گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
 

14

بیوی کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے
حضرت آدم (ع) جب جنت میں تشریف لاتے ہیں تو باغ جنت کا چپہ چپہ انوار الہی سے معمور تھا الطاف کبریائی کا قدم قدم پر ظہور تھا اور ہر طرف نعمتوں کی بارش تھی لیکن پھر بھی آدم اپنے دل کا ایک گوشہ خالی پاتے ہیں ، کسی چیز کی کمی محسوس کرتے ہیں ۔
لہذا پھر حضرت آدم پرنوازشوں اور بخششوں کی تکمیل ہوئی اور جنت حقیقی معنوں میں جنت ثابت ہوئی جب ایک عورت کی تخلیق ہوئی اور شوہر کے لئے ایک بیوی کی ہستی سامنے آئی ۔
-----اگر عورت نہ ہو تو کارخانہ تمدن ہی ختم ہوکر رہ جائے ۔
-----پوری انسانی تہذیب اجڑ کر رہ جائے ۔
-----اے عورت! آپ دوزخ جیسے گھر کو بھی جنت میں بد سکتی ہیں ۔
-----آپ چائیں تو فقیر کو دولت مند اور دولت مند کو فقیر بنادیں ۔
-----مرد کا سکھ آپ کے قدموں میں ہے ،آپ مرد کا نصف جزو اور اس کا آدھا ایمان ہیں ۔
----- تمام مذہبی انسان ،اولیاء ،حکماء ۔آئمہ یہاں تک کہ خدا کے پیغمبر (ص) بھی

15
آپ کو ماں کہتے ہیں اور آپ کی ہی گود میں پلتے ہیں ۔
----- آپ ہی کے قدموں تلے جنت ہے ۔
-----دنیا کی انتہا اپنا گھر اور گھر کی انتہا عورت ہے ۔
----- نیک عورت کے بغیر گھر بیکار اور مصیبت خانہ ہے ۔
٭ ایک نیک اعمال عورنت ستر اولیاء سے بہتر ہے ۔
٭ ایک بد اعمال عورت ہزار بداعمال مردوں سے بد تر ہے ۔
٭ ایک حاملہ عورت کی دورکعت نماز غیر حاملہ کی اسی رکعتوں سے بہتر ہے ۔
٭ جو عورت اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے اسے اللہ تعالی ایک ایک بوند پر نیکی عطاکرتے ہیں ۔
٭ جب شوہر پریشان حال گھر آجائے اور اس کی بیوی اسے خوش آمدید کہے اور تسلی دے تو اللہ اس عورت کو نصف جہاد کا ثواب عطا فرماتے ہیں ۔
٭ جو عورت اپنے بچے کے رونے سے رات بھر نہ سوسکے اللہ تعالی اس کو بیس غلاموں کو آزاد کرنے کا اجر دیتے ہیں ۔
٭ جو عورت ذکر کرتے ہوئے جھاڑو دے اللہ تعالی اس کوخانہ کعبہ میں جھاڑو دینے کا ثواب عنایت کرتے ہیں ۔
٭ جو عورت نماز ،روزہ کی پابندی کرے اور پاک دامن رہے اور اپنے شوہر کی تابعداری کرے ،اس کو اختیار ہوگا کہ جس دورازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے ۔

16
٭ جو عورت اپنے بچے کی بیماری کی وجہ سے نہ سوسکے اور اپنے بچے کو آرام دینے کی کوشش کرے تو اللہ تعالی اس کے تمام گناہ معاف کردیتے ہیں اور اس کو بارہ سال کی قبول عبادت کا ثواب ملتاہے ۔
٭ جو عورت حاملہ ہو اس کی رات عبادت اور دن روزہ میں شمار ہوتاہے ۔
٭ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لئے ستر سال کی نماز اور روزہ کا ثواب لکھا جاتا ہے اور بچہ پیدا ہونے میں جو تکلیف برداشت کرتی ہے ۔ہر درد کے عوض ایک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔
٭ بچہ رات کوروئے اور ماں بغیر برابھلا کہے اس کو دودھ پلائے تو اس کو ایک سال کی نمازوں اور روزوں کاثواب ملے گا ۔
٭ جب بچے کا دودھ کا وقت پورا ہوجائے توآسمان سے ایک فرشتہ آکر اس عورت کو خوشخبری سناتا ہے کہ اسے عورت اللہ نے تجھ پر جنت واجب کردی ہے ۔
٭ عورت کاخاوند اس سے راضی ہور اور وہ انتقال کرجائے تو جنت اس پر واجب ہوگي ۔
٭ نیکو کار عورت ستر مردوں سے افضل ہے ۔
٭ عورت بھی اپنے شوہر کے گھر میں کی نیت سے چیزوں کو قرینے سے رکھے گی تو اللہ تعالی اس پر رحمت کی نظر ڈالے گا اور جو بھی اللہ کا منظور نظر ہوگیا اسے عذاب سے امان مل جائے گی ۔

