FORMULARY OF
UNANI MEDICINE

دستور المرکبات
(اصول و قوانین ترکیب ادویہ)

اقبال احمد قاسمی
(ایم۔ڈی۔ علم الادویہ، ایم۔ڈی۔ معالجات)
اجمل خان طِبِّیہ کالج، اے۔ایم۔یو۔ علی گڑھ
ماخذ:اردو کی برقی کتاب
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭٭٭

انتساب
عالی جناب حکیم عبدالجلیل صاحب بجنوری
(فاضل طِب و جراحت)
قرول باغ، طِبِّیہ کالج، نئی دہلی
کے نام
جن کی طِبّی و معالجاتی خدمات نصف صدی پر محیط ہںو

تمہید
ابو الفضائل داؤد ابن البیان الاسرائیلی، متوفیٰ ۱۱۶۱ھ، اپنے زمانے کا ایک مشہور اور ماہر طبیب و معالج تھا جو قاہرہ کے مشہورِ زمانہ اسپتال ’’شفا خانہ الناّصریہ‘‘ مں۶ طبابت کرتا تھا۔ اُس نے اپنے معمولاتِ مطب کو’’ الدستور البیمارستانی فی الادویہ المرکبہ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا تھا جسے قبولِ عام حاصل ہوا اورجوبرسہا برس تک اطِبّاء کا معمول رہا اور اس کے دور کے شفا خانوں مںو اس کوسند کا درجہ ملا، اِسی مناسبت سے مںت نے اپنی اِس تالیف کو ’’دستور المرکبات‘‘ کا عنوان دیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب ’’دستور المرکبات‘‘ یونانی طِب کے انڈر گریجوئٹ اور پوسٹ گریجوئٹ کورسوں کے اُن طلباء کی فرمائش اور نصابی ضرورت کے پیشِ نظر مرتب کی گئی ہے جو ادویہ مرکّبہ کے تفصیلی مطالعہ اور قرابادینی مرکبات پرمبسوط معلومات حاصل کرنے کے خواہاں رہتے ہں ۔ علم الادویہ کے باب مں گو کہ مرکبات و قرابادین کا ایک وقیع ذخیرہ کتب خانوں مںد موجود ہے لیکن اکثر کتبِ مراجع عربی و فارسی زبانوں مںک ہونے کی وجہ سے براہِ راست طلباء کے مطالعہ مںہ نہں آ پاتں ۔ایک عرصہ سے اِس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ادویہ مرکبّہ کے موضوع پر ایک مبسوط کتاب ترتیب دی جائے جو جدید تقاضوں کے مطابق طلباء کے ساتھ ساتھ یونانی ادویہ سے علاج و معالجہ کرنے والے افراد کے لئے بھی مفید ثابت ہو۔قابلِ ذِکر ہے کہ اجمل خان طبیہ کالج مںِ ۱۹۴۰ ء تک طِب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد کافی کم تھی۔ بعض جماعتوں مں دس۔پندرہ سے زائد طلباء نہںن ہوتے تھے ۔ البتہ ۱۹۴۰ء کے بعد طِبیّ تعلیم کا رجحان رفتہ رفتہ بڑھنے لگا اور اساتذہ و طلباء کے اشتراک سے یہاں ایک علمی فضا قائم ہونے لگی۔ اُس دور مں یونانی طِبی مضامین کی تعلیم و تدریس عربی و فارسی کتابوں سے براہِ راست ہوا کرتی تھی ۔ علاوہ ازیں بعض مضامین کو اساتذہ بطورِ امالی طلباء کو لکھوا دیا کرتے تھے ؛علم المرکبات مں امراض کی مناسبت سے نسخوں کی ترتیب و تدوین اور مناسبِ مرض ادویاتی نسخوں کا انضباط قانونِ شیخ، شرح اسباب اور نفیسی وغیرہ کتب کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا تھا۔۴۹۔۱۹۴۸ء کے دوران حکیم صوفی احمد علی قادیانی عربی و فارسی طِبّی کتب کی وساطت سے مرکبات کا درس دیتے تھے ۔ شفا الملک حکیم عبد اللّطیف فلیفص علم المرکبات کی تدریس کے دوران اپنے معمولاتِ مطب کے ساتھ ساتھ قرابادینِ قانون، قرابادینِ اعظم ، علاج الامراض اور شرح اسباب وغیرہ کتب کی روشنی مںا بھی طلباء کو مستفید کیا کرتے تھے۔راقم الحروف کے اساتذہ مںس حکیم عبد القوی صاحب اور حکیم محمد رفیق الدین صاحب کا بھی درس بطور امالی ہی ہوا کرتا تھا۔
بی۔یو۔ایم۔ایس۔ اور ایم۔ڈی۔ (یونانی) کورسوں مںا مرکبات کا نصاب جن ادویہ پر محیط ہے،اِس کتاب مںی اُنہی ابواب و موضوعات کو ترتیب کے دوران ملحوظ رکھا گیا ہے ۔نیز علمِ مرکبات کے مطالعہ مںد معاون ہونے والے دواسازی کے اہم نکات کو بھی حسبِ ضرورت ابواب کتاب مںو شامل کر کے طلباء کی معلومات کو وسیع تر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔امید ہے کہ’’ دستورالمرکبات‘‘ ادویۂ مرکبہ کے نصابی اور خارجی مطالعہ مںُ کافی معاون ثابت ہوگی اور طلباء و معلِّمین کواِس موضوع سے متعلق وافر مواد فراہم کرے گی۔ اِس کتاب کو مزید مفید بنانے کے لئے اہلِ فن کی وقیع رائے اور بر محل مشوروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
عرصۂ دراز سے امراض نسواں کے تعلق سے دو قرابادینی مرکبات طلباء کے زیرِ درس چلے آرہے تھے جن مں ایک کا نام ’’دوا جھاڑ‘‘ اور دوسرے کا نام ’’دواء سمیٹ‘‘تھا۔ راقم الحروف نے اِن دونوں ہندی ناموں کو نیا مترادف عربی نام’ حَمول منقّی رحم‘ (دواء جھاڑ) اور’ حَمول مضیقِّ رحم/مکیّف رحم ‘(دواء سمیٹ) تجویز کرنے کی جسارت کی ہے، اِس یقین پر کہ یہ دونوں نام بہتر فنّی مفہوم ادا کر سکں گے۔

