شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 


فتوی تکفیر
اقراء کے شعیت نمبر اور بینات میں شیعہ اثنا عشریہ کے خلاف کفر کے فتووں کا انبار لگا ہوا ہے ۔اس میں عالم اسلام اور ہندو پاک کے قدیم وجدید ملاؤں کے فتوے ہیں ۔ ان سب فتوؤں کو اس مختصر سی کتاب میں پیش کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ضروری ،کیونکہ سب نے ہی راگ الاپہ ہے ۔ہم یہاں صرف پاکستانی ملاؤں کے فتوؤں کا عکس پیش کررہے ہیں تاکہ لوگ ان سے واقف ہوجائیں اور اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ وہی گروہ ہے کہ جو پورے پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانہ چاہتا ہے اور اس کوشش میں برسوں سے لگا ہوا ہے ۔ اسی گروہ نے سنہ 1983 ء میں یہ آگ کراچی میں بھڑکائی تھی جس کا سلسلہ مہینوں جاری رہا تھاے


دار الا فتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامیہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی
الجواب باسمہ تعالی
فاضل مستفتی نے شیعہ اثنا عشریہ کے جن حوالہ جات کا ذکر کیا ہے وہ ہم شیعہ کتابوں میں خود پڑھے ہیں ۔ بلکہ ان سے بڑھ کر شیعوں کی کتابوں میں ایسی عبارات صاف صاف موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ
الف :- وہ تمام جماعت صحابہ کو مرتد اور منافق سمجھتے ہیں یا ان مرتدین کے حلقہ بگوش ۔
ب:- وہ قرآن کریم کو (جو امت کے ہاتھوں میں موجود ہے ) بعینہ اللہ تعالی کا نارمل

61
کردہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اصل قرآن جو خدا کی طرف سے نازل ہوا تھا وہ امام غائب کے پاس غار میں موجود ہے اور موجودہ قرآن (نعوذ باللہ) محرف ومبدل ہے اس کا بہت سا حصہ (نعوذ باللہ ) حذف کردیا گیا ہے بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملادی گئی ہیں ۔ قرآن شریف ضروریات دین میں سب سے اعلی وارفع چیز ہے اور شیعہ بلااختلاف ان کے متقدمین اور متاخرین سب کے سب تحریف قرآن کے قائل ہیں اور ان کی کتابوں میں زائد از دوہزار روایات تحریف قرآن کی موجود ہیں جن میں پانچ قسم کی تحریف بیان کی گئی ہے ۔1:- کمی ۔2:- بیشی ۔3:- تبدل الفاظ ۔4:- تبدل حروف ۔5:- تبدل ترتیب سورتوں ،آیتوں اور کلمات میں بھی ۔
"اصول کافی " اور اس کا تتمہ الروضہ ،ملا باقر مجلسی کی کتابوں "جلاء العیون "حق الیقین " حیات القلوب " زادالمعاد "نیز حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی کی کتاب "فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب " (جو 298 صفحات پر مشتمل کتاب ہے ) میں قرآن کریم کا محرف ہوناثابت کیا گیا ہے ۔
مولف مذکور طبرسی نے بزعم خود بے شمار روایات سے قرآن کریم کی تحریف ثابت کی ہے
ج:- قادیانوں کی طرح وہ لفظی طور پر ختم نبوت کے قائل ہیں ۔ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتے ہیں ،لیکن انھوں نے نبوت محمدیہ کےمقابلہ میں ایک متوازی نظام عقیدہ امامت کےنام سے تصنیف کرلیا ہے ۔ان کے نزدیک امامت کا ٹھیک وہی تصور ہے جو اسلام میں نبوت کا تصور ہے ،چنانچہ امام نبی کی طرح منصوص من اللہ ہوتاہے ۔معصوم ہوتا ہے ،مفترض الطاعۃ ہوتاہے ،ان کو تحلیل وتحریم کے اختیار ہوتے ہیں اور یہ کہ بارہ امام تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں
(اصول کا فی ۔تفسیر مقدمہ مراۃ الانوار )
ان عقائد کے ہوتے ہوئے اس فرقہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا صرف انہی تین عقائد کی تخصیص نہیں بلکہ بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ شیعیت اسلام کے مقابلہ میں بالکل ایک الگ اور متوازی مذہب ہے جس میں کلمہ طیبہ سے لے کر میت کی تجہیز وتکفین تک تمام اصول وفروع اسلام سے الگ ہیں۔ اس لئے شیعہ اثناعشریہ بلاشک وشبہ کافر ہیں علماء امت نے اثناعشریہ شیعوں کوہر زمانہ میں کافر قرار یدا لبتہ
(1):- اس فتوی کی اشاعت نہیں ہوئی
(2):- تقیہ اور کتمان کے دبیز پردوں میں شیعہ مذہب چھپا رہا ۔
(3):-خمینی صاحب کے آنے کے بعد شیعہ اثناعشریہ نے بین الاقوامی طور پر وجوہ ثلاثہ سابقہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے مذہب کی خوب اشاعت کی خمینی صاحب خود کوامام غائب کانمائندہ سمجھتے ہیں اور اپنا حق سمجھتے ہیں کہ مذہب شیعہ کی اصل طور پر بلا کتمان اشاعت ہوااس لئے آب صورتحال مختلف ہوگئی ۔
فاضل مستفتی نے بڑی محنت سے استفتاء مرتب کیا ہے اوراس سے واضح ہو

