شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 

22

باعث تکفیر
دیوبند کے فتنہ پرداز منظور نعمانی نے شیعہ اثنا عشریہ کے تین خاص عقیدوں کا ثبوت (بزعم خود)ان کی بنیادی اور مستند کتابوں کے حوالہ سے پیش کرکے اصحاب فتوی سے ان کے بارے میں کفر کے فتوے لئے ہیں ۔ اس کے بقول ان تینوں عقیدوں کی نوعیت یہ ہے کہ ان سے دینی حقیقتوں کی تکذیب ہوتی ہے جنھیں علماء کی اصطلاح میں " قطعیات: اور "ضروریات دین" کہا جاتا ہے اور وہ تین عقیدے یہ ہیں ۔
1:- شیعہ اثنا عشریہ "شیخین " یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو کافر سمجھتے ہیں ۔
2:- شیعہ اثناعشریہ قرآن میں ہرقسم کی تحریف کے قائل ہیں ۔
3:- شیعہ اثنا عشریہ عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کےمنکر ہیں ۔
1:- عقیدہ تکفیر شیخین:
مسلمانوں کے ہاں طریقہ ہے کہ جب کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو اس سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھوایا جاتا ہے اور اس طرح سے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے ۔پھر اسے ایمان وعقیدہ کی باتیں سکھائی جاتی ہیں ۔ایمان مفصل ومجمل کی تعلیم دی جاتی ہے ۔

23

ایمان مفصل :-
آمنت باللہ وملآئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالی والبعث بعد الموت ۔
میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کی کتابون پر ار اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد ج اٹھنے پر ۔
یہاں کہیں نہیں ہے کہ میں ایمان لایا ابو بکر کے ایمان لانے پر اور میں ایمان لایا عمر کے ایمان لانے پر ۔۔۔۔۔۔تو پھر کسی مسلمان کو ان دونوں کی تکفیری پرکس اصول کے تحت کافر قرار دیا جاسکتا ہے ؟

ایمان مجمل:-
" آمنت بااللہ کما ھو باسمائہ وصفاتہ وقبلت جمیع احکامہ اقرار باللسان وتصدیق بالقلب "
میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفات کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے سارے حکموں کو قبول کیا ۔زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے ۔
یہاں پر بھی کہیں ابو بکر و عمر کا تذکرہ نہیں ہے ،تاہم سارے حکموں کو قبول کرنے والی بات قابل غور ہے ۔۔۔۔مگر پورے قرآن میں کہ یہ حکم خدا کو معلوم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کہیں اشارۃ " بھی ابو بکر وعمر کا تذکرہ نہیں ہے ۔
دراصل یہ تاریخ کا مسئلہ ہے مگر دیوبند کے منظور نعمانی نے اسے قرآن

24
کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ اثنا عشری شیعہ کو کافر قراردیا جاسکے اس سلسلہ میں اس نے قرآن کی بہت سی آیتیں اس دعوے کے ساتھ پیش کی ہیں کہ یہ آیتیں حضرات شیخین کے بارے میں نازل ہوئیں اور یہ ثابت کرے کی کوشش فرمائی ہے کہ شیخین کے ایمان سے انکار کا مطلب یہ ہے کہ ان دینی حقیقتوں کی تکذیب کی جارہی ہے کہ جنھیں علماء کی اصطلاح میں" قطعیات " اور "ضروریات دین" کہا جاتا ہے ۔
یہ بات ایک عام پڑھا لکھا آدمی بھی جانتا ہے کہ قطعی بات وہ کہلا تی ہے کہ جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو اور ضروریات وہ ہوتی ہے ہیں کہ جن کے بغیر کہیں کوئی رخنہ پڑے ۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن میں دور رسالت کی صرف دوہستیوں کا ان کے نام کے ساتھ تذکرہ گیا گیا ہے ،ابو لہب و زید بن حارثہ ۔۔۔۔ ان کے علاوہ اس دور کا کوئی نام قرآن میں نظر نہیں آتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ جن میں شیخین کےبارے میں بغیر نام لئے کچھ کہا گیا ہے ۔مگر جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی نہیں ،چنانچہ مفسرین نے اپنے اپنے فہم وفراست اور رجحانات کے مطابق ان باتوں سے معافی ومطالب اخذ کئے ہیں ۔ ۔۔۔۔ اگر کسی آیت میں اللہ تعالی کا صحابہ کرام سے راضی ہوجانے کا تذکرہ ملتاہے تو ساتھ ساتھ اس "رضا " پر گفتگو کی بھی خاصی گنجائش ہے ۔۔۔۔غار والی آیت میں جہاں مفسرین حضرت ابو بکر کی فضیلت کا پہلو نکالتے ہیں وہاں ایسے مفسرین بھی ہیں کہ اسی آیت سے وزنی دلیلوں کےساتھ ان کے ایمان کی کمزوری کا پہلو بھی نکالتے ہیں ۔

25
" ایمان اوراسلام اور کفر کی حقیقت اور ان کی حدود "کے عنوانات کے تحت منظور نعمانی نے ایک عبارت لکھی ہے اور اسے لکھ کر وہ خود آپ اپنے جال میں آگئے ۔۔۔۔۔۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو دل سے اللہ کارسول مانا جائے جو وہ اللہ کی طرف سے بتلائیں اس سب کی تصدیق اور اس کو قبول کیا جائے اور اس پر ایسا یقین کیاجائے جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ ان کی کسی ایک بات کا انکار اور یقین نہ کرنا موجب کفر ہوگا ۔جن مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا اور ان کوآپ کی تعلیم بالواسطہ پہنچی (جیسا کہ ہمارا حال ہے ) ان کے لئے یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف انھیں تعلیمات اور احکام کی ہوگی جو ایسے قطعی اور یقینی طریقہ سے ثابت ہیں جن میں شک وشبہ یا تاویل کی گنجائش نہیں ۔ مثلا یہ بات کہ حضور نے شرک وبت پرستی کے خلاف توحید کی تعلیم دی ، قیامت وآخرت ،جنت ودوزخ کی خبروں ، ایک مستقل مخلوق کی حیثیت سے فرشتوں کے وجود کی اطلاع دی ۔
قرآن پاک کو ہمیشہ محفوظ رہنے والی اللہ کی کتاب اور اپنے کو اللہ کا آخری نبی بتلا یا ۔جس کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی نبی نہیں آئے گا ،اور مثلا پانچ وقت کی نماز ، رمضان کے روزوں اور زکواۃ وحج کےفرض ہونے کی تعلیم دی اور اس طرح کی بہت سی دینی حقیقتیں اور دینی احکام ہیں جن کے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہونے کے بارے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں تو کسی کے مومن ومسلم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایسی تمام باتوں کی اپنے علم کے مطابق (اجمالی یا تفصیلی )تصدیق کی جائے ۔ان کو دل سے مانا جائے ، قبول کیا جائے '۔

26
اب اس تحریر کے بعد ایمان شیخین پرایمان لانے کی "قطعیات " میں شمار کرنے کی گنجائش رہ جاتی ہے ؟ ان کے بارے میں تو کوئی حکم ہی نہیں ہے نہ قطعی نہ غیر قطعی اللہ کے حکموں کو قبول کرنے ( ایمان مجمل کے مطابق) کا دوسرا بڑا ذریعہ حدیث ہے اور حدیث میں بھی کہیں یہ نہیں ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ خبردار شیخین کے ایمان پر شک نہ کرنا ورنہ تم کافر ہوجاؤگے ۔
اگر مطلب براری کے لئے ان حدیثوں کا سہار ا لیا جائے کہ جن میں شيخین کے فضائل بیان ہوئے ہیں تو یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ دور بنی امیہ میں سیاسی ضرورت کے تحت شیخین کی فضیلت کے لئے بہت سی حدیثیں گھڑی گئی ہیں اور پھر ایسی حدیثیں بھی ہیں جن سے شیخین کی شخصیت کے تاریک پہلو سامنے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی قطعی بات تونہ ہوئی ۔پھر ایمان شیخین پر یقین کو قطعیات کیسے کہہ سکتے ہیں ۔؟
آپ کے خیال میں صحابہ کرام پر ضروریات دین کی اصطلاح کا بھی اطلاق ہوتا ہے ۔کیونکہ "دین "صحابہ ہی کے ذریعہ سے مسلمانوں تک پہنچا ہے مگر ہم یہ عرض کریں گے کہ آپ نے تو حصول دین کے لئے خود اپنی پسند کاراستہ اختیار کیا ہے ۔۔۔۔یہ آپ کی پسند معاملہ ہے اسلام کا نہیں ۔۔۔۔آپ نے خود سنگین غلطی کی اور شیعوں سے کہتے ہیں کہ تم کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے ہر صحابی کو معتبر جانا ، محض اس لئے کہ وہ رسول اللہ پر ایمان لایا اور انھیں دیکھا حجتہ الوداع تک صحابہ کی تعداد کم از کم ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ہر شخص "عادل" ہو ۔ پھر یہ کیا تماشہ ہے "الصحابہ کلھم عدول" یعنی تمام صحابہ عادل ہیں ،اور پھر اس کے آگے ایک او ر قیامت "اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم "

27
یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ۔ ان میں سے جس کی اقتد کروگے راستہ پاؤگے ۔
ذرا سوچئے تو کہ آج کے دور میں اگر رسول اللہ صلعم کی بیعثت ہوئی تی تو کیا گدھے گاڑی والا ،بس کنڈیکٹر ،دھوبی ،نائی ،قصائی ،ڈاکٹر ،انجینئر پروفیسر اور تاجر محض رسول اللہ پر ایمان لانے اور آپ کی زیارت کی وجہ سے صحابی ہوجاتا اور ہر ایک اسلام سے وابستگی، ذہنی سطح ، علمی استعداد ،نیکی وپارسائی غرض ہر لحاض سے برابر ہوجاتا اور پھر اپنی مرضی پر ہوتا کہ جس کی چاہے اقتدا کرے ،چاہے گدھے گاڑی والے کو اپناہادی بنادلے اور چاہے تو پروفیسر کو بات ایک ہی ہے ۔
آپ تو دور دراز کے تعلق رکھنے والوں کو بھی شرف صحابیت سے نوازتے ہیں اور ہر ایک کو ہدایت ورہنمائی کے قابل سمجھتے ہیں مگر سچی بات تویہ ہے کہ رسول اللہ سے قریب اور بعض بہت ہی قریب رہنے والے صحابہ سےبھی ایسے افعال سرزد ہوئے کہ جن کی بناپر ہر شخص کوان کے بارے میں اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے ۔
تاریخ داں اچھی طرح جانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کس نے رسول کی رسالت پر شک کیا اورگستاخانہ لہجہ میں بات کی ، اور کس نے دوران علالت انھیں سامان کتابت فراہم کرنے سے منع کیا اور کہا کہ یہ شخص ہذیان بک رہا ہے ،ہمیں کتاب خدا کافی ہے اور کس کس نے رسول اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہوئے جیش اسامہ میں شامل ہونے سے پہلو تہی کی اور کتنے صحابی ایسے تھے کہ جو رسول اللہ صلعم کا جنازہ چھوڑ کر خلافت کا مسئلہ طے کرنے سقیفہ بنو ساعدہ چلے گئے تھے ۔

28
وہ کون سے بزرگ تھے جو کہ احد کے دن جب مسلمانوں نے راہ فرار کی ، پہاڑ پر بزکوہی کی طرح کودتے پھرتے تھے اور وہ کون صاحب تھے کہ جو ایسا بھاگے کہ تین دن کے بعد واپس ہوئے ، اور وہ کون سے حضرات تھے کہ جنھوں نے خیبر سے راہ فرار اختیار کی ۔ کہاں تک لکھا جائے ،اس طرح کی بیسوں باتیں خاص اور عام صحابہ سے منسوب ہیں ۔ ۔۔۔۔۔یہ خالص تاریخی مسئلہ ہے ، اب جس کا دل چاہے ان باتوں پر یقین نہ کرے اور ان سب کواپنا ہادی بنالے اور جس کا دل چاہے ان باتوں پر یقین کرے اور انھیں چھوڑ دے اور اگر صحابہ ہی سے دلچسپی ہے تو ایسے صحابہ کو پکڑئیے کہ جن کا دامن صاف ہے اور "ضرورت دین" کا مسئلہ حل کرلیجئے ۔ ورنہ اصل " ضرورت دین " تو رسول اللہ کا گھرانہ ہے ۔رسول اللہ نے تو بتا بھی دیا تھا کہ میں اپنے بعد دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ایک کتاب اور دوسرے اپنے اہلبیت ان سے متمسک رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور علم کا دروازہ بھی دکھا دیا تھا مگر مسلمانوں کی قسمت کہ انہوں نے اس دروازے کو خود اپنے اوپر بند کرلیا ، قرآن کو پکڑ لیا اور اہلبیت کو چھوڑ دیا ، اور شیعہ سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم بھی انھیں چھوڑ دو اور انہیں " ضروریات دین" سمجھو کہ جنہیں ہم سمجھتے ہیں ، ورنہ تم ٹھہرے
کافر۔
اگر بعض صحابہ وامہات المومنین کو نہ ماننے کی وجہ سے آپ کسی کو کافر ٹھہرائیں تو ٹھیک ہے ! ٹھہر ائیے ۔ہم بھی کچھ حوالے حدیثوں سے اور کچھ شہادتیں تاریخ سے پیش کئے دیتے ہیں اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ دیکھیں کس کس کو کافر قراردینے کی جراءت کرتے ہیں ۔
اس تفصیل میں جائے بغیر کہ رسول کی لخت جگر بی بی فاطمہ زہرا کو شیخین کی طرف سے کیا کیا دکھ پہنچے ،ہم صرف اتنا بتائیں گے کہ بی بی انہی دکھوں

29
کے سبب رسول اللہ کے انتقال کےبعد 6 مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہسکی اور اس پورے عرصہ میں فریاد کرتی رہی اے بابا جان ! آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد مجھ پر اتنے دکھ پڑے کہ اگر دن پر پڑتے تو رات ہوجاتا ۔ ہم ان دکھوں کی تفصیل میں اس لئے نہیں جارہے ہیں کہ مناظرے کی کتابون میں اس پر بڑی بحثیں ہوچکی ہیں اور اس چھوٹی سی کتاب میں اس کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ ہم یہاں صرف دوحقیقتوں کا تذکرہ کریں گے ۔
پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ فاطمہ بنت رسول (س) ابو بکر سے اس قدر ناراض تھیں کہ اپنی وفات تک ان سے کلام نہیں کیا اور وصیت فرماگئیں کہ ابو بکر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ رسول نے ارشاد فرمایا تھا کہ جس نے فاطمہ (س) کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ۔

حدیث شریف :-
"فوجدت فاطمۃ علی ابی بکر فی ذالک فھجد تہ فلم تکلم حتی توفیت وعاست بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ستۃ اشھر فلما توفیت دفنھا زوجھا علی لیلا ولم یوذن بھا ابا بکر وصلی علیھا "۔
(بخاری کتاب المغازی ،غزوہ خیبر)
ترجمہ :- تو حضرت فاطمہ اس مسئلہ میں ابو بکر سے ناراض ہوگئیں اور انہوں نے اپنی وفات تک حضرت ابو بکر سے گفتگو نہ کی ، حضرت فاطمہ آنحضرت کی وفات کے بعد 6 ماہ زندہ رہیں ، جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے شوہر حضرت علی (ع) نے انہیں رات ہی میں دفن کر دیا اور انہیں شریک ہونے کی اجازت دی اور خود ہی ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔
"ابو الولید حدثنا ابن عینینہ عن عمرو بن دینار عن ابن

30
ابی ملیکۃ عن المسور ابن محزمہ رضی اللہ عنھا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فاطمۃ بضعۃ منی فمن اغضبھا اغضبنی "(بخاری شریف ،کتاب الانبیاء حدیث نمبر953)
ترجمہ:- ابو الولید ابن عینییہ ، عمر بن دینار ،ابن اب ملیکہ حضرت مسور ابن محزمہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (س) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے ، جس نے فاطمہ کو غضبناک کیا اس نے مجھ کو غضبناک کیا ۔ اب غور فرمائیے کہ رسول اللہ کو غضب ناک کرنے والوں کا کہاں ٹھکانا ہے ؟ ایک اور مثال کہ جناب رسول خدا (ص) نے فاطمہ کے شوہر اور اپنے عم زاد کہ جنہیں مسلمان خلیفہ راشد سمجھتے ہیں سے بغض رکھنے والوں کےبارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ۔ ازالۃ الخلفاء میں ہے کہ :-
سلمان فارسی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا ، تم حضرت کو کیوں چاہتے ہو ؟ انھوں کہا کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جس نے علی علیہ السلام سے دوستی کی اس نے مجھ سے دوستی کی اور جس نے علی علیہ السلام سے بغض کیا اس نے مجھ سے بغض کیا ۔"
"عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے سنا ۔آپ حضرت علی سے فرمارہے تھے کہ مبارک ہیں وہ جو تم کو دوست رکھتے ہیں اور تمہارے معاملہ میں سچ کہتے ہیں اور بربادی ہے ان کے لئے جو تم سے بغض رکھتے ہیں اور تمہاری بابت جھوٹ بولتے ہیں ۔
ترمذی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ہم (انصار )منافقوں

