گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

23

نسخہ نمبر 1

--{شوہر پر مسلسل احسانات کریں}--
یہ شوہروں کو غلام بنانے کا شرعی نسخہ ہے ۔
کہتے ہیں کہ نیکی اور بھلائی کرنے والا تو اپنی نیکی بھول جاتاہے لیکن جس سے نیکی کی جاتی ہے وہ نہیں بھولا کرتا حدیث میں کہ "الانسان عبد الاحسان " انسان اپنے اوپر احسان کرنے والے کا غلام بن جاتا ہے ۔ وہ آپ کا قیدی ،غلام اور خادم بن جاتا ہے ۔نیک بیوی کی نیکی بھلائی نہیں جاسکتی ۔
نیک بیوی اپنے آپ کو نیکی پر یہ سوچ کرابھارسکتی ہے کہ:
"میں جس دن دنیا سے چلی گئی ،میری نیکی شوہر کویاد آئے گی اور شوہر میرے لئے دعا کریں گے ، مجھے اچھائی کے ساتھ یاد کریں گے، میری خدمت ان کو رات کے اندھیروں اور دن کے اجالوں میں میرے لئے دعاؤں پر مجبور کرے گی اور شاید یہی میری مغفرت کا اور خدا کے راضی ہونے کا سبب ہوجائے ۔"
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جتنا رشک مجھے خدیجہ پر ہوا اتنا رسول اللہ (ص) کی کسی بیوی پر نہ ہوا حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہ تھا ۔اتنے

24
رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول کریم اکثر ان کا ذکر کیاکرتے تھے اور آپ کا دستور یہ تھا کہ جب آپ کوئی بکری ذبح فرماتے تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو ان کا گوشت بطور ہدیہ بھیجا کرتے تھے ۔
ایک دن آپ نے ان کاتذکرہ کیا تو میں نے عرض کیا ان ۔۔۔۔کا تذکرہ آپ (ص)کیوں اتنا زیادہ کرتے ہیں ؟ اللہ نے ان سے بہتر آپ کو دے دیا ہے ۔
تو آپ نے فرمایا :
"اللہ کی قسم ! اس کے بعد اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر نہیں ہے وہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگ ابھی کافر تھے ، انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب اورروں نے مجھے جھٹلادیا ، اس وقت اپنا مال مجھ پر نچھاور کیاجب لوگوں نے مجھے محروم کررکھا تھا ۔ اللہ نےمجھے ان سے اولاد دی کسی اور سے نہیں دی ۔"
(ھر کہ خدمت کرد او مخدوم شد)
جس نے خدمت کی وہ سردار بنا ۔
(فکونی لہ امتہ یکن لک عبدا)
تو اس کی کنیز بن جا تو وہ تیرا تابعدار غلام بن کررہے گا ۔
پس اگر بیوی یہ چاہتی ہے کہ میرا شوہر میرے کہنے میں رہے میرا غلام بن جائے تو یادرکھے کہ اس کو شوہر پر احسان کرنا ہوگا ۔اس کی خطاؤں کو درگزر

25
کرنا ہوگا غلام بنانا غلام بننے سے ہوتا ہے پہلے عملا باندی بن جائے وہ خود بخود غلام بن جائے گا ۔محبت ،محبت کوکھینچتی ہے ،اطاعت ،اطاعت کو کھینچتی ہے ۔ سرکشی ،بدزبانی ،بدکلامی ،نفرت اور جھگڑوں کو کھینچ کرلاتی ہے ۔

نسخہ نمبر 2

--{جی ہاں ۔۔۔۔۔یہ لفظ بولنا سیکھ لیں ۔}--
یہ جھگڑوں سے نجات پانے کا زرّین نسخہ ہے ۔
شوہر کہے کہ آج فلان جگہ چلنا ہے ۔۔۔۔۔ کہے جی ہاں انشااللہ ضرورچلیں گے ۔ اگر شوہر کا کسی تقریب میں جانے کا دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔ تو کہے جی ہاں بالکل نہیں جاؤں گی ،جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔آپ میرے شوہر ہیں آپ کی بات مقدم ہے ، آپ بالکل غم نہ کریں آپ جیسا کہیں گے ویسا ہوی ہوگا ۔۔۔۔۔اب اگر جانے کو زیادہ ہی دل چاہ رہا ہے تو اس دوران دورکعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کرے ۔
"اے اللہ ! سارے انسانوں کے دل آپ کی دوانگلیوں میں ہیں آپ جیسا چاہیں پھیردیں ۔جب آپ کوئی فیصلہ کردیں تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اگر اس جانے میں خیر نہیں تو

