دستور المرکبات
 

برشعشا ء
وجہ تسمیہ
یہ سُریانی لفظ ہے، جس کا معنی براءالساعۃ : یعنی ایک ساعت میں فائدہ دینے والی یا فوری شفا دینے والی دوا ہے۔قدیم یونانی اطِبَّا کی ایجادات میں سے ایک ہے جس میں جالینوس (Claudius Galen ) نے کچھ تصرفات کئے اور نسخہ کو از سرِ نو مرتب کاک، سریانیوں کے یہاں افلونیاء رومی نام کی دوا کے جس نسخہ میں شیخ الرئیس بو علی سینا نے نئی ترتیب دی ، اِس دواء کو برشعشاء کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ معجون برش کے نام سے بھی مشہور ہے۔داؤد انطاکی کی رائے میں بھی یہ قدیم اطِبّا کی ایجاد ہے جس کے بہت سے نسخے ہیں
۱۔ شیخ الرئیس بو علی سینا کا نسخہ ۲۔ عمادالدین محمودشیرازی کا نسخہ
۳۔ داؤد انطاکی کا نسخہ ۴۔ محمود بن الیاس شیرازی کا نسخہ
۵۔ ابنِ جزلہ کا نسخہ ۶۔ ھبتہ اللہ ابو البرکات کا نسخہ

افعال و خواص اور محل استعمال
نزلہ زکام اور امراض دماغی و سوداوی میں مفید ہے، فالج لقوہ، ضعف اعصاب صرع، رعشہ، نسیان، ہذیان، مالیخولیا، سُبات سہری، دوار، طنین، منھ کی بدبو، سعال، کثرتِ لعاب دہن، قولنج، دردِ معدہ و جگر، ضعف جگر، استسقاء اور سرعت انزال میں بھی مستعمل ہے۔ زہروں کے لئے تریاق ہے۔

جزء خاص
افیون

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
اِس کے مختلف نسخے ملتے ہیں
قانونِ ابنِ سینا کے نسخہ کے مطابق: فلفل سیاہ، فلفل سفید اجوائن خراسانی ہر ایک ۶۰ گرام ، افیون ۳۰ گرام ،زعفران ۱۵ گرام ،سنبل الطیب ،عاقر قرحا، فرفیون ہر ایک چار گرام سب کو کوٹ پیس کر سہ چند شہد کے قوام میں ملائیں پھر تین مہینہ تک جو میں دفن رکھنے کے بعد ْاستعمال کریں۔ اِسی لئے اِس کو دَواء الشعیر بھی کہتے ہیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ۲ گرام۔
نوٹ : اُس کی قوت پانچ سال تک قائم رہتی ہے۔

بَرود کافوری
وجہ تسمیہ
برود کے معنی ٹھنڈک پہونچانے والا یا ٹھنڈی دوا کے ہیں۔ کافور کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام برود کافوری رکھا گیا۔ سوزشِ چشم میں ٹھنڈک پہونچانے اور بغرض علاج مستعمل ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
آنکھ کی سوزش ، سُرخی اور گرمی کو نافع ہے۔ ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔

جزء خاص
کافور

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سنگِ بصری (توتیائے کرمانی) ۶۰ گرام (کچے انگور کے رس (بقدرِ ضرورت) میں تین روز تک بھگو کر خشک کر لیں ، بعد ازاں ) کافور ایک گرام کو خوب باریک سرمہ کی طرح پیسیں اور بوقت ضرورت آنکھ میں لگائیں۔

بنادق البذور
وجہ تسمیہ
بنادق بندقہ کی جمع ہے ،اِس کے معنی غُلّہ یا گولی کے ہیں ، یعنی وہ موٹی گولیاں جو غُلّہ کے برابر ہوتی ہیں۔ جن کا وزن تقریباً ۴ گرام ہوتا ہے۔ چونکہ اِ س نسخہ کے اجزاء میں بزور (تخم)کثرت سے شامل ہیں ، اِس لئے اِس کو بنادق البذور کا نام دیا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
تخم و بزور نافع سوزش بول، دافع قرحۂ گردہ و مثانہ، وجع الکلیہ ، دافع احتباس بول و عسر البول۔ دا فع امراض گردہ و مثانہ۔

دیگر اجزاء ا مع طریقۂ تیاری
مغز تخم خیار ۱۵ گرام مغز تخم خرپزہ ۲۰ گرام مغز تخم کدُو، تخم خطمی، تخم خرفہ، تخم خشخاش سفید، تخم کرفس ، اجوائن خراسانی، مغز بادام، مقشر کتیر انشاستہ ،رب السوس گل ارمنی ہر ایک۵۔ ۵ گرام،جملہ ادویہ کو کوٹ پیس کر لعاب اسپغول میں ریٹھے (فندق)کے برابر گولیاں بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