31
کو حضرت علی علیہ السلام کے بغض سے پہچانتے ہیں "
"ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی علیہ السلام سے دوستی نہ کرے گا اور نہ کوئی مومن ان سے بغض رکھے گا "۔
یہ تمام روایتیں شاہ ولی اللہ دہلوی نے ازالۃ الخلفاء مقصد دوم مآثر علی ابن ابی طالب میں تحریر فرمائی ہیں ۔ اب یہ سواد اعظم والے جانیں کہ کیا شاہ ولی اللہ صاحب بھ کسی یہودی سازش کا شکار ہوگئے تھے کہ انہوں نے یہ روایتیں نقل کردیں ۔
ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رسول کی زندگی ہی میں لوگوں کے بغض کا شکار تھے اور بغض رکھنے والے ان روایات کی رو سے ظاہری مسلمان تھے ۔
رسول اللہ کی آنکھ بند ہوتے ہی حضرت علی مرتضی کے خلاف بغض وحسد کا اظہار ہونے لگا مگر آج سے چودہ سو برس بعد اس کا ادراک عام مسلمانوں کے لئے بڑا مشکل ہے ، مگر تاریخ میں ایک ایسا موڑ بھی آگیا کہ علی علیہ السلام کے خلاف تلواریں نکل آئیں ۔۔۔۔۔ تو اب کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ علی سے دشمنی رکھنے والوں کو نہ پہچانا جائے ۔
قول رسول ہے کہ کوئی مومن علی علیہ السلام سے بغض نہیں رکھے گا ،مگر اسے کیا کیجئے کہ ام المومنین صحابی رسول وخلیفہ راشد کے مقابلے پر ہزاروں مسلمانوں کو ساتھ لے کر میدان جنگ میں تشریف لے آئیں اور ایسی جنگ کی کہ جس کے نتیجہ میں ہزاروں مسلمانوں کے سرتن سے جدا ہوگئے ۔
یہ جنگ تاریخ میں "جنگ جمل " کے نام سے مشہور ہے ۔۔۔۔۔۔۔اب

32
سواد اعظم کے سیاہ قلب مفتی بی بی عائشہ کے بارے میں کیا فتوی دیں گے ؟
قول رسول ہے کہ یاعلی بربادی ہے ان کے لئے جو تم سے بغض رکھتے ہیں اور تمہاری بابت جھوٹ بولتے ہیں ۔
معاویہ بن ابی سفیان کہ جنہیں بھی صحابی کادرجہ دیا جاتا ہے نے ہمیشہ علی سے بغض رکھا اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا ۔ان جیسے خلیفہ راشد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور صفین کے میدان مین ایک خونریز جنگ لڑی پھر جب شکست سے قریب ہونے لگے تر بڑے مکر کے ساتھ قرآن کو درمیان میں لائے اور علی علیہ السلام کو جنگ بند کرنے پر مجبور کردیا ۔اور پھر اپنی فریب کاریوں کے طفیل ایک خلیفہ راشد کی موجودگی میں اسلامی ریاست کے ایک بڑے علاقہ پر خود مختار حکمراں کی حیثیت سے قابض رہے اور اس پر بس نہیں کیا بلکہ حضرت علی علیہ السلام کی حدود ریاست میں شام کے بھیڑیا صفت سالار بسر بن ارطاۃ کو قتل وغارت گری کی چھوٹ دے رکھی تھی ۔ یہ بھیڑیا جب موقع ملتا بھیڑیوں کی فوج لے کر حضرت علی علیہ السلام کے علاقے میں گھس جاتا اور علی علیہ السلام کے فوجی دستے پہنچے تویہ فرار ہو جاتا اور اپنے پیچھے ظلم کی ایک نئی داستان چھوڑ جاتا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس درندے نے عبیداللہ ابن عباس کے دو معصوم بچوں کو بے جرم وخطا ذبح کر دیا ۔
معاویہ کے جرائم یہیں پر ختم نہیں ہوجاتے ہیں بلکہ یہ شخص تو صحابی رسول حجر بن عدی اور ان کسے ساتھیوں کوحب علی کے جرم میں قتل کرادیتا ہے ، معاویہ کی اس حرکت پر حضرت عائشہ بھی اظہار ناراضگی کرتی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔ایسی روائتیں بھی ملتی ہیں کہ امام حسن علیہ السلام کی شہادت اس زہر دغا سے ہوئی کہ جس کا انتظام اسی شخص نے کیا تھا ۔
معاویہ کے جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے اور اگر صرف صحابہ کرام کے

33
ساتھ اس کے برتاؤ کو زیر بحث لایا جائے تو بھی ساری باتوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا لہذا اب ہم صرف حضرت علی علیہ السلام پر اس کی طرف سے ہونے والے سب وشتم کو زیر بحث لائیں گے ۔
صحابی رسول اورمسلمانوں کے خلیفہ راشد حضرت علی مرتضی پرسب وشتم کرنے اورباقاعدہ اس فعل قبیح کی رسم قائم کرنے والا شخص معاویہ ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ خود بھی مسلمانوں کا "صحابی رسول " ہے یہ شخص خود بھی حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کرتا ہے اور چاہتا کہ دوسرے صحابہ بھی ایسا ہی کریں ۔ اپنے عاملوں کو تو اس نے اس بارے میں خاص طور سے حکم دے رکھا تھا اور یہ عمال مستعدی سے اس کا حکم بجالاتے خاص طور سے جمعہ کے خطبات بغیر توہین علی علیہ السلام کے مکمل نہ ہوتے ۔
افسوس کہ سب علی علیہ السلام کا سلسلہہ حیات علی علیہ السلام تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ آپ کی شہادت کے بعد بھی جاری رہا ۔ یہاں تک کہ بنو امیہ کے واحد صالح حکمران عمربن عبد العزیز کا دور آیا اور اس نے اس رسم قبیح پر پابندی لگادی ۔
صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ باب فضائل علی میں ہے کہ
عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابیہ قال امیر معاویہ بن ابی سفیان سعد فقال ما منعک ان تسب اباتراب ۔فقال اماما ذکرت ثلاثا قالھن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلن اسبہ "
ترجمہ:- عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا پھر کہا کہ تجھے کس چیز نے روکا ہے کہ تو ابوتراب پر سب کرے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ کے تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں تو میں ہرگز علی علیہ السلام پر سب نہیں کرسکتا

34
صحیح مسلم کے علاوہ صحیح ترمذی مسند احمد بن حنبل اور دوسری کتب حدیث میں بھی معاویہ کی جاری کردہ اس قبیح رسم کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ علی علیہ السلام پر سب وشتم ان کے چاہنے والوں کے سامنے کیا جاتا اور مکینگی کی انتہا یہ کہ عزیزوں اور بیٹیوں کی موجودگی کا بھی خیال نہ کیا جاتا ۔
جب صلح نامہ لکھا جارہا تھا تو حضرت امام حسن علیہ السلام نے ایک شرط یہ بھی لکھوانا چاہی کہ میرے والد پر سب وشتم نہ کیا جائے ،مگر معاویہ نے اسے تسلیم نہیں کیا تو امام حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ کم از کم میرے سامنے ایسا نہ کیا جائے چنانچہ معاویہ نے یہ بات مان لی مگر اسے پورا نہیں کیا ۔تصدیق کے لئے ملاحظہ ہو طبری جلد نمبر 4 ، البدایہ ابن کثیر جلد 8 اور الکامل جلد 3
معاویہ کایہ جرم کہ اس حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کی رسم جاری کی روز روشن کی طرح عیال ہے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ، لہذا ہر دور کے جلیل القدر علماء نے معاویہ کے اس جرم کو تسلیم کیا ہے ۔
دور حاضر کے ممتاز عالم مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی کہ جن کا قیام بھارت میں ہے "تاریخ اسلام " جلد دوم میں لکھتے ہیں ۔
امیر معاویہ نے اپنے زمانہ میں بر سرمنبر حضرت علی پر سب وشتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے ۔ مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سے نہ بچ سکے ۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرتا اس سے تکلیف پہنچی تھی " (تاریخ اسلام جلد 2)

