پھر میں ہدایت پاگیا
 

239

اہل سنت والجماعت کی اصطلاح کا موجد؟
میں نے تاریخ میں بہت ڈھونڈ ھا لیکن مجھے صرف اتنا ملا کہ جس سال معاویہ تخت حکومت پر بیٹھا سب نے مشفق ہو کر اس سال کا نام " عام الجماعت " رکھ دیا ۔واقعہ یہ ہے کہ عثمان کے قتل کئے جاسے کے بعد امت دوحصوں میں بٹ گئی (1) شیعیان علی (2) پیروان معاویہ اور جب حضرت علی شہید کردیئے گئے اور معاویہ نے امام حسن صلح کرلی اور معاویہ امیر المومنین بن گیا تو اس سال کا نام " عام الجماعۃ " رکھا گیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل سنت والجماعت وہ جماعت ہے جو سنت معاویہ کی پیروی کرتی ہے اور معاویہ پر اجتماع کرتی ، اس کا مطلب رسول اللہ کی پیروی کرنے والی جماعت نہیں اسلئے ماننا پڑیگا کہ اہلبیت رسول ہی اپنے جد کی سنت کوسب سے زیادہ جاننے والے ہیں نہ یہ طلقاء ! اس لئے کہ گھر والے ہی گھر کی بات کو زیادہ جانتے ہیں اور مکہ والے ہی مکہ کی گھاٹیوں کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ، لیکن ہم نے ائمہ اثنا عشر کی مخالفت کی جن کے رسول خدا نے نص کردی تھی ، اور بارہ اماموں کے دشمنوں کی ہم نے پیروی شروع کردی ۔
اور اس حدیث کے اعتراف کے باوجود جس میں رسول خدا نے بارہ12 خلیفہ کاذکر فرمایا ہے اور کہا ہے یہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔ہم جب بھی خلفاء کا شمار کرتے ہیں ۔ چوتھے خلیفہ پرآکر ٹھہر جاتے ہیں ۔ اور شاید معاویہ نے ہم لوگوں کانام جو اہل سنت والجماعت رکھا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی وار اہل بیت کے لئے اس نے جو لعنت کی سنت جاری کی ہے اس پر لوگ مجتمع ہوجائیں اور معاویہ کی یہ سنت 60 سال تک جاری رہی عمربن عبدالعزیز کے علاوہ کوئی اس کو ختم نہیں کرسکا اسی لئے بعض مورخین کا بیان ہے کہ عبدالعزیز اگر چہ خود بھی اموی تھا لیکن بنی امیہ نے اس کے قتل کا پلان آپسی مشورہ سے تیار کرلیا تھا ، کیونکہ (اس نے سنت (یعنی حضرت علی پر لعنت ) کو ختم کردیا تھا
240
اے میرے خاندان والو! اے میرے گھر والو ہم کو تعصب چھوڑ کر حق کو تلاش کرنا چاہیئے ۔کیونکہ ہم بنی عباس کے بھینٹ چڑھائے ہوئے ہیں ہم بزرگوں کے جمود فکری کے شکار ہوئے ہیں ہم تو معاویہ ،عمر وعاص ،مغیرہ بن شعبہ جیسے چالاک ومکار لوگوں کی مکاری وچالبازی کے شکار ہوئے ہیں ۔۔۔ اپنی حقیقی اسلامی تاریخ کو تلاش کرو تاکہ روشن حقائق تک ہماری رسائی ہوسکے ۔خدا اس کا دہرا اجر دےگا ۔ہوسکتا ہے تمہارے ہی ذریعہ سے خدا ورسول اسلام کے بعد مصائب میں گرفتار امت مسلمہ کے افتراق کو اتفاق سے بدل دے یہ امت 73 فرقوں میں بٹ چکی ہے ممکن ہے تمہاری وجہ سے پھر ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردے ۔
آؤ آؤ ہم سب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور اتباع اہلبیت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوکر امت مسلمہ کو متحد کرسکیں ۔ اہل بیت رسول وہ ہیں جن کی اتباع کا حکم رسول خدا نے ہم کو دیا ہے اور فرمایا ہے ، اہل بیت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ۔ اور ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ ہلاکت تمہار ا مقدر بن جائے گی ۔ ان کو تعلیم دینے کی کوشش نہ کرنا یہ تم سب سے زیادہ عالم ہیں (1)
