شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 


شیعہ اثنا عشریہ کے بارے میں علماء اخوان المسلمین کی رائے
جامع ازہر (مصر) کے شیخ الجامعہ جناب شلتوت اپنی کتاب "الوحدۃ الاسلامیہ " میں فرماتے ہیں ۔
جامعہ ازہر کا بھی یہی اصول ہے کہ مختلف اسلامی مذاہب ایک دوسرے سے نزدیک ہوں ، چنانچہ تمام اسلامی مذاہب ،خواہ سنی ہوں یا شیعہ ،ان کی فقہ درسی نصاب میں شامل کی جاتی ہے اور ان کی کتب پرہر قسم کے تعصبات سے پاک اور دلیل وبرہان پرمبنی تحقیقات کی جاتی ہیں ۔

92

مکتب شیخ الجامع الازھر
بسم اللہ الرحمان الرحیم
93
ترجمہ:- مذہب شیعہ اثناعشریہ کے نام سے مشہور مذہب جعفریہ ایسا مذہب ہے جسے اہل سنت کے باقی مذاہب کی طرح شرعا اختیار کیاجاسکتا ہے ۔مسلمانوں کوچا ہیئے کہ وہ یہ چیز سمجھیں اور کسی مذہب کے ساتھ ناحق تعصب کرنے سے خود کو پاک کریں اللہ کا دین اور اس کی شریعت کسی ایک مذہب کے تابع اورکسی ایک مذہب میں منحصر نہیں، سب مجتہد ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں سب مقبول ہیں ۔
شیخ غزالی اپنی کتاب "دفاع عن العقیدہ والشریعۃ ضد مطاعن المستشرقین"
صفحہ 256 میں شیخ شلتوت کے اس فتوے کے سلسلہ میں لکھتے ہیں ۔
میرے پاس عوام میں سے ایک شخص غضبناک حالت میں آیا اور پوچھا کہ شیخ ازہر نے یہ فتوی کیسے صادر کردیا کہ مذہب شیعہ بھی اسلامی مذاہب میں سے ہے میں نے کہا ، آپ شیعہ کے بارے کیا جانتے ہیں ؟ تھوڑی دیر سکوت اختیار کرنے کے بعد اس نے کہا ۔وہ ہمارے دین پر نہیں ہیں ۔ میں نے اس سے کہا ، مگر ان کو نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے میں نے دیکھا ہے ، جیسے ہم لوگ نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اس شخص نے تعجب کیا اور کہا کیسے ؟ میں نے اس سے کہا ، آپ کے لئے اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ قرآن بھی پڑھتے ہیں ۔جیسے ہم پڑھتے ہیں ،رسول اللہ صلعم کی تعظیم کرتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں ۔جیسے ہم لوگ کرتے ہیں ، اس نے کہا ، میں تو سنا تھا کہ ان کا کوئی اور قرآن ہے اور وہ لوگ کعبہ کی توہین کرنے کے لئے مکہ جاتے ہیں ، میں نے اس آدمی سے کہا ، تو معذور ہے ، ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے دوسرے کا وقار ،عزت اور شرافت مجروح کرنا مقصود ہوتاہے ۔جس طرح روسی امریکیوں اور امریکی روسیوں کے خلاف باتیں کرتے ہیں ، گویا کہ ہم آپس میں دومتضاد اور دشمن امتیں ہیں نہ کہ ایک امت "
اخوان المسلیین عراق کے ایک رکن ڈاکٹر عبدالکریم زیدان اپنی کتاب

94
"المدخل لدراستہ الشریعہ الاسلامیہ "ص 178 میں لکھتے ہیں ۔
"مذہب جعفریہ عراق ،ایران ،پاکستان اور لبنان میں پایا جاتا ہے اس کے پیروکار شام اور غیر شام میں بھی موجود ہیں ۔ فقہ جعفریہ اور دوسرے اسلامی مذاہب میں اتنا اختلاف نہیں ہے ،جتنا دوسرے مذاہب کے مابین ہے ، فقہ جعفریہ بہت کم مسائل میں منفرد ہے اور شائد ان میں زیادہ مشہور نکاح متعہ (نکاح موقت ) ہے "۔
ڈاکٹر ابو محمد زہرہ اپنی کتاب "تاریخ المذاہب الاسلامیہ "ص 39 میں لکھتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ فرقہ ایک اسلامی فرقہ ہے ،اگر چہ فرقہ سبائیہ کو جو حضرت علی کو اللہ سمجھتا ہے ۔ہم نے خارج از اسلام قرار دیا ہے لیکن شیعہ تو مسلمان فرقوں میں شامل ہے ،نیز ہم جانتے ہیں کہ شیعہ اثناعشریہ بھی سبائیہ کو کافر سمجھتے ہیں ۔ ابن سبا بھی ایک موہومی شخصیت تھی ۔ اس میں بھی شک نہیں کہ شیعہ جو کچھ کہتے ہیں وہ قرآنی نصوص اور احادیث نبوی کی رو سے کہتے ہیں ۔
اسی کتاب کے صفحہ 214 میں مسئلہ امامت کے ضمن میں کہتے ہیں ۔
"ہمارے شیعہ اثناعشریہ بھائی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسے تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کرتےہیں ،باقی اصول یعنی توحید ورسالت میں ہمارے ساتھ ہیں ۔ ہم اپنے شیعہ بھائیوں سےیہ امید رکھیں گے کہ امامت کا معتقد نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہمارے ایمان میں کسی خلل کا عقیدہ نہ رکھیں اور نہ اسے گناہ تصور کریں "
ڈاکٹر علی سامی اپنی کتاب " نشاۃ الفکر الفلسفی فی الاسلام" کی جلد دوم میں لکھتے ہیں :-
" شیعہ اثناعشریہ کے فلسفیانہ افکار مجموعی طور پر خالصتا اسلامی ہیں لیکن اگر ہم اس فرقے سے آگے دوسرے فرقوں کی طرف جائیں تو مسلک میں متعدد مختلف