35
مولانا سید ابو اعلی مودودی فرماتے ہیں:
ایک نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں بر سر منبر حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کی بو چھاڑ کرتے تھے ، حتی کہ مسجد نبوی منبر رسول پر عین روضہ نبوی کےسامنے حضور کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علی علیہ السلام کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا ،شریعت تو درکنار ،انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین واخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤ نا فعل تھا ۔ حضرت عبدالعزیز نے آکر اپنے خاندان کی دوسری غلط روایات کی طرح اس روایت کو بھی بدلا اور خطبہ جمعہ میں سب علی کی جگہ یہ آیت پڑھنا شروع کردی ۔۔۔۔۔۔( خلافت وملوکیت ،مولانا ابو الاعلی مودودی ص 175)
صحابی رسول حجر بن عدی شیعہ کی موجودگی میں مسجد کوفہ میں خطبہ کے دوران حضرت علی کرم اللہ پر سب وشتم کیا جاتا ۔ آپ نے اس کمینگی پر آواز اٹھائی تو گرفتار کر لئے گئے ۔پھر آپ کو معاویہ کے پاس شام بھیج دیاگیا اور معاویہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو علی سے محبت کرنے کے جرم میں قتل کرادیا ۔ اس سلسلہ میں ہم مولانا ابو اعلی مودودی کی ایک تحریر پیش کرتے ہیں ۔ آپ حجر بن عدی کے بارے میں لکھتے ہیں :
"ایک زاہد وعابد صحابی اورصلحائے امت میں ایک اونچے مرتبہ کے شخص تھے ۔حضرت معاویہ کے زمانہ میں جب منبروں پر خطبوں میں اعلانیہ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت اور سب وشتم کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔۔۔کوفہ میں حجر بن عدی رضی اللہ علیہ سے صبر

36
نہ ہوسکا اور انہوں نے جواب میں حضرت علی علیہ السلام کی تعریف اور حضرت معاویہ کی مذمت شروع کردی ۔۔۔۔۔جب زیاد کی گورنری میں بصرے کے ساتھ کوفہ بھی شامل ہوگیا ۔۔۔۔وہ خطبے میں حضرت علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا تھا اور یہ اٹھ کر اس کا جواب دینے لگتے تھے ۔ ۔۔۔۔ آخر کار اس نے انہیں اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ، اور ان کے خلاف بہت سے لوگوں کی شہادتیں اس فرد جرم پر لیں کہ ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی ہے کہ خلافت آل ابی طالب کے سوا کسی کے لئے درست نہیں ہے ۔۔۔۔یہ ابو تراب (حضرت علی علیہ السلام ) کی حمایت کرتے ہیں ۔ ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کے مخالفین سے براءت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس طرح یہ ملزم حضرت معاویہ کے پاسے بھیجے گئے اور انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا ۔قتل سے پہلے جلادوں نے ان کے سامنے جو بات پیش کی وہ یہ تھی کہ " ہمیں حکم دیا گيا ہے کہ اگر تم علی علیہ السلام سے براءت کا اظہار کرو اور ان پر لعنت بھیجو تو تمہیں چھوڑ دیا جائے " ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور حجر نے کہا " میں زبان سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو ناراض کرے ۔ آخر کار وہ ان کے سات ساتھی قتل کردیئے گئے ۔ ان میں سے ایک صاحب عبدالرحمن بن حسان کو حضرت معاویہ نے زیاد کے پاس بھیج دیا ۔ اور اس کو لکھا کہ انھیں بدترین طریقہ سے قتل کرو ۔چنانچہ اس نے انہیں زندہ دفن کردیا "(خلافت وملوکیت ص 146)
یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کی شرم وغیرت کوکیا ہوا ؟ ان کی عقلوں پر کون سے دیز پردے پڑے ہوئے ہیں ؟ انھیں کیا چیز باطل کی حمایت پر کمربستہ کئے ہوئے ہے ؟ یہ ناموس صحابہ کے پاسباں نامو‎س رسول

37
کے سلسلے میں کیوں خاموش ہیں ؟وفات رسول کے بعد تیس سال میں یہ نوبت پہنچ گئی کہ آزاد کردہ رسول ابو سفیان کےبیٹے معاویہ (جس کا شمار بھی طلقاء میں ہوتا ہے) سے نواسہ رسول مطالبہ کررہا ہے کہ میرے والد بزرگوار پر سرعام سب وشتم نہ کیا جائے اور جب یہ بات تسلیم نہیں کی گئی تو پھرکہا گیا کہ اچھا تو کم از کم میرے سامنے تو میرے بابا کو برانہ کہا جائے ۔۔۔۔۔مگر افسوس کے وعدہ کے باوجود اس بات پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔
اگر معاویہ کو صحابی اورفقیہہ ہونے کے باوجود اس جرم پرمعاف کیاجا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص پر سب وشتم کیا اور اپنے گورنروں کے ذریعہ پوری اسلامی مملکت میں اس قبیح حرکت کو پھیلا یا کہ جو صحابی رسول اور خلیفہ راشد ہی نہ تھا بلکہ رسول کے چچا کا بیٹا اور داماد بھی تھا جس پر رسول کی چاہتیں او رمحبتیں ختم تھیں تو پھر شیعوں کو بھی معاف کردیجئے کہ آج کا شیعہ تو ایک عام انسان ہے ،صحابی نہیں ۔اوریہ بھی ملحوظ رہے کہ شیعہ اگر صحابہ کے ایک گروہ سے اظہار براءت کرتے ہیں تو رسول اور آل رسول کی محبت کی وجہ سے ۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جس دل میں رسول اور آل رسول کی محبت ہو اس دل میں ان کے دشمنوں کا بھی احترام ہو ۔ یہ تو سواد اعظم والوں کا کمال ہے کہ وہ ان لوگوں کا بھی احترام کرتے ہیں کہ جن کی آل رسول سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی شے نہیں ہے ۔مروان اور یزیدہی کو لیجئے کہ یہ لوگ انھیں بھی برا نہیں کہتے اور بعض تو ان دونوں دشمنان رسول وآل رسول کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ یزید کی آل رسول سے دشمنی توبچہ بچہ پر ظاہر ہے ۔اس کے لئے کسی حوالہ کی بھی ضرورت نہیں ، لیکن مروان کے بارے میں عام لوگوں کی اطلاع کے لئے ہم حضرت شاہ ولی اللہ کے فرزند جناب شاہ عبدالعزیز دہلوی

41
طبرسی کی کتاب "فصل الخطاب" اور سید نعمت اللہ الموسوی الجزائری کی کتاب "الانوار النعمانیہ " کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
6:- مولانا منظور نعمانی کی رائے ہے کہ جو شیعہ علماء ومجتہدین تحریف قرآن کے عقیدے سے انکار کرتے ہیں اور موجودہ قرآن پر ہم اہلسنت ہی کی طرح ایمان کا اظہار کرتے ہیں ان کے ان رویہ کی کوئی معقول اور قابل قبول توجیہہ اس کے سوا کچھ نہیں کی جاسکتی کہ یہ ان کا تقیہ ہے ۔مولانا نعمانی تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں شیعہ علماء ومجتہدین نے بھی بالعموم تحریف کے عقیدے سے انکار کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے ۔
7:-شیعہ اثنا عشریہ کا اصل قرآن وہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام نےمرتب کیا تھا ۔ اس مختصر کتاب میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ کسی طویل بحث میں الجھا جائے اوریہ موضوع کچھ ایسا ہی ہے ، چنانچہ ہم نے منظور نعمانی کی خاصی طویل بحث کو مختصرا چند نکات میں پیش کیا ہے اور اب ہم انہی کا نکتہ بہ نکتہ او رمختصر جواب دے رہے ہیں ۔

