شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 

74

مروانی زاغ
عبد القدوس
صلاح الدین ہفت روزہ "تکبیر"کا مدیر ہے ۔پہلے یہ شخص گورنمنٹ ٹیچر ز ٹرینیگ اسکول قاسم آباد کراچی میں استاد تھا ۔ پتلون قمیص پہنتا اور داڑھی مونچھیں صاف کرتا تھا ۔اس نے صحافی زندگی کا آغاز اس طرح سے کیا کہ یہ اسکول کی سرکاری ملازمت بھی کرتا رہا اور" روزنامہ حریت " میں بھی ایک ٹیبل پر کام کرنے لگا ۔کراچی سے روزنامہ "جسارت " نکالا گیا تو یہ اس میں ایڈیٹر بن گیا ۔وہاں کسی باب پر ان بن ہوئی تو اس نے ایک ہفت روزہ نکالنا شروع کیا اور اس کا نام تکبیر رکھا ۔
روزنامہ "جسارت" کی ایڈیٹری سے معلوم ہوتاہے کہ اس کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا ۔ اب اصل صورت حال کیا ہے معلوم نہیں ۔ اس نے "تکبیر" نکالا تو لوگ سمجھے کہ یہ ایک اسلامی خدوخال رکھنے والا پرچہ ہوگا مگر کچھ عرصہ بعد ثابت ہوا کہ اس کا کام تو ملک میں تعصبات اور فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے اور خاص طور سے یہ شیعہ دشمن رسالہ ہے ، اپنی اشاعت بڑھانے کے لئے یہ بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے جو دوسرے غیر مذہبی پرچے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کے نزدیک حق وناحق میں تمیز کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔یہ اللہ کے اس حکم کی بلکل پراوہ

75
نہیں کرتا کہ "دیکھو تمہیں کسی قوم کی دشمنی راہ عدل سے نہ ہٹا دیے "
چودہ اپریل سنہ 1988 ء کے شمارے نے صلاح الدین کو بالکل ننگا کردیا ہے ۔ اب اس بات کے یقین کرلینے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ شخص بنو امیہ کا وارث ہے اور یہ وہ تکبیر ہے کہ جس کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ بنی امیہ کے سفاکوں سے ہے ۔
تو یہی "تکبیر "مسلسل کئی ہفتوں سے اسماعیلی حضرات کے خلاف زہر اگل رہا ہے 14 اپریل سنہ 1988 ء کے شمارہ میں اسماعیلی فرقہ پر ایک شخص عبدالقدوس ہاشمی کا ایک انٹریو شائع کیا گیا اس کی تصویر کے ساتھ یہ تعارفی عبارت دی ہوئی ہے ۔
"مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی ہمارے عہد کی ان نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہیں جن کی تحقیق ،علمیت ،مطالعہ تقابل ادیان ،دینی معلومات اور نقطہ نظر کا زمانہ قائل ہے ۔ فقہ اور حدیث میں مولانا استناد کادرجہ رکھتے ہیں مجمع فقہی مکہ مکرمہ کے رکن ہیں ۔ فرانس کی ہسٹاریکل سوسائٹی کے ممبر ہیں ۔ موتمر عالم اسلامی کے ڈائکٹر ہیں ، مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے روح رواں اور عہدارہیں اور پاکستان سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے تاسیسی رکن ہیں ۔اب تک مولانا کی بائس کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں ۔ مولانا کی جائے ولادت مخدوم پور ضلع گیا "بہار" ہے اور سنہ ولادت سنہ 1911ء ہے ۔
اصل گفتگو سے پہلے عبدالقدوس ہاشمی کی تصویر اور یہ طویل تعارف نقل کرنا ہم نے اس لئے ضروری سمجھا تاکہ اس کا انٹرویو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
اس شخص کے تعارف میں غلط باتیں کتنی ہیں ؟ یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے مگر یہ بات سوفیصد غلط معلوم ہوتی ہے کہ یہ شخص سید ہے ،کیونکہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی کم ازکم ناحق اور جان بوجھ کے توہیں نہیں کرسکتا ۔اس نے جو کچھ حضرت علی مرتضی

