گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

نسخہ نمبر 11

--{معافی کواپنا شعار بنائیں }--
واقعا اگر آپ کی بہو بری بھی ہے ،اور اس نے آپ کے ساتھ کچھ زیادتی بھی کی ہے تو آپ اسے معاف کردیں ۔
کیوں ؟
اس لئے کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ قیامت میں خدا آپ کو معاف کردے ؟
آپ نے سنا ہوگا کہ قیامت میں کچھ لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس دنیا میں عفو ،درگذر اور بخشش سے کام لیتے ہیں ۔

82

نسخہ نمبر 12

--{ جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو}--
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گھر میں (بمعہ ترجمہ) لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دینی چاہئیے ،کہ گھر کے ہر فرد کی نگاہ اس پر پڑتی رہے
"ویدرون بالحسنۃ "(سورہ قصص)
"جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو"
اے ساس وسسر ! اگر آپ قرآنی احکام پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کو اس آیت پر بھی عمل کرنا ہوگا ۔یہ آیت لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دیں کہ جسے آپ بھی دیکھیں ،بہو بھی دیکھے ،بیٹا بھی دیکھے ،گھر کے بچے بھی دیکھ لیں اور آہستہ آہستہ سب میں معاف کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے ۔ اگر آپ اور بہو میں ہم آہنگی نہ ہو تو بھی بخشش اور حسن سلوک سے اس کمی کو پورا کرسکتے ہیں ۔
٭ علم کی وجہ سے اللہ کے واحد ہونے کا اقرار کیا جاتا ہے علم کے ذریعے صلہ رحم کیا جاتا ہے ۔"


83

نسخہ نمبر 13

--{اختلافات کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "خود بینی اور خود پسندی "کی بیماری ہے اس کو دور کیجئے"}--
اس مہلک بیماری میں مبتلا شخص پر پتھر پڑجاتے ہیں وہ صرف اپنی خوبیوں کو دیکھتا ہے اور اسے اپنے میں خاص خامی نظر نہیں آتی اور وہ وقت اس سے بھی بد تر ہوتا ہے جب اس مرض میں مبتلا کوئی دوسرا شخص بھی مل جائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی عیب جوئی کریں ۔
محترم ساس ! کہیں یہ عیب آپ میں بھی تو نہیں ہے ۔ممکن ہے کہ زیادتی بہو کی طرف سے بھی ہوتی ہو لیکن آپ کا بھی قصور ہو ۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے کا ایک طریقہ اپنا محاسبہ کرنا ہے ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آپ کی طرف سے بہو کے سلسلے میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں ؟
اگر ہوئی ہیں تو اپنی طرف سے بہو سے حسن سلوک کرکے ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں ۔
بہت سے لوگوں میں یہ مرض اتنا گہرا اور شدید ہوتاہے کہ انہیں اس کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہوتا ۔
84

نسخہ نمبر 14

--{ اگر آپ خود کو آخرت کے لئے آمادہ کرلیں گے تو گھر کے سارے جھگڑے خود ہی ختم ہوجائیں گے }--
رسول اسلام (ص) فرماتے ہیں کہ :
"وہ شخص جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہوجائے اور اس کے اچھے کام برے کاموں پر غالب نہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو عذاب الہی کے لئے تیاررکھے "-
امام حضرت صادق فرماتے ہیں کہ :
"انسان چالیس سال تک کی عمر تک رحمت الہی کی وسعت میں ہے جب زندگی کے چالیس سال مکمل ہوجاتے ہیں تو خدا فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ اب وہ سخت گیری اور سخت نگرانی سے کام لیں اور اس کے تمام اعمال چاہے کم ہوں یا زیادہ ،چھوٹے ہوں یا بڑے تحریر کریں ۔"
اگر آپ نے علم حاصل کئے بغیر ہی زندگی گزاردی ہے تو جھگڑوں کا ایک سبب یہ جہالت بھی ہے کیونکہ

85
مولائے کا ئنات فرماتے ہیں کہ :
"جب عقل مند انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی عقل جوان ہوتی ہے اور جب جاہل انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہوتی ہے "۔
اور آپ کی علم حاصل کرنے سے روگردانی آپ کو خلاف شریعت امور کا ارتکاب کرواتی ہے جس سے اولاد او ربھی نافرمان ہوجاتی ہے ۔اگر آپ کو علم ہو کہ کس وقت شریعت کی طرف سے کیا ذمہ داری ہے ، موجودہ حالت میں گھر میں کیسے رہا جائے تو اولاد کبھی نافرمانی کی طرف نہیں جائے گی ۔
رسول اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے ارشاد فرمایا کہ :
"اے علی (ع) ! وہ ماں باپ ،رحمت الہی سے دور ہوں اور بے نصیب ہوں جو اپنے برے طریقوں اور باتوں سے اپنی اولاد کے منحرف او رگمراہ ہونے کا باعث بنتے ہیں اور انہیں اپنی اذیت اور نافرمانی کے راستے پر لگادیتے ہیں "۔
مولائے کائنات فرماتے ہیں کہ:
"جھڑکنے اور ڈانٹ ڈپٹ میں زیادتی ،لڑائی جھگڑے کی آگ کو بڑھا تی ہے "۔
اس پورے کتابچہ کا خلاصہ اگر کیا جائے تو لب لباب اس روایت کا نتیجہ ہے کہ ابو دا‌ؤد کہتے ہیں کہ ہم تین آدمی کسی بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اتنے میں

86
پیغمبر اسلام پہنچے اور دیکھا کہ ہم جھگڑرہے ہیں ۔یہ دیکھ کر آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا ، میں نے کبھی رسول خدا کو اتنا غصّہ ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔اس کے بعد پیغمبر اسلام نے فرمایا :
" جھگڑا اور تکرار کرنا مسلمانوں کی شان نہیں ،جو لوگ ایسا کریں گے میں ان کی شفاعت نہیں کروں گا ۔"
اس کے بعد فرمایا :
" ابتدائی چیز جس کے بارے میں مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں لوگوں کو جس چیز سے روکوں وہ شرک و بت پرستی کے بعد تکرار اور جھگڑا کرنا ہے ۔"
٭ میرے شیعوں کو میرا سلام پہنچانا اوریہ کہہ دینا کہ اللہ اس بندے پر رحمت کرتاہے جو دوسرے کے پاس بیٹھ کر ہماری حدیثیں یاد کرتا ہے کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا ایک فرشتہ ہوتاہے جو ان دونوں کے واسطے طلب مغفرت کرتا ہے اور جب تم ایک دوسرے سے ملتے ہو اور ہماری حدیثوں کا ذکر کرتے ہو تو اس ملاقات اور ذکر کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارا دین مذہب تمھارے لئے زندہ ہوجاتا ہے اور ہمارے بعد سب سے بہتر وہ شخص ہے جو ہماری حدیثوں کاذکر کرے اورہم کو یاد کرے ۔(امام جعفر صادق علیہ السلام)