دستور المرکبات
 

افلونیا/فلونی
وجہ تسمیہ
رومی زبان کا لفظ ہے۔ اِس کو فلونیا بھی کہتے ہیں۔ یہ حکیم افلُن رومی طرسوسی کے نام سے منسوب ہے۔ اِس حکیم کو فیلن اور افلَن بھی کہا جاتا ہے۔ افلن نامی حکیم نے اِسے اوّلاً ترتیب دیا تھا۔ جو ایک نشہ آور مرکب ہے۔
افلونیا کے متعدد نسخے ہیں۔ مثلاً افلونیائے فارسی، افلونیائے محمودی (تالیف، حکیم عماد الدین محمود شیرازی )افلونیائے مرد افگن (جو بادشاہ جہانگیر کے دور میں ایجاد ہوا )، افلونیائے احمدی۔

افلونیائے رومی
استعمالات
نزلہ مزمن، قے الدم ، اسہال دموی اور ہیضہ کو نافع ہے۔ نافع و دافعِ الم ہے۔

جزء خاص
افیون

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
فلفل سفید، فلفل دراز،اجوائن خراسانی ہر ایک ۷۵ گرام افیون ۲۷ گرام زعفران ۲۰ گرام، تخم کرفس ،سنبل الطیب ہر ایک ۱۵ گرام، ساذج ہندی، تج قلمی، حب بلساں ، عاقر قرحا، فرفیون ہر ایک ۵ گرام۔جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر سہ چند شہد کے قوام میں ملا کر مرکب تیار کریں اور ۶ ماہ بعد استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ۲ گرام۔

اِمروسی
وجہ تسمیہ
یونانی زبان کا لفظ ہے، اِس کے معنی ہیں ایسا معجون جو امراض کبد کے لئے مفید ہو۔ بقراط نے اِسے ایک بادشاہ کے لئے جسے ضعفِ معدہ کی شکایت تھی، تیار کیا تھا لیکن اب اِس کا استعمال کم ہو چکا ہے (بحر الجواھِر)۔

افعال و خواص و محل استعمال
جگر طحال ، معدہ اور گردہ کو تقویت دیتا ہے۔ مفتح سدد ہے۔ آغازاستسقاء میں نافع ہے۔ مدرِّ بول اور مخرج سنگِ گردہ و مثانہ افعال کی حامل ہے۔

جزءِ خاص
زعفران

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
دوقو ،عود بلسان ،تج قلمی،قردمانا، کالی زیری ، شگوفہ اذخر، تخم کرفس ۴۔ ۴ گرام، فلفل سیاہ ،فلفل سفید ،قسط تلخ، مرمکی، ہر ایک ۲ گرام۔ حب الغار ۱۰ عدد ، وَج ترکی، زعفران، ہر ایک ۸ گرام۔جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر سہ چند شہد کے قوام مںہ ملائیں اور محفوظ کر لیں۔ پھر تیاری کے ۶ ماہ بعد استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ گرام۔
نوٹ:’’ اِمروسیا ‘‘کی قوت تین سال تک قائم رہتی ہے لیکن اب یہ دواء متروک الاستعمال ہے۔