اگر ہم ایسا کریں گے تو خدا اپنی ناراضگی اور اپنے غضب کو ہم سے اٹھالے گا ۔اور خوف کے بعد ہمارے لئے امن قرار دے گا اور ہم کو زمین پر متمکن بنادےگا اور ہم کو زمین پر خلیفہ بنادےگا اور ہمارے لئے اپنے ولی الامام المھدی (عج) کو ظاہر کردے گا۔ جن کیلئے رسول اللہ (ص) نے ہم سے وعدہ کیا ہے ، وہ ظاہر ہو کر دنیا کو عدل ،انصاف سے اسی طرح پر کردیں گے جس طرح ہو پہلے ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔ اور انھیں کے ذریعہ پوری زمین میں خدا اپنے نور کو مکمل کرےگا ۔
٭٭٭٭٭
--------------
(1):- الدر المنثور (سیوطی) ج 2 ص 60 اسد الغابہ ج 3 ص 127 الصوعق المحرقہ (ابن حجر) ص 148،226 ،ینا بیع المودۃ ص 41 و355 کنز العمال ج 1ص 168 مجمع الزوائد ج 9 ص 163

241

مناظرہ کی دعوت
یہ تبدیلی میری روحانی سعادت کا سبب بنی کیونکہ میں نے نئے مذہب کے انکشاف یا اسلام حقیقی تک رسائی کی وجہ سے ضمیر کی راحت ودل کی فرحت کا احساس کیا اور خوشبو ں نے مجھے گھیر لیا اور خدا کی نعمت ہدایت ورشاد سے سرشار ہوگیا اور اب میرے دل میں جو خیالات تھے ان کے چھپانے پر میں کسی طرح قادر نہیں تھا ۔ چنانچہ میں نے اپنے دل میں کہا بمفاد آیۃ "واما بنعمۃ ربک فحدث " اپنے دل کی بات کا لوگوں سے بیان کرنا ضروری ہے اور یہ نعمت ایمان توبہت بڑی نعمت ہے دنیا وآخرت میں نعمت کبری کہلانے کی یہی مستحق ہے نیز حق بات نہ کہنے والا گونگا شیطان ہے اور حق کےبعد تو گمراہی کے سواکچھ نہیں ہے ان سب باتوں کو سوچتے ہوئے اظہار کرنا ضروری سمجھا اور جس بات نس اس حقیقت کو نشر کرنے کیلئے میرے شعور کو مزید یقین وپختگی بخشی وہ اہل سنت والجماعت کی اہل بیت سے دور تھی ، میں نے سوچا ہوسکتا ہے تاریخ نے ان کے ذہنوں پر جو حال بچھا رکھا ہے وہ پردہ اٹھ جائے اوریہ لوگ بھی حق کی پیروی کنے لگیں یہ میری شخصی وذاتی رائے تھی ۔ "کذالک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم "(پ 5 س 4 (نساء ) آیۃ 94 )(مسلمانو) پہلے تم خود بھی تو ایسے ہی تھے پھر خدانے تم پر احسان کیا (کہ تم بے کھٹکے مسلمان ہوگئے )
چنانچہ معہد میں جو چاراساتذہ میرے ساتھ کام کرتے تھے میں نے ان کو دعوت دی ، ان میں سے دوتو دینی تربیت دیتے تھے ، اور تیسرا زبان عربی کا استاد تھا اور چوتھا اسلامی فلسفہ کا استاد تھا اور یہ چاروں قفصہ کے نہیں تھے ، بلکہ ٹیونس ،جمال سوسہ کے رہنے والے تھے میں نے ان لوگوں سے کہا آپ لوگ اس عظیم موضوع پر مجھ سے بحث کیجئے میں نے انپر ہی ظاہر کیا تھا کہ میں بعض چیزوں کو سمجھ نہیں پایا ہوں اور اس سلسلہ میں بہت مضطرب وپریشان ہوں اس لئے آپ حضرات میری رہنمائی فرمائیں ۔سب نے

242
وعدہ کرلیا کہ چھٹی کےبعد میرے گھر پر آئیں گے میں نے ان کو کتاب "المراجعات"پڑھنے کو دیا کہ اس کتاب کا مولف عجیب وغریب باتوں کا دعوی کرتا ہے ان میں سے تین نے تو کتاب کو بہت پسند کیا ۔ لیکن چوتھے نے چارپانچ نشستوں کے بعد یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرلی ، مغرب چاند پر کمند ڈال رہا ہے اورآپ لوگ ابھی تک خلافت اسلامیہ کےچکر میں الجھے ہیں ۔