76
کے لئے کہا ہے اس سے کھلی دشمنی ظاہر ہورہی ہے ۔ ویسے اس کی تصویر سے بھی ہر قیافہ شناس اس کے قلب میں پیوستہ نفرتوں اور اس تکبر کا اندازہ لگا سکتاہے ۔
اسماعیلی فرقہ پر گفتگو کرتے کرتے جب یہ شخص آئمہ کی طرف آیا تو اس نے ان کے خلاف اس طرح گفتگو شروع کی :-
حقیقتا یہ سب کے سب کسی مافوق الفطرت صلاحیت کے مالک نہ تھے چنانچہ انھوں نے ایک افسانہ بنایا کہ اللہ تعالی کا خاص نور ان اماموں میں جلوہ گرہوتا ہے ۔حالانکہ ان میں ایسی کوئی بھی خصوصیت قطعا نہ تھی جس کی بنا پر انہیں عام معمولی انسانوں سے ذرا بھی برتر ثابت کرسکتے ۔ میں مثال دیتا ہوں ۔ان میں سے سب سے بڑے کو لے لو ،وہ تھے حضرت علی ، حضرت علی صحابہ میں سے تھے ،مگر صحابہ تو سولہ ہزار تھے ، حضرت علی میں آخر کون سی خصوصیت تھی جو دوسرے صحابہ میں نہیں پائی جاسکتی تھی ۔ آپ کہیں گے وہ مجاہد تھے ۔ٹھیک ہے اور بھی بہت سے مجاہد تھے ان کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ بخش دیا گیا ہے تو صلح حدیبیہ میں چودہ سو انیس آدمیوں کےبارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے بخش دیا ہے وہ رسول اللہ ےک قریبی رشتہ دار تھے تو قریبی رشتہ دار رسول اللہ کے اوربھی تھے ۔عبیداللہ ابن زبیر بن عبدالمطلب بھی ویسے ہی چچا کے بیٹے تھے ۔ حضرت عثمان پھوپھی کے پوتے تھے آخر ان میں کیا خصوصیت تھی "؟
دراصل یہ شخص اسماعیلی فرقہ کے حوالہ سے آئمہ پر اظہار خیال کررہا تھا ۔ابتدا میں یہ گفتگو اسماعیلی حضرات کے تمام آئمہ پر تھی اور پھر ان سب کے بزرگ حضرت علی پر شروع ہوگئی ۔ حضرت علی سے لے کر امام ششم حضرت جعفر صادق تک شیعہ اثناعشریہ اور اسماعیلی فرقہ کے امام ایک ہی ہیں لہذا اس بات کا

77
شیعہ اثنا عشریہ نے بڑی شدت سے نوٹس لیا ۔
اس چھوٹے سے آدمی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے کہ "ان میں ایسی کوئی بھی خصوصیت قطعا نہ تھی جس کی بنا پر انہیں عام معمولی انسان سے ذرا بھی برتر ثابت کر سکے " اس کی یہ لفظیں بتارہی ہیں کہ وہ بغض ونفرت کے جذبات لئے ہوئے گفتگو کررہا ہے لہذا کسی علمی اپروچ کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
ہم کہتے ہیں کہ ان حضرات کا امام ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حضرات عام معمولی انسانوں سے کئی خصوصیات کی بنا پر برتر ہوں گے ۔
اب ہم عبدالقدوس ہاشمی کے کہنے کے مطابق ان میں سے سب سے بڑے کو لیتے ہیں وہ تھے حضرت علی ۔ اس کے نز دیک وہ بھی کا ایک صحابی ،ایک عام مجاہد کی طرح اور رسول کے دوسرے رشتہ داروں کی طرح رشتہ دار تھے لہذا ان میں کوئی خصوصیت نہیں تھی ۔ اگر عبدالقدوس واقعی اتنا بڑا عالم ہے کہ جتنا ہفت روزہ تکبیر نے ظاہر کیا تو یقینا یہ شخص اچھی طرح جانتا ہوگا کہ حضرت علی نہ تو عام صحابی تھے نہ عام مجاہد اور نہ عام رشتہ دار رسول یقینا اس کے علم میں یہ ہوگا کہ نہ تو ہر صحابی درجہ میں برابر تھا اور نہ ہر مجاہد اور نہ رسول کا ہر رشتہ دار ۔ اس کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ تمام سنی مسلمانوں کا مسلک یہ ہے کہ صحابہ میں بیعت رضوان والے بھی تھے اور عشرہ مبشرہ والے بھی ۔ اور یہ دونوں گروہ عام صحابی سے افضل تھے ۔ اسی طرح سے صحابہ کا ایک تیسرا گروہ تھا جو سےب سے افضل تھا ۔وہ تھا خلفائے راشدین کاگروہ اور جناب علی مرتضی سنی مسلمانوں کے متفقہ علیہ خلیفہ راشد ہیں ۔اسی طرح سے مجاہدین کا معاملہ ہے کہ مجاہدین بدر کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ،اور پھروہ مجاہدین ہیں کہ جنھوں نے دوسرے غزوات میں جناب رسول خدا کی معیت میں جہاد کیا اور

