دستور المرکبات
 

جوارِش
وجہ تسمیہ
جوارِش فارسی لفظ گوارِش کا معرب ہے۔ جوارِشات زیادہ تر ہضمِ طعام کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اطِبّاء ایران کی ایجادات میں سے ہے۔امراض معدہ کی مخصوص دوا ہے۔
جوارِش معجون کی ایک قسم ہے۔ جوارِش اور معجون میں یہ فرق ہے کہ جوارِش دواء مرکب خوش مزہ کو کہتے ہیں جب کہ معجون کے لئے خوش مزہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
جوارِشات کی تیاری میں اُن تمام اصول و ہدایات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے جو معجون کی تیاری کے سلسلہ میں بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ جوارِشات کا سفوف دیگر تمام معاجین کے مقابلہ میں موٹا اور دُردُرا (coarse ) ہونا چاہیے تاکہ یہ سفوف معدے کی اندرونی سطح میں واقع ہونے والے خمل( Villi) اور پیچوں (folds) میں کچھ دیر تک ٹھہر کر ہضم غذا میں مدد دے سکے اور دیگر امور میں معدہ کی مدد کر سکے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس کے سفوف کا دُردُرا ہونا ضروری نہیں ہے۔

جوارِش آملہ
وجہ تسمیہ
اپنے

جزءِ خاص آملہ کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
ضعف معدہ میں مفید ہے۔جگر ، قلب اور دماغ کو قوت بخشتی ہے۔ تبخیر اور صفراوی دستوں کو فائدہ دیتی ہے۔

جزء خاص
آملہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آملہ سو گرام چوبیس گھنٹے تک دودھ میں بھگوئیں۔ پھر آملہ کو پانی سے دھو کر دوسرے پانی میں جوش دیں۔ بعد میں مل چھان کر ایک کلو شکر کے قوام میں ملائیں اور مرکب تیار کریں۔
جوارِش آملہ بہ نسخۂ دیگر: آملہ خشک ۶۰ گرام ،پوست ترنج ،صندل سفید ، ہر ایک ۱۵ گرام ، پوست بیرون پستہ، دانہ، ہیل خرد ہر ایک ۱۰ گرام۔ آملوں کو ۲۴ گھنٹے دودھ میں بھگوئیں۔ پھر پانی سے دھوکر دوسرے پانی میں جوش دیں اور مل چھان کر دوسری ادویہ کے سفوف کے ساتھ قند سفید دو کلو کے قوام میں ملائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

جوارِش انارین
وجہ تسمیہ
دونوں قسموں کے انار( ترش و شیریں ) کی شمولیت کی وجہ سے اِس کو ’’جوارِش انارین‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
معدہ اور جگر کی تقویت کے لئے خاص ہے۔ مشہتی طعام ہے۔ اسہال میں مفید ہے۔ خون کے سُرخ ذرّات میں اِضافہ کرتا ہے۔

اجزاء خاص
انارین

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبِ انار شیریں ، آبِ انار ترش، آبِ لیموں کاغذی ہر ایک ۱۷۵ ملی لیٹر شربت حب الاس ۱۵۰ ملی لیٹر آبِ پودینہ سبز، شیرۂ مربیٰ آملہ، شربت لیموں ہر ایک ۷۵ ملی لیٹر، عرقِ گلاب ۴۰ ملی لیٹرمصطگی، دانہ ہیل خرد، زہر مہرہ ہر ایک ۵ گرام زرِوَرد، وَج ترکی، جائفل، عود شرریں ،طباشیر ہر ایک ۲ گرام۔جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر درجِ بالا آبیات مین قند سفید ۷۵۰ گرام کا قوام کر کے مرکب بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدارِ خوراک
۵تا ۱۰ گرام، بعد غذائیں۔

جوارِش بِسباسہ
وجہ تسمیہ
اپنے جزء خاص جاوتری سے منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
برودت معدہ اور بد ہضمی کو رفع کرتی ہے۔ ریاحی درد وں میں مفید ہے۔ کھانے کے بعد اِس کا استعمال ہضم طعام میں مدد دیتا ہے۔ ریاح کی پیدائش اور کلانی شکم (پیٹ بڑھنے )کو روکتی ہے۔نافع بواسیر، دافع ریاح غلیظہ ہے۔

جزء خاص
بسباسہ (جاوتری)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بسباسہ، تج قلمی، ہیل خرد، زنجبیل ، فلفل دراز، دار چینی، اسارون ہر ایک ۱۰۔۱۰ گرام قرنفل ۲۰ گرام فلفل سیاہ ۲۵ گرام، ہیل کلاں ۵۰ گرام۔ تمام ادویہ کو کوٹ پیس کر قندِ سفید ۵۰ گرام کے قوام میں ملائیں اور مرکب بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام