گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

57

نسخہ تمبر 8

--{اگر بیوی کی یہ کوتاہیاں آپ کی بہن یا بیٹی میں ہوتیں ۔۔تو؟}--
ان کی شکا یتیں ان کے سسرال سے آتیں تو جو عذر ان کے لئے یا جو آپ ان کی صفائی میں کہتے وہ بیوی کے لئے کیوں نہیں سوچتے صرف اس لئے کہ وہ آپ کی بیوی ہے ؟ اور کسی دوسرے کی بیٹی یا بہن ہے ؟
اس کی کوتاہیوں کے لئے بھی تو آپ کو عذر پیش کرنے چاہئیں کہ ابھی نئی نئی آئی ہے اتنی جلدی سسرال کے رنگ میں کیسے رنگ جائے ،بھول چوک ہوہی جاتی ہے ،برداشت کرنا چاہئیے وغیرہ وغیرہ ۔
بہن اور بیٹی کو بھی چھوڑیں ۔ذرا سوچیں کہ آپ جو دنیا کی ساری خوبیاں اپنی بیوی میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کا کردار ساری کوتاہیوں سے مبرّا دیکھنا چاہتے ہیں ۔سوچیں کہ جس نے آپ کو بیٹی دی ہے ۔ اگر وہ بھی اور دنیا میں بسنے والے تمام باپ اپنے داماد کے لئے کوئی ایسا معیار ذہن میں مقرر کرلیتے ہیں کہ :
لڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ہو۔

58
تقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں مقدس اردبیلی جیسا ہو۔
دنیاوی تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم ڈاکٹر عبد القدیر جتنی ہو ۔
اخلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ملامحسن فیض کاشانی کی طرح ہو۔
علم دین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے اعتبار سے علامہ حلی جنتا علم رکھتا ہو ۔
دین ودنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے اعتبار سے بو علی سینا جیسا ہو ۔
تو فرمائیے آپ محترم کس کے داماد بن سکتے تھے ؟ اگر لوگ اپنے بلند معیارات پر اپ کو پرکھنے لگیں اور جب آپ اس معیار پر پورا نہ اتریں تو وہ بات بات پر نکتہ چینی کرکے آپ کا جینا دوبھر کردیں تو آپ ان لوگوں کے متعلق کیا کہیں گے ؟۔۔۔۔۔۔اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑ تے ہیں ۔

شوہر محترم!
یہی کچھ آپ کو بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اس کے ہر عمل کو تنقیدی چشمہ لگا کر دیکھا جاتا ہے اور اچھائی میں کیڑے نکالے جاتے ہیں ۔اگر اس سے کوئی معمولی غلطی بھی سرزد ہوجائے تو گھر میں عدالت کا سا سماں ہوتا ہے ۔ ساس و سسر قاضی بن کر بیٹھ جاتے ہیں ، بھاوج اور بڑی نندیں وکیل بنتی ہیں اور گھر کی ماسی اور چھوٹی نندیں گواہ بن جاتی ہیں اور پھر اس کی معمولی غلطی کو ناقابل معافی جرم قراردے کر سینکڑوں طعنے اور دل چھلنی کرنے والےجملے سزا کے طور پر کہے جاتے ہیں اور اس پر بس نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ اس معصوم کے ماں باپ ،بہن بھائی اس کے پورے خاندان کو بھی نشانہ بنا یا جاتا ہے ۔

59
اب یہی تمام باتیں آپ کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہوتیں تو آپ ان شکوہ شکایات کرنے والوں کے متعلق کیارائے قائم کرتے ؟

نسخہ نمبر 9

--{اپنے غصّہ کو برداشت کرنا سیکھئے }--
آج ہی سے فیصلہ کرلیں کہ میں دفتر ،دکان ،ملازمت وکاربار اور باہر والی زندگی کے مسئلے گھر سے باہر چھوڑ کرآؤں گا ۔ اگر کبھی کسی بات پر غصّہ آبھی جائے تو فورا خاموش ہوجائیں ۔
رسول اسلام(ص) فرماتے ہیں :
" جب تم میں سے کسی کو غصّہ آجائے تو وہ فورا خاموش ہو جائے "
یا وہاں سے اٹھ کر چلے جائیں اور تنہائی میں آجائیں ۔
غصّہ قابو کرنے کا ایک عجیب علاج یہ بھی ہے کہ ایک کاغذ پر ایک عبارت لکھ کر ایسی جگہ لگادی جائے جہاں بار بار اس پر نگا ہ پڑتی ہو ۔
"اللہ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت ہے جتنی تجھ کو اپنے بیوی ،بچوں اور ماتحتوں پر قدرت ہے ۔"

