شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
 

3

نقش آغاز
فروری سنہ 1988ء میں اقراء ڈائجسٹ کا "شیعیت نمبر " اور بینات کا ایک "خصوصی نمبر شائع ہوا ۔دونوں ہی نے مولا نا منظور نعمانی کی ایک کتاب کہ جو "الفرقان لکھنو" کے خاص نمبر کی صورت میں شائع ہوئی تھی ،دوبارہ من وعن شائع کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اقراء میں شیعوں کے خلاف او ربھی مضامین ہیں خاص طور سے مفتی ولی ٹونکی کا " نقش آغاز" قابل ذکر ہے کہ جس میں اس نے شیعیت کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا ہے ۔
"الفرقان لکھنو " کے خاص نمبر کے شروع میں "نگاہ اولین "کا عنوان ہے اس میں شیعیت کو سب سے بڑا فتنہ قراردکے کر عام مسلمانوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس فتنہ کا قلع قمع کردیں ۔ اور اس کے مقدمہ میں بر صغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شیوں سے جنگ جہاد اکبر ہے اور ان سے جنگ میں ہمارا جو آدمی مارا جائے گا وہ شہید ہوگا کیونکہ یہ کافروں میں سے ہے لہذا ان پر تلوار اٹھانا جائز ہے ۔ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو شک کرے وہ خود بھی کافر ہے ۔۔۔۔۔یہ تھی اس زہریلے مقدمہ کی ایک جھلک ۔
مولانا منظور نعمانی کے اس مقدمہ کے بعد "استفتاء" ہے جس میں شیعہ اثناعشریہ کے موجب کفرتین عقائد کا خاص طور سے اور بڑی تفصیل کے

4
ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے ار انھیں عقائد کی بنیاد پر جہلا دین سے فتوے طلب کئے گئے ہیں ۔ وہ تینوں عقیدے یہ ہیں
1:- حضرات شیخین کے بارے میں کہ وہ کافر ومنافق تھے اور ان دونوں کی بیٹیاں حضرت عا‏ئشہ و حضرت حفصہ بھی کافرہ اور منافقہ تھیں ۔
2:- قرآن کے بارے میں کہ اس میں ہر قسم کی تحریف ہوئی ہے ۔
3:- ختم نبوت کے بارے میں کہ یہ اس کے منکر ہیں ۔
موجب کفر عقائد کی تفصیلی بحث کے بعد شیعہ اثناعشریہ کے بارے میں متقدمین اور متاخرین اکابر علماء امت اور فقہائے کرام (بقول منظور نعمانی) کے فیصلے اور فتوے ہیں ۔ ان کےنام ملاحظہ ہوں ۔
1:- امام ابن حزم اندلسی متوفی سنہ 456 ھ ۔ 2:- قاضی عیاض مالکی متوفی سنہ 544ھ ۔ 3:- شیخ عبدالقادر جیلانی متوفی سنہ 561 ھ ۔ 4:- امام ابن تیمیہ جنبلی متوفی سنہ 738 ھ ۔ 5:- علامہ علی قاری متوفی سنہ 1014 ھ ۔ 6:- علامہ بحرالعلوم لکھنوی ۔7:- علامہ کمال الدین المعروف با بن الحام ۔8:- فتاوی عالمگیر ی (جسے اورنگ زیب کے حکم سے ملاؤں کی ایک جماعت نے مرتب کیا )۔9:- علامہ ابن عابد ین شامی ۔10:- مولانا عبد الشکور فاروقی لکھنوی (لکھنو کے شیعہ فسادات کی جڑ ۔۔۔کہ جس کو مرے ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا )۔
اس کے بعد دور حاضر کے ہندوستان کے اصحاب فتوی اور دینی مدارس کے فتاوی وتصدیقات ہیں جن کی طویل فہرست کو یہاں نقل کرنا ممکن نہیں ۔ پھر پاکستان کے ممتاز مراکز افتا اور اصحاب علم فتوی کے فتوے اور تصدیقات درج ہیں ۔
ہم صرف پاکستانی جہلا دین کے فتوی اور تصدیقات کا عکس پیش کررہے

5
ہیں کیونکہ سب فتوے پیش کئے گئے تو اس میں تقریبا 100 صفحات ہوجائیں گے جس کی گنجائش نہیں ۔
ہم پہلے باب میں اقراء ڈائجسٹ کے نقش آغاز اور اصل کتاب (جوکہ اقراء اور بینات میں شائع کی گئی ہے ) کے نقش اولین کا جواب دیں گے اور پھر ان تین عقائد پر گفتگو کریں گے جن کی وجہ سے شیعہ اثناعشریہ کو کافر قرار دیاگیا ہے ۔
یہ بیوقوف شیشہ کے گھر میں بیٹھ کر مضبوط اور مستحکم قلعے پر پتھر پھینکتے ہیں جب ان پر شیعہ دشمنی کا دورہ پڑتا ہے تویہ خانہ خدا کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے ۔خانہ خدا کے دروازے کو ایسے بینروں اور پوسٹروں سے سجاتے ہیں کہ جن پر فساد پھیلانے کی ترغیب اور شیعیت پر الزامات اور بہتان تراشیاں ہوتی ہیں ۔ ۔۔۔کچھ تو تفنن طبع کا ثبوت بھی دیتے ہیں ۔مقدس امام بارگاہوں کو " ایمان بگاڑئے " لکھتے ہیں اور مزید کرم فرماتے ہوئے انھیں عیاشی کے اڈے قراردیتے ہیں ۔۔۔۔ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ کہاں مسجد کا دروازہ اور کہاں بیہودہ باتیں ۔ ۔۔۔مگر یہ تو ہم سوچ رہے ہیں حقیقت تویہ ہے کہ اس مسجد اور مدرسہ کے در ودیوار ان باتوں سے مانوس ہیں ۔
میر تقی میر نے شاعرانہ ترنگ میں مجازا ایک بات کہہ دی تھی ۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
اور انھیں میر صاحب کی یہ بات اتنی پسند آئی کہ گرہ میں باندھ لی اور غالبا یہ کسی رافضی کی پہلی بات تھی کہ جو انھیں اچھی لگی اور نوبت یہ آئی کہ

6
ان سے بھی پیروی میر ہو ا کرتی ہے
یہ بھی عطار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں
اور قیامت یہ ہے کہ گواہی مسجد اور مدرسہ کے حجرے دیتے ہیں ۔
جہاں تک امام بارگاہوں کاسوال ہے تو ان کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔وہاں کوئی تقریب ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں کسی کے آنے پر پابندی مجلس ہوتی ہے تو خوتین کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے اگر صرف تبرکات کی زیارت کاسلسلہ ہوتا ہے تو عورتوں اور مردوں کی الگ قطاریں لگتی ہیں ۔ ہزاروں لاکھوں کے جلوس کے ساتھ ہزاروں خواتین بھی ساتھ ہوجاتی ہیں مگر مجال نہیں کہ ذرا بھی بے حرمتی ہوجائے ۔
یہ فسادی اپنی تخریبی سوچ اورمخصوص حلئے سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ فی سبیل اللہ فساد پھیلا ؤ اور اپنے چھوٹے چھوٹے قدوں کو بڑا کرو اور پھر اس فساد کا معاوضہ ڈالر اور ریال کی شکل میں وصول کرو ۔۔۔۔۔ ذرا غور تو فرمائیے کہ فتنہ کی جڑ مولوی عبد الشکور لکھنوی (جو واصل جہنم ہوچکا ہے ) کے اگلے ہوئے لقموں کو چبانے والے مولوی منظور نعمانی کی فتنہ سامانی کو ایک تواتر کے ساتھ لکھنو (ہندوستان) سے پاکستان درآمد کیا جارہا ہے ۔مگر یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے ؟شیعہ تو پہلے بھی بر صغیر پاک وہند میں رہتے تھے اور انہی تیوروں سے اب بھی رہ رہے ہیں کہ جیسے پہلے رہتے تھے ۔اب کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی سوائے انقلاب ایران کے ۔۔۔۔مگر یہ انقلاب ایران ہی تو ہے کہ جو شہنشاہیت پر قیامت بن کے ٹوٹا ہے اب سعودی شہنشاہیت اس کی زد میں ہے ۔خلیجی ریاستوں کے شيخ پریشان ہیں ۔ انھیں ایسے ایجنٹوں کی بہت ضرورت ہے

7
کہ جو ایران کے طاقتور پڑوس میں ان کےمفادات کےلئے کام کرسکیں چنانچہ پاکستان یمں سواد اعظم کا ٹولہ سعودی آقاؤں کی ایما پر پاکستان کے شیعوں کے خلاف یہاں کے عوام کو ورغلا نے کے کام پر لگا ہوا ہے تاکہ ایرانی انقلاب کی حمایت کے ایک طاقت ور عنصر کو کمزور کردیا جائے اور ساتھ ساتھ آقائے خمینی اور ایرانی انقلاب کے خلاف بھی مہم جاری ہے تاکہ وہ سنی مسلمان کہ جو ایرانی انقلاب سے متاثر ہیں بد ظن ہوجائیں ۔
یہ اپنی مکروہ سوچ کے علاوہ اپنے مکروہ حلیئے سے بھی پہچانے جاسکتے ہیں ۔ ان کے سرگنجے ہوتے ہیں اور کجھور کی یا کپڑے کی بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی گول ٹوپیاں پہنتے ہیں اور جب فیشن کے موڈ میں ہوتے ہیں تو کلف لگی ہوئی چوگوشی ٹوپیوں کو سروں پر کھڑا کرلیتے ہیں ۔ بڑی سر سبز اور شاداب دارھیاں رکھتے ہیں اور مونچھوں کی جگہ پر روز استرا پھیرتے ہیں ۔ کندھے پر ریشمی خانہ دار رومال پڑا رہتا ہے ۔پیٹ عام طور سے بھاری ہوتاہے ۔گھٹنوں تک سفید کرتا اور اس کے نیچے اونچی واٹنگی شلوار پہنتے ہیں ۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جس مولوی کی شلوار جتنی اونچی ہوتی ہے اتنا ہی وہ شقی القلب ہوتا ہے ۔
مومن صادق کی پہچان یہ کہ کہ خشیت الہی سے اس کا چہرہ زردی مائل رہتا ہے مگر ان کا چہرا خاصا کھایا پیا لگتا ہے ۔چنانچہ جوش ملیح آبادی کو ان کے یہ چہرہ اچھا لگا اور انھیں کہنا پڑا ۔

وضو کے فیض سے سر سبز داڑھی
خدا کے خوف سے چہرہ گل تر

آخر میں ہماری تجویز ہے کہ ہمارے صدر صاحب اس مخلوق کو ایک بحری جہاز میں بھرکر سعودی عرب کی طرف روانہ کردیں اور اگر سعودی حکومت انھیں

8
قبول کرنے پر تیار نہ ہو تو واپسی میں کراچی کی بندرگاہ آنے سے پہلے ہی جہاز کے پیندے میں بڑا سوراخ کردیا جائے ۔۔۔۔۔
ہم نے" اقراء" اور " بینات " کا جواب ختم ہی کیا تھا کہ کہ 4 اپریل سنہ 1988 کا" ہفت روزہ تکبیر " سامنے آیا ۔جس میں ایک نام نہاد اسکالر کا بے شرمی سے لبریز انٹرویو چھپا ہے ۔چنانچہ اس کا جواب بھی شامل کیا جارہا ہے
علی اکبر شاہ
مئی سنہ 1988ء