکال لیں ، پھر شرابِ ریحانی بقدرِ ضرورت میں جوش دیں ، حتّیٰ کہ وہ گل جائیں۔ بعد ازاں اِس کو چھان کر قند سفید ۲۵۰ گرام، شہدِ مصفّیٰ ۲۵۰ گرام کا قوام تیار کریں۔ قوام تیار ہونے پر زعفران ۲ گرام، فلفل دراز، فلفل سیاہ، لونگ ۹۔۹ گرام ،زنجبیل ۱۵ گرام، اگر ۱۰ گرام کو کوٹ چھان کر اِس قوام میں گوندھیں۔ اُس کے بعد مرکب کو کسی برتن میں محفوظ رکھیں۔

مقدارِ خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔بعد غذائیں ہمراہ آبِ سادہ یا مناسب بدرقہ۔

جوارِش تمرہندی
وجہ تسمیہ
جزء خاص تمر ہندی کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
صفراوی دست، قے اور متلی میں مفید ہے، جگر، معدہ اور دِل کو قوت دیتی ہے۔ مشتہی طعام اور ہاضم ہے۔

جزء خاص
تمر ہندی (اِملی)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تمر ہندی ۵ گرام، گلِ سُرخ، کشنیز خشک ہر ایک ۱۰ گرام مصطگی، دانہ اِلائچی خرد، زرشک ،طباشیر ساذج ہندی، پوست ترنج، برگِ پودینہ ،صندلِ مسحوق (گلاب میں گھسا ہوا) ہر ایک ۵ گرام مربیٰ آملہ ایک عدد،انار شیریں ایک عدد۔ اِن میں سے جو دوائیں پیسنے کے قابل ہیں۔ اُنہیں پیس کر تمر ہندی کو عرقِ گلاب میں بھگو کر اُس کا زُلال انار کے نچوڑے ہوئے پانی میں ملائیں ، پھر سہ چند قند سفید کے قوام میں مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

جوارِشِ جالینوس
وجہ تسمیہ
اپنے موجد کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
اِمراضِ معدہ میں خاص تاثیر رکھتی ہے، وجع معدہ، سوء ہضم، ریاح، بواسیر، تبخیر، دردِ سر بشر کتِ معدہ اوربدبوئے دہن میں نافع ہے۔ بلغمی کھانسی، نقرس، کثرتِ بول ضعف مثانہ، ضعف باہ، اسہال اور زحیر کو فائدہ دیتی ہے۔ اِس کا مسلسل استعمال تمام اعضاء کو قوت دیتا ہے ، بالوں کی سیاہی قائم رکھتا ہے اور بلغمی اِمراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

جزءِ خاص
زعفران و مصطگی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سنبل الطیب، دانہ اِلائچی خرد، تج قلمی ،دار چینی، خولنجان، قرنفل، سعد کوفی، زنجبیل، فلفل سیاہ، دار فلفل، قسط شیریں ، عود بلسان اسارون، حب الاس، چرائتہ شیریں ، زعفران ہر ایک ۷ گرام، مصطگی ۲۱ گرام۔ مصطگی اور چرائتہ کو باہم ملا کر ہلکے ہاتھ سے پیسیں ، پھر دوسری دوائیں پیس کر دو چند شہد کے قوام میں ملائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

جوارِش زرعونی سادہ
وجہ تسمیہ
زرع تخم کے معنی میں آتا ہے، چونکہ یہ جوارِش تخموں پر مشتمل ہے، اِس لئے اِسے ’’جوارِش زرعونی ‘‘کے نام سے موسوم کیا گیا۔
بعض اطِبّا نے زرعونی کو زرغون لکھا ہے جو زرگون کا معرب ہے۔ چونکہ اِس معجون کا رنگ سونے کے رنگ جیسا ہوتا ہے اِس بناء پر یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
تقویت گردہ کی خاص دوا ہے۔ پیشاب کی زیادتی کو روکتی ہے۔ مؤلّدِ منی ہے۔ مقوِّی جگر، دماغ اور معدہ ہے۔ تخمہ اور بد ہضمی میں مفید ہے۔ جوارِش زرعونی استعمال کرتے وقت بطور بدرقہ عرق گذر، عرق بادیان، عرق گلاب اور عرقِ گاؤ زباں کو تجویز کیا جاتا ہے۔

جزء خاص
زعفران

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تخم گزر، تخم اسپست، تخم کرفس، تخم خرپزہ، تخم خیارین، نانخواہ، بادیان، قرنفل ،پوست بیخ کرفس، فلفل سیاہ ہر ایک ۲۵ گرام عاقر قرحا، دار چینی ، زعفران ، مصطگی، عود خام، جاوتری ہر ایک ۱۰ گرام جملہ ادویہ کو کوٹ پیس کر سہ چند شہد کے قوام میں مرکب کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

جوارِش زرعونی عنبری بہ نسخۂ کلاں
وجہ تسمیہ
عنبر کی شمولیت کی وجہ سے ’’جوارِش زرعونی عنبری‘‘اِس کا نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
گردہ و مثانہ کو قوت دیتی ہے اور کمر اور ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتی ہے۔ پیشاب کی زیادتی میں مفید ہے۔ مادّہ تولید کو بڑھاتی اور جگر، دماغ اور معدہ کو تقویت دیتی ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ثعلب مصری،، مغزسر کنجشک، قضیب گاؤ، خارخسک، خرما، چرائتہ شیریں ہر ایک ۱۰ گرام ،تخم کرفس ، تخم گذر، تخم شلجم، تخم شبت، تخم خرپزہ، تخم خیارین، حب القلقل، حب الزلم ،نانخواہ، بادیان ،مغز چلغوزہ، نارجیل، بیخ کرفس ہر ایک ۲۵ گرام ،عنبرا شہب ۵ گرام ، مشک خالص ۲ گرام، قرنفل جاوتری جائفل، فلفل سیاہ، عاقر قرحا، کبابہ خنداں ، زنجبیل،گُلِ سُرخ، تج قلمی، فلفل دراز، تخم اسپست، تخم جرجیر، تخم پیاز، تخم گندنا، حب الرَّ شاد،تخم انجزہ ہر ایک ۱۰ گرام، زعفرانِ کندر، مصطگی ، عود ہر ایک ۱۵ گرام، بہمن سُرخ، بہمن سفید، بوزیدان، شقاقلم، اندر جو شیریں ہر ایک ۲۰ گرام کو ٹ پیس کر قند سفید ۷۵۰ گرام شہد خالص سوا کلو کے قوام میں ملائیں۔ مشک عنبر اور زعفران کو عرق کیوڑہ میں حل کر کے علیحدہ سے شامل کریں۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ گرام۔