پھر میں ہدایت پاگیا
 

246

حق کی جیت
جنوب ٹیونس کے کسی دیہات میں ایک شادی میں چند عورتیں آپس میں گفتگو کررہی تھیں کہ فلاں شخص کی بیوی جس کا یہ نام ہے وہ ۔۔۔۔۔اور ان عورتوں کے بیچ میں ایک بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت ان کی گفتگو سن رہی تھی کہ فلاں کے ساتھ فلاں کی لڑکی کی شادی ہوگئی تو اس کو بہت تعجب ہوا ۔ عورتوں نے اس بوڑھی عورت سے پوچھا کہ تم کو اس پر تعجب کیوں ہورہا ہے؟ اس نے کہا میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے وہ آپس میں بہن بھائی ہیں ، پس پھر کیا تھا عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے ذکر کیا اور جب مردوں نے تحقیق کی تو بات صحیح ثابت ہوئی ،لڑکی کے والد نے بھی اعتراف کیا اور لڑکے کے والد نے بھی کہا کہ اس بڑھیا نے دودھ پلایا ہے پھر تو دونوں قبیلوں میں قیامت آگئی اور وہ لاٹھی چلی کہ خدا کی پناہ ہر ایک دوسرے پر الزام لگارہا تھا کہ اس حادثہ کا سبب دوسرا ہے ، اور اب ان پر قیامت آئےگی خدا کا قہر نازل ہوگا ، مشکل اور اس لئے بھی بڑھ گئی تھی کہ شادی کو دس سال ہوچکے تھے اور تین بچے بھی پیدا ہوچکے تھے آخر ان کا کیا ہوگا ۔ عورت تو سنتے ہی اپنے باپ کے گھر بھاگ گئی۔ اور کھانا پینا چھوڑ دیا ،خودکشی پر آمادہ ہوگئی کیونکہ وہ یہ صدمہ نہیں برداشت کرسکی کہ اس نے اپنے بھائی سے شادی کرلی اور اس سے بچے بھی پیدا ہوگئے اور اس کو ذرہ برابر خبربھی نہ تھی مارپیٹ میں دونوں طرف کے لوگ زخمی ہوگئے خدا خدا کرکے ایک شیخ قبیلہ کے بیج بچاؤ کرنے پر لڑائی ختم ہوئی اور اس شیخ نے دونوں کو نصیحت کی کہ اس سلسلہ میں علماء سے رجو ع کرو ہوسکتا ہے وہ لوگ کوئی ایسا فتوی دیدیں جس سے مسئلہ کا حل مل جائے ۔ اب یہ لوگ آس پاس کے بڑے بڑے شہروں میں جا جا کر علماء سے سوال کرتے لیکن جب بھی کسی عالم سے ملاقات کرکے پورا قصہ سناتے تو وہ فورا شادی کو حرام کہہ دیتا اور میاں بیوی میں علیحدگی کرانے کا حکم دیتا کہ ان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے سے جدا کر دو ، ایک غلام آزاد کرو ۔ دومہینے کا مسلسل روزہ رکھو اسی قسم کے دیگر فتاوی سے پالا پڑتا ،

247
ہوتے ہوتے یہ لوگ قفصہ بھی پہونچے وہاں کے علما نے بھی وہی جواب دیا کیونکہ مالکی فرقہ کے یہاں ایک قطرہ دودھ پینے سے نشر حرمت ہوجاتی ہے اس لئے کہ امام مالک کا فتوی یہی ہے کیونکہ امام مالک دودھ کا قیاس شراب پر کرتے ہیں جیسے اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کے زیادہ مقدار استعمال کرنے سے نشہ پیدا ہوجاتا ہو تو اس چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہوجائےگی ، لہذا ایک قطرہ دودھ بھی نشر حرمت کا سبب ہوگا لیکن یہاں پر ایک شخص نے ان لوگون کو تنہائی میں چپکے سے میرا پتہ بتایا اور کہا: اس معاملہ میں تم لوگ تیجانی سے سوال کرو وہ ہرمذہب کو بہت اچھی طرح جانتا ہے میں نے خود دیکھا ہے کہ اس نے ان علماء سے کئی مرتبہ بحث ومناظرہ کیا اور ہر مرتبہ سب کو شکست دے دی۔
