گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

29

نسخہ نمبر 4

--{مکمل خاموشی}--
جھگڑ ے کے وقت اس کو ختم کرنے کا اکسیری نسخہ ہے ۔
حکایت ہے کہ ایک عورت ایک عالم کے پاس گئی اور کہا کہ مجھے کوئی ایسا تعویذ دے دیجئے کہ میرا شوہر مجھ سے جھگڑا نہ کرے ،میری بات مانے تو عالم نے فرمایا کہ تم تھوڑا ساپانی لے آؤ میں اس میں دعا پڑھ دوں گا ۔چنانچہ پڑھ دیا اور فرمایا کہ جب تمہارا شوہر غصہ میں ہو تو اس میں سے ایک گھونٹ منہ میں لے کر بیٹھ جاؤ مگر خبردار پانی کو حلق سے نیچے نہ اتارنا ۔
چنانچہ اس نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا ،جب بھی خاوند غصّہ میں ہوتا تو منہ میں گھونٹ لے کر بیٹھ جاتی ،بو ل تو سکتی نہیں تھی ،منہ کو تالا لگ گیا تھوڑے ہی دنوں میں شوہر راضی ہوگیا اور اس کا غصّہ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا ۔اگر جھگڑے میں ایک فریق تکرار نہ کرے اور جواب ہی نہ دے تو جھگڑا بڑھ نہیں سکتا ۔
اور اس کے بعد مردکے لئے تو نرم پڑنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ۔اس کے معذرت کرنے کے بعد اس کے پاس کوئی دلیل ہتیھار ہی مواخذہ کا نہیں رہتا ۔

30
ایک دفعہ ایک عورت ایک بزرگ کے پاس گئی اور شوہر سے روز کے جھگڑے کی شکایت کرنے لگی کہ ہم دونوں لڑتے ہی رہتے ہیں ،بات بات پر شوہر غصّہ کرنے لگتا ہے اور پھرمجھے بھی غصّہ آجاتا ہے ۔ اس پر اس مرد بزرگ نے کہا اس کا علاج نہایت آسان ہے پس شرط یہ ہے کہ تم شیر کی گدّی سے تین بال لے آؤ۔
اب عورت ہمت کرکے چڑیا گھر گئی اور شیر کے لئے کچھ گوشت لے گئی پنجرے میں پھینکا ، شیر نے کھالیا اب تھوڑا سا ڈر ختم ہوا تو روزانہ شیر کے لئے گوشت لے جاتی ۔پہلے دور سے پھینکتی پھر نزدیک سے یہاں تک کہ جب وہ کھاتا تو پنجرے میں ہاتھ ڈال اس کی گدی پر پیار کرنے کی کوشش کرتی ۔ جب شیر کافی مانوس ہوگیا تو گدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تین بال زور سے کھینچ لئے اور مرد بزرگ کے پاس لے آئی اس پر انہوں نے کہا افسو س تم شیر کو تو مانوس کرسکتی ہو اور اس کے تین بال لاسکتی ہو لیکن اپنے شوہر کو مانوس نہیں کرسکیں ۔
تو اس طرح مزاج کی رعایت کرکے شوہر کو مانوس کرلیں ۔(البتہ بال توڑ کرنہیں )۔
بس یہ ہی آپ کی ساری پریشانیوں کاعلاج اور تمام گھریلو بیماریوں کی دوا ہے آپ کا شوہر شیر سے زیادہ درندہ اور آدم خور نہیں ہے بس ہمت کریں اورآئندہ خیال رکھیں ۔

31

نسخہ نمبر 5

--{یہ مجرب نسخہ وہ کہاوت ہے 'جو تم مسکراؤ تو سب مسکرائیں}--
شوہر کے آتے ہی اپنے اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کا پاؤ ڈر لگالیجئیے اور خود شوہر اور بچوں کو بھی چاہئیے کہ وہ گھر میں داخل ہوں تو مسکرا تے ہوئے آئیں اور ایک دوسر ے کو سلام کریں ۔ یہ میاں بیوں میں محبت ، مودت اور اتحاد واتفاق کا مجّرب نسخہ ہے ۔

نسخہ نمبر 6

--{ ہر وقت شکر کرنے کی عادت ڈال لیں ہر حال میں }--
الحمد للہ علی کلّ حال۔۔۔۔۔۔۔ہر وقت الہی تیرا شکر ہے ۔
اتنا شکر کرنے سے آپ کی زبان اور دل شکر (چینی ) کی طرح میٹھی ہو جائیں گی اور آپ کا شوہر سے بھی جھگڑا نہ ہوگا ۔
شوہر گھر میں کیسی بھی چیزیں لائیں اس کا دل رکھنے کیلئے بہ تکلّف ہی

32
کلمات شکر ادا کیجئے ہر چیز کو شکر کے چشمے لگا کر دیکھیں تو ان برائیاں چھپ جائیں گی ، اچھائیاں آپ کے سامنے آئیں گی ۔
حضور اکرم (ص) ن ےایک دفعہ عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ میں نے دوزخ میں سب سے زیادہ عورتوں کو دیکھا ہے ، وجہ پوچھی گئی تو فرمایا "تکفرون العشیر" یعنی شوہروں کی ناشکری کی وجہ سے ۔
اگر آپ اس دنیا کو مسافر خانہ سمجھ لیں ، امتحان گاہ سمجھ لیں ۔ یہاں رات دن چیزیں جمع کرنے میں لگے رہنا ہروقت مٹی گارے کے مکان کی سجاوٹ ہی میں مصروف رہنا انتہائی حماقت ہے جب ملک الموت آئے گا تو پھر ایسی عورتیں افسوس کریں گی ۔۔۔۔۔۔کہ مجھے کچھ مہلت دے دو اب میں نیکی کروں گی ، اب گھر کا سامان کم کروں گی۔ فضول خرچی نہیں کروں گی ، آئندہ میں گناہ نہیں کروں گی ، بے پردہ باہر جا کر اللہ تعالی کو ناراض نہیں کروں گی ۔
لیکن اس وقت افسوس اور پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
لہذا خدارا اپنے اور اپنے شوہر کے قمتی پیسوں کو فقط اور فقط آسائشوں ہی کے حصول میں ضائع نہ کریں بلکہ ان کو جمع کرکے خدا کے اس دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کی کیلئے خرچ کریں ۔
پیسے جمع کرکے شوہروں کودیں کہ جائیے اس پیسے کو علم دین کی ترویج میں خرچ کیجئے ،فلاں ،غریب ، مسکین کی مدد کیجئے ۔غریب رشتہ دار لڑکیوں کی شادی میں خرچ کروائے ۔

  33
ان تمام کاموں میں خرچ کرنے کی برکت سے گھر میں انشااللہ جھگڑے مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے ۔شکر کا یہی مفہوم ہے کہ خدا کی نعمتوں کو اس کی راہ میں خرچ کرنا ۔
شوہر جب کوئی چیز لائے اس کا شکریہ اداکرے "جزاک اللہ خیرا" (خدا آپ کو جزائے خیردے ) یہ کہنے کی عادت ڈالیں ۔
اور چھوٹے بچوں کو بھی اس کا عادی بنائیں ، اگر بچوں کوآپ پانی کا گلاس دیں ، کوئی کھانے کی چیزیں دیں تو یہ کہلوائیے جزاک اللہ خیرا ۔اگر بچے سے کوئی کام لیا اور وہ کام کرلے تو کہئے جزاک اللہ خیرا ۔

نسخہ نمبر 7

--{زبان شیرین تو ملک گیری}--
شریں زبانی ایک ایسا جاذب وصف او راتنی دلکش خوبی ہے کہ خراب سے خراب عادت کے شوہر بھی اس کے تابع ہوجاتے ہیں ۔ میٹھی زبان ایک ایسا جادو ہے جو ہمیشہ اپنے سامنے والے پر اثرانداز ہوتا ہے ۔شیریں زبان عورتوں کے عیب لوگ بھول جاتے ہیں ۔ ایک عورت میں دنیا بھر کی خوبیاں ہوں لیکن اگر وہ بد زبان ہو تو اس کی ساری خوبیوں پر پانی پھر جاتا ہے ۔