گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

52

نسخہ نمبر 4

--{"گڑنہ دیں تو گڑجیسی بات تو کریں" }--
آپ اس آسان نسخہ کا تجربہ تو کرکے دیکھئے انشااللہ آپ کی تمام خانگی پریشانیاں کافور ہوجائیں گی ۔ بیوی آپ سے دلی محبت کرنے لگے گی بچے بھی آپ کے لہجے اور میٹھی زبان سے متاثر ہوکر باہر بھی یہ ہی زبان استعمال کریں گے ،کتنا ہی اہم معاملہ ہو کوشش کریں کہ آپ کا نرم لہجہ چھوٹنے نہ پائے ۔
بڑی سے بڑی تادیبی کاروائی بعض اوقات اتنی مفید ثابت نہیں ہوتی جتنی خوشگوار اور نرم لہجے میں سمجھادینے سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔
آج ہی سے آپ اپنا نرم بنا لیجئے ۔اپنی زبان میٹھی بنالیجئے ۔وقتا فوقتا دوستوں ،اٹھنے بیٹھنے والوں اور بیوی وگھر والوں کو کہہ دیجئے کہ اگر میرا لہجہ سخت یازبان دلخراش ہو تو مجھے بعد میں بتا دینا پھر ان کے بتانے کے بعد اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہئے ۔
اپنے گھر کے ایک فرد ،مسلم معاشرے کے ایک رکن اور خاندان اہل بیت سے تمسک کے دعوی کرنے والوں پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھیوں کے لئے اپنا لہجہ نہایت ہی پر سکون اور پر مسرت رکھیں ۔

53
کوّا کس کی دولت چھینتا ہے ؟
کوئل کسی کو کیا دیتی ہے؟
صرف شیریں کلامی کے باعث سب کادل موہ لیتی ہے

نسخہ نمبر 5

--{بیوی کے کاموں کی اکثر تعریف کیجئے }--
سچ پوچھئے تو کام کی زیادتی سے بیوی اتنا نہیں تھکتی جتنا حوصلہ شکنی سے تھکتی ہے ۔ اس کا سارا جوش وولولہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے اوراعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور اس کی زندگی بے مصرف ،بے جان کولہو کی بیل کی طرح ہو کر رہ جاتی ہے ۔
جس کے دل میں ہی احساس ہو کہ بیوی کھانے پکانے کی جوخدمت انجام دے رہی ہے یہ اس کی شرعی ذمہ داری نہیں ہے ۔تو وہ اس کے کھانے پکانے اور گھر داری کی تعریف کرے گا ،اس کی ہمت بندھوائے گا اور اس کا حوصلہ بڑھائے گا ۔
لیکن جو شخص اپنی بیوی کو نوکرانی یا خادمہ سمجھتا ہو اس کو تو یہ کام ضرور انجام دینا ہیں ، کھانا پکانا اس کا فرض ہے ،اگر اچھا کھانا پکا رہی ہے تو اس پر اس کی

