دستور المرکبات
 

دواؤں کا قوام اور قوامی ادویہ
قوامی ادویہ سے مراد وہ دوائں ہںٹ جو شکر، شہد، نبات سفید (مصری) قند سیاہ، راب، شکّر سرخ اور کھانڈ وغیرہ کے قوام مںا شامل کر کے تیار کی جاتی ہںر ، مثلاً اطریفلات، جوارِشات، معاجین، لعوقات خمیرہ جات اور مربہ جات وغیرہ۔

معیاری قوام
معیاری قوام کی پہچان کا دار و مدار مشاہدہ اور تجربہ پر منحصر ہے۔ بعض دواؤں کا قوام نسبتاً گاڑھا /غلیظ اور بعض کا پتلا /رقیق تیار کیا جاتا ہے۔ مختلف ادویہ کے قوام کی خوبی و خامی کا انحصار اُس کی اپنی طبیعت، طریقۂ تیاری اور کس چیز سے قوام تیار کیا گیا ہے ، اُس پر ہوتا ہے، چنانچہ قوام کی غلظت و رِقّت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اُس کو کئی درجات مںو تقسیم کیا گیا ہے۔
(۱) اگر کوئی شربت بنانا ہو تو اُس کا قوام پہلے درجے کا یعنی نسبتاً رقیق تیار کیا جاتا ہے، شربت کے قوام کے پختہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے ایک یا دو قطرے علاحدہ کر کے انگلی سے اُٹھائے جائں ۔ اگر اُس مں تار بن جائے تو یہ صحیح قوام ہے ۔ اِس کے علاوہ اِس کا ایک دو قطرہ زمین پر گرانے سے پھیلتا نہںت ہے بلکہ گولائی لئے ہوئے اُبھرا ہوا نظر آتا ہے، اِس صورتِ حال سے سمجھ لینا چاہیے کہ شربت کا قوام تیار ہو گیا ہے۔ اِس کے بعد برتن کو آگ سے اُتار لینا چاہیے ورنہ آناً فاناً قوام غلیظ ہو سکتا ہے۔
(۲) معجون کا قوام ایسا ہونا چاہیے جو خشک ادویہ کے ملانے کے بعد نرم حلوے کی مانند ہو جائے۔

قوام کی تیاری میں ’’تار‘‘ کا مفہوم
قوام تیار کرتے وقت بالخصوص شکر یا قند سیاہ اور کھانڈ وغیرہ سے قوام تیار کرتے وقت ’’تار‘‘ کی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ تار کے عنوان سے قوام کی رِقّت و غِلظَت کا تعیّن کیا جاتا ہے چنانچہ ایک تار ، دو تار اور تین تار وغیرہ کی اصطلاح کا مفہوم یہ ہے کہ ایک تار کا قوام نسبتاً نرم ہوگا ، دو تار کا قوام اُس سے زیادہ گاڑھا ہوگا اور تین تار کا قوام مزید گاڑھا اور سختی کا حامل ہوگا۔ اِس سلسلہ مںو دوا ساز کے ہاتھ جس قدر مشّاق ہوں گے ۔ قوام اُسی قدر حسب منشاء تیار ہوگا۔

قوام کی تیاری میں درجۂ حرارت (آنچ) کی اہمیت
قوام کی تیاری کے مرحلہ مں آگ معتدل رکھنی چاہیے، خصوصاً ایسے وقت مں آگ کی آنچ کو مزید اعتدال پر لے آئںا ، جب قوام تیاری کے بالکل قریب ہو ، کیونکہ تیز آنچ سے قوام کے جل جانے اور خلاف منشا سخت اور غلیظ ہو جانے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ جس وقت قوام تیار ہو جائے اُس وقت خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ اُس مںو پانی کا ایک قطرہ بھی نہںہ پڑنا چاہیے کیونکہ اِس سے قوام کے بگڑ جانے (فاسد ہو جانے) کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

قوام میں لعابیات کی شمولیت
اگر قوام مںر بہہ دانہ ، عنّاب اور سپستاں جسی لعاب دار یا لیس دار ادویہ شامل کرنی ہوں جیسا کہ اکثر لعوقات یا بعض اشربہ مںن بھی لیس دار ادویہ شامل ہوتی ہںو تو اُس سے قوام کی تیاری مںا مشکل آتی ہے ۔ ایسی صورت مں قوام مں تار بننے کا عمل خاص طور پر دیکھا جاتا ہے اور قوام مںق تار بننے کے بعد مزید کچھ دیر تک اُسے پکنے دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اُس مںط چپک پیدا ہو جائے۔ اِس کے برعکس اگر قوام مںے شکر یا شہد شامل کرنا ہو تو اِس صورت مں حسبِ ضرورت پانی بھی ملایا جا سکتا ہے۔

قوامی مرکبات
وہ مرکبات جن کو قوام مں شامل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے ، اُن مںھ خاص خاص مرکبات درج ذیل ہں ۔ شربت، سکنجبین، لعوق، خمیرہ، معجون ، انوشدارو، جوارِش، اطریفل، لبوب، مربیّٰ، گلقند وغیرہ۔

میٹھی اجناس جن سے قوام تیار کیا جاتا ہے
ذیل مںج اُن اشیاء و شیرینیوں کا بیان کیا جاتا ہے جن سے مختلف قوام تیار ہوتے ہں ۔ اِس مںک عام طور پر شہد، قند سیاہ، قند سفید، نبات سفید، بورہ، کھانڈ شکرِ سُرخ اور ترنجبین شامل ہںس ۔ قوام کی تیاری مںر ایک کلو شکر یا نبات سفید کے قوام مںف ایک تا ڈیڑھ گرام 1-1.5gm سوڈیم بینزویٹ (Sodium Benzoate ) شامل کر دیا جائے تو اُس سے قوام کی افادیت اور مدت بقاء مزید بڑھ جاتی ہے۔