گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

37

نسخہ نمبر 11

--{ہر حال میں شوہر کا ساتھ دیں}--
نیک بیوی کو چاہئیے کہ خوشی کے حالات ہوں یاپریشانی کے حالات گھر میں امیری ہو غریبی ۔ہر حال میں شوہر کا ساتھ دے ۔ ایسا نہ ہو کہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو " جب پیسہ تھا تو خوب محبت اور عزت جب پیسہ نہ رہا تو طعنہ زنی شروع ۔اگر شوہر پریشان ہو ملازمت چھوٹ گئی ،کاروبار ٹھپ ہو گیا ، لوگ پیسہ کھا گئے تو پرانے حالات کے مطابق وہی فرمائشیں اور آسائشیں ورنہ جھگڑے ۔گویا بیوی" زوجۃ المال " تھی مال کی بیوی تھی ، اسی سے نکاح ہوا تھا اس شوہر سے نکاح نہیں ہوا تھا ۔
ایسے مواقع پر اس کے غم کا پسینہ پونچھنے تسلی دے کہ آپ فکر نہ کریں جس پر وردگار نے واپس لیا ہے وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے ۔ اس کے واپس لینے میں بھی خیر ہوگی ۔ آپ نمازوں کی پابندی کریں حضور پر بھی جب کوئی وقت آتا تو نمازوں کی طرف مائل ہوجاتے تھے ۔ آپ چلتے پھرتے یا غنی یا مغنی پڑھتے رہیں ۔ انشااللہ ہم قناعت کی زندگی بسر کر لیں گے جلدی ہی آپ کا کام صحیح ہوجائے گا ۔

38
آپ بتائیے جب شوہر یہ باتیں سنے گا تو کتنی ہمت اس میں پیدا ہوگی ، ان پریشانیوں میں اس کو ایک نئی راہ دکھائی دے گی اس کا غم ، خوشی میں بدل جائے گا ۔ورنہ اس کے برخلاف معاشی خرابیاں آجانے سے گھروں میں لڑائی جھگڑے کتنے زیادہ ہونے لگتے ہیں ۔

نسخہ نمبر 12

--{نامحرموں سے اجتناب }--
ہر مومنہ کو چاہئیے کہ نامحرم مرد چا ہے کوئی بھی ہو اس سے مذاق کرنے ،کھلم کھلا بغیر پردہ باتیں کرنا ،ان کو گھروں میں بٹھانا ،خصوصا جس وقت شوہر گھر پر نہ ہو ،نامحرم پڑوسیوں کو اپنے گھر وں میں آنے دینا ،پڑوسن کے شوہر یا ان کے جوان بیٹوں سے بے تکلّفی یا بغیر پردہ کے باتیں کرنا ، شوہر کے دوستوں سے بلا ضرورت ملاقات کرنا ، ان امور سے ایسے بچیں جیسے شیر یا سانپ سے بچا جا تا ہے ۔
محترم خواتین!۔۔۔ جو ایک بندی نہیں بنتی اس کو ہزاروں کی باندی اور نوکرانی بننا پڑتا ہے ،جو عورتیں بالکل بے پردہ یا غیر شرعی طرز سے گھر سے باہر نکلتی ہیں اور خدا کے حکم کو نہیں مانتیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ آزاد ہیں ۔

39
یاد رکھیئے ! جو ایک خدا کی غلامی میں نہیں آتا اس کو ہزاروں کی غلامی اختیار کرنا پڑتی ہے جو ایک کی غلامی اختیار کرلے اس کو ہزاروں کی غلامی سے نجات مل جاتی ہے ۔
آپ کسی بے پردہ خاتون سے پوچھئے کہ آپ پردہ کیوں نہیں کرتیں؟
کیا چیز مانع ہے ۔؟
وہ کہے گی معاشرے کی وجہ سے ، رشتہ داروں کی وجہ سے ،خاندان میں رواج نہ ہونے کی وجہ سے معلوم ہوا کہ وہ خدا کی غلامی چھوڑ کر معاشرے کی غلام ہے ۔
نہیں جھکتا ہے جو سر اللہ کے احکام کے آگے
اسے جھکنا پڑے گا ناتواں اصنام کے آگے
بہر حال دنیا کی زندگی میں کوئی بھی بے قید نہیں ۔ کوئی اللہ کی قید میں ہے کوئی شیطان کی قید میں ہے ، کوئی نفس کی قید میں تو کوئی معاشرے کی قید میں ہے اور قید سے کوئی خالی نہیں ۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے ، کہ آپ کو کون سی قید مطلوب ہے ؟۔
٭ اللہ جب کسی بندے کو توفیق کرامت فرماتا ہے تو وہ شخص علم دین حاصل کرتا ہے (امام جعفر صادق علیہ السلام)
40