54
تعریف کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسا شخص اس کی کبھی تعریف نہ کرے گا ،اچھا کھانا پکانے پر اور کسی معمولی کوتاہی پر ، نمک کی زیادتی یا چینی کی کمی پر گھر میں طوفان بد تمیزی برپا کرے گا اور لمبا چوڑا جھگرڑا شروع کردے گا ۔
یاد رکھئے ! یہ انسانی طبیعت ہے کہ اس کی اچھے کاموں کی حوصلہ ا‌فزائی کی جائے اور حوصلہ افزائی کی خواہش جب ہی زیادہ ابھرتی ہے جب کہ اس کی اعلانیہ حوصلہ شکنی ک جارہی ہو خصوصا دیوار انی ، جیٹھانی اور نندیں وغیرہ مسلسل اس کے کام میں رخنہ ڈال رہی ہوں اور ذرا ذرا سی بات پر اس کی پکڑ کی جاتی ہو ۔
یہ ایک ظلم کی کے مترادف ہے ، جس کام کی ستائش نہیں کی جاتی اور اس کو شاباش نہیں کہا جاتا یا ایک لفظ شکریہ کا ادا نہیں کیا جاتا اس کی دل شکنی کی جاتی ہے ،وہ اکثر ہمت چھوڑبیٹھتی ہے اور اس کی صلاحیتیں سلب ہوجاتی ہیں ۔
آج ہی سے اپنا معمول بنا لیجئے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی مثلا چائے بنانے پر ، پانی کا گلاس دینے پر ، دل وزبان سے اس کا شکریہ ادا کریں ۔ پھر دیکھئے کہ بیوی کیسے آپ کے قدرداں بنتی ہے اور گھر میں ہی جنت کا نمونہ بن جائے گا ۔
٭ علم کے ذریعے اللہ کی مغفرت حاصل ہوتی ہے (حضرت علی علیہ السلام)


55

نسخہ نمبر 6

--{بیوی کو دوست سمجھیں نوکر نہیں }--
یہ بات یادرکھیں کہ بیوی کے برابر دنیا میں مرد کا کوئی کارآمد دوست نہیں ۔ آپ غور کریں کہ آپ اپنے دوستوں پر ویسا رعب جماسکتے ہیں جیسا نوکروں پر جمایا جاتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ ایسا کرکے تو دیکھیں ،سارے دوست آپ کو چھوڑ کر الگ ہوجائیں گے ۔دوستوں کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کوئی عقلمند انسان نہیں کرسکتا ۔
پھر حیرت کی بات ہے کہ ایسا برتاؤ آپ اپنی بیوی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ۔جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دوست نہیں ہوسکتا ۔تجربہ ہے کہ فلاں ومحبت میں سب دوست واحباب الگ ہوجاتے ہیں ، رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں مگر بیوی ہر حال میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتے ہے ۔
اسی طرح بیماری میں جیسی راحت بیوی سے پہنچتی ہے ،کسی دوست سے تو کیا پہنچتی بعض اوقات اولاد سے بھی نہیں پہنچتی ۔لہذا ایسا رعب جمانا درست نہیں اگر آپ اپنی بیوی سے دوستوں جیسا سلوک روا کھیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں آپ کو گھر میں ایک نمایاں خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوگا ۔

56

نسخہ تمبر 7

--{بیوی کی خدمات کا احساس کریں}--
آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر عورت خود بھی بیمار پڑی ہو ، اٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو اور ایس حالت میں شوہر بھی بیمار پڑجائے تو عورت اپنی بیماری بھول جاتی ہے ۔ اب اپنا آرام ۔۔۔۔اپنی راحت ،اپنی بیماری چھوڑ کر شوہر کی تیمارداری میں مشغول ہوجاتی ہے ۔
یہ تو عام بات ہے کہ عورتیں خود کھانا سب سے آخر میں کھاتی ہیں ۔ پہلے مردوں کو کھلاتی ہیں اور اگر اس وقت اچانک کوئی مہمان آجائے تو اپنا کھانا بھی مہمان کے لئے بھیج دیں گی ۔اگر شوہرآدھی رات کو سفر سے واپس آجائے تویہ وفا شعار عورت اپنا آرام اور اپنی نیند قربان کرکے ، اس کی خدمت میں لگ جائے گی ۔ اے شوہر محتر ! بیوی تو آپ پر اپنا سب کچھ قربان کردے اور آپ اس سے بے نیاز رہیں ۔ اس نے تھوڑی سی زبان چلادی اورآپ کبدلہ لینے پر اتر آئے اور اس کی دلداری چھوڑدی ۔آپ کے لئے یہ طریقہ کسی بھی طرح مناسب نہیں بلکہ اس کی ہر وقت خدمات کے صلے میں آپ کو بیوی کی نامناسب باتوں کو برداشت کرنا ہوگا ۔