78
آخری درجہ ان مجاہدین کا ہے جنھوں نے رسول اللہ کی وفات کے بعد جہاد کیا حضرت علی نے تو بدر سے لے کر حنین تک ہر غزوہ میں جناب رسول خدا کی معیت میں جہاد کیا ۔سرایا کی تعداد بھی خاصی ہے اور پھر بعد وفات رسول تاویل قرآن پرجہاد کرتے رہے ۔ان کا اور ایک عام مجاہد کا کیا جوڑ ۔
مجاہد ین کی درجہ بندی ان کے کارناموں کی بنیاد پربھی کی جاسکتی ہے ۔ جان چرا کے لڑنے والا ،جان دے کے لڑنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ،میدان جنگ میں چھپر تلاش کرنے والا ،کھلے میدان میں لڑنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا سینکڑوں شہ زوروں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا کسی ایسے شیخص کے برابر نہیں ہوسکتا کہ جس نے کسی ایک شہ روز کونہ مارا ہو ۔ میدان جنگ سے رسول کو چھوڑ کر کبھی نہ بھاگنے والا ،باربار پھاگنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتا ۔تلواروں کی چھاؤں میں بستر رسول پر بے خوف ہوکر گہری نیند سوجانے والا ،غار ثور میں پہلوئے رسول میں ہونے کے باوجود حزن ملال کی کفیت میں مبتلا ہونے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔ میدان جنگ میں دشمن کو خالص اللہ کے لئے قتل کرنے والا (عمر بن عبدود کا واقعہ ) اپنے ذاتی جذبات کی ملاوٹ کے ساتھ قتل کرنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
اب اس مجمل گفتگو کے بعد ذرا مفصل اور صاف صاف گفتگو :- صحیح بخاری شریف کہ جسے سنی مسلمانوں میں قرآن کے بعد سب سے بڑا مقام حاصل ہے کے مطابق :-
" عدمان اخبرنا ابو حمزہ عن عثمان بن موھب قال جاء رجل حج البیت فرائ قوما جلو سا فقال من ھولاء القعود قالوا ھولآء قریش قال ممن الشیخ قالوا ابن عمر فاما فقال انی سائلک عن شیئء تحدثنی قال الشذک "

79
یحرمہ ھذا البیب العلم ان عثمان ابن عفان فّریوم احد قال نعم (صحیح بخاری کتاب المغازی)
ترجمہ:- عبدان ابو حمزہ عثمان بن موہب سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص (یزید بن بشیر) بیعت اللہ کا حج کرنے آیا تو کچھ اور لوگوں کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ، جواب دیا گیا ، یہ قریش ہیں ، اس نے پوچھا یہ ضعیف العمر کون ہیں ،جواب دیا گیا یہ ابن عمر ہیں ،چنانچہ وہ حضرات ابن عمر کے قریب آیا اور کہا میں آپ سے کچھ پوچھتا چاہوں ۔ پھر اس نے کہا ،اس مکان کی حرمت کی قسم ! کیا عثمان بن عفان احد کے دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے ؟ ابن عمر نے کہا ہاں !
صیح بخاری کی ایک دوسری روایت کے مطابق !
وانھزم المسلمون وانھزمت معھم فاذا بعمر بن الخطاب فی الناس فقلت لہ ماشان الناس؟ قال امراللہ ثم تراجع الناس الی رسو اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(صحیح بخاری پارہ 7 کتاب المغازی)
ترجمہ:-مسلمان بھاگے تومیں بھی ان کے ساتھ بھاگا ۔ ان لوگوں میں عمر بن خطاب بھی تھے ، میں نے ان سے کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کہا اللہ کی مرضی ۔پھر سب لوگ رسول اللہ کی طرف پلٹ آئے ۔
یہ ان مجاہدوں کا تذکرہ ہے کہ جنھیں رسول اللہ صلعم اورحضرت ابو بکر کے بعد دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھا جاتا ہے ،اب ہم شیعوں کے سب سے بڑے حضرت علی کاتذکرہ کرتے ہیں کہ ان کے فرار کے بارے میں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی موجود نہیں ہے ۔اس کے برعکس حضرت علی کی میدان جنگ میں ثابت قدمی، انتہائی بے جگری اور بے خوفی ،رسول اللہ کی حفاظت ،فن

80
حرب میں مہارت کی راویتوں سے حدیث وتاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں علی ابن ابی طالب کی جراءت بہادری کاتذکرہ کرنے والوں میں مسلم و غیر مسلم سب شامل ہیں ،اگر طاقت وشجاعت کے ان کارناموں کو کہ جنھیں مافوق الفطرت کہا جاتا ہے نظر انداز کر دیا جائے تو بھی حضرت علی کی ذات میں مثالی شجاعت کے جو ہر نظر آتے ہیں حکم رسول کی تعمیل میں موت کو سینے سے لگا نے کیلئے کھڑے ہوجانا حضرت علی کی ایک معمولی سی ادا تھی ۔
عبدالقدوس کہتا ہے کہ " آپ کہیں گے کہ حضرت علی مجاہد تھے ، ٹھیک ہے اور بھی بہت سے مجاہد تھے ، ان کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ بخش دیا گیا ہے " تو اب صحیح بخاری کے حوالہ سے معلوم ہوگیا ہو گا کہ حضرت علی کے مجاہد ہونے اور بڑے بڑے صحابیوں کے مجاہد ہونے میں کتنا فرق ہے ۔۔۔۔۔ہمیں کسی کی توہین کرنا مقصود نہیں تھی ۔ صرف عبدالقدوس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے علی اور دوسرے مجاہدوں کا فرق بتاتھا لہذا ہم نے صرف صحیح بخاری کا حوالہ دیا ، تاریخ کا حوالہ دیتے تو اور بھی شخصیتیں زد میں آجاتیں اور کہا جاتا کہ یہ یہودیوں کی روایتیں ہیں۔
عبدا القدوس کہتا ہے کہ "وہ (علی ) رسول اللہ کے قریبی رشتہ دار تھے تو قریبی رشتہ دار رسول اللہ کے اور بھی تھے ۔ عبیداللہ ابن زبیر بن عبدالمطلب بھی ویسے ہی چچا کے بیٹے تھے ۔حضرت عثمان پھوپھی کے پوتے تھے ۔ آخر ان میں کیا خصوصیت تھی"۔۔۔۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ شخص جانتا ہے کہ آخر ان میں کیا خصوصیت تھی ۔اسے یقینا معلوم ہوگا کہ علی اس چچا کے بیٹے تھے کہ جو ابو طالب کی کنیت سے مشہور تھا اور ابو طالب وہ چچا تھے کہ جنہوں نے اپنے بھتیجے کی حمایت میں ناقابل بیان سختیاں جھیلیں مگر ان کی حمایت سے دستبردار

