دستور المرکبات
 

اطریفل
اطریفل یونانی زبان کے لفظ اطریفال اور طریفلن سے معرب کیا گیا ہے ۔ چونکہ اِس مرکب مںر ہلیلہ، بلیلہ اور آملہ جز و لازم کے طور پر شامل ہںف ۔ لہٰذا اِس کو اطریفل کا نام دیا گیا۔ بعض اطِبَّاء کی رائے ہے کہ اطریفل ہندی زبان کے لفظ ترپھلہ کا معرّب ہے جس سے تین پھل ہلیلہ، بلیلہ اور آملہ مراد ہںا چنانچہ داؤد ضریر انطاکی کے یہاں اِس کی وضاحت بھی ملتی ہے ۔ اُس نے اِس کو ’’اطریفال‘‘ لکھا ہے۔ ہندی کا لفظ تری اور لاطینی و یونانی زبان کا لفظ طری (Tri ) بھی تین کے ہی مفہوم کے حامل ہں‘ ۔ غالباً اِسی مناسبت سے اِس کو اطریفل کہا گیا ہے۔
اطریفلات کی تیاری کے سلسلہ مںک اُنہی اصول و ضوابط پر کاربند رہنا ضروری ہے جو معجون کے سلسلہ مںر پیشِ نظر رہتے ہںن ۔ علاوہ ازیں اِس بات کا خاص طور پر دھیان رکھا جائے کہ ترپھلہ کا سفوف تیار کرنے کے بعد اُس کو روغنِ بادام یا روغنِ کنجد یا روغنِ زرد مںِ الگ سے چرب کر کے رکھ لںئ پھر دیگر اجزاء کا سفوف بنائں ۔ بعد ازاں مرکب کا قوام تیار کر کے جملہ ادویہ اُس مںن شامل کریں ۔ سفوف کے چرب کرنے کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ مرکب مںت نرمی قائم رہے اور اِس کی افادیت بڑھ جائے اور چونکہ ترپھلہ کم و بیش آنتوں مںت مروڑ پیدا کرتا ہے لہذا چرب کرنے سے اس کے مضر و منفی اثرات بھی زائل ہو جاتے ہںی ۔

اطریفل کا موجِد
اطریفل کا موجِد اندروما خس نامی یونانی طبیب ہے۔ غالباً یہ اندروماخس ثانی ہے اور اِس کوہی اسقلبیوس ثانی (Asculpius II )کہتے ہں ۔
دیگر مرکبات کی طرح اطریفل کے بھی کئی نسخے ہںک جن کا ذکراِس کتاب مں آئے گا۔
اطریفلات کی قوتِ تاثیر دو سال تک باقی رہتی ہے البتہ اطریفلات کی مدت استعمال دو ماہ سے زیادہ نہںل ہے۔ نیز اطریفلات کو متواتر نہ کھا کر روک روک کر استعمال مں لانا چاہیے جس سے ضعف معدہ کا اندیشہ باقی نہںث رہتا ہے کیونکہ اطریفلات کا کثرتِ استعمال مُضعِفِ معدہ ہوتا ہے۔

اطریفل اُسطوخودوس
وجہ تسمیہ
اِس اطریفل کا نام اِس کے جزءِ خاص کی طرف منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
دماغی امراض خصوصاً دردِ سر اور جملہ امراضِ بلغمی و سوداوی مںک مفید ہے۔ دماغ کے تنقیہ کے لئے طِب یونانی کے مخصوص مرکبات مںس شمار کی جاتی ہے۔ اِس کا متواتر استعمال بالوں کو سیاہ رکھتا ہے۔

جزءِ خاص
ترپھلا اور اسطوخودوس اِس کا جزءِ خاص ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست ہلیلہ زرد و پوست ہلیلہ کابلی، پوست ہلیلہ سیاہ، پوست بلیلہ آملہ مقشر، اسطوخودوس، برگ سناء مکی، تربد سفید ، بسفائج فُُستقی ،مصطگی، افیتمون کِشمِش، مویز منقّٰی (بعض نسخوں مںس گلِ سُرخ کو) ہم وزن لے کر باریک کر لںق اور ہلیلہ جات کو روغنِ بادام شیریں مںہ چرب کر کے سہ چند شہدِ خالص کے قوام مںخ ملائںن ۔