ہم نے ایک ماہ کے اندر ابھی کتاب ختم بھی نہیں کی تھی کہ وہ تینوں شیعہ ہوگئے ، اس سلسلہ میں میں نے بھی حقیقت تک پہونچنے میں ان کی بڑی مدد کی کیونکہ دوران تحقیق میری معلومات کا فی وسیع ہوگئی تھیں اور میں ہدایت کامزہ چکھ چکا تھا ، اس کے بعد میں نے عادت بنائی کہ ہر مرتبہ قفصہ کے دوستوں میں سے اور مسجد میں دروس کہنے کہ وجہ سے لوگ مجھ سے رابطہ رکھتے تھے ان میں سے صوفیت کے رشتہ کی بنا پر جن لوگوں سے تعلقات استوار تھے ان میں سے اور بعض ان شاگردوں میں سے جو ہمہ وقت مجھ سے اتصال رکھتے تھے ،ان میں سے کسی نہ کسی ایک کو بلاتا رہتا تھا اور تبلیغ کرتا رہتا تھااور ابھی ایک سال ہی گزر ا تھا کہ ہماری تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ۔ ہم اہلبیت کو اور ان کے دوستوں کو دوست رکھتے تھے ، اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے تھے عیدوں میں خوشی مناتے تھے اور عاشورہ کو غم مناتے تھے مجلس کرتے تھے ، جب میں نے قفصہ میں پہلی مرتبہ محفل عید غدیر منعقد کی تو اسی کی مناسبت سے سب سے پہلا خط اپنے شیعہ ہوجانے کا السید الخوئی اور السید محمد باقر الصدر کو تحریر کیا اور میرا معاملہ خاص وعام کے نزدیک مشہور ہوچکا تھا کہ میں شیعہ ہوگیا ہوں ، اور آل رسول کے تشیع کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہوں اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ میرے خلاف اتہامات والزمات کا سلسلہ بڑے زور وشور سے شروع ہوگیا ۔ مثلا میں اسرائیل کا جاسوس ہوں میرا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے دین کے معاملہ میں مشکوک بنادوں ،یا مثلا میں صحابہ کو گالیاں دیتا ہوں یا میں بہت بڑا فتنہ پرداز ہوں وغیرہ وغیرہ ۔
دارالسلطنت ٹیونس میں میں نے اپنے دوستوں راشد الغنوشی اور بعد الفتاح مورو سے اتصال پیدا کیا ان دونوں سے بڑی سخت بحث ہوئی ۔ ایک دن عبدالفتاح کے گھر بات کرتے ہوئے میں نے کہا مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے اوپر اپنی کتابوں کا پڑھنا ،تاریخوں کا مطالعہ کرنا واجب ہے

243
اور میں نے بطور مثال کہا جیسے بخاری میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو نہ عقل قبول کرتی ہے نہ دین قبول کرتا ہے بس اتنا کہنا تھا کہ دونوں بھڑک اٹھے ،آپ کون ہیں بخاری پر تنقید کرنے والے ؟ اس کے بعد میں نے بہت کوشش کی کہ ان کو قانع کرکے پھر سے بحث کا سلسلہ شروع کروں لیکن ان لوگوں نے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرلی : اگر تم شیعہ ہوگئے ہو تو ہم تو کسی قیمت پر شیعہ نہ ہوں گے ہمارے پاس اس سے زیادہ اہم کام ہیں ، ہم کو اس حکومت کا مقابلہ کرنا ہے جو اسلام پر عمل نہیں کرتی میں نے کہا اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ جب اقتدار تمہارے ہاتھ میں آجائے گا اور تم خود اسلام کی حقیقت کو نہ پہچانتے ہوگے تو اس سے بھی زیادہ کروگے ،مختصر یہ کہ ملاقات کا خاتمہ نفرت پر ہوا ۔