81
نہیں ہوئے اور اسے یہ بھی معلم ہوگا کہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش کے پالے ہوئے تھے ۔ آپ مرتے دم تک آنحضرت کےساتھ رہے ۔آنحضرت کے حجرے کے برابر ہی آپ کا حجرہ تھا اور ان قربتوں نے علی کو صفات رسول کا مظہر بنادیا ۔
عبدالقدوس یقینا جانتا ہوگا کہ تبوک کی روانگی کے موقع پر رسول اللہ صلعم نے علی سے اپنےرستہ کو کتنا ممتار کردیا تھا ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے ۔
محمد بن بشاء حدثنا حدثنا غندر حدثنا شعبۃ عن سعد قال سمعت ابراہیم بن سعد عن ابیہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعلی امام ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی (صحیح بخاری ،کتاب الانبیاء ،پارہ 13)
ترجمہ :- محمد بن بشاء غندر ،شعبہ ،سعد ، ابراہیم سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے کہ حضرت علی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کیا یہ بات تمہیں پسند ہے کہ تم میرے ساتھ اس درجہ پر ہو جس درجہ پر حضرت ہارون حضرت موسی کے ساتھ تھے ۔
عبدالقدوس سے انٹرویو کرنے والے کا دل چاہا کہ حضرت علی کی مزید توہین کی جائے لہذا اس عبد لقدوس سے سوال کیا کہ :-
سوال :- لیکن حضرت علی تو مولود کعبہ تھے ؟
جواب :- مولود کعبہ تھے ؟ آپ کو ایک درجن آدمی گنوائے دیتا ہوں جو مولود کعبہ تمام بت پرستوں میں رواج تھا اور ہے کہ جب خواتین کہ دردزہ شروع ہوتاہے تو انہیں دیوی کے استھان پر لے جایا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں آپ


`82
آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔بہار ،مدارس ،یوپی اور دیگر بہت سی جگہوں پر آج بھی یہی رواج ہے ، جگہوں پر آج بھی یہی رواج ہے ، سینکڑوں آپ کو دیوی کے استھان پر پیدا ہونے والے مل جائینگے ۔
سوال :- مگر اس سلسلہ میں بہت سی روایات بھی ہیں ؟
جواب:- جی نہیں میں نہیں مانتا ،میں کسی ایسی بات کا قائل نہیں جس کی وجہ سے وہ اساس امت تسلیم کئے جائیں ۔
عبدالقدوس کہتا ہے کہ میں آپ کا کو ایک درجن اور آدمی گنوائے دیتا ہوں جو مولود کعبہ تھے مگر اس شخص نے گنوایا ایک نہیں ، اور نہ ہی انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ جناب کسی اور مولود کعبہ کا ایک آدھ نام تو بتا دییجئے ۔اور یہ کیوں کہتا یہ تو خود چاہتا تھا کہ حضرت علی کی تو ہین ہو ۔
حضرت علی کے مولود کعبہ ہونے کے سلسلہ میں کئی روایتیں کتب اہل سنت میں ملتی ہیں کہ جن سے اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ مادر علی بن ابی طالب جناب فاطمہ بنت اسد کعبہ میں (کہ جو اس وقت بت کدہ بنا ہوا تھا ) محض عام بت پرستوں کی طرح گئی تھیں (جیسا کہ عبدالقدوس کا خیال ہے ) تاکہ بچے کی پیدائش آسانی سے ہوسکے ،چنانچہ حضرت علی بھی اسی طرح پیدا ہوگئے ۔
عبدالقدوس ان تمام روایتوں کو ماننے سے صاف انکار کرتا ہے کہ جن سے حضرت علی کے مولود کعبہ ہونے کا واقعہ ان کی منزلت کا باعث ثابت ہوتا ہے ۔یہ شخص ان تمام باتوں کو دیو مالا قرار دیتا ہے ۔لہذا ہم اس سے اتنی گزارش کریں گے کہ اگر وہ خالص مورّخ بن کر سوچتا ہے ۔عقل ودانش اور دلیل کی بات کرتا ہے ،مافوق الفطرت باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ،تو پھر اپنے دائرہ فکر کو وسعت دے ، اپنی فکر کو حضرت علی کی شخصیت تک محدود نہ رکھے مذہب میں عقل سے زیادہ عقیدہ کا دخل ہوتا ہے لہذا اپنی عقل استعمال کرے انشااللہ بہت جلد اسلام ہی سے جان چھوٹ جائےگی ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ

83
دشمنی اہلبیت کے طفیل جان چھوٹ بھی چکی ہو اور اب یہ شخص محض دنیاوی منفعت کی خاطر اسلام سے چمٹا ہوا ہو ۔
ہم نے عبدالقدوس کے اس جواب میں کہ حضرت علی کی حیثیت ایک عام صحابی عام مجاہد اورعام رشتہ دار رسول سے زیادہ نہ تھی ۔صرف سنی مسلک کے مطابق سنی مسلمانوں کو حضرت علی کا وہ مقام یاد دلا دیا ہے کہ جو عام صحابی ،عام مجاہد اور عام رشتہ دار رسول سےبہت بلند تھا ۔
جہاں تک شیعوں کا معاملہ ہے تو ان کے نزدیک علی ابن ابی طالب اپنے بھائی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کائنات کی سب سے بڑی شخصیت تھے ، ان میں وہ ساری خصوصیات موجود تھیں جو کہ ان کے بھائی میں تھیں سوائے اس کے کہ آپ نبی نہیں تھے آپ پاسبان شریعت محمدی تھے ۔
عبدالقدوس نے حضرت علی کے لئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان پر حیرت نہیں ہونا چاہیئے اور نہ یہ سوچنا چا ہیئے کہ اتنی بڑی علمی شخصیت (بقول تکبیر ) کی باتوں میں حقیقت تو ہوگی ۔عبدالقدوس نے حضرت علی کے بارے میں جو کچھ علم حاصل کیا ہے وہ کتابی علم ہے مگر راندئے درگاہ رسول مروان بن حکم اور آزاد کردہ رسول معاویہ بن ابو سفیان نے تو علی مرتضی کے بارے میں رسول اللہ کے ارشادات اپنے کانوں سے سنے تھے علی کا مقام ومرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے باوجود حضرت علی پر سب وشتم کرتے تھے ۔۔۔۔۔تو بات علم کی نہیں ہوئی بلکہ بد طینتی کی ہوئی ۔۔۔۔سفاکی ہوئی ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہر دور میں علی سے محبت کرنے والے تو ہوں مگر مروان ومعاویہ اور یزید کے چاہنے والے نہ ہوں ۔۔۔۔۔ان مروانیوں اور یزیدیوں کے وجود پر شیعوں کو نہ تو کوئی حیرانی ہے نہ پریشانی ۔ان کا تو آبائی کا یہی ہے کہ علی کے دشمنوں اور ظالموں پر لعنت بھیجتے رہیں ۔۔۔۔توجہاں اور بہت سے ہیں وہاں

84
صلاح الدین اورعبدالقدوس بھی سہی ۔۔۔۔یہ تو شیعہ کی باتیں تھیں کہ جس کی نفرت بھی عمیق جس کی محبت بھی عمیق ،مگر ہم تو سمجھتے ہیں کہ عبدالقدوس کے اس انٹریو پڑھا لکھا لکھا طبقہ کہ جسے حضرت علی سے کوئی مذہبی عقیدت نہیں مگر اس نے حضرت علی کو ایک بڑے انسان کی حیثیت سے پڑھا ہے وہ بھی اس کی مذمت کرے گا ، کیونکہ یہاں کوئی علمی اپروچ نہیں ہے اورا ظہار رائے کے حق کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ ایک عظیم انسان پر کہ جو کروڑ وں انسانوں کے نزدیک قابل صداحترام مذہبی شخصیت بھی ہے تضحیک آمیز انداز سے غیر مدلل گفتگو کی جائے ۔
اب فقہ جعفر یہ کے بارے میں عبدالقدوس کے نادر خیالات ملاحظہ فرمائیے "جہاں تک اہل تشیع کے اماموں کا تعلق ہے تو یہ اچھے لوگ تھے ، دین دار لوگ تھے اسی لئے لوگوں نے ان سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ، ان سے فقہ جعفریہ کو بھی ملادیا ،حالانکہ یہ قطعی بے بنیاد ہاے ، امام جعفر سنہ 148ھ میں انتقال کرگئے اور فقہ جعفریہ کی پہلی کتاب سن سات سوکچھ میں لکھی گئی تھی کوئی نسبت ہی نہیں کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے فقہ جعفرم یہ امام سے روایت کیا ہے کہ اس شخص نے میرے باپ کوکبھی دیکھا ہی نہیں ۔مگر لکھنے والے کا دعوی ہے کہ میں نے امام سے ایک نشست میں ستر ہزار حدیثیں سنیں ، اب یہ بات کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے اگر منٹ میں ایک حدیث بھی سنائی جائےگی تو دوماہ اور کچھ دن صرف روایت حدیث حدیث میں صرف ہوجائیں گے، کیا یہ ممکن ہے اور یہ وہ شخص ہے جس کے کے بارے میں امام کہتے ہیں یہ شخص بالکل جھوٹا ہے کبھی والد صاحب سے اس کی ملاقات ہوئی ہی نہیں ۔ اب اس کے بعد ہم سے آپ ان کی تاریخ اور حقیقت پوچھتے ہیں ، ان کی حقیقت اور تاریخ