مقدار خوراک
۵گرام تک ہمراہ عرقِ گاؤزباں ۱۲۵ ملی لیٹر یا ہمراہ آبِ سادہ۔

اطریفل زمانی
وجہ تسمیہ
اِس کے موجِد حکیم میر محمد مومن حسینی ولد میر محمد زمان عہدِ محمد بن تغلق شاہ (۱۳۳۴ء تا ۱۳۵۴ء )کے طبیب ہں ،اُنہوں نے اِسے اپنے والد میر محمد زمان کے نام منسوب کیا ہے۔اِس سے مراد میر محمد مومنؔ شاعر نہںب ہں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہں ۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مالیخولیا، دردِ سر، خفقان اورقولنج مں مفید ہے۔ مسلسل استعمال دائمی نزلہ کو فائدہ دیتا ہے۔ مالیخو لیاء مراقی کی یہ مخصوص دواء ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست ہلیلہ زرد ،پوست ہلیلہ کابلی ، ہلیلہ سیاہ ، گل بنفشہ سقمونیابریاں ہر ایک ۴۰ گرام تربد مجوف ،کشنیز خشک ہر ایک ۸۰ گرام پوست بلیلہ آملہ مقشر گُلِ سُرخ، گل نیلوفر، طباشیر ہر ایک ۲۰ گرام صندل، سفید کتیرا ہر ایک ۱۰ گرام روغنِ بادامِ شیریں ، 400 ملی لیٹر۔سب دواؤں کو کوٹ چھان کر روغنِ بادام مںر چرب کر کے علیحدہ رکھںا اور عنّاب 100 عدد، سپستاں 100 عدد، گل بنفشہ ۳۰ گرام ،کو پانی میں جوش دے کر صاف کریں اور مربیٰ ہلیلہ کا شیرہ ڈیڑھ گنا اور شہد سب دواؤں کے ہم وزن لے کر جوشاندہ میں ملا کر اِتنا پکائیں کہ قوام ایک ہو جائے پھر درجِ بالامسفوف ادویہ اس میں شامل کر کے مرکب تیار کریں ۔

مقدار خوراک
۵ گرام تا ۱۰ گرام ۔ اسہال لانے کے لئے ۲۵ گرام تک دے سکتے ہیں ۔

اطریفل شاہترہ
وجہ تسمیہ
جزء خاص شاہترہ کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
امراض فساد خون، خارِش، آتشک اور دورانِ سر میں مفید ہے۔

جزء خاص
شاہترہ
دیگر اجزاء مع طریقۂ تااری
شاہترہ ۵۰ گرام، پوست ہلیلہ زرد، پوست ہلیلہ کابلی ہر ایک ۴۰ گرام ، آملہ پوست بلیلہ ہر ایک ۲۰ گرام ،برگ سناء مکی ۱۲ گرام ، گل سُرخ ۸ گرام۔جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر مونیر منقی نصف کلو میں پیس کر ملائیں اور مرکب تیار کریں ۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام ہمراہ عرق چوب چینی یا آبِ سادہ۔

اطریفل صغیر
اطریفل کا یہ ایک مخصوص نسخہ ہے جو کم اجزاء پر مشتمل ہونے کی وجہ سے’’ اطریفل صغیر‘‘ ؎ کے نام سے مشہور ہے ۔

افعال و خواص مع محل استعمال
مقوی حافظہ و مقوی دماغ ، دماغی امراض کے علاوہ بواسیر میں بھی مفید ہے۔

جزءِ خاص
ہلیلہ جات و آملہ
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست ہلیلہ زرد، پوست ہلیلہ کابلی، پوست ہلیلہ سیاہ، پوست بلیلہ، آملہ مقشر ہم وزن ادویہ کو کوٹ چھان کر روغنِ زرد میں چرب کریں اور سہ چند شکر یا شہد کے قوام میں ملا کر اطریفل تیار کریں ۔

مقدار خوراک
۱۰ تا ۲۵ گرام ہمراہ آب سادہ بوقت شب۔

اطریفل غددی
وجہ تسمیہ
خنازیر (گردن کے بڑھے ہوئے غدود) کے عارضہ میں استعمال ہونے کی وجہ سے اِس نام سے موسوم کی گئی ہے، یا جزءِ خاص بکری کی گردن کی گلٹیوں کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
خنازیر کے سلسلہ میں خصوصی اثر کی حامل ہے ۔ منقّی معدہ و فضلات دماغ ہے۔

جز ء خاص
بکری کی گرد ن کی گلٹیاں

دیگر اجزاء مع طریقۂ تادری
بھیڑ/ بکری کی گردن کی خشک شدہ گلٹیاں ۵۰ گرام، ہلیلہ سیاہ ۱۵۰ گرام، افتیمون وِلائتی ۱۰۰ گرام ،پوست بلیلہ ،آملہ مقشر ،تربد مجوّف ہر ایک ۷۵ گرام بسفائج ، اسطوخودوس ہر ایک ۵ گرام ،سناء مکی ۴۰ گرام ،غاریقون مغربل، زر نباد، شیطرج ہندی، نوشادر، ہرایک ۳۰ گرام، انیسون، تج قلمی، سنبل الطیب، قرنفل ہیل خرد، جائفل، مصطگی رومی۔ ہر اک ۲۰ گرام۔تمام ادویہ کو کوٹ پیس کر قند سفید ۷۵۰ گرام کے قوام میں شامل کریں اور مرکب بنائیں ۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

اطریفل کشنیزی
وجہ تسمیہ
جز ء خاص کشنیز کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
دماغ اور معدہ کا تنقیہ کر کے قوت پہنچاتی ہے ۔ سر، آنکھ اور کان کے اِن امراض میں جو معدہ کے بخارات اور نزلے کے سبب سے عارض ہوتے ہیں ، مفید ہے۔

جزء خاص
کشنیز خشک۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ہلیلہ کابلی ،پوست ہلیلہ زرد، ہلیلہ سیاہ،پوست بَلیلہ آملہ مقشر، کشنیز خشک، ہم وزن ادویہ کو کوٹ چھان کر ہلیلہ جات کو روغنِ بادام میں چرب کریں اور سہ چند شہد کے قوام میں ملا کر مرکب بنائیں اور تیاری کے چالیس یوم کے بعد استعمال کرائیں ۔

مقدار خوراک
۱۰تا ۲۵ گرام
ملاحظہ (۱) اگر تلئین مقصود ہو تو ترنجین کا اِضافہ کریں ۔
(۲) اطریفل کشنیز کو تیاری کے چالیس روز بعد استعمال کرنا چاہیے۔

اطریفل مقل
وجہ تسمیہ
جزء خاص مقل کے نام سے موسوم ہے۔

استعمالات
دافع قبض ہے۔ بواسیر دموی اوربواسیر بادی میں مفید ہے۔

جز ء خاص
ترپھلا اور مقل۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست ہلیلہ زرد، پوست ہلیلہ کابلی، پوست بلیلہ، آملہ مقشر ہر ایک ۳۵ گرام، مقل ۹۵ گرام۔ جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر روغنِ بادام یا روغنِ گاؤ میں چرب کریں اور مقل کو آبِ برگِ گندنا یا آب برگ ککروندہ میں حل کر کے صاف کریں یا روغنِ گاؤ میں مقل کو آگ پر حل کر لیں ۔ پھر جملہ ادویہ کے سہ چند شہد کے قوام میں مرکب تیار کریں ۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام ہمراہ عرق بادیان ۱۲۵ ملی لیٹر۔

اطریفل ملین
وجہ تسمیہ
اپنے فعل مخصوص ’’تلیین‘‘ سے موسوم ہے۔

استعمالات
قبض و جع معدہ وامعاء اور صداع میں مفید ہے۔ امراض دماغی میں تلیین شکم کے لئے مستعمل ہے۔

جزءِ خاص
سقمونیا۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ہلیلہ سیاہ ،پوست ہلیلہ کابلی، بلیلہ، آملہ مقشر، تربد مجوف ہر ایک ۲۰ گرام، بادیان، مصطگی رومی، اسطوخودوس، سقمونیا ،ریوند چینی۔ ہر ایک ۵۰ گرام مصطگی کو علیحدہ سے ہلکے ہاتھوں سے کھرل کر کے باقی دواؤں کو کوٹ چھان کر روغنِ بادام میں چرب کر کے قند سفید ایک کلو کے قوام میں ملائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک
۵ گرام تا ۱۰ گرام ہمراہ آبِ سادہ۔