یہ باتیں مجھے شوہر نے اسو وقت بتائیں جب میں نے ان لوگوں کو اپنے کتب خانہ میں لے گیا اور انھوں نے پورا واقعہ شروع سے آخر تک تفصیل کے ساتھ مجھے بتایا اور اس نے کہا مولانا : میری بیوی خود کشی پر آمادہ ہے میرے بچے آوارہ ہورہے ہیں ، میرے پاس اس قضیہ کا کوئی حل نہیں ہے ، لوگوں نے آپ کا پتہ بتایا اور یہاں آکر جب میں نے اتنی کتابیں دیکھیں تو خوش ہوگیا کہ میرا مسئلہ حل ہوجائے گا کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی کتابیں کہیں نہیں دیکھیں۔
میں نے پہلے تو قہو ہ پیش کیا پھر پوچھا کہ تمہاری بیوی نے کتنی مرتبہ اس عورت کا دودھ پیا تھا اس نے کہا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میری بیوی نے دو یا تین مرتبہ دودھ پیا ہے اور اس کے باپ نے بھی یہی بتایا ہے کہ وہ دو تین مرتبہ اپنی بیٹی کو اس بڑھیا کے پاس دودھ پلانے کیلئے لےگیا تھا ، اس پر میں نے کہا اگر یہ بات صحیح ہے تو شادی درست ہے ۔ وہ بیچارہ دوڑ کر میرے قدموں پر گر پڑا کبھی میرا سر چومتا کبھی میرا ہاتھ چومتا اور کہتا جات خدا آپ کو نیکی عطا کرے آپ نے میرے لئے سکو ن کا دروازہ کھول دیااور پھر جلدی سے اٹھ کر بھاگا نہ مجھ سے سوال کیا وار نہ قہوہ ہی ختم کیا اور نہ مجھ سے دلیل پوچھی جانے کے لئے اجازت لی تاکہ جلدی سے اپنی بیوی اور بچوں اور قبیلہ والوں کو یہ خبر سنائے ،
لیکن وہ دوسرے دن ساتھ آدمیوں کو لے کر میرے پاس آیا اور سب کو میرے سامنے کرتے ہوئے ہر ایک کا تعارف کرانے لگا ۔یہ میرے والد ہیں ، یہ میری زوجہ کے والد ہیں ، یہ دیہات کے سردار ہیں ۔ یہ امام جمعہ

248
جماعت ہیں ۔ یہ دینی مرشد ہیں ، یہ شیخ عشیرہ ہیں ، یہ مدیر مدرسہ ہیں یہ سب کے سب میرے پاس رضاعت کے مسئلہ کے سلسلہ میں آئے تھے کہ آپ نے اس کو کیونکر حل فرمایا ؟ میں سب کو کتب خانہ میں لیکر آیا اور مجھے امید تھی کہ یہ سب مجھ سے جھگڑا کرینگے ، میں نے سب کو قہوہ پیش کیا اور مرحبا کہا : ان لوگوں نے کہا ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ جب رضاعت کو قرآن نے حرام کیا ہے تو آپ نے کیسے اس کو حلال کردیا؟ اور رسول نے فرمایا ہے : جو چیزیں نسب سے حرام ہوتی ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتی ہیں اور امام مالک نے بھی حرام قراردیا ہے !