60
کیونکہ آدمی کوغصّہ اسی پر آتا ہے جس کو اپنے نے کمزور پاتا ہے اگر دوسرا طاقتور ہو تو غصہ نہیں آتا لہذا جب بار بار اس تحریر پرنگاہ پڑے گی تو دل ودماغ میں اللہ کی بڑائی کا استحضار ہوگا غصّہ کہاں آئے گا ؟
یاد رکھئیے کہ اگر میاں بیوی اور گھر والوں کی یہ تو تو ،میں میں اور بگ بگ ختم ہو جائے تویہ گھر کے معصوم بچوں پر بہت بڑا رحم ہوگا ۔ورنہ جھگڑوں کے ماحول میں گھٹ گھٹ کر پلنے والے بچے سہمے سہمے رہتے ہیں ،خود اعتمادی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
جس معصوم کے ذہن پر ہر وقت باپ کا طمانچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں کے بہتے ہوئے آنسو۔۔۔۔۔۔کا تصور رہتا ہو جس کے کانوں میں دادی اور پھوپھی کی جھڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باورچی خانے میں روتی ہوئی ماں کی سسکیاں ۔۔۔گونجتی رہیں تو اس بچہ کی خدا داد صلاحتیں اور قابلیت جن سے وہ نجانے دین ودنیا کے اعلی سے اعلی کیا کیا کام کرجائے ۔ختم ہوجاتی ہیں ۔ ٭ علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پرفرض ہے آگاہ ہو کہ اللہ تعالی طالب علم کو دوست رکھتا ہے ۔
61

نسخہ نمبر 10

--{اپنا مقام پہچانئے ،زن مرید نہ بنئے}--
یہ جو آپ سے بیوی سے نرم رویہ اختیار کرنے ، اس کی دلجوئی کرنے اور نامنا سب بات کی تحمل سے برداشت کرنے کی استدعا کی گئی ہے اس سے یہ نہ سمجھئے گا کہ بیوی آپ پر حاکم ہے ،آپ محکوم ہیں ، وہ آپ کو ڈانٹ سکتی ہے اور جھڑک سکتی ہے آپ کچھ نہیں سکتے اور آپ اس کے غلام ہیں ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ لہذا خدا را زن مرید نہ بنئے گا ۔ آپ کا ایک مردانگی والا مقام ہے گھر کے سربراہ والی ایک ذمہ داری ہے ۔
آپ کے ڈھیلے پن سے گھر کا نظام اندھیرنگری چوپٹ راج والا ہوسکتا ہے ۔ بچے کہیں کے کہیں نکل سکتے ہیں ۔
بیٹیاں آپ کے ہر وقت جی حضوری کے رویہ کو دیکھ کر اپنے شوہروں سے بھی ویسے ہی رویہ کی متمنی ہوجائین گی اور گھرانے کے گھرانے اجڑیں گے ۔جس کے صرف آپ ذمہ دار ہوں گے ۔
بے شک شفقت کا معاملہ رکھئیے کہ اس میں جو رعب ہے وہ ہر وقت کی ڈانٹ ڈاپٹ میں نہیں ہے ۔ بیوی سے ڈرے سہمے مت رہیں اللہ سے اپنا
62
معاملہ صاف رکھیں گھر میں تعلیم عام کریں ۔
دنیا کی رغبتی اور آخرت کی ترقی کے تذکرے ضرور کریں ۔
تجربہ کار عالم دین بیوی کے گھر کے بڑوں سے بھی ضروری احوال کا مشورہ برائے گھریلو اصلاح (نہ کہ بطور شکایت یا غیبت )کرتے رہیں ۔
یہ بات یادرکھیئے کہ آپ ہاں جی ، والے غلام بنتے ہیں تو آپ کائنات کےنظام میں فساد کا بیج بورہے ہیں ۔
٭ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :" لوگ تین قسم کے ہیں ایک تم عالم ،دوسرے طالب علم ، تیسرے کوڑا کرکٹ (یعنی وہ لوگ جو نہ عالم ہیں نہ طالب علم ، وہ کوڑے کچرے کی طرح بے مقصد اور بیکار لوگ ہیں )۔"