دستور المرکبات
 

باسلیقون
وجہ تسمیہ
یونانی زبان میں اِس کا معنی کُحل یا ’’روشنائی‘‘ ہے۔ چونکہ یہ امراض چشم میں بطور کُحل مستعمل ہے، اِس لئے یہ نام تجویز کیا گیا ہے۔
اِس کے دوسرے معانی ’’جالب النوم‘‘ (نیند لانے والا) بھی بیان کئے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک یونانی بادشاہ کا نام ہے جس کے لئے بقراط نے یہ نسخہ ترتیب دیا تھا۔
لیکن اِس سلسلے میں یہ تحقیق زیادہ صحیح ہے کہ یونانی لفظ’ باسلیقون ‘ جس کا مترادف ’’روشنائی‘‘ ہے، مقوی بصر کو کہتے ہیں۔ یہ بقراط سے پہلے کی اختراع ہے۔ اِسے فیثا غورس طبیب نے ارسطیدون (Arestindian )والی صقیلہ کے لئے جسے ضعفِ بصر کی شکایت تھی، تیار کیا تھا اور اِس سے اُس کو شفا حاصل ہوئی تھی۔
باسلیقون کے دو نسخے باسلیقون کبیر اور باسلیقون صغیر کے نام سے رائج ہیں ، اِن کے علاوہ اِس کے فارسی مترادف نام ’’روشنائی‘‘ کے بھی متعدد نسخے قرابادینوں میں ملتے ہیں۔

باسلیقون کبیر
افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی بصر ہے۔بیاض مزمن، دمعہ، جرب، سبل، ظفرہ، صلابتِ اجفان میں نافع ہے۔ ابتداء نزول الماء میں مفید ہے۔

اجزائے خاص
ا قلیمیائے نقرہ (روپامکھی)۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
اقلیمیائے نقرہ کف دریا ہر ایک ۵۰ گرام صبر سقوطری عصارۂ مامیثا مِس سوختہ ہر ایک ۲۵ گرام پوست ہلیلہ زرد ۲۰ گرام مامیران، مرمکی ،نوشادر ،زرد چوبہ۔ ہر ایک ۵ ۱گرام ،نمک لاہوری ساذج ہندی ،سفید ۂ قلعی ،فلفل سیاہ ،فلفل دراز ،سنبل الطیب ، سرمہ اصفہانی ہر ایک ۱۰ گرام ،نمک سانبھر،قرنفل اشنہ۔ ہر ایک ۵ گرام۔تمام ادویہ کو خوب باریک کھرل کر کے ریشمی کپڑے میں چھانیں اور محفوظ رکھ لیں۔

ترکیب استعمال
رات کو سوتے وقت سرمہ کی طرح سلائی سے آنکھ میں لگائیں۔

باسلیقون صغیر
افعال و خواص اور محل استعمال
اِس کے افعال باسلیقون کبیرہی جیسے ہیں۔

جزء خاص
اقلیمیائے نقرہ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
اقلیمیائے نقرہ ۱۵ گرام، مِس سوختہ ۷ گرام سفید ہ قلعی، نمک لاہوری، نوشادر۔ ہر ایک ۳ گرام، فلفل سیاہ، فلفل دراز ہر ایک ڈیڑھ گرام۔تمام ادویہ کو باریک پیس کر ریشمی کپڑے میں چھان کر بطور سرمہ استعمال کریں۔