میں :- میرے بزرگ آپ آٹھ آدمی ہیں اور میں اکیلا ہوں اگر میں سب سے بحث کروں تو شاید سب کو قانع نہ کرپاؤں اور سارا وقت بحث ومناظرہ کے نذر ہوجائے اس لئے آپ اپنے میں سے ایک کو منتخب کرلیں وہ مجھ سے مناظرہ کرے اورآپ سب حکم ہوجائیں ،آپ کا فیصلہ دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ سب نے میری تجویز پسند کیا اور مرشد دینی کا انتخاب اس لئے ہوا کہ وہ سب سے زیادہ اعلم واقدر (قدرت رکھتے)ہیں۔
مرشد:- جس چیز کو خدا ورسول وائمہ نے حرام قراردیا ہے آپ نے کس دلیل سے اسکو حلال قراردیا ہے ؟
میں :- اعوذ باللہ ! بھلا میں ایسا کرسکتا ہوں ؟ قصہ یہ ہے کہ خدانے رضاعت کی آیت کومجمل اتارا ہے اس کی تفصیل نہیں بیان کی ہے بلکہ تفصیل رسول کے حوالہ کردی ہے اور انھوں نے کیف وکم کے ساتھ مقصد کو واضح کردیا ہے ۔
مرشد:- امام مالک ایک قطرہ سےبھی نشر حرمت کے قائل ہیں ۔
میں :- جی ہاں ! میں جانتا ہوں لیکن امام مالک تمام مسلمانوں کیلئے حجت نہیں ہیں ورنہ آپ دوسرےائمہ کو کیا کہیں گے ؟
مرشد :- خدا ان تمام ائمہ سے راضی اور ان کو بھی راضی کرے یہ سب کے سب رسول خدا کی بات کہتے ہیں
میں :- آپ خد ا کے سامنے کون سی حجت پیش کریں گے اس بات پر کہ آپ امام مالک کی تقلید کرتے ہیں اور ان کی رائے نص رسول کے خلاف ہوتی ہے ؟
مرشد:- انھوں نے حیرت سے کہا سبحان اللہ !

249
میں یہ نہیں مان سکتا کہ امام مالک جو امام دارالہجرہ ہیں وہ نصوص نبویہ کی مخالفت کرتے ہیں حاضرین کو بھی تعجب ہوا تھا اور انھوں نے میری اس جراءت کو بہت ہی عجیب وغریب سمجھا کیونکہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسا ریمارک امام مالک پر نہیں کیا تھا میں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کیا امام مالک کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے؟
مرشد:- مرشد نے کہا نہیں !
میں :- میں نے کہا کیا ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے ؟
مرشد:- کہا ! نہیں بلکہ وہ تبع تابعین میں سے ہیں ۔
میں :- میں نے پھر کہا حضرت علی اور امام مالک میں کون زیادہ قریب ہے ؟
مرشد:- حضرت علی کیونکہ وخلفائے راشدین میں سے ہیں !حاضرین یمں سے ایک صاحب بولے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ باب مدینۃ العلم ہیں ، میں نے کہا :پھر آپ نے باب مدینۃ العلم کو چھوڑ کر ایسے شخص کی تقلید کیوں کی جواز صحابہ میں سے ہے نہ تابعین میں سے بلکہ جس کی ولادت فتنہ کے بعد ار لشکر یزید کے ذریعہ مدینۃ رسول کے تاراج ہونے کے بعد ہوئی ہے یزید کے لشکر والوں نے جو کچھ کرنا تھا کیا ،بہترین صحابہ کو قتل کردیا ، ہتک حرمت الہی کی خود ساختہ بدعت جاری کرکے سنت رسول کو بدل دیا ، اب آپ خود ہی سوچئے ان تمام حالات کے بعد ان ائمہ سے انسان کیونکر مطمئن ہوسکتا ہے ۔جو ظالم حکومت کے منظور نظر تھے اور حکومت کی مرضی ےک مطابق فتوی دیا کرتے تھے ۔
ایک شخص:- اتنے میں ایک شخص بولا : میں نے سنا ہے آپ شیعہ ہوگئے ہیں اور حضرت علی کی عبادت کرتے ہیں ؟ اتنا سنتے ہی اس کے بغل میں بیٹھے ہوئے آدمی نے اس کو ایسا گھونسا مارا جس سے اس کو کافی تکلیف پہنچی اور کہاچپ ہوجا ؤ تم کو شرم نہیں آتی کہ ایسے فاضل شخص کے بارے میں ایسی بات کرتے ہو، میں نے بہت سے علما ء کو دیکھا ہے لیکن ابی تک میں نے کسی عالم کے پاس اتنا بڑا کتابخانہ نہیں دیکھا ، یہ شخص جو بات بھی کہہ رہا ہے بہت اعتماد وبھروسے اور اطمینان سے کہہ رہا ہے ۔
میں :- میں نے فورا اس کو جواب دیا جی ہاں ! یہ صحیح ہے کہ میں شیعہ ہوں ،لیکن شیعہ حضرت علی کی پرستش نہیں کرتے بلکہ وہ امام مالک کے عوض حضرت علی کی تقلید کرتے ہیں جنکو آپ لوگ بھی باب مدینۃ العلم

250
کہتے ہیں ۔
مرشد:- کیاحضرعلی ایک عورت سے دوبچوں کی رضاعت کےبعد دونوں کی آپس میں شادی کو حلال کہتے ہیں ؟
میں :- نہیں ایسا تو نہیں کہتے لیکن وہ فرماتے ہیں : جب رضاعت پندرہ مرتبہ ہوا ہو اور بچہ ہر مرتبہ سیر ہوکر پئے اور پندرہ مرتبہ متواتر پئے درمیان میں کسی دوسری عورت کا دودھ نہ پئے تو حرام ہے ۔ پھر اتنا دودھ پیئے کہ اس سے گوشت وپوست اگ آیئں اتنا کہتے ہی زوجہ کے باپ کا چہرہ کھل اٹھا اور اس نے فورا کہا : الحمداللہ!
میری بیٹی نے تو صرف دو یاتین مرتبہ دودھ پیا ہے اور حضرت علی کے اس قول سے ہم ہلاکت سے بچ سکتے ہیں ان کا قول ہمارے لئے رحمت ہے ہم تو مایوس ہوچکے تھے ۔
مرشد:- اس پر دلیل پیش کیجئے تاکہ ہم مطمئن ہوسکیں ،میں نے السید الخوئی کی منھاج الصالحین پیس کردی اس نے خود باب رضاعت سب کو پڑھ کر سنا یا وہ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے خصوصا شوہر تو بہت ہی خوش تھا ۔ کیونکہ اس کو دڑ تھا کہ شاید میرے پاس کوئی ایسی دلیل نہ ہو جو ان کو مطمئن کرسکے ، ان لوگوں نے مجھ سے عاریتا کتاب مانگی تاکہ دیہات والوں کے سامنے حجت پیش کرسکیں میں نے کتاب دیدیا اور وہ لوگ مجھ سے رخصت ہوکر دعا دیتے ہوئے اور معذرت کرتے ہوئے چلے گئے میرے گھر سے نکلتے ہی میرا ایک دشمن ان لوگوں سے ملا اور ان لوگوں کو لیکر بعض علماۓ سوء کے پاس چلا گیا ،بس پھر کیا تھا ، سبھوں نے ان لوگوں کوڈرانا شروع کردیا کہ میں اسرائیل کا ایجنٹ ہوں اور منھاج الصالحین گمراہ کن کتاب ہے ،اہل عراق سب اہل کفر ونفاق ہیں ، شیعہ مجوسی ہیں یہ لوگ بہنوں سے نکاح جائز سمجھتے ہیں اس لئے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جو میں نے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اسی قسم کے پروپیگنڈے کرنے لگے اور ان لوگوں کواتنا ڈرایا کہ دوپھر پلٹ گئے اور مطمئن ہوجانے کے بعد منقلب ہوگئے اور شوہر کو مجبور یا کہ قفصہ کے