کتاب کا نام: گھر کو جنت بنانے کے چودہ مجّرب نسخے
جمع وترتیب : سید عابد حسین زیدی

ای بک کمپوزنگ : حافظی
نیٹ ورک: شبکہ امامین حسین علیھما السلام


6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
٭ جس کام سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھی جائے اس میں شیطان شریک ہوتا ہے ۔حدیث نبوی ہے کہ
"جو کوئی اہم کام بغیر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے شروع کیا جائے وہ ناقص اورنا تمام ہوتا ہے "۔
٭ پیغمبر اسلام نے فرمایا :
"جب بندہ خدا سوتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے تو خداوند فرشتوں سے فرماتا ہے میرے ملائکہ صبح تک میرے اس بندے کے سانس لکھتے رہو (ان کا اجر ملے گا )"۔
٭ جو شخص اپنے گھر کے دروازے کے بیرونی حصہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھے تو وہ ہلاکت سے محفوظ رہے گا ۔

7

تفریظ
نسل انسانی کی بقا کے لئے قانون فطرت مسلسل مصروف عمل ہے جس کی بنا سراسر محبت پر ہے ۔جب حضرت آدم کو تنہائی کا احساس ہوا تو ان کے سکون قلب کے لئے حضرت حوّا کی تخلیق عمل میں آئی اور صنف نازک کی خلقت کی بنیاد سکون قلب فراہم کرنا ہے جو محبت کا ثمر ہوتی ہے اور یہی وہ منزل ہے جہاں انسان محبت پاتا ہے تو اپنا سب کچھ کھو کر بھی اطمینان و سکون حاصل کرتا ہے کیونکہ محبت کی اس دولت کے مقابل کوئی اور دولت حتی کہ انسان کی جان بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور انسان محبت پراپنی جان قربان کر کے بھی اطمینان وسکون پاتا ہے اور دین بھی ہر دیندار سے یہی چاہتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے چند مسائل پوچھے تو ہر سوال کے جواب میں امام نے "محبت کا تقاضا یہ ہے " کہہ کر جواب دیا تو اس سائل نے عرض کیا مولا! میں دینی مسائل کے بارے میں پوچھ رہا ہوں اور آپ ہرجواب میں فرماتے ہیں کہ " محبت کا تقاضا یہ ہے "۔
یہ سن کر امام نے اس سائل سے فرمایا :
"ھل الدین الّا الحب "؟ (کیا دین محبت کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟)

8
دین کا وجود ہی اس لئے ہے کہ وہ بندگان خدا کے دلوں کو جوڑے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور الفت بڑھائے ۔دین یہ نہیں ہے کہ اس کے نام پر نفرتیں اور دشمنیاں پیدا کی جائیں چاہے یہ چھوٹے پیمانے پر ہو یا بڑے پیمانے پر ، اسلام ہمیشہ ان کی نفی کرتا ہے ۔ انسان ایک معاشی حیوان ہے اور اس کے معاشرے کی بنیادی اکائی اس کا گھر ہے جہاں ایک مرد اپنی بیوی کے لئے مکان فراہم کرتا ہے جو اس مکان کو ایثار وقربانی کے ذریعے محبت کی خوشبو پھیلا کر گھر میں تبدیل کرتی ہے اور جب مکان گھر میں تبدیل ہوتا ہے تو مرد کو سوائے اس کے کہیں اور سکون نہیں ملتا اور جب وہ زندگی کی سختیوں ،تکالیف اور پریشانیوں سے تھک جاتا ہے یا گھبرا جاتا ہے تو اپنی اس پناہ گاہ کا رخ کرتا ہے کہ اپنی زندگی کے چند لمحات سکون کے ساتھ گزارسکے ۔
کیا یہ کسی معاشرے کا لمیہ نہیں ہے کہ اس کے مرد سکون کی تلاش میں گھر سے باہر کا رخ کریں ۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ اس معاشر ے کی خواتین ، ان کے فراہم کردہ مکان کو گھر میں تبدیل نہیں کرسکی ہیں جو ان کی تخلیق کے بنیادی مقصد میں ناکامی کی علامت ہے ۔دراصل محبت وہ غیر مرئی مضبوط رسی ہے جو میاں بیوی کو ایک دوسرے سے اور اولاد کے ساتھ مربوط رکھتی ہے ۔معاشرے کی اس ابتدائی اکائی میں شوہر بیوی کے لئے او ر بیوی شوہر کے لئے ہے اور یہ دونوں اولاد کے لئے ہیں اور اولاد ان دونوں کے لئے ہیں اور اپنی اس غیر مرئی رسی نے انہیں مضبوطی سے باندھا ہوا ہے جو

9
در اصل معاشرے کے لئے ایسی حیثیت رکھتی ہے جیسے کتاب کے لئے شیرازہ ہے ۔ اگر شیر ازہ ہٹ جائے تو اورراق منتشر ہوجاتے ہیں اور کتاب کا جود ہی ختم ہوجاتا ہے ۔
اس طرح معاشرے سے محبت کا جذبہ مفقود ہوجائے تو اس میں بھی انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ دراصل محبت کو بھی کچھ آفتیں اور مصنوعی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں ان میں سے بنیادی بیماریاں "تکبر" اور "حب دنیا " میں غرق ہونا ہے ۔ اور باقی بیماریاں انہیں دوسے پیدا ہوتی ہیں ۔جہاں یہ دونوں بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں تو اب محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی کیونکہ ان کے آثار اور مظاہر محبت کے مکان کو ہی ڈھادیتے ہیں ۔ جب شیشہ دل چور چور ہوجاتا ہے تو نہ اب وہ جوڑا جاسکتا ہے اور نہ اس میں ٹانکے لگائے جاسکتے ہیں ۔
انسان دوچیزوں سے مرکب ہے یعنی روح اور بدن ۔ جسطرح بدن کی سلامتی لازمی ہے اسی طرح روح کی سلامتی بھی لازمی ہے بلکہ روح کی سلامتی جسمانی کمزوری یا بعض کی تلافی کرسکتی ہے مگر جسمانی کمزوری یا بعض کی تلافی کرسکتی ہے مگر جسمانی صحت و روحانی نقصان کا جبران نہیں کرسکتی اس سے پتہ چلتا ہے کہ روحانی صحت کا خیال رکھنا بھی زیادہ ضروری ہے ۔مغربی ثقافت کی یلغار نے معاشرہ کی بنیادی اکائی یعنی گھر اور خاندان کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے اور اصل اسلامی ثقافت کے علم بردار علمائے کرام اس نظام کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں ۔ مرتب نے اس سلسلے میں موثر کوشش کی ہے اور کتابوں سے جمع و ترتیب کرکے جو نسخے تجویز

10
کئے ہیں وہ مکمل طور پر قران وحدیث اور مکتب اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں ہیں ۔خداوند عالم سے دعا ہے کہ اس کو شش کو شرف قبولیت بخشے اور قارئین کے لئے مفید موثر قراردے اور مرتب کی مساعی کو اس گھرانے کی تائید حاصل رہے جسے خداوند عالم نے "نبوت کا گھرانہ "کہا ہے ۔
حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ذوالفقار علی زیدی
امام جمعہ مسجد محمد مصطفی
عباس ٹاون ،کراچی