نسخہ نمبر 13

--{جب تک ناراض شوہر کو راضی نہ کرلیں آرام سے نہ بیٹھیں}--
جب تک ناراض شوہر کو راضی نہ کرلیں آرام سے نہ بیٹھیں کیونکہ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں کہ :
"کیا میں تمھاری ان بہترین عورتوں کی نشاندہی نہ کروں جن کا بہشت انتظار کررہی ہے ۔ان میں سے ایک عورت وہ ہے کہ جب کبھی اس سے شوہر کو کوئی تکلیف پہنچے یا وہ اس سے ناراض ہو تو وہ اس سے معافی طلب کرنے کے لئے اس کے پاس آئے اس کا ہاتھ تھامے اور کہے ۔خدا کی قسم! جب تک آپ مجھ سے راضی یا خوش نہ ہوں گے ۔میری آنکھیں نیند سے دور رہیں گی "۔
اگر میاں بیوی میں کسی بات پر ناراضگی ،غمی اور ناچاقی یا گرما گرمی ہو جائے تونیک بیوی کو چاہیئے ،کہ معافی مانگنے میں پہل کرلے ۔اس کے نیک ہونے کی شان کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک وہ ناراض شوہر کو راضی نہ کر

41
لے تب تک چین سے نہ بیٹھے۔
----- کیونکہ دو دلوں میں ان بن ،خدا کی رحمت کو دور کردیتی ہے ۔
----- مصیبتوں اور بلاؤں کو لاتی ہے ۔
ایسی ایسی طرف سے پر یشانیاں آتی ہیں کہ اس کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا اس لئے کسی مومن کو بھی اور یقینا شوہر اور بیوی کو بھی کبھی دل میں میل نہیں رکھنا چاہئیے اور اس کے لئے قرآن میں یہ دعا تعلیم کی گئی ہے ۔
"ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ربّنا انک رؤف الرحیم "( پارہ 28 سورہ حشر ۔جزو آیت نمبر 10)
"ترجمہ : ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق ورحیم ہیں "۔
اس لئے کہ ان دو میں رنجشیں ،صرف دو میں نہیں بلکہ سو میں رنجشیں ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔ ان دو کی لڑائی سو کی لڑائی بن سکتی ہے ۔دونوں خاندانوں میں لڑائی ٹھن سکتی ہے ،پورے خاندان کا شیرازہ بکھر سکتا ہے ،نئی نسل (اولاد ) تباہی کے کنارے پہنچ سکتی ہے ۔
٭ واجبات بجا لانے کے بعد سب سے اچھا عمل لوگوں کے درمیان صلح وصفائی کرانے کے سوا کچھ نہیں ۔(رسو ال اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
42

نسخہ نمبر 14

--{شوہر اور اولاد کو بھی دیندار بنادیں}--
---- اوقات مقررہ میں انہیں نماز وروزہ یاد دلاتی رہیں ۔
----- ذکر وتلاوت قرآنی کی روز انہ ترغیب دیتی رہیں ۔
اگر شوہر نے قرآن صحیح طرح نہیں پڑھا تو اس کو صحیح پڑھنے کی ترغیب بمعہ ترجمہ دیتی رہیں ۔بہت ہی حکیمانہ اور پیارے انداز سے آہستہ آہستہ ترتیب کے ساتھ وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے دین سے نزدیک لانے کے لئے کام کرتی رہیں یہ آپ کا شوہر اور اپنے بچوں پر بہت بڑا احسان ہوگا ۔
زیادہ تر بیویاں دینی حقوق سے ایک کوتاہی یہ کرتی ہیں کہ مرد کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوششیں نہیں کرتیں ،یعنی اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتیں کہ مرد ہمارے لئے کمائی کرنے میں حرام میں مبتلا ہے اور کمانے میں رشوت،جھوٹ ، قرض کی عدم ادائیگی اور وعدہ خلافی وغیرہ سے بھی احتراز نہیں کرتا اگر ایسا ہے تو آپ اسے سمجھائیں کہ تم حرام ومشکوک آمدنی مت لایا کرو ہم حلال کی چٹنی روٹی ہی پرگزارا کرلیں گے ۔اسی طرح اگر مرد نماز نہ پڑھتا ہو ،روزہ نہ رکھتا ہو تو اس کو بالکل نصیحت نہیں کرتیں حالانکہ اپنی غرض اور اپنےفائدہ کے