ابتدائی عدالت کے محمکہ طلاق میں اس قضیہ کو پیش کرے پھر رئیس محمکہ نے کہا آپ لوگ دار السلطنت جائیں اور مفتی الجمہوریہ سے ملیں تاکہ وہ مسئلہ کا حل تلاش کریں ،چنانچہ شوہر ٹیونس گیا اور ایک ماہ وہاں قیام پذیر رہا تب مفتی صاحب سے ملاقات ہو پائی اور شروع سے لے کر آخر تک اس نے پورا قصہ مفتی صاحب کو سنا ڈالا ، مفتی صاحب نے پو چھا وہ کون سے علما ء جنھوں نے اس شادی کو حلال بتایا ہے اور صحیح کہا ہے ،شوہر نے کہا سب نے ہی حرام بتایا ہے صرف ایک شخص تیجانی سماوی ہے جوحلال کہتا ہے مفتی صاحب نے میرا نام لکھ لیا اور شوہر سے کہا : تم واپس جاؤ میں عنقریب قفصہ کے رئیس محکمہ کو خط لکھوں گا ۔
پھر مفتی الجمہوریہ کاخط آیا اور شوہر کے وکیل کومطلع کیاگیا اس وکیل نے شوہر کو مطلع کردیا کہ مفتی جمہوریہ نے اس شادی کو حرام قراردے دیا ہے ،یہ سارا قصہ مجھ سے شوہر آکر بتایا جو بہت کمزور ہوچکا تھا تھکن کے آثار اس کے چہرے سے ظاہر تھے اس نے مجھ سے بہت معذرت کی کہ میری وجہ سے آپ کوبڑی پریشانی ہوئی ۔ میں نے اس کے جذبات کو سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کیا اور مجھے بہت زیادہ تعجب ہوا کہ مفتی جمہوریہ نے اس عقد کو باطل کردیا ، میں نے شوہر سے کہاتم مجھے وہ خط لاکر دو جو مفتی جمہوریہ نے محکہمہ کو لکھا ہے تاکہ میں ٹیونس کے اخباروں میں اس کو شائع کراؤں اور لوگوں کو بتاؤں کہ مفتی الجمہوریہ اسلامی مذاہب سے ناواقف ہے اور رضاعت کے بارے میں علماء کا کیا فقہی اختلاف ہے اس کو وہ نہیں جانتا لیکن شوہر نے کہا مجھے تو پورے حالات معلوم ہوسکتے خط کا لانا تو بہت دشوار ہے یہ کہہ کر وہ میرے پاس سے چلا گیا ۔
چند دنوں بعد رئیس محکمہ کا ایک حکم میرے پاس آیا کہ تم وہ کتابیں اور دلیلیں لیکر میرے پاس حاضر ہو اور ثابت کرو کہ وہ شادی کیون کر باطل نہیں ہے؟ میں نے پہلے ہی سے چند مدارک جمع کررکھے تھے اور ہر کتاب میں رضاعت کی بحث کے اندر ایک نشانی رکھ دی تھی تاکہ میں آسانی ہوچنانچہ میں تاریخ معین پر ٹھیک وقت پر عدالت پہنچ گیا ۔ کاتب الرئیس نے میرا استقبال کیا کاور مجھے رئیس کے کمرہ میں پہونچادیا دفعۃ میں نے وہاں محمکمہ ابتدائیہ کے رئیس ،محکمہ ناحیہ ےک رئیس ،جمہور کے وکیل کو دیکھا اور ان کے ساتھ تین ارکار کو دیکھا سب کے سب قضاوت کے مخصوص لباس میں تھے معلوم یہ ہورہا تھا جیسے یہ لوگ کسی قانونی جلسہ میں شرکت کیلئے آئے ہو ۔اور پھر میری نظر کمرے کے آخر میں پڑی تو دیکھا ایک گوشہ

252
میں شوہر بھی بیٹھا ہوا ہے ۔ میں نے پہنچتے ہی سب پر سلام کیا سب ہی میری طرف بڑی ترچھی نظروں سے دیکھ رہے تھے بلکہ حقارت کی نظر سے دیکھ رہے تھے جب میں بیٹھ گیا تورئیس نے بڑے سخت لہجہ یمں مجھ سے کہا : کیا تم تیجانی سماوی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں !
رئیس:- کیا تم نے اس شادی کے مسئلہ میں جواز کا فتوی دیا ہے ؟
میں :- میں مفتی نہیں ہوں لیکن ائمہ نے اور علما ئے مسلمین نے اس شادی کی حلیت وصحت کا فتوی دیا ہے
رئیس:- اسی لئے ہم نے آپ کو بلایا ہے اور آپ اس وقت ملزم ہیں اگر آپ نے اپنے دعوی کو دلیل سےثابت نہ کیا تو ہم آپ کو قید کردیں گے اور آپ یہاں سے سیدھے قید خانہ جائیں گے اس وقت میں سمجھا کہ سردست تو میں ملزم کے کٹہرے میں ہوں اس وجہ سے نہیں کہ میں نے ایک قضیہ میں فتوی دیا ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ بعض علمائے سو ء نے ان احکام سے چغل خوری کی تھی کہ میں صاحب فتنہ ہوں صحابہ کو گالیاں دیتاہوں ۔ شیعیت کی ترویج کرتاہوں اور رئیس محکمہ نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اگر دو گواہ اس کے خلاف پیش کردو تو میں اس کو جیل میں سڑادوں گا اسی کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمین والوں نے اس فتوی کو حضرت عثمان کا کرتا بنایا لیا تھا ۔اور ہر خاص وعام تک یہ خبر پہونچادی تھی کہ میں بھائی بہن کے نکاح کو جائز سمجھتاہوں ،اور شیعوں کا یہی عقیدہ ہے یہ باتیں مجھے پہلے سے معلوم تھی کہ لیکن جب رئیس محکمہ نے مجھے قید کی دھمکی دی تو مجھے یقین ہوگیا اور اب میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ میں چلینچ کرکے بہادری کے ساتھ اپنا دفاع کروں ،۔
میں :- چنانچہ میں نے کہا: کیا میں بغیر کسی خوف کے صراحت کے سا تھ گفتگو کرسکتاہوں ؟
رئیس:- ہاں تم گفتگو کرسکتے ہو کیونکہ تمہارا کوئی وکیل نہیں ہے ،
میں سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں میں نے اپنے کو بعنوان مفتی نہیں پیش کیا ہے ۔لڑکی کا یہ شوہر آپ کے سامنے موجود ہے آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں ۔یہی شخص میرے پاس آیا میرے دروازے کوکھٹکھٹایا مجھ سے سوال کیا اس لئے میرا فریضہ تھا جو میں جانتا ہوں اس کو بتادوں میں نے اس سے پہلے ہی پوچھا تھا کہ کتنی مرتبہ دودھ پیا ہے ؟ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی نے صرف دو ،تین

253
مرتبہ دودھ پیا ہے تب میں نے اس کو اسلام کا مسئلہ بتادیا ۔
رئیس :- اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اسلام کو جانتے ہیں اور ہم لوگ جاہل ہیں ،۔
میں :- استغفراللہ! میرایہ مطلب نہیں ہے چونکہ یہاں کا ہر شخص امام مالک کا فتوی جانتا ہے اس کے آگے کچھ نہیں اور میں نے چونکہ تمام مذاھب کو کھنگا لاہے اس لئے اس مشکل کا حل مجھے مل گیا ۔
رئیس : آپ حل کہاں سے ملا؟
میں :- جناب عالی ہر چیز سے پہلے کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ؟
میں :-مذاہب اسلامیہ کے بارے میں جناب کا کیا خیال ہے ؟
رئیس:- سب کے سب صحیح ہیں اور سب رسول خدا سے تمسک کرتے ہیں ان کے اختلاف بھی رحمت ہے ،
میں :- پھر توآپ اس بیچارے پر رحم کیجئے (شوہر کی طرف اشارہ تھا) کیونکہ دوماہ سے زیادہ ہوگیا یہ اپنے بیوی بچوں سےجد ا ہے او ربعض اسلامی مذہب میں اس کا حل موجود ہے ۔
رئیس:- (غصہ سے)دلیل پیش کرو ۔ہم نے تم کو اپنا دفاع کرنے کی اجازت دی تھی تم دوسروں کی وکالت کرنے لگے ،میں نے اپنے بیگ سے سید خوئی کی "منہاج الصالحین " نکالی اور کہا یہ مذہب اہلبیت ہے اور اس میں قطعی دلیل موجود ہے اس نے میری باٹ کاٹتے ہوئے کہا : اہلبیت کے مذبہت کوچھوڑو نہ ہم اس کو جانتے ہیں نہ اس پر ہمارا عقیدہ ہے ۔
مجھے پہلے ہی سے اس کی توقع تھی اس لئے اہل سنت کے مدارک ومصادر بھی لیکر آیا تھا ، اور اپنی استعداد کے مطابق اس کی ترتیب بھی دی تھی پہلے درجہ میں بخاری کورکھا تھا پھر صحیح مسلم اس بعد محمود شلتوت کی کتاب" الفتاوی " اور پھر ابن رشد کی "ہدای
ت المجتھد ونہایۃ المقتصد" رکھی تھی تفسیر میں اب جوزی کی تزاد المسیر فی علم التفسیر اور دیگر اہلسنت کے مصادر تھے جب رئیس نے السید الخوئی کی کتاب دیکھنے سے انکار کردیا تو میں نے پوچھا آپ کس کتب پر بروسہ کریں گے ؟
رئیس:-بخاری ! میں نے بخاری نکال کر معین صفحہ کو کھول کر کہا لیجئے بسم اللہ پڑھئے !

254
رئیس :-نہیں نہیں تم ہی پڑھو! میں نے پڑھنا شروع کیا : فلاں نے فلاں اور انھوں نے ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں : رسول خدا نے انتقال کیالیکن پانچ رضعات یا اس سے زیادہ پر نشر حرمت کیا تھا ۔
رئیس نے مجھ سے کتا ب لیکر خود پڑھا پھراپنے پہلو میں بیٹھے وکیل جمہوریہ کودیا اس نے پڑھ کر اپنے بعد والے کو دیا ۔انتی دیرمیں میں صحیح مسلم نکال چکا تھا ، اور اسی حدیث کو اس میں بھی دکھایا اسے بعد شیخ ازہر کی کتاب الفتاوی کھولی انھوں نے مسئلہ رضاعت میں ائمہ کے اختلافات کاذکر کا ہے کہ بعض علماء کا نظریہ یہ ہے کہ پندرہ مرتبہ پینے نے نشرحرمت ہوتی ہے اوربعض نےکہا ہے کہ سات مرتبہ سے نشرحرمت ہوجاتی ہے بعض نے پانچ سے اوپر کہا ہے سوائے امام مالک کے کہ جنہوں نے نص کی مخالفت کی ہے ۔ اور ایک قطرہ کو بھی ناشر حرمت مانا ہے اس کے بعد شیخ شلتوت فرماتے ہیں : میں بیچ والے قول کو مانتاہوں یعنی سات مرتبہ یا اس سے زیادہ پیے ،جب رئیس محمکہ ان تمام اقوال پر مطلع ہوا تو بولا :- بس کافی ہے اس کے بعد شوہر سے کہا ابھی جاؤ اوراپنی بیوی کے والد(خسر) کو لاؤ تاکہ وہ میرے سامنے گواہی دے کہ اس سے دویاتین مرتبہ ہی پیاہے اور ہوسکتا ہے تم آج ہی اپنی بیوی کو گھر لے جاؤ ۔
بے چارہ شوہر تو خوشی کے مارے اڑاجارہا تھا ،وکیل جمہوریہ اورباقی ارکان نے اپنے اپنے مشاغل کا حوالہ دے کر معذرت چاہتے ہوے جانے کی اجازت مانگی اور رئیس نے سب کو اجازت دیدی ۔ پھر جب تنہائی ہوئی تو میری طرف معذرت چاہتے ہوئے متوجہ ہوا اور کہنے لگا : استاد مجھے معاف کردو لوگوں نے آپ کے بارے میں مجھے غلطی میں مبتلا کردیا تھا ، اور آپ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کہی تھیں ۔ اب مجھے پتہ چلا کہ وہ سب آپ سے حسد کرتے ہیں اور وہ لوگ مغرض ہیں شرپسند ہیں ،
خوشی کے مارے میرا دل اڑنے لگا کہ اتنی جلدی اتنی بڑی تبدیلی ! میں نے کہا شکر خدا ہے کہ اس نے میری کامیابی آپ کے ہاتھوں میں معین کی رئیس نے کہا میں نے سنا ہے کہ اپ کے پاس بڑا کتابخانہ ہے؟ کا میں دمیری کی "حیاۃ الحیوان الکبری"موجود ہے ؟

255
میں :- جی ہاں موجود ہے ۔
رئیس :- کیا آپ مجھے چند دنوں کے لئے بطو ر عاریت اس کو دے سکتے ہیں ؟ میں سال سے اس کتاب کی تلاش میں ہوں ،
میں :-جی ہاں! آپ جب چاہیں میں پیش کردوں ۔