62
جاتا ہے کہ تقریبا ہر دور میں شیعہ اثناعشری کو کافر قرار دیا گیا ہے اس استفتاء کی تحریر کردہ عبارتوں کے بعد جو اب استفتاء کے لئے مزید عبارت کی ضرورت ہیں ۔

تصدیقات علماء پاکستان
پاکستان کے کئی ممتاز علماء کرام نے حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رئیس دار الافتاء جامعۃ العلو الاسلامیہ ،ومفتی اعظم پاکستان کے اسی فتوے پر اپنے تصدیقی دستخط ثبت فرمائے ہیں ۔ ان حضرات کے دستخط ذیل میں نقل کئے جارہے ہیں ۔
محمد عبدالستار تو فسوی عفی عنہ صدر تنظیم اہلسنت پاکستان
محمد یوسف لدھیانوی عفااللہ عنہ ، مدیر ماہنامہ ،بینات " جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی
سلیم اللہ خاں مہتمم وصدر المدرسین وشیخ الحدیث جامعۃ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی
نظام الدین شامزئی خادم دارالافتاء جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی
محمد عادل جامعہ فاروقیہ فیصل کالونی کراچی
محمد اکمل غفر لہ مفتی دار الافتاء جیکیب لائن کراچی
غلام محمد مفتی جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی نمبر 2 کراچی
فداء الرحمن مہتمم جامعہ انوارالقرآن نارتھ کراچی
سیف الرحمن عفی عنہ ،نائب مہہتم جامع العلوم ضلع بھاولپور
محسن الدین احمد عفا اللہ عنہ ،موسس مدرسہ شریفیہ عالیہ بہالپور
(مقیم (حال نمبر 137 بنگسال روڈ ڈھاکہ ۔بنگلہ دیش
عبدالقیوم محمد عبدالرزاق
محمد نعیم مہہتمم جامعہ بنوریہ کراچی نمبر 16

فتوی حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب دامت برکاتہم
بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
اہل قبلہ کی تکفیر میں علماء حق غایت درجہ کی احتیاط س کام لیتے ہیں لیکن اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اہل قبلہ میں سے جو فرقہ بھی ضروریات دین کا منکر ہو وہ قطعی کافر ہے خواہ وہ اپنے ایمان واسلام کا کتنے ہی زور شور سے دعوی کرتا رہے ۔فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے عقائد کے بارے میں فاضل علام حضرت مستفتی مولانا منظور نعمانی اطال اللہ بقاءہ و عم فیوضہ نے جس تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ان کی مستند کتابوں کے جس کثرت سے حوالے پیش کئےہین ان کے مطالعہ کے بعد خواص تو کیا عوام کو بھی اس فرقہ ضالہ کے خارج از اسلام ہونے میں شک نہیں ہوسکتا ہے ۔

