گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

46

شوہر کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے

نسخہ نمبر 1

--{یہ بات طے کرلیں کہ بیوی ،ماں اور بہنوں کی ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں سنیں گے }--
بیوی سے سنی ہوئی بات سے والدہ یا چھوٹے بھائی بہنوں کو کچھ نہ کہئے اور والدہ اور بہنوں کی شکایت سن کر بلا تحقیق بیوی کو کچھ نہ کہئے ۔
خدا را بیوی سے سنی ہوئی باتوں کی وجہ سے اپنی والدہ کو کبھی کچھ نہ کہئے گا والدہ کی آہ نکلنے سے دنیا وآخرت دونوں برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ والدہ کی واقعی غلطی سامنے آبھی جائے توپیار ومحبت سے سمجھانے کی کوشش کریں یا بڑی بہن کے ذریعے والدہ کو سمجھائیں ۔بیوی کے ذریعے والدہ کو سمجھائیں ۔بیوی کے ذریعے والدہ کو تحفے دلوائیں ۔
حدیث میں بھی ہے کہ "تھادو اتحابوا"( ہدیہ لیا دیا کرو اس سے آپس میں محبت بڑھے گی )۔
آپ کے سامنے بیوی کی کتنی بڑی غلطی بھی بیان کی جائے یا والدہ ،بہنیں یا بھابیاں آپ کی شکایت لگائیں تو اس وقت قصدا کوئی عملی قدم نہ

47
اٹھائیں اس وقت بیوی کو کچھ نہ کہیں ،کم از کم اتنا صبر کرلیں جس میں دو نمازوں کا وقت گزر جائے یعنی اگر کوئی بات ظہرین کے وقت سننے میں آتی ہے تو مغربین کے بعد سمجھائیں او راگر مغرب کے وقت سننے میں آتی ہے تو فجر کے بعد سمجھائیں ۔
اس تدبیر پر عمل کرنے سے انشا ءاللہ تعالی آپ کے گھر میں بہت زیادہ نمایاں تبدیلی رونما ہوگی ۔آپ کی بات کی قدر بھی ہوگی اور آپ کی بردباری اور عقلمندی کا سکہ جمے گا اور بیوی آپ کی بات پر عمل بھی کرے گی ۔
اگر سمجھانا بھی ہوتو کوشش کریں کہ براہ راست نہ سمجھائیں ہر گز فورا جا کر بیوی سےیہ نہ کہیں کہ تم نے کیوں کہا ؟ بہن یہ کہہ رہی تھیں ۔تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیئے تھا ؟وغیرہ غیرہ ۔بلکہ یادرکھئیے کہ رسول اسلام کے سمجھانے کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی عیب کسی شخص میں دیکھتے تو اس کا نام نہ لیتے بلکہ یوں فرماتے کہ (ما بال الناس) لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں"۔
تو ہمیں بھی سیرت رسول پر عمل کرتے ہوئے عمومی بات کہنا چاہئے مثلا کہیں ،دیکھو بہت سی عورتوں کویہ بری عادت ہوتی ہے کہ وہ ادھر کی بات ادھر لگاتی ہیں یہ بہت نامناسب بات ہے کہ مجھے ایسا کرنے والیوں سے بہت چڑ ہوتی ہے لہذا تم اس سے ذرا بچنا ۔
ارے بھئی کوئی اپنے گھر کی بات دوسروں کو بتاتا ہے ۔یہ تو حد درجہ حماقت ہے تم کبھی ایسا نہ کرنا ۔۔۔ بلکہ مجھے تو تم پر پورا عتماد ہے کہ تم تو کبھی

48
ایسا نہ کرتی ہوگی ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔
ایک اہم بات اور یہ ہے کہ کبھی دوسروں کے سامنے بیوی ،ماں یا بہنوں کو نہ سمجھائیں نہ دوسروں کےسامنے ان کی توہین کریں ۔اور اکیلے سمجھاتے ہوئے بھی اس کو دوسری عورتوں کی مثالیں دے کر سمجھائیں ۔کہ دیکھو فلاں بھابی ۔۔۔ سب سے مل جل کر رہتی ہے ، میری بہن کو دیکھا بچوں کی کیسی اچھی تربیت کررہی ہے اور تم ؟۔۔۔
۔۔۔ اس طرح کہنے سے اصلاح نہیں ہوا کرتی ۔اصلاح کے لئے محبت ،اپنا ئیت ،نصیحت ، برداشت اور ہمدردی اور نرم کالامی ہونی چاہیے ،تلخ کلامی اور سخت بیانی سے وقت اصلاح اتنا ہی دور ہونا چاہیے جتنا مشرق ومغرب میں فاصلہ ہے ۔