85
تو یہ ہے کہ جب ان کے ہاتھ میں اختیار آیا اور یہ لوگ 268 برس تک حکومت کرتے رہے کبھی انہوں نے اپنا دین نہیں پھیلا یا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ کبھی بھی تین فیصد سے آگے نہ بڑھے اور دین اپنا انہوں نے یوں نہیں پھیلا یا کہ دین پھیلا تے تومارے جاتے ۔
تھوڑا آگے چل کر کہتا ہے : فقہ جعفر یہ کوئی چیز نہیں ہے ،حضرت جعفر صادق سے اس کی نسبت صحیح نہیں ہے ، حضرت جعفر صادق کی وفات 148 ھ میں ہوئی اور فقہ جعفر یہ کے نام سے تقریبا سات سوسال کے بعد بعض عالموں نے اپنے قیاس سے کچھ تھوڑے سے مسائل بیان کرکے ان کانام فقہ جعفریہ رکھ دیا یہ قیاسات بذریعہ روایت بھی حضرت جعفر صادق سے منقول نہیں ہیں ۔"
"پھر ایک جگہ پرلکھتا ہے :- طریقت ،حقیقت اور معرفت کے الفاظ اچالاک لوگوں نے اپنے معتقدین سے دولت بٹورنے کے لئے بنائے ہیں ۔
اس کا جواب تو صاحبان طریقت ومعرفت دیں گے ۔ ہم نے تو عبدالقدوس کی یہ گفتگو محض اس لئے نقل کی ہے کہ برادران اہلسنت بھی اس شخص سے اور صلاح الدین سے اچھی طرح معترف ہوجائیں ۔۔۔۔۔اس شخص نے یہ کلمات کہتے وقت اور صلاح الدین نے اسے چھاپتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ ان کی زد میں ہر سلسلہ اولیاء آجائےگا ۔
اس شخص نے جو فقہ جعفریہ کے بارے میں باتیں کی ہیں ، ان میں کوئی علمی بات نہیں ہے ۔ اس کی گفتگو سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بعض ونفرت میں بس کہے چلا جا رہا ہے ۔
یہ شخص یا تو فقہ جعفری کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور بے حیائی کے سہارے ایک حقیقت کو جھٹلارہا ہے اور اگر سب کچھ جانتا ہے (اور اسے جاننا چاہیئے کیونکہ تکبیر کے نمائندے نے اسے اسلامی علوم مختلف ادیان اور

86
تاریخ کا بہت بڑا عالم قرار دیا ہے ) اور جانتے بو جھتے ناقابل تردید حقیتوں سے منہ موڑرہا ہے تو علمی بد دیانتی کی نئی مثال قائم کررہا ہے ، بلکہ یہ کہاجائے توزیادہ مناسب ہے کہ کہ یہ شخص علمی میدان کا بہت بڑا بدمعاش ہے ۔
فقہ کا قرآن کے بعد دوسرا بڑا ماخذ حدیث ہے اور تمام احادیث کہ جن پر مذہب اثناعشریہ کا دارومدار ہے ، آئمہ طاہرین جناب رسول خدا سے منسوب ہیں اور اس طرح سے راویاں مذہب شیعہ اثنا عشریہ نے رسول اللہ کی اس وصیت پر پوری طرح عمل کیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ
" اے مسلمانوں ! میں تمہارے لئے دوگراں قدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت اور میرے اہل بیت ۔جب تک ان سے وابستہ رہو گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے "
اب ہم عہد بہ عہد ان راویوں کا تذکرہ کررہے ہیں کہ جنہوں نے معصومین سے خود حدیثیں سنیں اور نقل کیں ۔
1:- ابو رافع۔ 2:- سلمان فارسی ۔3:- ابوذر غفاری ۔ ان تینوں حضرات کو شرف صحابیت رسول تھا ۔سلمان فارسی کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ ایک حدیث کی رو سے اہل بیت میں داخل تھے اور ان تینوں حضرات نے حدیث کے مجموعے تیار کئے تھے ۔ جن کے نام بالترتیب یہ ہیں :- 1:- کتاب السنن والاحکام القضایا ۔2:- آثار نبویہ ۔3:- کتاب الخطبۃ ۔
4:- اصبغ بن نباتہ صاحب کتاب مقتل الحسین ۔5:- عبیداللہ بن ابی رافع صاحب کتاب قضایا امیرالمومنین وکتاب تسمیہ من شھہد مع امیر المومنین الجمل والصفین و النہروان من الصحابہ ۔6:- حرث بن عبداللہ ان کی بھی ایک کتاب کا تذکرہ شیخ طوسی کی کتاب الفہرست میں موجود ہے ۔7:- ربیع بن سمیع انہوں نے بھی ایک کتاب حضرت علی کے ارشادات کی روشنی میں

