شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 

9

فتنہ سامانیاں
اقراء ڈائجسٹ " شیعیت نمبر " کے نقش آغاز اور ماہ نامہ فرقان کی "نگاہ اولین "سے اقتباسات :-
"اسلام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں اور فتنوں سے بعض فتنے انتہائی شدید اور خطرناک تھے مگر ان میں بھی روافض کا فتنہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ۔اس فتنہ کی جڑیں مضبوط گہری اور بہت لمبی ہیں ۔ اس فتنہ کا بانی ابن سبا تھا ۔ جس نے اہل بیت کےفضائل بیان کرکے ان کا سہارا لینے کی کوشش کی ۔اسی نے صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کو الگ الگ طبقہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔
جس طرح دوسرے فتنوں کا مقابلہ علمائے دیوبند نے کیا اسی طرح اس فتنہ کی سرکوبی بھی اللہ تعالی نے اسی علماء حق کے قافلے کے نام لکھ دی ہے حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی فاروقی نے جس طرح اس فتنہ کے عقائد وعزائم کا اظہار کیا ۔ ان کے کفریات کا ظاہر کیا ۔اس پر وہ امام اہلسنت اور قائد اہلسنت کہلائے جاتے ہیں ۔ ان کو اللہ تعالی نے اس فتنہ کے مقابلے کا خاص ذوق اور ایک درد عطا کیا تھا ۔حضرت مولانا قدس سرہ نے ساٹھ سال پہلے ان کے کفر کافتوی دیا تھا اور دیوبند کے بڑے بڑے علماء نے اس پر دستخط فرما کر اس کی تصدیق کی ۔

10
آج کے اس دور میں جب فتنہ روافض نے خمینی کی شہ پر سرابھارا تو اللہ تعالی نے دیوبند کے ایک فرزند کو اس کام کے لئے کھڑا کیا "
"ہم اپنے تمام قارئین اور سنی علماء سے یہ گذارش کریں گے کہ وہ اس استفتا اور فتوی کا بغور مطالعہ فرمائیں اور روافض کے عقائد سے آگاہی حاصل کریں ۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اسلام دشمنی اور مکر وفریب پررکھی گئی ہے ۔اس کی سازشوں سے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کا شکار نہ ہونے دیں ۔
اس موقع پر ہم ارباب اقتدار سے یہ بھی گزارش کریں گے کہ اس نے مسلسل شیعہ نوازی کاجو رویہ اختیار کا ہوا ہے اسے چھوڑدے اور سنی مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب نہ بنے اور شیعوں کے ساتھ وہ معاملہ کرے جو کسی اقلیت کےساتھ کیا جاتا ہے ۔ان شیعوں کو نوازنے کی پالیسی چھوڑ کر ان کو لگام دے "
(نقش آغاز ،۔اقراء کا خصوصی شیعیت نمبر )
"اسلام کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہرشخص جانتا ہے ہے کہ جن داخلی فتنوں اور منافقانہ تحریکوں سے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ان کا سرچشمہ اور ان میں سب سے زیادہ طویل العمر اور سخت جان فتنہ شیعیت ہے ، جسے ہماری شامت اعمال کے طور پر اس زمانہ میں نئی زندگی ملی ہے لیکن شاید یہ نئی زندگی مستقبل میں اس کے لئے " افاقتہ الموت" ثابت ہو ،البتہ اس کا انحصار سنت اللہ کے مطابق اس باپ پر ہے کہ کتنی جلدی ہماری قوم اس فتنہ کی سنگینی کو صحیح طور پر سمجھتی ہے ، اور اس کے شرسے اپنی حفاظت کیلئے کتنے عزم وارادہ ،کتنی غیرت وحمیت اور کتنی چستی وبیداری کا ثبوت دیتی ہے ۔

11
امت مسلمہ کو اس پر انے اور مکار دشمن کی حقیقت سے صحیح طور پر باخبر کرنے اور غیرت وجراءت مندی کےساتھ اس فتنہ کے فیصلہ کن مقابلہ پر اسے آمادہ کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی الفرقان کیا یہ خاص نمبر ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے " (نقش اولیں)
شاید آپ "فتنہ "اور ظلم کے خلاف مزاحمت میں فرق کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ کے خیال میں ظالم کو ظالم کہتے رہنا فتنہ پروری ہے ۔
آپ کے خیال میں شیعیت وہ فتنہ ہے جس کی جڑیں مضبوط ،گہری اور لمبی ہیں " آپ سمجھتے ہیں کہ شیعیت اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں میں سب سے زیادہ "طویل العمر اور سخت جان " ہے مگر آپ کو یہ نہیں معلوم کہ فتنہ تو شجر ملعونہ "ہے کہ جس کی جڑیں گہری نہیں ہوتیں اور عمر بھی طویل نہیں ہوتی ۔شیعیت تو "شجر طیبہ "ہے کہ جس کی جڑیں گہری ہیں اور شاخیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔شیعیت کی جڑوں کی مضبوطی ،گہرائی ،طویل العمری اور سخت جانی ہی تو اس کے حق ہونے کی دلیل ہے ۔
اب تو مدتیں گزرگئیں ابن سبا کا تذکرہ کرتے ہوئے ۔آپ کب تک اس بیجان افسانوی کردار کو شیعیت کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے کیا افسانوی کردار کو شیعیت کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے کیا افسانوی کردار سے تاریخ کی حقیقتیں چھپ سکتی ہیں ؟
آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ شیعیت کا بانی ابن سبا نہیں تھا بلکہ شیعیت کا جود تو اتنا ہی قدیم ہے کہ خود جتنا اسلام کواور" صحابہ کرام"
اور"اہلبیت" کو الگ الگ طبقہ ثابت کرنے کی کوشش بے چارے ابن سبا نے نہیں کی ہے بلکہ یہ تونام ہی ظاہر ہے کہ طبقے الگ الگ تھے اور تقسیم فطری تھی ۔
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی دفعہ اعلان نبوت

12
کیا تو آپ کی رفیقہ حیات جناب خدیجہ نے فورا صدق دل سے تصدیق فرمائی اور اپنے شوہر کے مشن کی خاطر ہر قربانی دینے پر کمر بستہ ہوگئیں اور اس گھر میں پرورش پانے والا ایک بچہ کو جو آنحضرت کا عم زاد تھا ۔ ان کے پیچھے اس طرح چلتا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ۔اعلان نبوت کےبعد بھی اس طرح چلتا رہا ۔ یہ بچہ علی رسول کے چچا ابو طالب کا بیٹا تھا ۔خدیجہ نے اپنی ساری دولت شوہر کے مشن پر قربان کردی اور عرب کی یہ ملکہ اپنے شوہر کے دکھ درد میں شریک ہوگئی اور علی ابن ابی طالب اپنے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد ونصرت کرنے لگے ۔
آنحضرت باہر نکلتے تو کفار کے بچے پتھر مارتے اور علی علیہ السلام ان کو مار بھگاتے ۔
دعوت ذوالعشیرہ میں بھی صرف اسی بچے نے رسول اللہ سے نصرت کا وعدہ کیا جب کہ اس دعوت میں بڑے بڑے بزرگ موجود تھے ۔
خدیجہ اورعلی بس یہی تھے ابتدائی اہلبیت ۔پیکر ایثار ووفا اور پھر یہ دعوت اسلام گھر سے باہر گئی تو غیروں نے اسے قبول کرنا شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں کچھ لوگ مسلمان بن گئے اور یہی اغیار ابتدائی قسم کے صحابہ کہلاتے ہیں مگر ان میں اسلام کے لئے یکساں جذبات نہ تھے کوئی انتہائی مخلص تھا اور صدق دل سے اسلام لایا تھا تو کسی کے آگے اپنی مصلحتیں تھیں اور اس بات کو زمانے نے بھی ثابت کردیا ۔
یہ تھی صحابہ اور اہلبیت کی فطری تقسیم کیونکہ جگر جگر ہے ۔ ديگر دیگر ہے اور ابن سبا کے افسانہ کا جو زمانہ بتا یا جاتاہے وہ بہت بعد کا ہے ۔یہ تقسیم تو بالکل شروع سے چلی آرہی ہے لہذا ابن سبا سے اس تقسیم کا کوئی افسانوی تعلق بھی قائم نہیں ہوسکتا ۔

13
لوگ شامل ہوتے رہے اور کارواں بنتا رہا ۔صحابہ کرام کی تعداد بڑھتی رہی ۔ ادھر رسول کی پیاری بیٹی کی جو سیرت وکردار میں اپنی ماں خدیجہ (رض) کیطرح تھی کا عقد علی ابن ابی طالب (علیھما السلام) سے ہوا اور قدرت نے آنحضرت کو دو نواسے عطا کئے اور اس طرح سے اہلبیت کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ۔
صحابہ کرام میں سے وہ بزرگ کہ جن میں رضائے الہی کے حصول کے سوا کوئی اور جذبہ نہ تھا انھوں نے رسول کےساتھ ساتھ اولا رسول سے بھی عشق کیا اور ہمیشہ ان سے مخلص رہے ۔ ان مخلص صحابہ میں سلمان فارسی ابو ذر ،عمار یاسر اور مقداد سرفہرست ہیں اور سلمان تو اتنے قریب ہوئے کہ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ نے انھیں اپنے اہل بیت میں داخل فرمالیا
یہ اور اس طرح کے دوسرے صحابہ کرام کو جو اہلبیت کے کبھی مقابل نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ ان کے جانثار بنے رہے ابتدائی شیعہ ہین جیسے جیسے اہل بیت کے مخالف نمایاں ہوتے گئے ان حضرات کی شیعیت بھی نمایاں ہوتی گئی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب صحابہ کا ایک گروہ اہلبیت کا سیاسی حریف بن کر سامنے آیا تو اہل بیت کے دامن سے وابستہ صحابہ کرام کی شیعیت بالکل واضح ہوگئی ۔
تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے والے ہرشخص کویہ جاننا چاہئیے کہ شیعیت کی تاریخ محبت و ایثار اور قربانیوں کی تاریخ ہے ،فتنہ پروری کی نہیں ۔ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق "شیعیت ایک ایسا اسلام ہے کہ جس نے علی (ع) جیسے عظیم انسان کی ایک "نہیں" نے اپنے آپ کو پہچنوایا اور تاریخ اسلام میں اپنی راہ متعین کی ۔ علی وارث محمد (ص) تھے اور ایسے اسلام کا مظہر جس میں

14
عدل تھا اور حق ۔یہ"نہیں " کی آواز خلافت کی انتخابی کمیٹی کے سامنے بلندہوئی تھی یہ عبدالرحمن بن عوف کاجواب تھا اور یہ شخص جاہ پرستی اورمصلحت پسندی کا مظہر تھا "
عبدالرحمن بن عوف کا علی (ع) سے صرف اتنا سوال تھا کہ اگر تم سیرت شیخین پر چلنے کا وعدہ کرو تو خلافت تمہارے حوالے کردی جائے مگر علی (ع) کی ایک "نہیں" نے علی کی سیرت وکردار کو پوری دنیا پر واضح کردیا اور شیعیت کی راہ ہمیشہ کے لئے معین کردی ۔اس "نہیں " کے نتیجہ میں حضرت علی تیسری مرتبہ اپنے جائز حق سے محروم کردیئے گئے ۔اور بنوامیہ کے ایک بزرگ حضرت عثمان "ہاں" کرکے مسند رسول پر بیٹھ گئے ۔شیعہ صحابی جناب مقداد مسجد نبوی میں پکارا ٹھے کہ کاش ہمارے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ ہم اہل بیت کو ان کا حق دلا سکتے ۔ اگر ہمت ہو تو کہہ دیجئے کہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ فتنہ پھیلانے کی کوشش کی ۔
حضرت عثمان کے خلیفہ بننے کے بعد اہلبیت اور اسلام کا دشمن قبلیہ بنوامیہ مسلمانوں کے امور کا مالک بن گیا ۔لوگوں کے حقوق غصب کئےجانے لگے اورحکمرانوں طبقہ نے وہ تمام باتیں اختیار کرلیں کہ جنھیں مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا پھر ایک شیعہ صحابی جناب ابو ذر کھڑے ہوگئے اور حکومت وقت کی پالیسیوں پرنکتہ چینی شروع کردی۔خلیفہ نے گبھرا کر انھیں شام کے اموی گورنر معاویہ کے پاس بھیج دیا ۔ یہ معاویہ کون تھا ؟ دشمن رسول (ص) ابو سفیان اور امیر حمزہ (رض) کا کلیجہ چبانے والی کا بیٹا ۔۔۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ اس نے قیصر وکسری کی روش اختیار کر رکھی تھی ۔ ابو ذر نے یہاں چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز دیکھا تو تڑپ اٹھے ۔وہ مسجد میں ہوتے یا گلی کوچے

15
میں اس فتنہ کے خلاف آواز اٹھاتے ۔لوگوں کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کرتے ۔ چنانچہ انھیں یہاں سے ایک بے کجادہ اونٹ پرسوار کرکے خلیفہ کے پاس روانہ کردیا گیا ۔جب آپ مدینہ پہنچے تو آپ ی رانیں زخمی تھیں ۔اب پھر خلیفہ کو ابوذر کی نکتہ چینی کاسامنا تھا ۔ لہذا انھوں نے ان کو ایک ویران مقام "ربذہ " کی طرف جلاوطن کردیا ۔ وہیں یہ صحابی رسول عالم مسافرت میں اس دنیا سے رخصت ہوا ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں خلیفہ وقت نے ایک اور شیعہ صحابی حضرت عمار یاسر کو بھی تشدد کانشانہ بنایا ۔
دراصل یہ اور دوسرے مخلص صحابہ کرام تھے کہ جو اسلام کی تعلیمات کو مسخ ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے اور اس بات کا گہرا شعور رکھتے تھے کہ یہ سب کچھ محض اس لئے ہورہا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد خلافت ان کے اصل جانشین سے جدا کردی گئی تھی ۔تیسری خلافت کے دوران نوبت یہان تک پہنچی کہ کوفہ کے گورنے ولید بن عتبہ نے نشہ کی حالت میں صبح کی نماز دو کے بجائے چار رکعت پڑھادی اور پھر ایک مرتبہ جھوم کر نمازیوں کی طرف متوجہ ہوا کہ کہو تو دورکعت اور پڑھا دوں ۔بیت المال کو جو کبھی اللہ کا مال سمجھا جاتا تھا اب خلیفہ کو ذاتی ملکیت بن چکا تھا اور پھر ستم یہ کہ اس داد ہش کادائرہ صرف بنو امیہ تک محدود تھا ۔۔۔۔ مروان بن حکم کہ جسے اور اس کے باپ کو رسول اللہ نے مدینہ سے نکال دیا تھا ۔ اب پھر واپس بلالئے گئے خلیفہ نے مروان جیسے سیاہ کارکو اپن مشیر خاص بنالیا (تاریخ گواہ ہے کہ یہی مروان خلیفہ کو لے ڈوبا )یہ وہ صورت حالات تھی کہ جس پر عوامی رد عمل ہونا ضروری تھا کیونکہ ابھی ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی کہ جنھوں نے رسول اللہ کازمانہ دیکھا تھا اور وہ اسلام کی اصل روح کو سمجھتے تھے

16
اور پھر وہ صحابہ کرام کہ جنھیں اہلبیت کی طرف رجحان رکھنے کے سبب شیعہ صحابہ کہا جاسکتا ہے اس عوامی رد عمل میں پیش پیش تھے مگر ابن سبا کہ جو اسی دور کی شخصیت بتائی جاتی ہے کے بارے میں اس عوامی رد عمل کے حوالے سے بات کیجاتی ہے تو اس کا کردار افسانوی لگتا ہے ۔۔۔خلیفہ سوم یا ان کے عمال کے خلاف جتنی شورشیں ہوتیں ان میں ابن سبا نام کا کوئی شخص نظر نہیں آتا ۔ہر جگہ مالک اشتر ،عمرو بن الحمق ،محمد بن ابی بکر (رضی اللہ علیھم) ہی پیش پیش نظرآتے ہیں ۔
حضرت عثمان کے بعد مسلمان حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے اور جب پہلی مرتبہ صحیح خلافت قائم ہوگئی تو وہی گروہ اس کے خلاف سرگرم ہوگیا کہ جو شروع ہی سے نہیں چاہتا تھا کہ خلافت کی مسند پر علی (ع) نظر آئیں،چنانچہ قصاص خون عثمان کا نعرہ لگا کر پہلے عائشہ بنت ابی بکر دختر خلیفہ اول حضرت علی (ع) کے مقابلہ پر آئیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد شام کے گورنر معاویہ بن سفیان نے ان سے جنگ کی ۔ ان دونوں جنگوں میں عام مسلمانوں کے علاوہ شیعہ صحابہ کرام کثیر تعداد میں اپنے امام کے ہمرکاب تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے بڑے بیٹے جناب حسن علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے تو شیعہ ان سے وابستہ ہوگئے اور جب آپ نے معاویہ سے صلح کرلی تو بھی شیعہ آپ سے وابستہ رہے ۔
حضرت امام حسن علیہ السلام جب تک زندہ رہے معاویہ کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے اور آخر کار اس نے ان کی جان لے کر ہی چھوڑ دی ۔علی الاعلان کچھ نہیں کرسکتا تھا تو زہر دغا سے شہید کردیا اور یہ سمجھ لیا کہ اب بادشاہت اس کی ہے ۔چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے اپنے منحوس فرزند یزید لعنت اللہ

17
علیہ کو ولی عہد نامزد کردیا ۔اپنی زندگی ہی میں اس کی ولی عہدی پر بیعت لے لی مگر حسین ابن علی علیھما السلام سے ایسے مطالبہ کی جراءت نہ کرسکا ۔
معاویہ کی وفات کے بعد یزید تخت نشین ہوا اوراس نے مدینہ کے گور نر کو لکھا کہ حسین ابن علی (علیھما السلام) سےبیعت کامطالبہ کیا جائے کہاں نواسہ رسول حسین ابن علی (علیھماالسلام) اورکہاں ابو سفیان کے پوتے یزید بن معاویہ کی بیعت ۔چہ نسبت
خاک راباعالم پاک
نواسہ رسول نے بیعت یزید کو ٹھوکر مارا اور خطرات سے بے نیاز ہو کر نکل کھڑے ہوئے تویہاں بھی شیعہ ساتھ تھے ۔۔۔۔۔
بہتر جانوں نے اس طرح جام شہادت نوش کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔غیرت وعقیدت کامسئلہ نہ ہوتا تو جان بھی بچتی اور انعام بھی ملتا ۔
حسین علیہ السلام شہید ہوگئے ۔ ہزاروں شیعہ مختلف وجوہ کی بنا پر نصرت امام نہ کرسکے ۔بعد شہادت حسین (ع) ،سلیمان بن صرد کی سرکردگی می روضہ حسین (ع) پر گئے اور رات بھر گریہ زاری کرتے رہے ۔صبح ہوئی تو اہلبیت کے دشمنوں سےٹکرانے کے لئے چل دئیے ۔ اس اندوہناک واقعہ نے ان کی ضمیر کو اس طرح جھنجھوڑ ا تھا کہ اب ان میں جینے کی خواہش ہی ختم ہوگئی تھی ۔چنانچہ وہ دشمن کے خاتمہ پر تل گئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہوگئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہوگئے ۔چند افراد کے علاوہ سب ہی نے جان دیدی
ممتاز شیعہ مختار ثقفی کہ جو شہادت حسین علیہ السلام کے وقت پابند سلاسل تھے کی بیڑیاں کٹیں تو انھوں نے بھی قاتلان حسین (ع) سے انتقام لینے کی ٹھانی اپنے گرد ہزاروں شیعہ اکٹھا کئے ۔پھر چن چن کر قاتلان حسین (علیہ السلام)کو تہہ تیغ کیا

18
اس خونریزی کے دوران ہزاروں شیعوں نے جان ومال کی قربانی دی سانحہ کربلا کے بعد شیعیت کو ایک نئی زندگی ملی ۔قربانی کا ایک نیا جذبہ اور ولولہ ولائے اہلبیت کی بھر پور روشنی !
سانحہ کربلا کے تقریبا دوسال بدع یزید واصل جہنم ہوا ۔پھریزیدوں کی لائن لگ گئی ۔چہرے الگ الگ تھے مگر سب یزید ۔تاریخ کا کیسا جبر ہے کہ کس مسند رسالت پر خلیفہ رسول کے نام سے کیسے کیسے کوڑھی چہرے نظر آتے ہیں ۔ مردان بن حکم ،عبدالملک بن مروان ،ولید بن عبد الملک ہشام بن عبد الملک اور پھران کے خونین گورنروں کا سلسلہ ،سب سے بڑھ کر عراق کا گورنر حجاج بن یوسف ،جس کے بارے میں مولانا مودودی عاصم بن ابی النجود کا قول بیان کرتے ہیں کہ " اللہ کی حرمتوں میں کوئی حرمت ایسی نہیں رہ گئی جس کا ارتکاب اس شخص نے نہ کیا ہو اور پھر مولانا وموصوف حضرت عمربن عبدالعزیز کا قول بیان فرماتے ہیں کہ " اگر دنیا کی تمام قومیں خباثت کا مقابلہ کریں اور اپنے اپنے سارے خبیث لےآئیں تو ہم تنہا حجاج کو پیش کرکے ان پر بازی لے جاسکتے ہیں ۔(خلافت و ملوکیت ص 185، 186)
پھر آگے چل کر کہتے ہیں کہ یہ ظلم وستم اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں ایک مرتبہ حضرت عمربن عبدالعزیز چیخ اٹھے کہ۔
"عراق میں حجاج ،شام میں ولید مصر میں قرہ بن شریک ،مدینہ میں عثمان بن حیان ، مکہ میں خالد بن عبداللہ القسری ،خداوند تری دنیا ظلم سے بھر گئی ہے ، اب لوگوں کو راحت دے "۔(خلافت وملوکیت ۔187 ۔ابن اثیر جلد 4 ص 137)

19
کو مرتے وقت وصیت کی کہ حجاج بن یوسف کا ہمیشہ لحاظ کرتے رہنا ۔کیونکہ وہی ہے جس نے ہمارے لئے سلطنت ہموار کی ، دشمنوں کو مغلوب اور ہمارے لے خلاف اٹھنے والوں کو دبایا ۔"
(ابن اثیر جلد 4 ص 103 البدایہ جلد 9 ص 67 ،ابن خلدون جلد 3 ص 58)
ان یزون سے پہلے جن حضرات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ تو غلطی کرتے نہیں تھے ۔ خطا اجتہادی کرتے تھے ،مگر ان وحشی درندوں کے بارے میں کہ جن کے مظالم پر عمر بن عبدالعزیز بے اختیار چیخ اٹھے کہ خداوند تری دنیا ظلم سے بھر گئی ،اب تو انھیں راحت دے ۔یہ مولوی کیوں خاموش ہے ؟ ان بے رحم خلیفوں اور ان کے درندہ صفت گورنروں کے ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والے شیعہ کو تو اسلام دشمن اور فسادی کہا جاتا ہے مگر ان ظالموں کےبارے میں زبان خاموش ہے ۔۔۔۔۔۔بات یہ ہے کہ ظلم کی حمایت ان کی میراث ہے ۔
ہندوستان میں بھی شیعوں پر کچھ ظلم نہیں ڈھائے گئے ۔ اس سلسلہ میں فیروزشاہ تغلق کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے جس نے شیعوں کو قتل کرایا ۔مختلف نوعیت کی سزائیں دیں ۔ جزیہ تک عائد کردیا ۔
اور اب پاکستان میں سود اعظم اہلسنت کےنام سے ایک یزیدی گروہ پھر سرگرم عمل ہے ،
اس سلسلہ کلام کے آخر میں ہم یہ عرض کرتے ہوئے کہ شیعیت مظلومیت اور مظلوم کی حمایت کی تاریخ ہے مولانا مودودی کی تحریر پیش کرتے ہیں "
"بنو امیہ کے خلاف ان کےطرز حکومت کی وجہ سے عام مسلمان میں جو نفرت پھیلی اور اموی وعباسی دور میں اولاد علی (ع) اور ان کے حامیوں پر ظلم وستم کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں ہمدردی کے جو جذبات پیدا ہوئے انھوں نے شیعی دعوت کو غیر معمولی طاقت بخش دی " (خلافت وملوکیت ص 211)
آپ کایہ فرمانا کہ فتنہ روافض نے خمینی کہ شہ پر سر ابھارا ہے ۔۔۔۔۔۔تو جناب یہ دبا ہوا کب تھا ،یہ تو آزادی کا دور ہے ۔بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں بھی یہ سرابھارتا رہا ہے ۔اور کٹتا رہا ہے ۔ ۔۔۔۔پاکستان اور ہندوستان کے شیعوں نے کون سی نئی

20
گستاخی کی ہے جس کی بنا پر سر " ابھارنے " کا محاورہ استعمال کیا جارہا ہے ۔مجلس ،ماتم اور جلوس جو پہلے تھا سواب بھی ہے اور اسی طرح سے ہے کہ جیسے پہلے تھا ۔۔۔۔۔۔دراصل آپ کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ شیعیت نے ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو پہچنوایا ہے ۔آپ کو تکلیف یہ ہے کہ اسلام اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ ہوا تو شیعہ کے ہاتھوں ۔اور صرف ایران ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر اس کے اثرات پڑے ہیں ۔خاص طور سے شیعوں میں ہر جگہ ایک انقلابی طبقہ وجود میں آگیا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے عرب ریاستوں کے بد معاش شیخوں اور سعودی عرب کے شاہی لٹیروں کو خطرات لاحق ہیں ۔۔۔۔۔اور یہ سب آپ کے آقا ہیں ۔
آپ کے دلوں میں ابو سفیان والا اسلام نہ ہوتا تو آپ بھی اسلامی انقلاب سے عام مسلمانوں کی طرح خوش ہوتے ، مگرآپ خوش ہونے کے بجائے عام مسلمانوں کو آقائےخمینی اور اس انقلاب سے بد ظن کرنے کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہیں ۔
آپ نے ارباب اقتدار سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ شیعہ نوازی کا رویہ

21
چھوڑیں اور شیعوں کے ساتھ وہ معاملہ کریں جو کسی اقلیت کے ساتھ کیاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ارباب اقتدار تعلیم یافتہ ہیں وہ مسلمانوں کے ساتھ اقلیت کاسا سلوک کیسے کرسکتے ہیں ۔ پڑھے لکھے باشعور حکمراں تو اقلیتوں کے جذبات کازیاد ہ خیال رکھتے ہیں تاکہ انھیں یہ احساس نہ ہو کہ محض اقلیت ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔ آئین کی رو سے بھی بلا امتیاز مذہب وعقیدہ تمام شہریوں کویکساں حقوق حاصل ہیں ۔ دراصل آپ کو شیعوں کے معاملے میں اقلتیں اس لئے یاد آئیں کہ آپ ذہنی طور سے اسی سڑے ہوئے زمانہ کی یادگار ہیں کہ اقلیتوں کی ذمی بنا کر ان سے غلاموں جیسا برتاؤ کیا جاتا تھا اور آپ شیعوں کو بھی دوسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتے ہیں ۔
ہم آپ کو بتا دینا چاہتے ہیں اور پہلے بھی بتاتے رہے ہیں کہ ہوش میں آئیے ۔سعودی ریال کا اتنا نشہ اچھا نہیں ۔آپ اس نشہ میں اپنے گھر کو کیوں برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ یہ آپ کسے اقلیت قرار دے رہے ہیں ؟ ملک کی چوتھائی آبادی کو اور وہ بھ کوئی آپ جیسے خرکاروں کی آبادی نہیں بلکہ دانشوروں ،ادیبوں ،فنکاروں ،سیاست دانوں اور اعلی عہدیداروں کی آبادی ہے ۔آپ اس کریم کو نکال دیں گے تو آپ کے پاس بچے گا کیا ؟ یاد رکھئیے کہ ان کی وفا داریاں ملک سے اسی وقت تک برقرار رہتی ہیں کہ جب تک انھیں اپنے مخصوص روایات کے ساتھ عزت و آبرو سے جینے دیا جائے ورنہ بغداد سے لالوکھیت تک ایک ہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔بات زیادہ بڑھی تو پھر نہ کہیں جماعت اسلامی نظرآئے گی اور نہ سواد اعظم اور نہ ہی ہفت روزہ تکفیر ۔