دستور المرکبات
 

ذخیرۂ مرکَّبات
اثاناسی
وجہ تسمیہ
اثاناسیا یونانی زبان کا لفظ ہے۔ اِس کے دو معانی بیان کئے جاتے ہںم ۔
(۱) مرض سے چھٹکارا دِلانے والا (۲) بھیڑئے کا جگر ۔ چونکہ اِس نسخہ مںت بھیڑیئے کا جگر اور بکری کا سینگ بطور اجزاء شامل ہںو ۔ اِس لئے اِس کو ’’دواء الذئب و الماعز‘‘ بھی کہتے ہںا ۔اِس کے دو نسخے ہں : ’’اثاناسا ئے کبیر‘‘ اور’’ اثاناسا ئے ‘صیرئ‘‘۔

اثاناسیائے
افعال و خواص اور محل استعمال
ضعفِ جگر، ورم جگر اور معدہ و طحال کے امراض کو نافع ہے۔ اسہال بلغمی، سعال مزمن، قے الدم، وجع گردہ و مثانہ، خدر، ربواور بواسیرمیں مفید ہے۔

جزء خاص
بھیڑئے کا جگر

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مرمکی ،زعفران، افیون، جند بید ستر، اجوائن خراسانی،قُسطِ شیریں ، گل غافث، تخم خشخاش، سنبل الطیب، شاخ ماعزسوختہ، بھیڑئے کا خشک شدہ جگر۔ تمام ادویہ کو ہموزن لے کرسب کو باریک پیس کر شراب مںل حل کر کے سہ چند شہد کے قوام مںو ملائںم اور تایری کے ۶ ماہ بعد استعمال مںث لائںم ۔

مقدار خوراک :
۲ تا ۳ گرام صبح و شام یا حسبِ ضرورت

اثاناسیائے صغیر
افعال و خواص اور محل استعمال
اِس کے افعال و خواص اثاناساائے کبیر جیسے ہںر ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
میعہ سائلہ، زعفران، قسطِ شیریں ، سنبل الطیب، افیون، تج قلمی، اصل السوس مقشر، ہر ایک ۱۰ گرام عصارہ غافث ۲۰ گرام جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر سہ چند شہد خالص کے قوام مںر ملائں اور مرکب تیار کریں ۔

مقدار خوراک
۲تا۳ گرام صبح و شام۔