رئیس:- کیا آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ کبھی میں آپ کے مکتبہ میں آکر آپ سے گفتگو کرسکوں اور استفادہ کرسکوں ؟
میں :-استغفراللہ! میں آپ سے استفادہ کروں گا آپ آزروئے سن وقدرومنزلت مجھ سے کہیں بلند ہیں میرے پاس ہفتہ میں چار دن فرصت ہی فرصت ہے میں آپ کے چشم وابروکے اشارہ پر کام کروں کا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ میں شنبہ کے دن اجتماع طے پایا ،کیونکہ اس دن رئیس کے پاس محکمہ کے جلسے نہیں ہوتے اس کے بعد مجھ سے کہا کہ میرے پاس بخاری ،مسلم، کتاب الفتاوی چھوڑ جائیے تاکہ میں عین عبارت نقل کرسکوں ،اس کے بعد بذات خود مجھے اپنے دفتر کر دروازے تک رخصت کرنے کیلئے آئے اور میں نے خدا کی اس دی ہوئی کامیابی ہر اس کی حمد کرتاہوا چلا حالانکہ جب میں داخل ہوا تھا تو خوفزدہ تھا ،مجھے جیل کی دھمکی دی گئی تھی اور جب نکلا ہوں تو رئیس محمکہ میرا جگری دوست بن چکا تھا میرا احترام کرنے لگا تھا ،میرے ساتھ نشست وبرخاست کرنا چاہتا تھا تاکہ مجھ سے استفادہ کرے یہ صرف اہلبیت کے راستہ پرچلنے کی برکت ہے جو بھی اہل بیت (ع) سے متمسک ہو وہ کبھی ناکامیاب نہیں ہوا اور جس نے ان کی پناہ حاصل کرنی چاہی وہ مامون ہوگیا ۔
لڑکی کے شوہر نے اپنے دیہات میں پورا قصہ نقل کردیا اور پھر تو آس پاس کے تمام دیہاتوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی بیوی اپنے شوہر کے گھر گئی اور قصہ شادی کے جواز پر تمام ہوا ۔ اور لوگ میرے بارے میں کہنے لگے یہ شخص سب سے بڑا عالم ہے حتی مفتی الجمہوریہ سے بھی زیادہ عالم ہے پھر ایک دن شوہر ایک لمبی سی کار لے کر میرے گھر آیا اور مجھے اور میرے اہل وعیال سب

256
کو اپنے دیہات چلنے کی دعوت دی کہ اہل قریہ آپ کی آمد کے منتظر ہیں اور استقبال کے لئے تیار ہیں اور خوشی منانے کے لئے تین بچھڑے کاٹیں گے ۔لیکن قفصہ میں اپنی مشغولیت کی وجہ سے میں نے معذرت کر لی اور کہا انشااللہ آؤں گا ۔
رئیس محکمہ نے بھی اپنے دوستوں سے پورا قصہ نقل کیا اور یہ بات مشہور ہوگئی اور خدا نے مکاروں کی مکاری ختم کردی پھر بعض لوگ معذرت کیلئے آئے ،کچھ لوگ ان میں شیعہ ہوگئے یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے وہ عظیم فضل والا ہے ،

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی سیدنا محمد و آلہ الطیبین الطاہرین
تما م شد شب سہ شنبہ 8 بجے شب بتاریخ 29 جنوری سنہ 1990 ء مطابق 2 رجب المرجب سنہ 1410ھ
قم المقدسہ