63
بھلا جو فرقہ ختم نبوت کاقائل نہ ہو اپنے ائمہ کو جلی کا درجہ دے انھیں معصوم سمجھے ان کی اطاعت کو تمام انسانوں پر فرض قراردے ۔ ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ ان پر وحی باطنی ہوتی ہے اور وہ انبیاء اولوالعزم سے بھی افضل ہیں ۔ قرآن کریم محرف و مبدل ہے ،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین جو بہ نص قرآن خیرامت ہیں اور جن کی جاں فشانی وجاں فروشی سے اسلام برپا ہوا اور دین اب تک باقی رہا ان ہی کو مرتد اور کافر کہے اور ان پر سب وشتم اور تبرا کو نہ صرف حلال بلکہ ثواب سمجھے ۔ایسا فرقہ لاکھ اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہے اس کو اسلام وایمان اور قرآن ونبی صلواۃ والسلام سے کیا تعلق ؟ بقول شاعر
دشنام بمذہبے کہ طاعت باشد ۔۔۔۔۔ مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
یاد رہے کہ تقیہ کے دبیز پردے اور اس فرقہ کی کتابوں کی اشاعت نہ ہونے کے باعث عام طور پر ہمارے علماء گذشتہ دور میں ان کے معتقدات سے بے خبر رہے لیکن اب جبکہ ان کی مستند کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ان کا کفر واضح ہوچکا ہے ۔ پہلے بھی جبکہ اس فرقہ کی تصانیف علماء حق کی دسترس سے باہر تھیں جن اکابر علماء نے ان کے افکار ونظریات پر کام کیا ہے ان کے کفر وزندقہ کی تصریح کی ہے ۔ چنانچہ فاضل مستفتی دامت برکاتہم نے استفتاء میں ان حضرات علماء کی تصریحات اس سلسلے میں نقل فرما دی ہیں ۔ جزاہ اللہ خیرا الجزا

دار الافتاء والارشاد ،کراچی
الجواب باسم طعم الصواب
شیعہ بلاشبہ کافر ہیں ۔ ان کے کفر میں ذرا تامل کی بھی گنجائش نہیں ، ان کی کتابیں کفریات سے لبریز ہیں ۔ جن میں سب سے بڑی وجہ تحریف قرآن ہے ، جو ان کے ہاں متواتر ومسلمات میں سے ہے ، اس مذہب کاجاہل ہر ہر فرد ہر مردوعورت بلکہ ہر بچہ یہی عقیدہ رکھتا ہے ،ان کے گھروں میں جو بچہ بھی جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے اس کے دل ودماغ میں مذہب کا یہ بنیادی عقیدہ زیادہ سے زیادہ راسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ،ان کا چھوٹا بڑا ہر فرد اسے جزو ایمان بلکہ مدار ایمان سمجھتا ہے ، میں یہ بات کئی شہادتوں کے بعد پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں ۔
اگر کوئی شخص تحریف قرآن سے انکار کرتا ہے تو وہ بطور تقیہ ایسا کرتا ہے اس کی کئی مثالیں خود انھیں کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ جب ان پر ان کی کتابیں پیش کی جاتی ہیں تو جواب دیتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص مجتہد ہے ،اس لئے جس مصنف نے تحریف قرآن کا قول کیا ہے وہ اس کا اپنا اجتھاد ہے جو ہم پر حجت نہیں ۔ ایسی صورت میں ان کے تقیہ کا پول کھولنے کے دوطریقے ہیں ۔
1:- عقیدہ تحریف قرآن "اصول کافی " میں بھی موجود ہے اور اس کتاب کے بارے میں شیعہ کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی نے اس کی تصدیق کی ہے یہ لوگ

64
امام مہدی کی تصدیق اس کتاب کے ٹائٹل کی پیشانی پر چھاپتے ہیں ،اور ان کےعقیدہ کے مطابق امام غلطی سے معصوم اور عالم الغیب ہوتاہے اس لئے "اصول کافی " کے فیصلہ سے انکار کرنا امام کی عصمت اور اس کے علم غیب سے انکار کرنا ہے ۔
2:- ان کے جن مصنفین اورمجتہدین نے تحریف قرآن کا قول کیا ہے یہ ان سب کو کافر کہیں اور ایسی تمام کتابیں جلاڈالیں ،اپنے اس قول وعمل کااخباروں میں اشتہاردیں میں دعوی سے کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی شیعہ بھی اس پر آمادہ نہیں ہوسکتا جو چاہے اس کا تجربہ کرکے دیکھ لے ،کیا اس کے بعد کسی کو اس حقیقت میں کسی قسم کے تامل کی کوئی گنجائش نظر آسکتی ہے کہ بلا استثناء شیعہ کا ہر فرد کافر ہے ۔
شیعہ کا کفر دوسرے کفار سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے ،اس لئے کہ یہ بطور تقیہ مسلمانوں میں گھس کران کی دنیا وآخرت دونوں برباد کرنے کی تگ ودومیں ہر وقت مصروف کار رہتے ہیں ، اور اس میں کامیاب بھی ہورہے ہیں ،اللہ تعالی سب اہل اسلام کو ان کا دجل وفریب سمجھنے کی فہم عطاء فرمائیں ، اور ان کے شر سے حفاظت فرمائیں ان کے مذہب کی تفصیل میری کتاب "حقیقت شیعہ " میں ہے فقط واللہ تعالی اعلم
عبدالرشید رئیس دار الافتاء والارشاد ،ناظم آباد کراچی 6 صفر سنہ 1407 ھ
الجواب صحیح عبدالرحیم نائب مفتی دارالافتاء والارشاد 16 صفر سنہ 1407 ھ