1-2 تحریف قرآن والی روایتوں کی مخالفت بڑے بڑے شیعہ علماء نے کی ہے جن کی فہرست بڑی طویل ہے ،ہم صرف دو مجتہدین عظام کی آراء پیش کرتے ہیں تو پہلے اثناعشریہ ک ےمرجعہ تقلید مجتہد اعظم آقائے سیدابو القاسم خوئی کی رائے پیش کی جاتی ہے ۔آپ زندہ سلامت ہیں اور عراق میں قیام پذیر ہیں ۔
"اس معنی میں تحریف کو موجودہ قرآن کچھ کلام غیر قرآن بھی ہے تو اس کے بطلان پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے (البیان مقدمہ تفسیر قرآں ص 200) جن روایات سے تحریف کا اشارہ ملتا ہے وہ اخبار احاد ہیں جو کہ علم وعمل کے لئے مفید نہیں (البیان ص 221)
اب دور اکبر وجہا نگیری کے قاضی نوراللہ شوستری کہ جو شیعہ اثناعشریہ

42
میں انتہائی بلند مقام رکھتے ہیں اور شہید ثالث کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں کہ ' کی رائے ملاحظہ ہو۔
"قرآن اتنا ہی ہے جتنا موجود ہے جو اس سے زیادہ کہے وہ جھوٹا ہے ۔قرآن عہد رسالت میں مجموع ومولف اور ہزاروں صحابہ اسے حفظ ونقل کرتے تھے ۔ جمہور امامیہ عدم تغیر کے معتقد ہیں ۔زیادتی کی روایات احاد میں سے ہیں جو ناقابل اعتبار ہیں ، چنانچہ غیر موثق آدمیوں نے انہیں روایت کیا ہے " (مصائب النوائب ص 105)
سترہ ہزار آیات والی روایت کےسلسلہ میں عرض ہے کہ تعداد آیات کے سلسلہ میں خود اہلسنت میں بھی اختلاف ہے ،آیت کسے کہتے ہیں اور اس کی ابتدا ء وانتہا کیا ہے ۔ اس میں بھی علماء اہلسنت میں اختلاف ہے ، لہذا تعین تعداد آیات میں آختلاف کو اہمیت نہیں دینا چا ہیئے سترہ ہزار آیات دالی روایت کے بارے میں شیخ صدوق کی رائے ملاحظہ ہو ، آپ فرماتے ہیں :
وحی کے ذریعہ سے قرآن کے علاوہ اتنے احکام او رنازل ہوئے ہیں کہ وہ سب قرآن کے ساتھ جمع کئے جائیں تو مجموعہ کی مقدار سترہ ہزار آیتوں تک پہنچ جائے گی ۔(اعتقاد یہ شیخ صدوق ص 152 امامیہ مشن لاہور )شیخ صدوق نے اس کی بہت سی مثالیں بھی پیش کی ہیں کہ جنہیں یہاں نقل کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں

3:- صاحب تفسیر صافی جناب ملافیض الکاشانی کی رائے ۔
"اگر قرآن مجید میں کمی وزیادتی تسلیم کرلی جائے تو کچھ اشکال دارد ہوتے ہیں ،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب قرآن محرف ومغیّر تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید کی کسی شے پر بھی اعتماد نہیں رہ سکتا "(تفسیر صافی ص 23)

4:- چار حضرات (شیخ صدوق ،شریف مرتضی ۔ شیخ طوسی ۔طبرسی ) کا تذکرہ کرتے

43
ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کوعام مسلمانوں کی طرح محفوظ اور غیر محرف مانتے ہیں لیکن شیعہ دنیانے ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان حضرات سے پہلے شیعہ دنیا تحریف قرآن کی قائل تھی ۔
ان چار حضرات کے عقید ہ عدم تحریف قرآن کو تسلیم کرلینے کے بعد شیعہ اثناعشریہ کا عقیدہ یہ بتانا کہ وہ تحریف قرآن کے قائل ہیں ظلم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ یہ چاروں ہستیاں شیعہ دنیا میں بہت بلند مقام رکھتی ہیں ۔ ان چار کے علاوہ ایک اور بلند ہستی شریف مرتضی کے استاد شیخ مفید کی تھی اوریہ بھی قرآن کو محفوظ او رغیر محرف مانتے تھے ۔
شیعہ اثناعشریہ کے ہاں حدیث کی چار کتابیں (اصول کافی ،من لایحضرہ الفقیہ ،تہذیب الا حکام ،استبصار ) وہی بنیادی مقام رکھتی ہی جو اہلسنت کے ہاں صحاح ستہ کو حاصل ہے اور شیخ صدوق ہی وہ بزرگ ہیں کہ جو ان چاروں میں سے ایک من لا یحضرہ الفقیہ کے اور شیخ طوسی وہ ہستی ہیں کہ جو ان میں سے دو تہذیب الاحکام اور استبصار کے مولف ہیں ۔
نام نہ بتانا اور صرف یہ کہہ دینا کہ ان سے پہلے شیعہ دنیا تحریف قرآن کی قائل تھی ۔غیر معقول بات ہے اوریہ بات اور زیادہ غیر معقول ہے کہ شیعہ دنیا نے ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا ۔وہ علما ء کہ جو شیعت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بارے میں ایسی بات کہنا کہ شیعہ دنیا نے ان کی بات کو قبول نہیں کیا ۔ اور وہ بھی محض چند لوگوں کی آرا کی وجہ سے ظلم وزیادتی کے سوا کچھ نہیں ۔
5:- اگر مختلف زمانوں میں بعض شیعہ علماء نے قرآن کے محرف ہونے کی موضوع پر کتابیں لکھی ہیں تو اسی زمانہ میں انہوں نے ان کی رد میں بھی کتابیں لکھی ہیں یہی صورت علامہ نوری کی فصل الخطاب کی ہے کہ اس کی مخالفت میں بہت سے

44
___ 45 ___
46
جب کہ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ہمارے زمانہ کے شیعہ علماء عام طور سے قرآن کے غیر محرف ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔یہاں پر ہم یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ جو شیعہ علماء تحریف قرآن کے قائل ہیں وہ بھی کچھ کمی کے قائل ہیں ، مگر اس پر سب کا اجماع ہے کہ موجودہ قرآن تمام تر اللہ تعالی ہی کا کلام ہے اور اس میں ایک حرف بھی غیراللہ کا شامل نہیں ہے ۔
ہم یہ بات اچھی طرح سے واضح کئے دیتے ہیں کہ راقم السطور نے کبھی تقیہ سے کام نہیں لیا ۔اور اس کتاب میں بھی ہرجگہ بڑی صاف گوئی سے کام لیا ہے ۔اور یہاں بھی قرآن کےبارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ واضح الفاظ میں بیان کئے دیتے ہیں ۔
شیعہ اثناعشریہ کا قرآن شریف کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن وہی ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا ۔ اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں ہے اور یہ بات اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب دہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے رسول اللہ پر نازل ہو ا تھا ۔ ۔۔۔۔ یہ بد فطرت مولوی شیعہ اثنا عشریہ پر صرف تحریف کے قائل ہونے کا الزام ہی نہیں لگاتے بلکہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ ان کے گھر وں میں کوئی اور قرآن پڑھا جاتا ہے ، لہذا ہم واضح کئے دیتے ہیں اثنا عشریہ کے ہر گھر میں وہی قرآن پڑھا جاتا ہے جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پڑھا جاتا ہے ۔اس میں زیرو زبر کا بھی فرق نہیں ہے ۔ صرف حاشیہ کی تفسیر اور ترجمہ کی زبان کا فرق ہے ،یہی فرق مسلمانوں کے دوسرے تمام فرقوں کے درمیان ہے ۔
مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق نیتوں کا حال جاننے والا تو صرف اللہ تعالی ہی ہے ، مگر دیوبند کا فتوے باز ملا کہتا ہے کہ نہیں ! ہم بھی جانتے ہیں خاص