87
چوپاؤں کی زکواۃ کے موضوع پر تالیف کی تھی ۔ 8:- سلیم بن قیس ہلالی ۔ ان کی کتاب اصول قدیمہ میں سے ایک اصل ہے ۔9:- علی ابن ابی رافع یہ حافظ قرآن اور کئی کتابوں کے مولف ہیں ۔
10:- میثم تمار ،آپ حضرت علی کے عاشقوں میں سے تھے اسی جرم یمں ابن زیاد ملعون نے ان کے ہاتھ پیر کٹواکر سولی پر چڑھا دیا تھا ۔ آپ نے حدیث ایک کتات تالیف کی تھی جسے شیخ طوسی نے اپنی کتاب الامالی " میں نقل کیا ہے ۔11:- محمد بن قیس بجلی ۔ ان کے پاس بھی ایک کتاب تھی جس کا تذکرہ شیخ طوسی نے مکمل سند کے ساتھ اس کی تصدیق امام باقر نے کی تھی اور اس میں حضرت علی سے منقول روائتیں ہیں ۔ 12:- یعلی بن مرہ ان کے ایک مجموعہ حدیث کے بارے میں شیخ نجاشی نے پورے سلسلہ سند کے ساتھ بتایا ہے کہ اس میں حضرت علی سے منقولہ روائتیں ہیں ۔
مندرجہ بالا تمام حضرات کا شمار حضرت علی بن ابی طالب کے مخصوص اصحاب میں ہوتا ہے ۔ 4 تا 12 تک کے حضرات تابعین میں سے تھے ۔
13:- جابرین یزید جعفی ۔یہ تابعین میں سے ہیں اور امام زین العابدین اور امام محمد باقر کے مخصوص اصحاب میں سے ہیں آپ کی بہت سی کتابیں ہیں ۔آپ کا شمار مفسرین میں ہوتا ہے ۔14:- زیاد بن منذر ۔انہوں نے امام زین العابدین اور امام محمد باقر سے سنی ہوئی احادیث پر مشتمل ایک کتاب بھی تالیف کی ۔آپ نے آخری عمر میں زیدی مسلک اختیار کرلیا تھا ۔
15:- ابو بصیر یحیی بن قاسم ۔16:- عبدالمومن ۔17:- زراۃ بن اعین ۔18:- ابو عبیدہ حذا 19:- زکریا بن عبداللہ ۔20:- حجد بن مغیرہ طائی -21:- حجر بن زائد ہ حضرمی ۔22:- مطلب الزہری ۔ 23:- عبداللہ بن میمون ۔۔۔۔۔ یہ وہ حضرات ہیں کہ جنہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے حدیثیں لے کر کتابیں تالیف کی ہیں ۔

88
24:- محمد بن مسلم طائی ۔۔۔۔۔۔۔آپ مشہور راوی ہیں ۔ آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق(علیھما السلام) کا زمانہ پایا اورآئمہ طاہرین سے حاصل کی ہوئی احادیث پر مشتمل ایک کتاب تالیف کی ۔
25:- حسین بن ثور۔۔۔۔آپ کے دادا سعد بن حرّان جناب ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام تھے ۔ آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے احادیث نقل کی ہے ۔
معاویہ بن عمار۔۔۔۔۔آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا زمانہ دیکھا اور انہیں دونوں آئمہ کی احادیث پرمشتمل کتاب تالیف کی ۔انتقال 175ھ میں ہوا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں سیاسی حالات کچھ اس طرح کے تھے کہ آپ کو علمی کا م کا اچھا موقع مل گیا ۔ آپ نے اپنے حلقہ درس کو وسعت دی ۔اسلامی دنیا کے دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لئے آتے تھے ۔ چار ہزار اصحاب نے آپ سے حدیثیں نقل کیں اور چار سو کتابیں تالیف کیں کہ جنہیں اصول اربع ماۃ کہتے ہیں اور پھر حدیث کی ان کتابوں کو بعد میں آنے والوں نے مختلف موضوعات کے اعتبار سے چار کتابوں میں مرتب کیا ۔ان میں سے پہلی کتاب "الکافی" محمد بن یعقوب کلینی (سنہ وفات 328 ھ)کی ہے ،دوسری کتاب "کتاب من لا یحضرہ الفقیہ (یعنی یہ کتاب اس کے لئے جس کے پاس فقیہ موجود نہ ہو) تیسری اور چوتھی "کتاب التہذیب "اور کتاب "الاستبصار"ہیں ۔جنھیں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی (سنہ وفات 460ھ )نے تالیف کیا ۔
چار سو بنیادی کتابیں سنہ 448 ھ تک اصل حالت میں پائی جاتی تھیں بغداد کے محلہ کرخ میں طغرل بیگ سلجوقی نےآگ لگائی تو وہاں موجود کتب خانہ

