دستور المرکبات
 

اثیر (Ether )
تعارف اور وجہ تسمیہ
قدیم یونانی فلاسفہ ابتداء ً اثیر(Ether )کو ایک ایسا مادہ تصوُّر کرتے تھے جو فضائے آسمانی کی خلاؤں مں بھرا ہوا تھا اور برقی مقناطیسی موجوں Electromagnetic Waves کی منتقلی کا ذمّہ دار مانا جاتا تھا۔نیز فضا کے بالائی حصہ یا صاف آسمان کو بھی اثیر کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن طبّی نظریہ کے مطابق اثیر ایسے مادّہ کو کہتے ہںی جو دانتوں کی جڑوں مںی ڈالا جائے یا وہ دواء جو حلق یا خلائے دہن مںا پھونکی جائے ، اِس کا تعلق وَجورات سے ہے، وِجور حلق مںس ڈالی جانے والی دوا کو کہتے ہں ۔
اطِبّاء نے اثیر کی یہ تعریف کی ہے کہ یہ ایک بے رنگ خوشبو دار سیال ہے جو بطور محلل و مخدّر مستعمل ہے۔
اثیر کا استعمال سب سے پہلے دانتوں کی جڑوں اور خلاؤں cavities مں ڈالنے کے لئے ہی کیا گیا تھا۔ یہ Oral Route سے استعمال ہونے والی قدیم ترین دواء ہے۔

اثیر صغیر
افعال و خواص اور محل استعمال:استرخاء لہاۃ مںا خاص طور پر مفید ہے۔
دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری :صعتر فارسی عاقر قرحا حاشا ہر ایک ۱۰ گرام کشنیز خشک ۲۰ گرام اصل السوس ۵ گرام۔ جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر سفوف بنائںت اور حلق مںر پھونکںن ۔

اثیر الملوک
وجہ تسمیہ
چونکہ اِس کو بادشاہوں کے استعمال کے لئے تیار کیا گیا لہذا اِس کا نام اثیر الملوک رکھا گیا۔یا اثیر کے مختلف نسخوں مںہ یہ سب سے افضل ہے، اِس لئے اِس کو اثیر الملوک کہا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
نافع وَرم حلق ، وَرم لہاۃ، قلاع، بدبوئے دہن ، محلل، جالی، دافع جراثیم۔

جزءِ خاص
حاش

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
کافور ۲ گرام، دانۂ اِلائچی ، زعفران ۳۔۳ گرام، طباشیر، مازو سبز، سماق ۶۔۶ گرام، زرِ ورد ۱۰ گرام، نبات سیدا، عدس مسلّم، تخم خُرفہ ۱۵۔۱۵ گرام،حاشا ۲۰ گرام۔تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر سفوف تیار کریں اور استعمال مںس لائں ۔

مقدار خوراک: حسبِ ضرورت حلق مںِ پھونکںز ۔
الاحمر
وجہ تسمیہ
شنگرف کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا رنگ سُرخ ہوتا ہے ، اِس لئے اِس کا نام الاحمر مشہور ہوا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی باہ، مُزیّد باہ، دافع و نافع ضعف باہ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
شنگرف میٹھا تیلیہ ہر ایک ۱۰۰ گرام ،زمین قند ایک عدد ،روغن قرطم ۵۰۰ ملی لیٹر اُرَد (ماش )۲۰۰ گرام، مٹھام تیلیہ کو پانی مںت بھگوئں ، نرم ہونے پر اُن مں گڑھے کریں اور گڑھوں مںر شنگرف رکھ کر اُنہی ٹکڑوں سے بھر دیں جو گڑھا کرتے وقت نکالے گئے تھے۔پھر اُن پر دھاگا لپیٹ دیں ۔ اِس کے بعد زمین قند کا گودا نکال کر اُس مںی میٹھا تیلیہ کے ٹکڑے بھر دیں ۔ پھر زمین ق کے کٹے ہوئے ٹکڑے سے اُس کو بند کریں اور کنارے اچھی طرح ملا کر اوپر سے کپڑا لپیٹ دیں اور پتیلی مںی روغنِ قرطم ڈال کر زمین قند کو آگ پر اِتنا پکائںھ کہ اُس کے اوپر کا حصہ سُرخ ہو جائے ، پھر آگ سے اُتاریں اور زمین قند سے میٹھا تیلیہ کے ٹکڑے نکال کر اُس کے اندر سے شنگرف کی ڈلیاں نکالںا اورشنگرف کی ڈلیوں کو اِس قدر باریک کھرل کریں کہ ذرّات کی چمک ختم ہو جائے ۔ یہ دوا نہایت درجہ مقوِّی باہ ہے۔ مقدار خوراک :۱۵مِلی گرام، مکھن یا بالائی مںی ملا کر کھلائں ، اور شیر گاؤ پلائںہ ۔