47
طور سے شیعوں کی نیت کا حال ۔
رسول اللہ کی سنت تویہ ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا اسے اپنے دامن میں جگہ دے دی ،حالانکہ بہت سوں کی حقیقت جانتے تھے مگر قبول کئے ہوئے تھے اور بعض تو آستین کے سانپ کی طرح پل رہے تھے ۔ مگر یہ اہلسنت کیسے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شیعہ اثنا عشریہ قرآن کے غیر محرف ہونے پر یقین کا اظہار کرتے ہیں انھیں کافر قراردیتے ہیں ۔
حضرت علی کے مرتب کردہ قرآن کا تذکرہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ گویا وہ موجودہ قرآن سے الگ کوئی شے ہے ۔ حالانکہ اس قرآن کے بارے علماء نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے ۔
حضرت علی نے اپنے مصحف میں منسوخ آیات پہلے رکھیں اور ناسخ بعد میں آپ کا مرتب کیا ہوا قرآن نزول کے مطابق تھا ۔ شروع میں سورہ اقراء پھر سورہ مدثر پھر سورہ قلم اسی طرح پہلے مکی سورتین پھر مدنی ۔
حبیب السیر جلد 1 صفحہ 4 کے مطابق تو علی کا مرتب کردہ قرآن افادیت کے اعتبار سے بھر پور تھا ۔ اس کی عبارت ملاحظہ ہو ۔
"یعنی حضرت علی کا مصحف تاریخ نزول آیات کی ترتیب کے مطابق تھا اس میں شان نزول او ر اوقات نزول آیات اور تاویل متشابہات مذکور تھیں ناسخ ومنسوخ متعین او رعام وخاص کے ساتھ کیفیت قراءت بیان کی گئی تھی "
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ قرآن اور حضرت علی کے مرتب کردہ قرآن کے اصل متن میں کوئی فرق نہیں ہے مگر پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ کا قرآن تو وہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے پاس تھا اور پھران کی اولاد میں منتقل ہوتا ہوا حضرت امام مہدی تک پہنچا اور جب وہ ظہور فرمائیں گے تو اصل قرآن پیش کرینگے ۔

48
اگر شیعہ اثنا عشریہ کی خطا یہ ہے کہ مندرجہ بالا صفات کے حامل اس قرآن کے وجود پر یقین رکھتے کہ جو حضرت علی نے مرتب کیا تھا تو جنا ب ولی اللہ دہلوی بھی اس سلسلہ میں خطا وار ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب ازالۃ الخفا مقصد دوم میں فرمایا ہے کہ :-
ونصیب او از حیاء علوم دینہ آں است کہ جمع کرد قرآن را بحضور آنحضرت وترتیب دادہ بو آں را لیکن تقدیر مساعد شیوع آن نہ شد (ازالۃ الخلفاء مقصد 2 ص 273)
ترجمہ :- حضرت علی کا حصہ علوم دینہ کے زندہ کرنے میں یہ بھی ہے کہ آپ نے آنحضرت کے سامنے قرآن کو جمع مرتب کیا تھا مگر تقدیر نے اس کے شایع ہونے میں مدد نہ کی "
آخر میں شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے قرآں کے بارے میں علمائے مصر (اہلسنت )کی رائے :-
اخوان المسلمین کے ایک مفکر سالم البہساوی اپنی کتاب السنتہ المغتری علیہا ص 60 پر لکھتے ہیں ۔
"جو قرآن ہم اہلسنت کے پاس موجود ہے بالکل وہی شیعہ مساجد اور گھروں میں موجود ہوتا ہے "
ڈاکٹر محمد ابو زہرہ اپنی کتاب الامام الصادق ، صفحہ 296 میں لکھتے ہیں ۔
"ہمارے امامیہ برادران باوجودیکہ وہ بعض مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن قرآن کے بارے میں ان کا وہی نظریہ ہے جو ہر مومن کا ہے ۔
شیخ غزالی اپنی کتاب دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد المطاعن المستشرقین صفحہ 264 پر لکھتے ہیں ۔
"میں نے محفل میں ایک شخص کو کتے ہوئے سنا کہ شیعوں کا ایک اور قرآن

49
ہے جو ہمارے معروف قرآن سے کم وبیش ہے ،میں نے ان سے کہا ، وہ قرآن کہاں ہے ؟ عالم اسلام تین براعظموں پر پھیلا ہوا ہے اور رسول اکرم کی بیعثت سے لے کر آج تک چودہ صدیاں گذر چکی ہیں اور لوگوں کو صرف ایک ہی قرآن کا علم ہے ، جس کا آغاز واختتام اور سورت وآیات کی تعداد معلوم ہے ۔یہ دوسرا قرآن کہاں ہے ؟ اس طویل عرصہ میں کسی انسان اور جن کو اس کے کسی ایک نسخہ پر بھی اطلاع یا آگاہی کیوں نہیں ہوئی ۔اس سے اپنے بھائیوں اور اپنی کتاب کے بارے میں بداگمانیاں پھیلتی ہیں ۔ قرآن ایک ہی ہے جو اگر قاہرہ میں چھپتا ہے تو اسے نجف اشرف اور تہران میں بھی مقدسمجھا جاتا ہے ۔اور اس کے نسخے ان کے ہاتھوں اور گھروں میں ہوتے ہیں ۔ اس کتاب کو نازل کرنے والے اور اس کے مبلغ کے بارے میں سوائے عزت وتوقیر کے کوئی اوربات ان کے ذہن میں نہیں آتی ۔پھر ایسے بہتان لوگوں اور وحی پر کیوں باندھے جاتے ہیں ،ایسے بہتان ترشنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ مشہور کرتے ہیں کہ شیعہ علی کی پیروی کرتے ہیں اور سنی محمد کی ۔شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ رسالت ونبوت کے لئے علی زیادہ سزا وار تھے اوریہ غلطی سے کسی اور کے پاس چلی گئی "۔

3:- عقیدہ ختم نبوت سے انکار
شیعہ اثناعشریہ کو کافر قرار دینے کی تیسری اور آخری وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ اپنے عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں ۔ اس سلسلہ میں جو کچھ کہاگیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے ۔
صرف یہی نہیں کہ شیعہ اثناعشریہ منصب نبوت کے تمام امتیازات اپنے بارہ اماموں سے منسوب کرتے ہیں بلکہ انہیں نبوت سے بالاتر درجات ومقامات عطاکرتے ہیں ۔یعنی یہ کہ وہ نبیوں کی طرح اللہ کی حجت ہیں معصوم ہیں ۔

52
ترجمہ:- رسو ل اللہ صلعم نے فرمایا " اے خطاب کے بیٹے خدا کی قسم تم کو شیطان جس راستہ سے جاتے ہوئے دیکھتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے چلنے لگتا ہے "
شیطان ہی گناہ پر آمادہ کرتا ہے اور جب شیطان عمر کردیکھتے ہی اپناراستہ بد ل دیتا ہے تو پھر آپ معصوم ہی ہوئے ۔اب دوحدیثیں اور ملاحظہ فرمائیے ۔
عن النبی الہ صلی صلوۃ فقال ان الشیطان عرض لی فشد علی لیقطع الصلوۃ علی "(صحیح بخاری پارہ 5 ص 630)
ترجمہ :- جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ نے نماز پڑھنے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے پاس آیا اور اس نے میری نماز قطع کردینے کے لئے مجھ پر حملہ کیا ۔
قال ابن عباس فی امینۃ اذا حدث القی الشیطان فی حدیثہ فیبطل اللہ مایلقی الشیطان ویحکم آیاتہ ( صحیح بخاری پارہ 19 ص 256)
ترجمہ: ابن عباس کہتے ہیں جب رسول اللہ صلعم خدا کا کوئی حکم بیان کرتے تو شیطان اس میں اپنی بات بھی ڈال دیتا تھا ۔ تب خدا یہ کرتا کہ شیطان کی ملائی ہوئی باتوں کو باطل کردیتا اور اپنی آیتوں کو محکم کردیتا ۔
ان دونوں حدیثوں کا مطلب یہ ہوا کہ سنی حضرات کے نزدیک حضرت عمر صرف معصوم نہ تھے بلکہ ان کادرجہ رسول اللہ سے بڑا تھا ۔ کیونکہ شیطان حضرت عمر کے نزدیک تو پھٹکتا نہ تھا مگر رسول اللہ کو نماز میں بھ نہیں چھوڑتا تھا اور ان پر اتنا دلیر تھا کہ حکم خدا بیان کرتے وقت بھی جان نہیں چھوڑتا تھا ۔
سنی حضرات کے نزدیک رسول اللہ پر حضرت عمر کی فضیلت اس طرح بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ کی رائے کے خلاف اور عمر کی رائے کے مطابق وحی نازل ہوتی تھی ۔ اس سلسلہ میں ابن ابی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے اور اسیران بدر کے معاملہ میں حضرت عمر کی رائے کے مطابق رسول اللہ کی رائے