26
میرےدل سے اس حاجت ہی کو نکال دیں ورنہ میرے شوہر کو راضی کردیں "۔
اور پھر جب شوہر کا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت نرمی سے کہے
"مناسب ہوتا اگر آپ مجھے اس شادی میں جانے کی اجازت دے دیں ، آج ان کے گھر میں خوشی کا موقع ہے میں نہ جاؤں گی تو ان کی خوشی مکمل نہ ہوگی اگر آپ اجازت دے دیں تو مہربانی ہوگی ۔"
اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو صبر کرلیں ۔۔۔لیکن چند امور میں ہی ان کی مان لینے سے شوہر کو آپ ایسا اعتماد پیدا ہوجائے گا پھر انشاءاللہ وہ آپ کی باتوں کو کبھی رد نہیں کرے گا ۔

نسخہ نمبر 3

--{معاف کردیجئے ،آیندہ ایسا نہیں ہوگا}--
یہ ایسا جملہ ہے جو سنگ دل سے سنگدل شخصی کو بھی موم بنادیتا ہے ، سخت سے سخت غلطی کو بھی چھوٹا بنادیتا ہے ، بڑی سےبڑی آگ کے لئے پانی کا کام دیتا ہے ظالم کو رحم پر مجبور کردیتا ہے ،دشمن کودوست بنادیتا ہے ۔
یہ نسخہ کسی انسان کا ، بشر کا قول نہیں بلکہ انسانوں کے پیداکرنے

27
والے رب العزت جن کے ہاتھ میں سارے انسانوں کے دل ہیں ان کا ارشاد ہے ۔
"ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم "(سورہ سجدہ پارہ 42)
ترجمہ :
"نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ۔آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیں (پھر یکا یک آپ دیکھیں گے )کہ آپ یمں اور اس شخص میں جو عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہوتا ہے "۔
بیوی کو چاہیئے کہ منہ زوری نہ کرے ،بحث ومباحثہ نہ کرے ،ادھر ادھر کی باتین نہ بنائے سو باتوں کی ایک بات ۔۔۔۔معافی چاہتی ہوں ،آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔
یہ لفظ ایسا ہے کہ حجاج بن یوسف جیسے ظالم شخص کو بھی نرمی پرمجبور کردیتا ہے ۔
ایک مرتبہ حجاج نے سفر کے دوران ایک دیہاتی سے امتحان کے لئے پوچھا کہ تمہارا بادشاہ حجاج کیسا ہے ؟
وہ کہنے لگا بڑا ظالم ہے ،اللہ اس سے بچائے وغیرہ وغیرہ ۔
تو حجاج نے کہا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں ؟

28
اس نے کہا نہیں ۔ تو بادشاہ نے کہا میں حجاج بن یوسف ہوں ۔
دیہاتی نے کہا تم مجھے جانتے ہو میں کون ہوں ۔ حجّاج نے کہا ،نہیں ۔تو اس نے کہا میں مریض ہوں ۔ہر ماہ میں تین دن کے لئے پاگل ہوجاتا ہوں اورآج میرے پاگل بننے کا پہلا دن ہے معاف کرنا ۔
حجّاج یہ سن کر ہنسنے لگا اور اس کو چھوڑدیا ۔
اب میں آپ اندازہ لگائیں کہ اگر ہر چھوٹا اپنے بڑے کے سامنے غلطی کے وقت یہ کہے کہ غلطی ہوگئی آئندہ انشااللہ ایسا نہیں ہوگا ۔
----- معاف کردیجیئے اب خیال رکھوں کی ۔
-----آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی ۔
چنانچہ ہم سب ہی خطا کار ہیں اور ہر عدالت میں اقرار ی ملزم معافی کا طالب ہوتاہے تو اس کے لئے نرمی ہے بمقابلہ انکاری مجرم کے ۔
ایسی ناچاقی اور جھگڑے کے لمحات میں خوف خدا رکھنے والی گھروں میں جھگڑوں کی آگ کو بھجانے والی سمجھدر بیوی کا جواب سنئے ۔
----- غلطی ہوگئی ، آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔
یہ ایسا جواب ہے کہ شیطان کے لئے گھر میں جھگڑے پیدا کروانے کا کوئی ہتھیار باقی نہیں رہے گا ۔

٭ علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)