دستور المرکبات
 

اِیارہ/اِیارج/اِیارجات
وجہ تسمیہ
اِیارج یونانی زبان کے لفظ اِیارہ کا معرب ہے جس کا معنی دوائے اِلٰہی ، دوائے شریف اور مصلح بیان کیا گیا ہے، مگر اکثر محققین کے نزدیک ایارج ، دواء مسہل کو کہتے ہیں کیونکہ ایارج ہی مسہلات میں پہلا مرکب ہے جسے اہلِ یونان نے اسہالِ بلغم اور تنقیہ دماغ کے لئے مرتب کیا تھا۔اسہال و اخراج بلغم میں ایارج تریاقی افادیت رکھتا ہے۔
ایارجات میں ایارجِ فیقرا کے علاوہ ایارج بقراط، ایارج جالینوس ، ایارج لوغاذیہ، ایارج رُوفس اور ایارج ارکاغانیس مشہور ہیں۔

ایارج فیقراء
وجہ تسمیہ
ایارج کا مخترع بقراط ہے۔ یونانی زبان میں فیقرا کا معنی ’’تلخ نافع‘‘ ہے، چونکہ اصل و عمود اِس نسخے میں صبر یعنی ایلوا ہے اور وہ تلخ ہوتا ہے اِس لئے یہ ایارج ’’فیقرا‘‘ کے نام سے موسوم ہوا۔ بعض ماہرین کے مطابق فیقراء یونانی زبان میں صب رکے معنی میں آتا ہے، چنانچہ اِس نسخے میں جزءِ اعظم کی حیثیت سے صبر کی موجودگی کی وجہ سے اِسے ایارج فیقراء کہا گیا ہے۔ایارجات کی قوت ۲ سال تک باقی رہتی ہے۔ اُس کو تیاری کے ۶ ماہ بعد استعمال کرانے کی سفارِش کی گئی ہے۔
شیخ الرئیس نے اِس کے نسخے میں عود بلسان کا اضافہ کیا ہے۔
ایارج کے نسخہ میں : شحم اِندرائن کو شامل کرنے پر یہ نسخہ مشحم کہلاتا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
منقی دماغ و معدہ ہے۔ دردِ سر کی اکثر قسموں ،فالج، لقوہ، استرخائ، وجع المفاصل اور قولنج میں مفید ہے۔ ایارج اطریفل کے ساتھ دماغ کا اور گلقند کے ساتھ معدہ کا تنقیہ کرتا ہے۔

جزء خاص
صبر زرد

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سنبل الطیب ، دار چینی، عود بلسان، حب بلسان، تج قلمی، مصطگی رومی، اسارون، زعفران ایک ایک حصہ، صبر زرد سب دواؤں کادو چند اور بعض اطِبّاء نے ہم وزن لکھا ہے۔
مُضِر:یہ گردہ کے لئے مُضر ہے، جس کا مصلح عناب ہے۔

مقدار خوراک
۵ گرام ہمراہ آبِ گرم / شہد بوقت خواب۔

ایارج لوغاذی
وجہ تسمیہ
اِس کی وجہ تسمیہ نامعلوم ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوغاذیا نام کے ایک یونانی طبیب کے نام سے منسوب و موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
صداع، صداع شقیقہ، صداع بیضہ وخودہ، درد گوش، ثقل سماعت، دُوار، فالج، رعشہ، لقوہ، بہق و برص اور جذام وغیرہ میں نافع ہے۔

جزء خاص
ایلو

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عنصل دشتی مشوّیٰ، غاریقون، سقمونیا، اُشق، اسقوردیون ۱۲۔ ۱۲ گرام ، افتیمون، کماذریوس گیارہ گرام، حاشا،ھو فاریقون ،بادیان رومی، تیزپات فراسیون (کرّاث جبلی) جُعدہ، سلیخہ، فلفل سفید، ،مرمکی، جاؤ شیر، جند بیدستر، سنبل الطیب، فطر اسالِیون، زراوند طویل، افشردۂ افسنتین، فرفیون، حماما، زنجبیل ہر ایک ۱۵ گرام۔
تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر شہد بقدر ضرورت میں گوندھیں ، اِس کے بعد پوری احتیاط سے چھ ماہ کے لئے محفوظ رکھ لیں۔ بعد ازان استعمال میں لائیں۔ ایارہ جات کے استعمال کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اِن کو آبِ افتیمون میں حل کر کے استعمال کرایا جائے (بحر الجواھِر)۔

مقدار خوراک
۱۰ تا۱۵گرام۔

ایارِج ھو فقر اطیس/ایارج بقراط
وجہ تسمیہ
بقراط کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
صداع شر کی معدی میں مفید ہے۔ منقی رطوبات معدہ ہے۔

جزءِ خاص
ایلو

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
جنطیانا، سنبل الطیب، شحم حنظل، زراوند مدحرج،تج قلمی ، دار چینی ۳۔۳ گرام، فطر اسالیون(کرفس جبلی) کماذریوس (ترمُس)، اسطوخودوس، پیپلا مول، مصطگی ۵۔۵ گرام، ایلوا ۵۰ گرام، جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کرسہ چند شہدِ مصفّٰی میں قوام تیار کریں ، پھر ۶ ماہ بعد استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۱۰ گرام ہمراہ آبِ گرم یا آبِ سا دہ۔