53
کے خلاف نزول وحی کاتذکرہ تو خاص طور سے کیا جاتا ہے ۔
سنی حضرات کے نزدیک ابوبکر بھی معصوم تھے اور جناب رسول خدا سے افضل تھے ملاحظہ ہوں صواعق محرقہ سے دو روایتیں ۔
"(ابن زنجویہ کے مطابق) حضور علیہ السلام کے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آکر اطلاع دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو حضرت ابو بکر کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ( بر ق سوزاں اردو ترجمہ صواعق محرقہ ص 121)
"اللہ تعالی آسمان پر سے اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابو بکر زمین میں غلطی کرے ۔ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی ناپسند کرتا ہے کہ ابو بکر غلطی کرلے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ( برق سوزاں ص 251)
ذرا غور تو فرمائیے کہ ایسے شخص کا کیا مرتبہ ہوگا جس کے لئے اللہ تعالی چاہتا کہ وہ خطاء کرے اور پھر اپنے رسول کو حکم دے رہا ہے کہ "وہ اس معصوم بندے سے مشورہ کرے ۔ اس سے بڑھ کر ابو بکر کی عصمت پر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ خود اللہ کو یہ منظور نہیں کہ ابوبکر خطا کریں ۔
اب ہم ان صفات آئمہ کی وضاحت کررہے ہیں کہ جو بد نیتی سے پیش کی گئیں مگر شیعہ عقائد میں داخل ہیں ۔
آئمہ اثناعشریہ نبیوں کی طرح اللہ کی حجت ہیں ، معصوم ہیں ، واجب الاطاعت ہیں ، ان پر ایمان لانا شرط ہے ۔ دنیا انہی کے دم سے قائم ہے ۔ کا ئنات کے ذرہ ذرہ پر ان کی تکوینی حکومت ہے ۔وہ دنیا وآخرت کے مالک ہیں اور اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور انہیں اس پر اختیار ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شیعہ اپنے اماموں کو تمام انبیاء سے افضل سمجھتے ہیں سوائے خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے

54
لہذا یہ معصوم بھی ہوئے اور واجب الاطاعات بھی وشرط ایمان بھی ۔۔۔۔۔۔یہ محاورہ تو عام ہے کہ یہ دنیا اللہ کے چند نیک بندوں کی وجہ سےقائم ہے تو پھر شیعہ اثناعشریہ کا امام جسے زمیں پر اللہ کی حجت سمجھا جاتا ہے اگر اس کے بارے میں بھی یہ کہا جائے کہ دنیا اسی کے دم سے قائم ہے تو کیا حرج ہے کائنات کے ذرہ ذرہ پر ان تکوینی حکومت کے سلسلہ میں ہم اتنا عرض کریں گے کہ "تکوینی " اضافہ ہے رہی حکومت کی بات تو عرض ہے کہ یہ حکومت تو اہلسنت کے نزدیک اولیاء اللہ کو بھی حاصل ہے تو پھر دنیا جسے مرکز ولایت سمجھتی ہے اگر اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے اورپھر جب دریائے نیکل حضرت عمر کا حکم بڑی خندہ پیشانی سے مان لیتا ہے (ایک سنی روایت کے مطابق )تو پھر رسول کی آغوش کے پالے ہوئے معصوموں کو (کہ جو خاتم الانبیاء کے صحیح جانشین تھے ) کا حکم کائنات کے ذرہ ذرہ کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے اورجب صورت حال یہ ہو تو انہیں دنیا وآخرت کا مالک کہنے میں کیا حرج ہے اور پھر موت کی کیا مجال کہ بغیر ان کی اجازت کے ان کے پیروں کو چھوسکے ۔
شیعہ اثنا عشریہ کے خلاف اس بنیاد پر کفر کا فتوی دینے والے دیوبندی بد معاش یقینا جانتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر صفات خود اہلسنت حضرات اولیاء اللہ سے منسوب کرتے ہیں پھر شیعہ اثنا عشریہ پریہ عتاب کیوں ؟
عیسی ابن مریم کے لئے قوانین فطرت بدل سکتے ہیں تو محمد وآل محمد کے لئے بھی بد سکتے ہیں ۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام بیمار کو صحت ،مردے کو زندگی اور اندھے کو آنکھیں عطا کرسکتے ہیں اور یہ سب کچھ حضرت عیسی کے لئے (اسلام کے مطابق)اللہ کی عطا تھی تو پھر اللہ کی مرضی سے خاتم الانبیاء اور ان کے

55
بارہ جانیشوں کو بھی کائنات پر حق تصرف حاصل ہوسکتا ہے اور یہ عقیدہ بھی اسلام کے مطابق ہوگا ۔
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ شیعہ اپنے ائمہ کو انبیاء سے افضل کیوں سمجھتے ہیں تو اس کا سیدھا سا جواب رسول کی اس حدیث میں مل جاتا ہے کہ جس کے مطابق رسول اللہ نے اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل قرار دیا ہے ۔ اگر قلب سیاہ نہ ہوں تو بات بالکل صاف ہے کہ اگر امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل ہوسکتے ہیں تو باب شہر علم خاتم الانبیاء اور اس کی معصوم اولاد جو کہ خاتم الانبیاء کے اصل وارث وجانشین ہیں تمام انبیاء و رسل سے (سوائے خاتم الانبیاء کے )کیوں افضل قرار نہیں دیئے جاسکتے ۔
عقل بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مانا جائے کہ خاتم الانبیاء کے اوصیاء جو کہ اس آخری پیغام کے امین تھے جو رہتی دنیا تک کے لئے تھا ان پیغمبروں سے افضل ہو ں کہ جن کے پیغام ایک محدود وقت اور محدود علاقہ کے لئے تھا ۔
اگر ذہن کے شیطینت کے پاک کرکے عقیدہ امامت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس عقیدہ کی وجہ سے اثناعشریہ پر عقیدہ ختم نبوت کے انکار کے الزام کی گنجائش باقی نہ رہے گی ۔
شیعہ اثناعشریہ کے نزدیک امام وہ ہے کہ جو خدا کی جانب سے اپنے رسول کی نیابت کے لئے مقرر کیا گیا ہو اور یہ نیابت رسول درحقیقت زمین پر خلافت الہی ہے اور یہ زمین خلیفۃ اللہ سے کبھی خالی نہیں رہ سکتی ۔
نبی اور امام کے تقرر میں صرف اتنا فرق ہے کہ نبی کو اللہ براہ راست

56
منتخب کرتا ہے اور نبی کے جانشین یعنی امام کو نبی کے ذریعہ منتخب کرتا ہے ار امام کو پہچاننا شرط ہے ۔حدیث رسول ہے کہ :-
"من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ "
یعنی جو شخص مرگیا اور اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا اثناء عشریہ کے امام میں بھی وہ تمام صفتیں ہونا چاہیں جو نبی میں تھیں ورنہ وہ حق نیابت ادا نہ کرسکے گا ۔ اس کی حیثیت صرف پاسبان شریعت کی سی ہوتی ہے وہ کوئی نئی شریعت نہیں لاتا ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلم قرآن وشارع اسلام تھے ۔آنحضرت کی وفات کےبعد صرف قرآن کا فی نہیں تھا ایک معلم قرآن اور پاسبان شریعت کی ضرورت تھی تاکہ وہ قرآن کو حدیث رسول کی روشنی میں بندوں تک پہنچا سکے اور شریعت میں رد وبدل نہ ہونے دے چنانچہ حضرت علی ابن ابی طالب کو جو سیرت وکردار میں اپنے بھائی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تھے اور آنحضرت نے انھیں اپنا پورا علم عطا فرماکر شہر علم رسالت کا دروازہ قرار دیا تھا اور وفات رسول کے وقت وہی اس قابل تھے کہ جو نیابت رسول کا حق ادا کرسکیں ۔چنانچہ رسول خدا نے حکم خدا کے مطابق حضرت علی ابن ابی طالب کو اپنا خلیفہ اور امت کا امام "من کنت مولا فھذا علی مولا " کہہ کر بنایا اور یہی سلسلہ حکم خدا کے مطابق علی اور فاطمہ بنت رسول کی نسل میں صاحبان عظمت وطہارت میں منتقل ہوتا رہا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ آئمہ اہل بیت تمام صفات میں خاتم الانبیاء ہی کی طرح تھے ۔فرق صرف اتنا تھا کہ ان کی صفات حمیدہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ

57
وسلم کی خطا تھیں ۔مثل مشہور ہے کہ بیٹا وہی بیٹا ہے کہ جو باپ کے نقش قدم پر چلے ہو بہو باپ کی تصویر ہو ۔چنانچہ خاتم الانبیاء کی ہمسری سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ شیعہ صرف برائے نام ختم نبوت کے قائل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
آئمہ اثناعشریہ کی یہ صفات حق نیابت ادا کرنے کے لئے لازم وضروری تھیں ۔۔۔۔۔۔مزید برآں یہ آئمہ خاتم الانبیاء کی طرح نہ تو صاحب شریعت تھے اور نہ ہی انھیں شریعت محمدی میں کسی قسم کے تغیر وتبدل کا حق حاصل تھا ۔ یہ حرام محمد کو ہمیشہ کے لئے حرام وار حلال محمد کو ہمیشہ کے لئے حلال سمجھتے تھے ۔ یہ صرف معلم قرآن ،شارع اسلام (اقوال رسول کی روشنی میں ) اور پاسبان شریعت محمدی تھے ۔۔۔۔۔تو پھر اب کس بنیاد پریہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ ،قادنیانیوں کی طرح ختم نبوت کی حقیقت کے منکر ہیں اور صرف نام کا فرق ہے یعنی نبی کے بجائے امام کہتے ہیں ۔
یہ کتنی ناحق شناس اور جاہل قوم ہے کہ خود تو رسول کی آنکھ بند ہوتے ہی مسند خلافت پر ناجائز قبضہ جمانے والوں اور شریعت محمدی میں تغیر وتبدل کرنے والوں اور حرام محمد کو حلال کرنے اور حلال محمد کو حرام کرنے والوں کو اپن خلیفہ اور ضرورت دین سمجھتی ہے اور ان آئمہ کے ماننے والوں کو جو ہمیشہ شریعت محمدی کے پاسبان بنے رہے اور انھوں نے شریعت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی ،کو کافر کہا جاتا ہے ۔
تم بڑی بے شرمی سے شیعہ اثنا عشریہ کو ختم نبوت کا منکر قراردے رہے ہو، حالانکہ تم تحریک ختم نبوت میں شیعوں کے کردار سے اچھی طرح واقف ہو ۔ تحریک ختم نبوت میں ہر جگہ شیعہ علما تمہارے بزرگوں کے شانہ بشانہ نظرآتے ہیں ۔مگر تم بھول گئے تم نے کل کی باتیں بھلا دیں ۔ تم چودہ سوبرس پہلے کی باتیں کیا یاد رکھو گے مگرہمیں

58

ہر چیز یا د رہے ۔ کال کی بھی اور چودہ سو سال پہلے کی بھی ۔
تحریک ختم نبوت میں پہلا نام علامہ السید علی الحائری مرحوم(شیعہ ) اور علامہ مرزا یوسف حسین مرحوم (شیعہ )کا ہے ۔علامہ مرزا یوسف حسین نے قادیانیوں کے مشہور مناظر ابو العطلا اور دوسرے قادیانیوں سے فیروز پور میں مناظرہ کیا اور انہیں شکست فاش دی ۔ اس مناظرہ کی روداد شائع ہوچکی ہے ۔
قیام پاکستان کے بعد مجلس عمل تحریک ختم نبوت میں علامہ کفایت حسین (شیعہ) نائب امیر تھے جب کہ مولانا ابوالحسنات امیر تھے ۔ان کی وفات کے بعد مولانا عطااللہ شاہ بخاری نے منصب امارت سبھالا تو حافظ صاحب نائب امیر رہے اور جناب مظفر علی شمسی (شیعہ) اور مولانا اظہر حسین زیدی (شیعہ) مرکزی رکن رہے ۔علامہ حافظ کفایت حسین کی وفات کے بعد جناب مظفر علی شمسی نائب امیر منتخب ہوئے ۔جب کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد شیخ الحدیث مولانا سید محمد یوسف بنوری مرحوم امیر ہوئے ۔
1973 ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی ۔اس وقت مولانا یوسف بنوری قائد تحریک تھے اور جناب مظفر شمسی ان کےشانہ بشانہ تھے مرکزی ارکان میں جناب علی غضنفر کراروی (شیعہ) اور مولانا ملک مہدی حسن (شیعہ) شامل تھے ۔
مولانا محمد اسماعیل دیوبندی ضلع فیصل آباد سے اور مولانا محمد حسین نجفی سرگودھا سے شیعوں کی قیادت کررہے تھے ۔ جب بھی کوئی خصوصی کنونش یا ملک گیر اجلاس ہوتا مولانا اسماعیل صف اول کے مقررین میں نظر آتے اور یہی شیعہ عالم مولانا اسماعیل دیوبندی قومی اسمبلی میں بڑی گھن گرج کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ ہوا یہ کہ جب قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو بریلوی مسلک کی نمائندگی مولانا

59
شاہ احمد نورانی نے کی اور دیوبندی کی طرفسے مفتی محمود پیش ہوئے اور اہل حدیث کی طرف سے جناب معین الدین لکھنوی پیش ہوئے ۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں صرف ممبران ہی تقرر کرسکتے تھے اور وہاں کوئی شیعہ عالم دین ممبر نہ تھا۔ لہذا جناب سید عباس حسین گردیزی ایم اے سے شیعہ نمائندگی کے لئے کہا گیا ۔ مگر گردیزی صاحب نے اپنی جگہ کسی شیعہ عالم دین کو پیش کرنے کی اجازت چاہی چنانچہ اجازت پر آپ نے جناب مظفر علی شمسی کے مشورے سے مولانا محمد اسماعیل کو پیش کیا ۔
مولانا محمد اسماعیل دیوبندی اپنی روایت کے مطابق کتابوں کا ڈھیر لئے گردیزی صاحب کے ہمراہ اسمبلی ہال میں داخل ہوئے ۔ ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا ۔تھوڑی ہی دیر میں اعلان ہوا کہ شیعہ نمائندہ آگیا ہے ۔ اب وہ شیعہ نقطہ نظر سے رد مرزائیت میں دلائل پیش کرے گا ۔ چنانچہ مولانا موصوف اسپیکر کی اجازت سے کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھنا شروع کیا تو ہال پر سناٹا چھا گیا ۔خطبہ کےبعد مولانا نے اصل موضوع پر بولنا شروع کیا ۔سارا دن مولانا ہی کے لئے تھا ۔چنانچہ آپ نے اپنی تقریر 9 بجے صبح شروع کرکے 4 بجے شام کو ختم کی ۔ ذرا غور کیجئے کہ علی علیہ السلام کے اس غلام نے بولتے بولتے صبح سے شام کردی ۔اس دوران اس سے کیسی کیسی دلیلیں دی ہوں گی ، کیا کچھ نہ کہا ہوگا ۔
اب ہم ان بے حیا او رمحسن فتوے بازوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے بزرگ عطااللہ بخاری اور تمہارے پیرو مرشد مولانا یوسف بنوری (کہ جن کے نام پر جمشیدی روڈ کراچی پر تم نے ایک مسجد قائم کررکھی ہے ) نے شیعہ علماء کو تحریک ختم نبوت میں مؤثر نمائندگی اور اہم عہدے دیئے تو تمہیں اب شیعہ اثناعشریہ کو ختم نبوت کا منکر قراردیتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی اور جب مولانا

60
اسماعیل شیعہ نقطہ نظر سے مرزائیت کے خلاف بول رہے تھے تو کیا کسی مرزائی نمائندہ نے یہ کہا تھا کہ حضور آپ تو خود ختم نبوت کے منکر ہیں آپ کس منہ سے ہمارے خلاف بو ل رہے ہیں ۔ یقینا تم اس قسم کی کوئی بات نہیں پیش کرسکتے اور اب ہم آخری بات تمہیں بتادیں گہ شیعہ اثناعشریہ کے کلمہ اور اذان میں ختم نبوت کا اعلان شامل ہے ۔محمد رسول اللہ کے فورا بعد علی ولی اللہ کہہ کر یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اب نبوت ختم ہوئی اور ولایت کا سلسلہ شروع ہوا ۔