اس کے بعد تو ہمارے خلاف شدید قسم کے پروپیگنڈے شروع ہوگئے اور اس میں اخوان المسلمین کے وہ لوگ بھی شریک ہوگئے جو اسلامی تحریک کے رخ کو نہیں پہچانتے تھے چنانچہ متوسط قسم کے طبقہ میں انھوں نے میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ شخص حکومت کا ایجینٹ ہے اور مسلمانوں کو ان کے دین میں مشکوک بنانا چاہتا ہے تاکہ مسلمان جو حکومت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اس سے غافل ہوجائیں ۔
اخوان المسلمین میں کام کرنے والے جوان اور صوفیت کاپرچار کرنے والے بوڑھے رفتہ رفتہ ہم سے الگ ہوگئے اورہم خود اپنے شہروں میں قبیلہ میں ، رشتہ داروں میں ، دوستوں میں اجنبی ہوکر رہ گئے اور یہ زمانہ بڑا سخت ہمارے اوپر گزرا ،لیکن خداوند عالم نے ہم کو ان کے بدلے میں ان سے اچھے لوگ دیدئیے چنانچہ دوسرے دوسرے شہروں سے جوان آنے لگے اور مجھ سے حقیقت کےبارے میں سوال کرنےلگے اور میں اپنی حد بھر انتہا سے زیادہ کوشش کرکے ان کم مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا چنانچہ دارالسلطنت قیراوان ،سوسہ ، سید بو زید کے بہت سے جوان شیعہ ہوگئے اور میں اپنی گرمیوں کی تعطیلات منانے کیلئے عراق جاتے ہوئے یورپ سے بھی گزرا جہاں اپنے بعض دوستوں سے ملاقات کی جو فرانس یا ہا لینڈ میں تھے اور ان سے جب اس موضوع پر بات کی توہ لوگ بھی شیعہ ہوگئے ، الحمد للہ علی ذلک ۔۔۔۔۔
جب میں نے نجف اشرف جاکر سید محمد باقر الصدر کے گھر میں ان سے ملاقات کی اور اس جگہ کچھ دیگر علماء

244
بھی تھے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور سید صدر نے مجھے آگے بڑھا کر سب سے متعارف کرانا شروع کیا کہ یہ ٹیونس میں تشیع کے بیج ہیں اور اسی کے ساتھ انھوں نے بتایا کہ جب ان کا پہلا خط عید غدیر کی محفل کے سلسلے میں میرے پاس آیا تو میں اتنا متاثر ہو ا کہ بیساختہ میری آنکھوں سےآنسو بہنے لگے تب میں نے ان سے شکایت کی کہ میرے خلاف پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں اور مجھے گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑگئی ہے اور یہ باتیں اب میرے برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہیں !
اس وقت سید نے اپنے کلام کے درمیان فرمایا : بھائی یہ زحمتیں تو تم کو برداشت کرنی ہوگی کیونکہ اہل بیت کا راستہ بہت دشوار وسخت ہے ایک شخص نے پیغمبر (ص) کے پاس آکر کہا میں آپ کو دوست رکھتا ہوں تو آنحضرت نے فرمایا " تم کو کثرت ابتلاء کی بشارت دیتا ہوں ،پھر اس نے کہا میں آپ کے ابن عم علی ابن ابی طالب(ع) سے بھی محبت کرتاہون تو رسول(ص) نے کہا" میں تجھ کو کثرت اعداء کی بشارت دیتاہوں ، پھر اس نے کہا ! میں حسن وحسین کوبھی دوست رکھتا ہوں تو فرمایا " پھر فقر اور کثرت بلاء کے لئے تیار ہوجاؤ ، ہم نے دعوت حق کے سلسلہ میں کیا پیش کیا ہے ؟ امام حسین علیہ السلام کو دیکھو انھوں نے دعوت حق کی قیمت اپنی ، اپنے اہل وعیال کی، ذریت وخاندان کی ، اصحاب وانصار کی قربانی پیش کرکے ادا کی ہے اور مرور زمانہ کے ساتھ شیعوں ن ےجو قربانیاں دی ہیں ،اور آج تک دیتے چلے آرہے ہیں ان کے مقابلہ میں ہم نے کیا کیا ؟ برادر اس قسم کی پریشانیوں اور راہ حق میں قربانی کی مشقت کاتحمل کرو ، اگر تمہارے ذریعہ سے ای آدمی ہدایت یافتہ ہوجائے تویہ تمہارے لئے دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ،
