دستور المرکبات
 

انفحہ۔ پنیر مایہ۔ چستہ ٔ چاک
تعارف اور طریقۂ تیاری
دودھ پینے والے جانوروں کے معدہ اور آنتوں سے حاصل شدہ منجمد دودھ، جس کو پیدا ہونے کے بعد بچے نے پہلی دفعہ پیا ہو، اُس کو حاصل کر لیا جاتا ہے۔یہی پنیر مایہ ہے۔ اِس کو پنیر مایہ اور انفحہ بھی کہتے ہیں۔ جن جانوروں کے دودھ سے پنیر مایہ حاصل کیا جاتا ہے ، اُن میں سے چند یہ ہیں : بارہ سنگھا، بکری، بھیڑ، بھینس، پاڑہ، خرگوش، ریچھ ، شتر خر مادہ، گورخر، گائے، گھوڑی، نیل گائے اور ہرن وغیرہ۔
اِس کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اُس کی ماں کا پورا دودھ بچے کو پلا دیا جائے۔ دودھ دینے والے جانوروں کے اِس ابتدائی دودھ کو کھیس یا پیوسی بھی کہتے ہیں۔ بچوں کو یہی دودھ پلا کر پھر کم و بیش نصف یا ایک گھنٹہ بعد اُس نو مولود بچے کو ذبح کر کے اُس کی آنتیں اور اُس کا معدہ حاصل کر لیا جاتا ہے۔ یہ آنتیں سایہ میں خشک کر لی جاتی ہیں۔ اِن آنتوں اور معدے کی چنٹوں (Folds ) میں ایک منجمد شئے ملے گی، جو دراصل وہی منجمد دودھ ہے جو سوکھ گیا ہے۔ یہی پنیر مایہ ہے۔مزاج کے لحاظ سے انفحہ و پنیر مایہ کو مرکب انقویٰ سمجھا جاتا ہے۔

پنیر مایہ کا مزاج افعال اور دوائی استعمال
مزاج کے لحاظ سے ا نفحہ یا پنیر مایہ کو مرکب القویٰ سمجھا جاتا ہے۔ پنیر مایہ کے افعال و خواص بہت سے پہلوؤں پر حاوی ہیں۔ سرطانی گلٹیوں پر اِس کا لیپ مفید ہے۔ صرع (مرگی)کو نافع ہے اور سرکہ میں گھول کر پینے سے معدہ، پھیپھڑے اور مثانہ کے منجمد خون کو تحلیل کر دیتا ہے۔ دم رعاف کے لئے مفید ہے اور حابس اسہال ہے۔ مقوی و مفرّح قلب و دماغ، دافع سموم حشرات الارض ، تریاق سموم(Antidote for Snake and Insect bite ) ، دافع دردِ شکم ، آنتوں کے زخم کو دور کرتا ہے۔ سیلان الرَّحم میں بھی مفید ہے۔ منع حمل کرتا ہے اور Contraceptive خصوصیت کا حامل ہے۔ رُعاف میں ناک میں ٹپکایا جاتا ہے۔

مضر
مزاج میں چڑچڑا پن پیدا کرتا ہے۔ معدہ کے لئے مضر ہے۔ زرشک اور بہدانہ اِس کا مصلح ہے۔ اِس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔مزاج کے لحاظ سے الفحہ و پنیر مایہ کو مرکب القویٰ سمجھا جاتا ہے۔

پنیر مایہ کے خالص ہونے کی علامت
پنیر مایہ کے خالص ہونے کی پہچان یہ ہے کہ اگر اِس کو دوسرے جانور کے پنیر مایہ میں ڈال دیں تو وہ آسانی سے گھل جائے گا۔
طِبّی معالجہ میں پنیر مایہ شتر اعرابی اور انفحۂ ارنب کا استعمال زیادہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ افادیت کے لحاظ سے دوسرے تمام جانوروں کے مقابلے میں اِس کو زیادہ بہتر تصوُّر کیا جاتا ہے۔حالانکہ دوسرے جانوروں کے بچوں کے معدے میں منجمد شدہ ابتدائی دودھ بھی طریقۂ مذکورہ پر حاصل کر کے بطور دوا استعمال کرنا اطِبّاء کا معمول رہا ہے۔ جتنے قسم کے جانوروں سے پنیر مایہ حاصل کیا جاتا ہے، اُن سب کی افادیت الگ الگ ہے، لیکن بسا اوقات عدم حصول یا عسیر الحصول ہونے کی صورت میں دیگر جانوروں سے حاصل شدہ پنیر مایہ بھی معالجاتی اہمیت اور ایک دوسرے کے بدل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انفحۂ ارنب کو اطِبّاء سب سے زیادہ صحیح العمل اور قوی التاثیر تصور کرتے ہیں کیونکہ اِس میں حدّت کم ہوتی ہے۔

انقردی
وجہ تسمیہ
انقردیا (Anacardium ) رومی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ’’شبیہ قَلب‘‘ کے ہیں۔ چونکہ بلا در صنوبری یعنی دِل کی شکل کا ہوتا ہے اور وہ اِس کی ترکیب میں داخل ہے، اِس لئے اِس کو انقردیا کہا گیا ہے۔ متاخرین کی بعض کتابوں میں انقرویا ’’واو‘‘ سے لکھا گیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔اِس مرکب کا موجد بقراط ہے۔ اِس کے دو نسخے ہیں : انقردیا کبیر اورانقردیا صغیر۔

انقردیا کبیر
افعال و خواص اور محل استعمال
فالج، لقوہ، استرخاء، خدر صرع، نسیان اور دوسرے بارد امراض میں مستعمل ہے۔ قوتِ باہ کو بڑھاتا ہے اور فعل ہضم کودرست کرتا ہے۔ذہن کو صاف اور قوی کرتا ہے۔محافظ و مقوی حافظہ ہے۔

جزء خاص
بلادر (بھلا نواں )۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عاقر قرحا ،شونیز ،قُسط شیریں ، فلفل سیاہ، فلفل دراز، وَج ترکی ہر ایک ۵۰ گرام ، سدّاب جنطیانہ رومی ،زراوندمدحرج ، حلتیت خالص، حب الغار جند بیدستر، شیطرج ہندی خردل ہر ایک ۲۵ گرام عسل بلادر ۲۵ گرام۔ جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر روغنِ گاؤ ۱۵ گرام میں چرب کر کے قند سفید ڈیڑھ کلو کے قوام میں ملائیں اور مرکب بنائیں۔ اِس مرکب کو تیاری کے ۶ ماہ بعد استعمال کریں۔

مقدار خوراک
۲ تا ۳ گرام ہمراہ آبِ سادہ صبح نہار منھ۔

انقردیا صغیر
افعال و خواص اور محل استعمال
اِس کے منافع انقردیا کبیر کی طرح ہیں۔

جز ء خاص
بلادر

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ہلیلہ سیاہ، پوست بلیلہ ، آملہ مقشر ہر ایک ۱۵ گرام سعد کوفی، سنبل الطیب کندر، وَج ترکی ،فلفل سیاہ، زنجبیل ، عسل بلادر۔ ہر ایک ۸ گرام ادویہ کو کوٹ پیس کر روغنِ گاؤ میں چرب کریں اور ڈھائی سو گرام شکر سفید کا قوام کر کے مرکب تیار کریں۔
نوٹ: اِس کو بھی تیاری کے ۶ ماہ بعد استعمال کرائیں۔

مقدار خوراک
۲ تا ۳گرام ہمراہ آبِ سادہ بوقت صبح۔