43
لئے آپ ان سے سب کچھ کروالیتی ہیں ۔
صبح سے رات مردوں کا مستقل کمانے کے لئے نکلے رہنا بھی مناسب نہںت بلکہ شوہر اور اولاد کو سمجھائیں کہ ہم صرف کمانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے ،کچھ وقت دین خدا کو بھی دو ،اس کے لئے بھی کچھ وقت نکا لو ،مسجدوں میں جاؤ ،علما کے دروس میں شرکت کرو ،تبلیغات کے سلسلے میں کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے بھی تعاون کرو ۔
اور خود آپ بھی نمازوں اور تلاوت اور تسبیحات کے لئے وقت نکالیں اور یہ نہ سمجھیں کہ آپ کا کام ف‍قط کھانا پکانا ، اور گھر کی صفائی ہے ۔
انشا اللہ آپ کی اس طرح کی فکر ،دعاؤں اور اقدامات سے آپ خود آپ کا شوہر اور آپ کی اولاد نیک ہوجائے گی اور جہاں نیکیاں ہوں وہاں لڑائیاں جھگڑے اور فساد کی جگہ ہی کہاں ہوگی ؟
کیونکہ اگر آپ نیکو کارنہ بنیں اولاد و شوہر کا دین کے سلسلے میں خیال نہ کیا ، بقدر ضرورت علم دین حاصل نہ کیا تویاد رکھئیے ۔
----- ایسی جاہل ماؤں کی گود میں ایسے پھول نہیں کھلاتے ۔
----- فضول خرچ ٹہنیوں پر ایسے قیمتی پرندے نہیں بیٹھا کرتے ۔
----- ایسے نافرمان اور خود غرض گلدستوں پر امام خمینی جیسے گلاب نہیں کھلا کرتے ۔
----- دوسروں کے حقوق سے لا پرواہی کرنے والیوں کے ہاتھوں میں آقائے باقر الصدر جیسے نہیں سویا کرتے ۔

44
----- خدا کی نعمتوں کے ناقد رداں ٹیلوں اور چوٹیوں پر آمنہ بنت الھدی جیسی ہستیوں کا رنگ نہیں بھرا جاسکتا ۔
----- ایسی اداس شاہراہوں اور بنجر علاقوں میں شہید اول اور شہید ثانی جیسی شخصیات نہیں آیا کرتیں ۔
----- نمازوں کو چھوڑنے اور بے پردہ پھرنے والیوں اور اپنے جسم کے اعضاء کی نمائش کرنے والیوں کے سینے سے حافظ محمد طباطبائی اور صادق وزیری جیسے دودھ نہیں پیا کرتے ۔
----- جو عالم کے انسانوں کو لچکنے اور بل کھانے کے انداز سکھاتیں ان کی آغوش ایسی ذات گرامی کے وطن نہیں بنا کرتے جن کا ذرّہ ذرّہ عظمت اور تقدس کا حامل ہوتاہے ۔جن کے ہاتھوں زمانہ نئی انگڑائی لیتا ہے ۔

چھینی ہوائے غرب نے فیشن کے نام پر
سیدانیوں کے سر سےردا یا علی مدد

----- جو شیعیت کی زندگی کے ہر شعبہ میں دوبارہ دین کی تازگی وشادابی کی بہار لانے کا سبب بنتے ہیں ، عالم ا سلام کی پیشانی پر تبسم کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔
----- عالم اسلام کی عورتیں اپنے نونہالوں کے نام ان کے نام پر رکھنے سے فخر محسوس کرتی ہیں ۔حوّا کی بیٹیاں بارگاہ الہی میں دعا کرتی ہیں الہی مجھے لخت جگر اور نور نظر ملے تو اس کا نام مرتضی (مطہری ) رکھوں گی صادق(وزیری)

45
رکھوں گی ،زینب وکلثوم رکھوں گی ۔
محترمہ مومنہ! حوّا کی بیٹی ، ہر نئے نونہاں کی آغوش ۔آپ کی شاخ ۔آپ کی شاخ پر بھی ہم کسی ایسے ہی پھول کے منتظر ہیں ۔ آپ کی ہستی پر ہم کسی ایسی ہی چہچہاتی ہوئی مینا کے منتظر ہیں ۔ جس باغ کو رسول وآئمہ اور ان کی اولادوں نے اپنے خون سے سیراب کیا تھا آج اس باغ کے پھول مرجھانے کو ہیں ، اس کی گھاس کو کوئی خون تو کیا اپنے پسینے سے بھی سیراب کرنے والا نہیں ۔
ہے آپ میں سے کوئی جو اس باغ کو سیراب کرے ؟
٭ جب کوئی بندہ علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو خدائے بزرگ وبرتر عرش سے ندا فرماتا ہے کہ مرحبا! اے میرے بندے کیا تجھے معلوم ہے کہ تو کس بلندی کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔تو نے کس منزلت کا ارادہ کیا ہے کیا تم مقرب فرشتوں کا طلبگار ہے کہ تو ان کا ہمسر بن جائے ۔ہاں میں تجھے تیری مراد تک پہنچادوں گا ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
 
٭ حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ نیکی کی تعریف کیا ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا نیکی یہ نہیں ہے کہ تیرا مال کثیر ہو اور اولاد زیادہ ہو بلکہ نیکی یہ ہے کہ تو اپنے علم میں اضافہ کرے اور تیرا حلم (بردباری) عظیم ہو