17
٭ شائستہ عورت ہزارناشائستہ مردوں سے بہتر ہے ۔ جو عورت بھی شوہر کی بھلائی کے لئے سات دن کام کرتی ہے اللہ اس پر جہنم کے سات دروازے بند کردیتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے کھول دیتا ہےکہ وہ جس دروازے سے بھی چاہےجنت میں داخل ہوجائے ۔
٭ پانی کا ایک گھونٹ بھی مرد کے ہاتھ میں دیتی ہے تووہ ایک سال کی مستحب عبادت جس میں وہ دن میں روزے رکھے اور رات کو نماز ادا کرے اس سے بہتر ہے ۔
٭ عورت اپنے شوہر کے لئے لذیذ غذا تیار کرتی ہے اللہ تعالی جنت میں اس کے لئے قسم قسم کے کھانے تیار کرے گا اور فرمائے گا خوب کھاؤ اور پیو یہ ان زحمتوں کی جزا ہے جو تم نے دنیا کی زندگی میں برداشت کی ہیں ۔
٭ اے عورت!آپ ہی مرد کے گھر کی مالکہ ہیں ، ملکہ ہیں ، بس اپنے اندر وہ صفات پیدا کرلیں کہ پھر دین کی رعایت کرتے ہوئے مرد آپ کی ہر بات مان لے ۔
لیکن ابھی ٹہر جائیے!
اس اقتدار کی باگ دوڑ ہاتھ مین لینے سے پہلے آپ کو کچھ قربانیاں دینی ہوں گی ، تاج بہت حسین گلاب کی طرح ہے ،لیکن اس گلاب کو حاصل کرنے کے لئے آپ کو کانٹوں کا مزا چکھنا ہوگا پہلے اپنے اندر اس کی صلاحیت اور استعداد پیدا کرنی پڑے گی ۔

18
-----گھر کی رانی بننے سے پہلے آپ کو کسی حد تک باندی بننا ہوگا ۔
----- اس گلابی تاج کو پہننے سے پہلے آپ کو گھر میں کانٹوں کا تاج پہننا ہوگا ۔
یہی قدرت کا قانون اور دنیا کا نظام ہے ۔
سرخ رو ہوتا ہے انسان ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد
سرمہ ،نے کہا مجھ پر اتنا ظلم کیوں کرتے ہو کہ اتنا زیادہ پیستے ہو ۔
پیسنے والے نے جواب دیا ! تجھے اس لئے زیادہ پیس رہاں ہوں کہ اشرف المخلوقات کی اشرف الاعضاء یعنی انسان کی آنکھ میں جگہ پانے کے قابل ہوجائے ۔
----- اے نیک بیوی آپ اس انسانیت کیلئے امید کی ایک کرن ہیں پس اپنے آپ کو دیندار ،باپردہ ،نمازی بنائے ، اپنے محلہ کی عورتوں ،رشتہ داروں کو دین پر عمل کرنے اور اس کو چاردانگ عالم میں پھیلانے والی بنایئے ، خدا آپ کو نیک بنائے اور اپنے شوہر کیلئے دنیا آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ۔
----- کیونکہ یہ آدم زاد آپ ہی کے دل کے آئینے میں اپنی محبت دیکھنا چاہتا ہے ۔
----- آپ ہی کی زبان سے اس کا اظہار چاہتا ہے ۔
-----آپ ہی کی مسکراہٹ سے اس کا اظہار چاہتاہے ۔
-----اس کی طرف سے کوئی کڑوی بات ہوجائے تو آپ کی طرف سے صبر والا طرز عمل چاہتا ہے ۔

19
-----آپ کے منہ سے کھلے ہوئے کوثروتسنیم سے دھلے ہوئے دو میٹھے بولوں سے اپنی ہر بیماری کی شفاچاہتا ہے ۔
----- آپ کی اطاعت وخدمت سے اپنی جوانی کی بقا چاہتا ہے ۔
----- آپ کی معمولی سی توجہ سے اپنی تھکاوٹ کی دوری چاہتا ہے ۔
----- دنیا کے ہر غم اور پریشانی میں آپ کے مشورہ سے تسلی اور تشفی چاہتا ہے ۔
----- آپ کی نمازوں ،ذکر اور تلاوت کی پابندی سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتا ہے ۔
----- آپ کے حسن اخلاق سے اپنے بچوں کی تربیت چاہتا ہے ۔
-----آپ کے حسن معاشرت سے اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کی دعا چاہتا ہے ۔
----- اپنے دوستوں کی بیویوں کا اکرام اور پڑوس کی عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ سے معاشرے میں اپنا مقام اور رتبہ ،بلند چاہتا ہے ۔
-----آپ کی قناعت اور دنیا کی تھوڑی سی چیزوں پر راضی رہنے سے زیادہ کمائی کے جھمیلوں سے آزادی چاہتا ہے ۔
----- آپ کے صاف ستھرے رہنے ،چست ،چاق وچوبند رہنے اور صاف لباس پہننے سے اپنی آنکھوں کی خیانت یعنی نامحرموں پر نگاہ پڑنے سے حفاظت چاہتاہے ۔
----- آپ کے ہاتھوں میں میانہ روی کی مہندی سے اپنے مال کی حفاظت چاہتا ہے ۔
20
اگر آپ میں یہ صفات ہیں ؟
تو آپ ضرور آج بھی آدم (ع) کے اس بیٹے کے لئے حوا کی بیٹی ہیں ۔
اس کے لئے زوجہ صالحہ ، نیک بیوی ، اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کی راحت ،سرمایہ صحت ،محا‌فظ ایمان ،نصف دین ،اس کی ہمراز ،اس ی مخلص دوست آپ ہیں ،یقین کیجئے آپ ہی ہیں ۔
وہ آپ کو اپنی قبر اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی فکر کرنے اور دوسری عورتوں اور بچوں میں دین پھیلانے اور ایمان اور اسلام کو دنیا میں زندہ کرنے کی بھی فکر سے جنت میں آپ کا ساتھ چاہتا ہے ۔
یاد رکھیئے ! اسلام میں اچھی بیوی کا معیار یہ نہیں کہ وہ کالج سے ایسی ڈگریاں یا ڈپلومےلے کر جو خود مردوں کے حق میں بھی اب بیکار ہوچکے ہیں ۔ معیار آخرت کی کامیابی ہے ۔
وہ زبان جو ہمیشہ سچ ہی پر کھلتی ہے اس زبان مبارک کا ارشاد ہے کہ
"اے عورتوں ! یادرکھو کہ تم میں سے جو عورتیں نیک ہیں وہ نیک مردوں سے پہلے جنت میں پہنچ جائیں گی ۔"