89
بھی جل گیا اور اس میں یہ کتابیں بھی نذر آتش ہوگئیں ۔ نعمت اللہ جزائری نے جن کی وفات سنہ 1112 ھ میں ہوئی ہے ۔اپنے زمانہ میں صرے صرف تیس کتب کے باقی رہ جانے کا تذکرہ کیا ہے مگر ان چار سو کتابوں کی جگہ جوکتب اربعہ مرتب کی گئیں وہ آج بھی موجود ہیں اور مذہب شیعہ اثناعشریہ کی اساس ہیں
تمام فقہوں میں فقہ جعفریہ ہی کو یہ امتیاز حاصل ہے ۔ کہ اس کا تعلق رسول اللہ تک اس طرح مسلسل ہے کہ کڑیاں آپ سے ملتی چلی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ کچھ اس طرح سے ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی سے یہ سنا اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور یہاں تک کہ یہ سلسلہ رسول اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس پورے سلسلہ امامت میں ایک مکمل وحدت فکر نظر آتی ہے ۔حضرت علی سے لے کر امام حسن عسکری تک ایک ہی مزاج نظر آتا ہے ۔
حدیث کی وہ چار کتابیں کہ جن کا ابھی ذکر کیا گیا فقہ کا ماخذ ہیں اور انہی کی مدد سے فقہ کی کتابیں لکھی گئیں یہی وجہ ہے کہ اثناعشریہ کی فقہ حضرت امام جعفر صادق سے منسوب ہے ۔
علم اصول فقہ کی ضرورت آئمہ معصومین کے دور میں نہ تھی کیونکہ ہر مسئلہ ان کے اصحاب ان سے براہ راست دریافت کرلیا کرتے تھے ۔ اس علم کی ابتد بارہویں امام کی غیبت صغری کے بعد یعنی چوتھی صدی ہجری کی ابتدا میں ہوئی ۔ابتدائی ناموں میں دو نام خصوصیت سے ملتے ہیں :- حسن بن علی ابن ابی عقیل اور محمد ابن احمد ابن جنید جنہوں نے علم اصول فقہ کی ابتدا کی ۔پھر شیخ مفید (سنہ وفات 413ھ) نے علم اصول فقہ پر کتابیں لکھیں ان کے بعد ان کے شاگرد سید مرتضی (سنہ وفات 436ھ) نے ایک بڑی عظیم الشان کتاب لکھی جس کا نام "الزریعہ" رکھا ۔ اسی دور کے ایک اور عالم

90
سلاد ابن عبدالعزیز دیلمی نے ایک کتاب " التقریب فی اصول لفقہ " تصنیف کی ۔شیخ مفید کے ایک شاگرد ابو جعفر محمد ابن حسن جو کہ شیخ طوسی اور شیخ الطائفہ بھی کہلاتے ہیں (سنہ وفات 460) نے علم اصول فقہ پر بڑا کام کیا ہے ۔ان کی کتاب "العدہ فی الاصول" نے اس علم کو بڑی وسعت بخشی ۔ان کی دوسری کتاب "المبسوط فی الفقہ" ہے جس میں فقہی مسائل حل کئے گئے ہیں ۔
شیخ طوسی وہ بزرگ ہیں کہ جن کا تعلق علم فقہ واصول کے قدیم اور جدید دونوں ادوار سے تھا اور وہ اس طرح کہ قدیم دور آپ پر ختم ہوا اور جدید دور آپ سے شروع ہوا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ :-
1:- شیعہ علماء ومحدثین کا اپنے آئمہ معصومین سے ہر دور میں بڑا گہرا تعلق رہا ہے ، ان شیعوں میں سلمان فارسی وابوذر اور ابو رافع بھی شامل ہیں ۔
2:- فقہ کا دوسرا بڑا ماخذ حدیث ہے اور چونکہ اصول اربع ماۃ (حدیث کی اصل چار سو کتابیں ) حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام کے ارشادات پر مبنی ہیں اور انہی کو سامنے رکھ کر کتب اربع (الکافی ۔من لایحضرہ الفقیہ ۔التہذیب ،الاستبصار)تالیف کی گئیں اور فقہ کی تمام کتابیں انہیں کتب اربع کی مدد سے تالیف کی گئیں ۔لہذا اثنا عشریہ کی فقہ امام جعفر صادق کے اس تعلق سے فقہ جعفری کہلاتی ہے ۔
3:- سات سو کچھ ہجری سے پہلے فقہ جعفری پرکئی کتابیں لکھی گئیں ۔
4:- فقہ جعفری اور علما فقہ جعفری کی عظمت سے ہر عالم اچھی طرح واقف ہے (اس سلسلہ میں علماء اخوان المسلمین مصر وعراق کی آراء اگلے صفحات میں پیش کی جارہی ہیں )

91
لہذا عبدالقدوس کے یہ الزامات انتہائی مہمل ہیں کہ :-
فقہ جعفریہ کا امام جعفر صادق سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ۔ سب سے پہلے سات سو کچھ ہجری میں شیعہ علماء نے اپنے قیاس سے کچھ مسائل بیان کرکے ان کانام فقہ جعفریہ رکھ دیا ۔فقہ جعفریہ کوئی چیز نہیں ہے

٭٭٭٭٭