95
باتیں نظر آتی ہیں جو غالبا اجنبیوں کی جانب سے داخل کردہ غیر اسلامی افکار ہیں " استاد عبدالوہاب خلاف اپنی کتاب " علم اصول فقہ " کے صفحہ 46 میں لکھتے ہیں " اجماع کے چار ارکان ہیں جن کے بغیر شرعا اجماع متحقق نہیں ہوتا ۔ان میں سے دوسرا رکن یہ ہے کہ کسی واقعہ کے سلسلے میں اس واقعہ وقت تمام مجتہدین حکم شرعی پر اتفاق کریں ، چاہے ان کا تعلق کسی بھر شہر ،جنس یا فرقے سے ہو ،اگر کسی واقعہ سے متعلق حکم شرعی پر صرف حرمین یا عراق یا حجاز یا اہل بیت یا صرف اہلسنت کے مجتہدین اتفاق کریں اور شیعہ مجتہدین اس میں شامل نہ ہوں تو اجماع شرعا متحقق نہیں ہوتا ، کیونکہ جب تک عالم اسلام کے تمام مجتہدین ایک واقعہ کے بارے میں اتفاق نہیں کرتے ، اس وقت تک اجماع متحقق نہیں ہوتا ، چند مجتہدین کے اتفاق کی کوئی وقعت نہیں ہے "۔
شیخ شلتوت ابو زہر ہ اور خلاف کے استاد احمد ابراہم بیگ مگ اپنی کتاب اصول فقہ کے صفحہ لکھتے ہیں :-
"قدیم اورجدید ہرزمانے میں شیعہ امامیہ کے عظیم فقہا ہوئے ہیں ۔ ہر فن اور علم میں ان کے علماء ہیں ۔ وہ عمیق الفکر اور وسیع معلومات کے مالک ہیں ۔ ان کی تالیفات لاکھوں سے بھی تجاوز کرگئی ہیں۔ ان کی اکثر کتاب میری نظر سے گزری ہیں
عربک کالج کراچی کے پرنسپل استاد محمد حسن اعظمی اپنی کتاب " الحقائق الخفیۃ عن الشیعہ الفاطمیۃ والاثناعشریہ " صفحہ 103میں لکھتے ہیں :-
"شیعہ امامیہ اثناعشریہ توحید کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے وہ صمد ہے ۔لم یلد ولم یولد ہے ۔ اس جیسا کوئی نہیں ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی طرف سے آئے ہیں او تمام رسولوں نے سچ بولا ہے اور ان چیزوں کی معرفت ودلیل وبرہان سے واجب سمجھتے ہیں ، ان میں تقلید جائز نہیں سمجھتے اور تمام انبیاء ورسل پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے

96
ہیں ، اس کو حق جانتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ علی اور ان کے گیارہ فرزند علیہم السلام خلافت کے لئے ہر ایک سے احق ہیں اور یہ رسول خدا (صلعم) کے بعد سب سے افضل ہیں اور فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیھا) عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں ، اگر یہ لوگ اپنے عقیدے میں صائب ہیں تو فبہا ۔ ورنہ یہ نہ کفر کا موجب بن سکتا ہے نہ فسق کا ۔"
آگےچل کر صفحہ 204 میں لکھتے ہیں :-
"شیعہ حضرات اگر چہ ءائمہ اثناعشریہ کی امامت واجب قرار دیتے ہیں لیکن اس کا انکار کرنے والوں کو خارج از اسلام بھی نہیں سمجھتے اور ان پر تمام اسلامی احکام جاری کرتے ہیں ، وہ ان احکام دین کو حجت سمجھتے ہیں جو کتاب اللہ یا تواتر وثقہ راوی یا بارہ آئمہ یا قابل اعتماد زندہ مجتہد ین کے اقوال کے ذریعے ثابت شدہ سنت رسول (ص) سے حاصل ہوں ، اس لئے اگروہ اپنے نظریہ میں غلطی پر ہوں تو بھی کوئی ایسی چیز ان میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ خارج از اسلام ہوجائیں "
٭٭٭٭