فتوی مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب
مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استفتاء میں شیعہ اثناعشریہ کے جو عقائد تفصیل سے خو دان کی مستند کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں جن کی رو سے شیعوں کے نزدیک
قرآن کریم محرف ہے اور اس میں ہر قسم کی تبدیلی کی گئی ہے ۔
٭ صحابہ کرام (نعوذ باللہ ) منافق اور مرتد ہیں بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق شیطان سےبھی زیادہ خبیث اور سب کافر وں سےبڑھ کر ہیں اور جہنم میں سب سے زیادہ عذاب بھی انہین کو مل رہاہے اور ملے گا ۔
٭ ان کے بارہ امام نبیوں کی طرح نہ صرف معصوم ہیں بلکہ انبیاء ئے سابقین سے افضل ہیں ۔ نیز "امامت" نبوت سے افضل ہے ۔ علاوہ ازیں ائمہ کو کائنات میں تکوینی تصرف کرنے کے اختیارات حاصل ہیں اور عالم ماکان و ما یکون ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔
ان مذکورہ عقائد میں سے ہر ایک عقیدہ کفریہ ہے ۔کوئی ایک عقیدہ بھی ان کی تکفیر کے لئے کافی ہے چہ جائیکہ ان کے عقائد مجموعہ کفریات ہوں ۔ بنابریں مذکورہ عقائد کے حامل شیعہ حضرات کو قطعا مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا ۔اگر وہ مسلمان ہیں تو اس کا مطلب صحابہ کرام سمیت تمام اہلسنت کی تکفیر ہوگا ۔ شیعہ تو صحابہ کرام اور اہل سنت کے

65
بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ۔لیکن کیا اہلسنت کے عوام وخواص کو شیعوں کی اس رائے سے اتفاق ہے ؟ اگر نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر ایسے کفریہ اعقائد کے حامل شیعوں کو مسلمان سمجھنا بھی کسی لحاظ سے صحیح نہیں ۔ اہل سنت اس نکتے کو جتنی جلد سمجھ لیں ان کے حق میں بہتر ہوگا ۔
وماعلینا الا البلاغ
حافظ صلاح الدین یوسف
ہفت روزہ الاعتصام لاہور ، 7 جون 1987 ء

جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ
شیعہ اثناعشریہ رافضیہ کا فر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ کیونکہ یہ غالی فرقہ ان مسائل کا انکار کرتا ہے ، جو قطعی الثبوت ،قطعی الدلالت اور ضروریات دین میں ہیں جس کی مختصر سی تشریح یوں ہے کہ :-
دین کے مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں:-
البتہ قطعیات محضہ جو شہرت میں اس درجہ کو نہیں پہنچے ان کا انکار اگر بے خبری کی بنا پر کیا جائے تو کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔
شیعہ اثنا عشریہ رافضیہ چونکہ موجودہ قرآن کا انکار کرتے ہیں ۔ جو ضروریات دین میں سے ہے ۔ اور خلافت راشدہ کا بھی انکار کرتے ہیں جس پر امت کا اجماع ہے اور اسی طرح صحابہ کرام کا انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل واعلی اور عدل وثقہ ہوتا اور اللہ تعالی کا ان سے راضی ہوتا ۔ اور ان کے لئے جنت کی خوشخبری کا بھی انکار کرتے ہیں ۔جو قرآن وحدیث کی نصوص سے ثابت ہونے کی بنا پر قطعیات اسلام میں سے ہے ۔
نیز صحابہ کرام کے متعلق تویہ بد ترین عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذاللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سواۓ تین حضرات (مقداد بن اسود ، سلمان فارسی ، عمار بن یاسر )کے باقی تمام صحابہ دین چھوڑ کر اللہ اور رسول کے بے وفا ہوگئے تھے ۔ لہذا یہ فرقہ مذکورہ کفریہ عقائد کی بنا پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
محمدعلی جانباز خادم جامعہ ابراھیمیہ
سیالکوٹ (مہر جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ)