شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 

66

جواب فتوی
منظور نعمانی خود بھی دیوبندی حنفی ہے اور زیادہ تر فتوے باز بھی حنفی المسلک ہیں مگر شیعہ اثناعشریہ کےبارے میں ابو حنیفہ کی کوئی رائے نہیں پیش کی گئی اور اگر پیش کی گئی ہے تو امام مالک اور امام ابن تیمیہ کی ۔وجہ صرف یہ ہے کہ ابو حنیفہ کی رائے منظور نعمانی کی مرضی کے خلاف ہے ملاحظہ ہو کہ شرح فقہ اکبر ابو حنیفہ میں ہے :-
" جو کفر سے متعلق اگراس میں 99 احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال یہ ہو کہ اس کا مقصد کفر نہیں ہے تو مفتی او ر قاضی کے لئے اولی ہے کہ وہ اس احتمال پر فتوی دے کیونکہ ایک ہزار کافروں کو اسلام میں رکھ لینا آسان ہے لیکن ایک مسلمان کو اسلام سے خارج کرنے کی غلطی بہت اشد ہے "۔
عقیدہ طحاویہ میں امام طحاوی نے ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں سے منقول عقائد بیان کئے ہیں ۔چنانچہ عقیدہ طحاویہ میں ہے ۔
"بندہ خارج ازایمان نہیں ہوتا مگر اس چیز کے انکار سے جس کے اقرار نے اسے داخل ایمان کیا تھا "
ملاحظہ ہو کہ ابوحنیفہ تویہ کہہ رہےہیں کہ اگر ایک فیصد بھی یہ احتمال ہو کہ اس کامقصد کفر نہیں تو اس ایک فیصد احتمال پرفتوی دینا چاہیے مگر یہ دیوبندی حنفی شیعہ اثناعشریہ کے خلاف تحقیق کرکرکے کفر کی وجہیں دریافت کررہے ہیں

67
ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلیلیں لارہے ہیں ۔کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو ، ہرشیعہ عالم قولا عملا ثابت کررہا ہے کہ ہم تحریف کےقائل نہیں ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو تقیہ کرتے ہو۔۔۔۔۔جب یہ عقیدہ امامت کی وجہ سے شیعہ کو ختم نبوت کا منکر قرار دیتے ہیں تو شیعہ کہتے ہیں کہ ہمارے تو کلمہ میں ختم نبوت کا عقیدہ شامل ہے اورہم تو عملا تحریک ختم نبوت میں عام مسلمانوں کے ساتھ شریک رہے ہیں مگردیوبندی کسی بات کو نہیں مانتے اور اپنے امام ابو حنیفہ کےقول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیعہ اثناعشریہ کو کافر قراردینے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہیں کہ تم صحابہ کی تکفیر کرتے ہو لہذا خارج ازایمان ہو ، مگر ان کے امام ابو حنیفہ کہتےہیں کہ بندہ صرف اسی وقت خارج ازایمان ہے جب وہ اس بات کا انکار کرے جس کے اقرار نے اسے داخل ایمان کیا ہو ۔۔۔۔۔۔اوریہ بات یقینی ہے کہ صحابہ کے ایمان کا اقرار کسی کو داخل ایمان نہیں کرتا ۔
منظور نعمانی شیعہ اثنا عشریہ کو کافر قرار دینے کے لئے امام مالک اور امام ابن تیمیہ کی آرا پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام مالک کی رائے ہے کہ صحابہ پر سب وشتم کرنے والا کافر ہے ۔ اور ابن تیمیہ کی رائے کو تین فقہا کی رائے کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں ۔
1:- اگر صحابہ کی شان میں گستاخی جائز سمجھ کر کی جائے تو ایسا کرنے والا کافر ہے اور اگر ایسے ہی بک دیا جائے تو سخت گناہ اور ایسا شخص فاسق ہوگا ۔
2:- صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والا سزائے موت کا مستحق ہوگا ۔
3:- حو صدیق اکبر کی شان میں گالی بکے وہ کافر ہے اور اس کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے ۔
منظور نعمانی صاحب بھی دوسرے دیوبندیوں کی طرح امام ابو حنیفہ کے

68
پیروکار ہیں انھیں صحابہ کی شان مین گستاخی کرنے والے کے بارے بھی ابو حنیفہ ہی کے فتوے کو ماننا چاہئے اور ابو حنیفہ کا فتوی "عقیدہ طحاویہ " کے مطابق یہ ہے
"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اصحاب کو محبوب رکھتے ہیں ان میں سے کسی کی محبت میں حد سے نہیں گزرتے اور نہ کسی سے تبرا کرتے ہیں ، ان سے بغض رکھنے والے اور برائی کے ساتھ ان کا تذکرہ کرنے والے کو ہم ناپسند کرتے ہیں "۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابو حنیفہ کے نزدیک صحابہ سے بغض رکھنے اور ان کی برائی کرنے والا کافر نہیں ہے بلکہ صرف ناپسند یدہ شخص ہے ،ہوسکتا ہے کہ انھوں نے یہ بھی مصلحتا کہا ہو ۔۔۔۔ہمیں ایک روایت ا یسی بھی ملتی ہے کہ جس سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے دل میں خود بھی حضرت عمر کا کوئی احترام نہ تھا ۔ علامہ شبلی نعمانی کہ جو ایک سنی عالم اوربڑے پائے کے مورخ تھے اپنی کتاب سیرت النعمان میں ایک واقعہ لکھتے ہیں ۔
"امام صاحب کے محلہ میں ایک پسنہارا رہتا تھا ۔جو نہایت متعصب شیعہ تھا اس کے پاس دوخچر تھے ۔ایک کانام ابو بکر اور دوسرے کا نام عمر رکھا تھا اتفاق سے ایک خچر نے دوسرے کے لات ماردی کہ اس کا سر پھٹ گیا اور اسی صدمے سے وہ مرگیا ۔محلہ میں اس کاچرچا ہوا ۔ امام صاحب نے سنا تو کہا ۔دیکھنا اس خچر نے مارا ہوگا جس کا نام اس نے عمر رکھا تھا ۔ لوگوں نے دریافت کیا تو واقعی ایسا ہی ہوا تھا ۔(سیرۃ النعمان ص 129) مدینہ پبلیشنگ کراچی)
یہ محض اتفاق تھا کہ ابو حنیفہ کی بات سچ نکلی ،مگر یہ بات یقینا قابل غور ہے ان کے ذہن میں یہ بات آئی کیسے کہ لات مارنے والا عمر ہی ہوگا ۔۔۔۔۔ خیر یہ ان کے خلیفہ اور امام کا آپس کامعاملہ ہے ۔ہمیں اس سے کیا ! ہم تو صرف ابن تیمیہ کا وہ حوالہ یا د دلائیں گے کہ جس کے مطابق اگر کوئی شخص

69
صحابہ کی شان گستاخی کو جائز سمجھتے ہوئے کرے ،تو کافر اور اگر ایسے ہی کچھ بک دے تو سخت گنہگار اور فاسق ہوگا ۔ اب یہ دیو بند کا حنفی مولوی جانے کہ ہو اپنے امام صاحب کو کس درجہ میں رکھتا ہے ۔۔۔۔۔مگر ایک نہ ایک درجہ میں ضرور رکھنا پڑے گا ۔کیونکہ امام صاحب سے حضرت عمر کی شان میں گستاخی ہوئی ، چاہے انھوں نے جائز سمجھ کر کی یا ناجائز سمجھ کر ۔۔
شیعہ اثنا عشریہ اگر بعض صحابہ کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کیا مگر علی وفاطمہ وار ان کی اولاد کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا اور اس کے حقوق غصب کئے و ہ سب پر عیاں ہیں ۔ خاص طور سے جو لوگ علی کے خلاف تلوار کھینچ کر میدان میں آگئے تو ان کے بارے میں شیعہ اثناعشریہ کی رائے کیا ہوگی وہ ظاہر ہے ۔۔۔۔۔ مگر یہ بھی دیکھ لیجئے کہ امام ابو حنیفہ کی اس سلسلہ میں کیا رائے تھی ، مصر کی شرعی عدالتوں کے جج ابو زہرہ اپنی کتاب "ابو حنیفہ "میں لکھتے ہیں ۔
" امام صاحب کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت علی اپنی تمام لڑائیوں میں حق پر تھے اور اس سلسلہ میں وہ حضرت علی کے مخالفین کے متعلق کسی قسم کی تاویل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے اور صاف طور سے فرمایا کرتے تھے کہ حضرت علی جو بھی جنگیں لڑی گئیں ان میں حضرت علی حق پر تھے "
مولانا مودودی فرماتے ہیں ۔
اگر چہ صحابہ کی خانہ جنگی کے بارے میں امام ابو حنیفہ نے اپنی رائے ظاہر کرنے سے دریغ نہیں کیا ۔چنانچہ وہ صاف طور پر یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کی جن لوگوں سے جنگ ہوئی (اور ظاہر ہے کہ اس میں جنگ جمل وصفین کے شرکا شامل ہیں ) ان کے مقابلے میں علی زیادہ برسر حق تھے ، لیکن وہ دوسرے

70
فریق کو مطعون کرنے سے قطعی پرہیز کرتے ہیں (خلافت وملوکیت ص 233)
مولانا موصوف کی ایک اور عبارت :-
" یہ بھی امر واقع ہے کہ تمام فقہاء ومحدثین ومفسرین نے بالاتفاق حضرت علی کی ان لڑائیوں کو جو آپ نے اصحاب جمل ،اصحاب صفین اور خوارج سے لڑیں قرآن مجید کی آیت "فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی القی الی امراللہ " کے تحت حق بجانب ٹھہرا یا ، کیونکہ ان کے نزدیک آپ امام اہل عدل تھے اور آپ کے خلاف خروج جائز نہ تھا ۔ میرے علم میں کوئی ایک بھی فقہہ یا محدث یا مفسر نہیں جس نے اس مختلف کوئی رائے ظاہر کی ہو ۔ خصوصیت کے ساتھ علمائے حنفیہ نے بالاتفاق یہ کہا ہے کہ ان ساری لڑائیوں میں حق حضرت علی کے ساتھ اور ان کے خلاف جنگ کرنے والے بغاوت کے مرتکب تھے " (خلافت وملوکیت ص 338)
مولانا مودودی نے امام ابو حنیفہ کو آزادی رائے کا بہت بڑا حامی بتایا ہے آپ فرماتے ہیں :-
"آزادی رائے کے معاملے میں وہ اس حد تک جاتے ہیں کہ جائز امامت اور اس کی عادل حکومت کے خلاف بھی اگر کوئی شخص زبان کھولے اورامام وقت کوگالیاں دے یا اسے قتل تک کرنے کاخیال ظاہر کرے تو اس کو قید کرنا اور سزادینا ان کے نزدیک جائز نہیں ، تاوقتیکہ کوہ مسلح بغاوت بدامنی برپا کرنے کا عزم نہ کرے " (خلافت و ملوکیت ص 263)
امام ابو حنیفہ کے ماننے والے دیوبندی فتوے باز اگر ابو حنیفہ ہی کے صدقہ میں شیعہ اثناعشریہ کو اظہار رائے کی آزادی دے دیں تو پھر ان پر کفر کا فتوی نہ لگے ۔ شیعہ اس آزادی سے پورا فائدہ نہیں اٹھائیں گے ، کسی گال نہیں دیں

71
گے اورقتل کی نیت توکرہی نہیں سکتے ۔ہاں حق پرستی کابھر پور مظاہرہ اور کامل عدل کرینگے ۔ابو حنیفہ اور تمام سنی فقہا محدثین ومفسرین علی لڑائیوں میں انہیں حق پر سمجھتے ہیں مگر باطل کو برا نہیں کہتے ،او ر نہ ہی ان سے اظہار برات کرتے ہیں ۔ شیعہ اثنائے عشریہ علی کو حق پر سمجھتے ہیں تو باطل پر ہونے کا سبب خطائے اجتہادی کو قراردیدیں یا اگر کسی کو خطائے اجتہادی کی گنجائش نہ ہونے کے باجود معاف کردیں اور یہ بھی بھول جائیں کہ ان لڑائیوں میں کتنے انسانوں کا خون بہا اور یہ بھی نہ سوچیں کہ آخر اس کا کوئی توذمہ دار ہوگا ۔ تو ان کی مرضی ۔۔۔۔۔۔
مگر یہ تو بڑی زیادتی ہوگی کہ شیعہ اثناعشریہ اس ظلم میں آپ کا ساتھ نہ دیں تو آپ انہیں کافر ٹھہرائیں ۔
امام ابو حنیفہ یا علمائے احناف کسی نے بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور اپنے عقیدے امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں لہذا کافر ٹھہرے ۔،منظور نعمانی کو حنفی فقہاء اور علماء کے ہاں شیعہ اثناعشریہ کے خلاف کچھ نہ ملا تو اس نے ان پریہ مضحکہ خیز الزام لگا یا کہ انہوں نے مذہب شیعہ کی کتابوں کا براہ راست تفصیلی مطالعہ نہیں کیا ملاحظہ ہو اس کی تحریر ۔" ہمارے حنفی فقہا وعلماء میں علامہ ابن عابدین شامی (متوفی 1253ھ) اس لحاظ سے بہت ممتاز ہیں کہ ان کی کتاب "رد المحتار" فقہ حنفی کی گویا انسا ئیکوپیڈیا ہے ۔ اس میں فقہ حنفی کی ان قدیم کتابوں ی نقول