نسخہ نمبر 2

--{بیوی کے سلسلے مین اپنے معیار کونیچے لائیے}--
آپ کی اکثر سوچ یہ ہوتی ہے کہ بیوی میرے معیار پر پوری نہیں اتری ۔تو قصور اس غریب کانہیں بلکہ جناب عالی کےبلندمعیار کا ہے اوراس کا علاج فقط یہ ہے کہ آپ اپنے کو ذرا نیچے کیجئے ۔
49 آپ جب گھر آتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ اس نے آپ کا پر جوش اسقبال نہیں کیا ۔کیا آپ کو احساس ہے کہ وہ بیچاری گھر گر ہستی کے کاموں میں کتنا مصروف رہی ؟
ذرا ایک دن گھر کا مکمل چارج سنبھال کردیکھئے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ آپ کے تمام کام مشین کی طرح انجام دیتی ہے ۔
آپ کھانا پکانے کے لئے ایک خانساماں رکھیئے ،گھر کی صفائی کے لئے ایک ملازم ،کپڑے دھونے کے لئے ایک لانڈری ،اور بچوں کی نگہداشت کے لئے ایک ملازمہ اور گھر کی نگرانی کے لئے ایک چوکیدار ۔۔۔۔۔۔۔مقرر کیجئے ۔
ان تمام ملازمین کی فوج کے باوجود گھر کا نظم و نسق ایسا نہیں چلے گا جیسا کہ یہ مشین چلارہی ہے لیکن آپ کے ذہنی معیار میں اس کی ان خدمات کی کوئی قیمت نہیں
سالہا سال گزرنے کے باوجود آپ نے اپنے خود ساختہ معیار کی بلندیوں سے نیچے اتر کر بیوی کے پوشیدہ کمالات کو جن کو خدا نے حیا کی چادر سے ڈھانک رکھا ہے ،کبھی جھانکا ہی نہیں ۔
آپ کبھی اپنے عرش سے نیچے اتر تے تو اس فرشی مخلوق کو سمجھتے ۔
٭ علم کے ذریعے اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے ۔(حضرت علی علیہ السلام)


50

نسخہ نمبر 3

--{اخلاق میں بہترین اور اپنے گھر والوں کے حق میں نرم ترین بن جائیں }--
پیغمبر اسلام فرماتے ہیں کہ : مومنین میں کامل ترین ایمان والا و ہ ہے جو اخلاق میں بہترین ہو اور اپنے گھر والوں کے حق میں نرم ترین ہو"-
نیکی اور بزرگی کا معیار یہ نہیں ہے کہ دفتروں میں ، دوستوں کے مجمع میں ، مجالس میں ،مدرسوں اور مساجد میں کون کیسا نظرآتا ہے بلکہ یہ کہ بیوی اور گھر والوں کے ساتھ نرم برتاؤ کس کا ہے ،گھر کے اندر صبر وتحمل کا ثبوت کون دیتا ہے ۔
جلوت میں نہیں خلوت میں کون کیسا ہے ؟
یہ مسکرانا ،ہنسنا ،بولنا اس کی کوتاہیوں پر صبر کرنا ، اس کی غلطیوں کو معاف کرنا ،غصّہ برداشت کرنا ، اس کی تکالیف وراحت کی باتیں سننا ،دلجوئی کی باتوں سے اس کے دل کو خوش رکھنا ،اس کو شرعی حجاب کے ساتھ پاکیزہ تفریح کے لئے لے جانا ،اس کو جیب خرچ اپنی وسعت کے اعتبار سے دے کراس کا حساب نہ لینا کہ جہاں چاہے وہ خرچ کرے ۔یہ تمام باتیں بھی عبادت میں شامل ہیں ۔

51
بیوی کو تھوڑا بہت تو روٹھنے کاحق ہے آخر وہ آپ کے سوا کس پر ناز کرے ؟غور کیجئے جب یہ بچی تھی تو اس کا منہ بسور ا دیکھ کر ماں باپ سو کام چھوڑ کر اس کو اٹھاتے تھے جب یہ بڑی ہوگئی اور کبھی اس کی طبیعت بجھی بجھی لگی توقریبی سہیلیاں اس کے دل کا راز جان کر اس کو تسلی دیتی تھیں ۔
اب ۔۔۔ یہ آپ کے پاس سب رشتے ناتوں سے دور ہوکر آئی ہے اگر وہ کوئی بات منوائے ،یا اپنی طرف آپ کو متوجہ کرنے یا صرف اپنے وجود کی آپ کے قلب ونظر میں مزید اہمیت اجاگر کرنے کے لئے روٹھتی ہے تو آپ اس کا ہرگز برانہ مانیں ۔
آخر وہ کس کے سامنے یہ چھوٹا موٹا ناز نخرہ کرے ‏؟ گھر والوں کو تو دور چھوڑآئی ہے ۔۔۔گال تھپتھپانے والا باپ
بال سنوارے والی ماں
مہندی لگانے والی ہمجولیاں تو اب بہت دور ہیں تو اب وہ کس سے اپنی قیمت پوچھو ائے ؟ کس کے سامنے منہ بسورے کہ کوئی اس کومنائے ؟۔۔۔
اے شوہر محترم! اب آپ ہی اس کا سب کچھ ہیں ۔ آپ کامیاب ترین شوہر ہوں گے اگر آپ نے اپنی بیوی کے مزاج کو سمجھ لیا اور اس کے مزاج کے مطابق اس کو چلانا آگیا ۔