اسی طرح سید نے مجھے نصیحت کی کہ گوشہ نشینی اختیار نہ کرو اورحکم دیا کہ برادران اہل سنت کے قریب رہو چاہے وہ تم سے کتنے ہی دور ہونے کی کوشش کریں تم ان سے قربت اختیار کرو ۔ نیز مجھے حکم دیا کہ ان کے ساتھ نماز جماعت پڑھوں تا کہ قطع تعلق نہ ہونے پائے کیونکہ یہ لوگ اپنے بزرگوں اور واہیات تاریخ کے قربان گاہ پر بھینٹ چرھادیے گئے ہیں ۔ اور لوگ جس سے واقف نہیں ہوتے اس کے دشمن تو ہوتے ہی ہیں

245
اسی طرح تقریبا السید الخوئی نے بھی مجھے نصیحت فرمائی اور سید محمد علی طباطبائی الحکیم نے بھی اسی قسم کی نصیحت کی اور برابر اپنے متعدد خطوط میں اس قسم کی نصیحتیں تحریر کرتے رہے جس کا اثر ہمارے نئے شیعہ بھائیوں پر بہت ہوا ، اس کے بعد مختلف مواقع پر نجف اشرف اور علمائے نجف کی زیارت سے مشرف ہوتا رہا اور میں نے اپنی جگہ طے کر لیا تھا کہ ہرقیمت پر ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں نجف اشرف میں گزارا کرونگا اور سید محم باقر الصدر کے دروس میں شرکت کیا کروں گا کیونکہ اس کے دروس سے میں سے کافی استفادہ کیاتھا ۔اسی طرح یہ بھی طے کر لیا تھا کہ بارہ اماموں کی زیارت بھی کروں گا چنانچہ خدانے میری تمنا پوری کردی ،یہاں تک کہ میں امام رضا کی زیارت سے بھی مشرف ہوا جن کامزار ایران کے ایک شہر مشہد میں ہے جو روس کی سرحدوں سے قریب ہے وہاں بھی میں نے بڑے علماء سے ملاقات کی اور استفادہ کیا ، سید خوئی جن کی میں تقلید کرتاہوں انھوں نے خمس وزکاۃ میں تصرف کا وکالتنامہ بھی دیا تاکہ اس سے شیعہ ہونے والے مسلمانوں کی کتابوں وغیرہ سے مدد کرتا رہوں اور میں نے ایک عظیم کتابخانہ بنا یا جس میں وہ اہم کتابیں بہر حال جمع کردیں جن کی ضرورت بحث کے وقت ہوتی ہے اس میں سنی وشیعہ دونوں کی کتابیں موجود ہیں اس کا نام " مکتبۃ اہل البیت (ع)" ہے اس سے بہت لوگوں نے استفادہ کیا ہے ،خداوند عالم نے میری خوشی کو دگنا اور میری سعادت کو اس وقت دگنا کردیا جب تقریبا پندرہ سال پہلے میں نے شہر قفصہ کے حاکم سے خواہش کی کہ جس سڑک پر میں رہتا ہوں اس کا نام " شارع الاما م علی " رکھ دیا جائے اور اس نے قبول کرلیا لہذا میں اس کا شکر گزار ہوں یہ حاکم حضرت علی طرف بہت جھکاؤ رکھتا ہے میں نے اس کو بطور تحفہ "المراجعات" بھی دی ۔خدا اس کو جزائے خیر دے اور اس کی تمنا پوری کرے لیکن بعض حاسدوں نے ا س بورڈ کو ہٹاناچاہا مگر خدانے ان کو ناکامیاب بنادیا ، اور اب دنیا کے ہر گوشہ سے میرے پاس جوخطوط آتے ہیں ان کے پتہ پر "شارع امام علی" لکھا ہوتا ہے اس مبارک نام سے ہمارے قدیم شہر کو بہت برکت عطا کی ، ائمہ معصومین او رعلمائے نجف کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے دیگر مسلمان بھائیوں سے عمدا قربت پیدا کرتا ہوں ، انھیں کے ساتھ جماعت پرھتا ہوں جس سے کھینچاؤ میں کافی کمی آگئی ہے اور جوانوں کو اپنی نماز وضو ،عقائد کے سلسلہ میں جب وہ سوال کر تے ہیں تو کافی حد تک مطمئن کردیتا ہوں ۔