72
بھی مل جاتی ہے جو اب تک بھی طبع نہیں ہوسکی ہیں ۔ بلاشبہ یہ کتاب تصنیف فرما کر انھوں نے حنفی دنیا پر بڑا احسان فرمایا ہے لیکن سی "رد المحتار" میں اور اس کے علاوہ اپنے ایک رسالہ میں جو "رسائل ابن عابدین" میں شامل ہے شیعوں کے بارے میں انھوں نے جو کچھ تحریر کیا ہے اس کےمطالعہ کے بعد اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ مذہب شیعہ کی کتابیں ان کی نظر سے بھی نہیں گزر سکیں ،اگرچہ ان کا زمانہ اب سے قریبا ڈیڑھ سو سال پہلے ہی کا ہے بلکہ اس کے کے بعد کے دور کے بھی (چند حضرات کو مستثنی کرکے) ایسے جبال علم جو اپنے وقت کے آسمان علی کے آفتاب وماہتاب تھے ان کی کتابوں سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مذہب شیعہ کی کتابوں کابراہ راست اور تفصیلی مطالعہ کرنے کا انہیں بھی موقع نہیں ملا (نگاہ اولیں)
جبال علم اور آسمان علم کے آفتاب وماہتاب حنفی حضرات کو تو شیعوں کی کتابیں پڑھنے کا موقع نہ مل سکا مگر آج کال کے پاک وہند کے حنفی ملا کو یہ کتابیں پڑھنے کا تفصیل سے موقع مل گیا ۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ احماقانہ باتیں نہیں ہیں؟ کتنی سچی بات ہے کہ انسان تعصب میں اندھا ہو جاتا ہے ۔
جن فتوؤں کا عکس پیش کیا گیا اور جن کا نہیں پیش اور جن کا نہیں پیش کیاگیا ان سب میں زیادہ ترانہی بنیادوں پر شیعہ اثنا عشریہ کو کافر قرار دیاگیا ہے کہ جن کا تفصیلی جواب ہم دوسرے باب میں دے چکے ہیں ۔ لہذا اس سلسلے مزید کچھ لکھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے ۔
ہم اپنے پڑھنے والوں کو صرف اتنا یاد دلاتے چلیں کہ یہ وہی جاہل ملاّ ہے کہ جس نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے خلاف فتوی دیا تھا مگر آج ہر ملا اپنی پاٹ دار آواز کے باوجود ضرورت بلا ضرورت لاؤڈ سپیکر پر اذان بھی دیتا ہے

73
اور نماز بھی پڑھاتا ہے ۔کل یہی جاہل مولوی تصویر کھینچوانے کو حرام قراردیتا تھا مگر آج بڑے ذوق وشوق سے تصویر کھینچواتا ہے اور انہیں اخبارات میں چھپوانے کو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ اسی ملانے منصور حلاج اور سرمد جیسے صوفیوں کو کافر قرار دے کر قتل کرادیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور ایسے ایسے لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے کہ جنھیں آج کا مسلمان اور خود آج کا ملا رحمۃ اللہ علیہ کہتا ہے ۔ سرسید احمد خان، علامہ اقبال، محمد علی جناح ،مولانا ظفر علی خان غرضیکہ کون سا ایسا اپنے وقت کا بڑا آدمی ہے جو کہ اپنی حیات میں ان فتووں کو زد میں نہ آیا ہو ۔ اس کے علاوہ بریلوی ،دیوبندی ،اہل حدیث غرضیکہ کون سا فرقہ ایسا ہے کہ جس نے دوسرے فرقہ کے خلاف کفر کے فتوے نہ دیئے ہوں ۔
اس سلسلہ میں ہو ایک دلچسپ یاد دلائیں کہ جنوری سنہ 1951 ء میں 32 علمائے دین پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے 22 نکات پر متفق ہوگئے تھے اور ان میں مسلمانوں کے ہر مکتبہ فکر کو نمائندگی حاصل تھی ۔ شیعہ اثناعشریہ کی طرف سے مفتی جعفر حسین اور حافظ کفایت حسین صاحب شریک ہوئے تھے ۔ ۔۔۔۔اب کیا تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کایہ فرض نہیں ہے کہ وہ فتوے باز ملّا سے یہ پوچھیں کہ ان دوشیعہ کا فروں کو ان مقدس نکات کی تیاری میں کیوں شریک کیاگیا تھا ؟