محترم خواتیں!
اور کونسی فضیلت آپ چاہتی ہیں ؟ جنت میں مردوں سے پہلے تو آپ پہنچ گئیں ہاں البتہ نیک بن جانا شرط ہے اور یہ کوئی مشکل نہیں ۔
ہاں البتہ ۔۔۔۔۔اگروہی پرانی روش برقرار رکھی ۔۔۔۔۔وہی بدکلامی

21
۔۔۔۔۔بدزبانی ۔۔۔۔۔نافرمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر اس مخبر صادق رسول(ص) کا ارشاد سنئے فرماتے ہیں کہ :
"کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی نہ تو نماز قبول ہوتی ہے نہ کوئی اور نیکی ان میں سے ایک عورت ہے جس سے اس کا شوہر ناخوش ہو ۔"
ایک مقام پر فرماتے ہیں :
"کہ دنیا میں جب کوئی عورت اپنے شوہر کوستاتی ہے تو جو حور قیامت میں اس شوہر کی بیوی بنے گی وہ یوں کہتی ہے کہ
(اس کو امت ستا ، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ،تھوڑے ہی دنوں میں تجھ کو چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے گا )"۔
ایسی عورتوں سے بچنے کے لئے دعا مانگی گئی ہے ۔
"اے اللہ ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھا کردے "۔
ایسا نہ ہو کہ جیسے ایک شوہر اپنی بیوی سے کہتاہے کہ میرے انتقال کے بعد تم دوسری شادی کرلینا ۔وہ پوچھتی ہے کیوں ؟ تو کہتا ہے کہ تاکہ دوسرے شوہر کو معلوم ہوجائے کہ میرا اتنی جلدی انتقال کیسے ہوگیا تھا ؟
یا ایسا نہ ہو کہ جیسے ایک صاحب کے ہونٹ کالے ہورہے تھے تو کسی نے وجہ پوچھی توکہا بیگم لاہو رجاہی تھی تو فرط مسرت سے ان کے جانے کی خوشی

22
بے قابو ہوکر میں نے ٹرین کے ڈبے کو چوم لیا ۔
ایک دانشور معاشرتی واخلاقی مسائل پر تقریر کررہے تھے اپنی باتوں کے دوران انہوں نے کہا ہم اب گھریلو مسائل کے بارے میں اعداد وشمارے سے کام لیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ لوگوں سے درخواست کرتاہوں کہ محفل میں موجودہ لوگ کھڑے ہوجائیں جو اپنی بیویوں کے ظلم سے تنگ ہیں ۔یہ سننا تھا کہ تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے مگر ایک شخص اپنی جگہ بیٹھا رہا ۔ یہ دیکھ کر دانشور نے کہاخدا کا شکر ہے کہ ہماری محفل میں ایک شخص تو ایسا ہے جو اپنی بیوی سے خوش ہے ۔یہ سننا تھا کہ اس شخص نےکہا جناب ایسا نہیں ہے میں اٹھ نہیں سکتا کیونکہ کل میری بیوی نے میری ٹانگ توڑی ہے ۔
تو اس طرح عورت کی بدمزاجی سے پوری زندگی پریشانی اور غمی ہی میں گذرتی ہے ۔
اے مرد کی مونس ،غمخوار اگر آپ اپنے گھر کو جنت کا نمونہ دیکھنا چاہتی ہیں تو آپ کو کچھ کرناپڑےگا جنت یوں ہی نہیں حاصل ہوجاتی اس کے کچھ اصول ہیں ، کچھ نسخہ جات ہیں ۔

٭ زندگی میں کوئی عظمت نہیں ہے مگر دو آدمیوں کی ، ایک عالم باعمل ،دوسرے اس کو غور کے ساتھ سن کریاد کرلینے والے کے لئے ۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)