ترکیب ادویہ کی ضرورت اور اُس کے اصول و قوانین
ادویۂ مفردہ کو مرکب کرنے کی ضرورت بالفعل تین اسباب کی بناء پر پیش آتی ہے:

(۱) کسی دوائے مفرد مںر ایسی تمام قوتں’ نہ پائی جاتی ہوں جن سے مرض کا معالجہ ہو سکے۔
(۲) دوسری صورت مںم ترکیبِ ادویہ کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب کہ مطلوبہ قوتںی دوائے مفرد مںا موجود تو ہںس لیکن اُن سے کم یا زیادہ مقدارِ قوت کی ضرورت ہو۔
(۳) دوائے مفرد مںق ایسی قوتںل موجود ہوں جن سے استفادہ مقصود نہںس ہے یا ایسی قوتںق بھی پائی جاتی ہںن جن کی ضرورت بالکل نہں ہے۔
اِسی طرح مختلف اسباب کے اجتماع کے نتیجہ مںی بھی ادویہ کو مرکب کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، جس کی مثال وہ امراض ہںہ جن کا سبب ایک سے زیادہ اخلاط ہوتے ہںپ ۔ اِس بناء پر ضرورت اِس بات کی متقاضی و داعی ہوتی ہے کہ ایسی دواؤں کا مرکب تیار کرایا جائے جو ایک سے زائد اخلاط کا استفراغ کر سکے اور اِزالۂ مرض ممکن و آسان ہو سکے۔
اِسی طرح عضو کی وضع کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی ترکیب ادویہ کی ضرورت پیش آتی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ جب یہ اِرادہ ہو کہ جوہرِ قابض کو جسم کی گہرائی تک پہنچایا جائے تو مقامِ مرض کے دور ہونے کی وجہ سے اُس کے ساتھ ایسی دواء ملائی جاتی ہے جو مزاجاً و عملاً لطیف ہوتی ہے تاکہ جوہرِ قابض معاون ہو جائے ، چنانچہ ادویۂ مثانہ مںم ذراریح اور ادویۂ قلبیہ مںب قدرے زعفران ملانا اِس قسم کی مثال ہے ۔ نیز مرہموں مںا موم وغیرہ ملانے کا فلسفہ بھی یہی ہے۔
( کتاب الکلیات ابو الولید محمد بن رُشد)