پھر میں ہدایت پاگیا
 

231

نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد
اس تحقیق و تفتیش کرے دوران میں اس نتیجہ پر پہونچا کہ امت مسلمہ پر سب سے بڑی مصیبت جو پڑی ، وہ اصحاب کرام کا نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اجتھاد کرنا ہے " اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حدود خدا پائمال ہوئے سنت رسول (ص) مٹ گئی صحابہ کے بعد پیدا ہونے والے ائمہ اور علما صحابہ کے اجتہاد پر قیاس کرنے لگے اور انتہا یہ ہوگئی کہ بعض اوقات اگر صحابہ کا فعل سنت نبوی بلکہ نص قرآنی سے ٹکرا گیا تو یہ لوگ اصحاب کے فعل کو حجت مانتے تھے اور سنت رسول ونص قرآنی کوچھوڑ دیتے تھے ،آپ اس کو مبالغہ نہ سمجھیں اسی کتاب میں عرض کرچکا ہوں کہ قرآن میں تمیم کے لئے نص صریح موجود ہونے اور سنت رسول مین اس کے ثابت ہونے کے باوجود اصحاب نے خود رائی سے کام لیا اور کہدیا کہ اگر پانی نہ ملے تو نماز چھوڑ دو اور عبداللہ بن عمر نے اس اجتہاد کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ایک علت بیان کردی جس کو ہم اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ ذکر کرچکے ہیں
اصحاب میں میں جس نے سب سے پہلے باب اجتہاد کو پاٹوں پاٹ کھولا ہے وہ خلیفہ ثانی ہیں جنھوں نے وفات رسول کے بعد قرآنی نصوص کے مقابلہ میں اپنی رائے استعمال فرمائی ہے چنانچہ قرآن نے مستحقین زکات کی آٹھ قسموں میں ایک قسم مولفۃ القلوب کی رکھی ہے لیکن حضرت عمر نے مولفۃ القلوب کا حصہ یہ کہہ کر ختم کردیا کہ ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہے "
اور نصوص نبوی کے مقابلہ میں اجتہاد اتنے زیادہ کئے ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ حضرت تو خود پیغمبر (ص) کی زندگی میں کئی مرتبہ آپ ہی سے ٹکرائے گئے تھے صلح حدیبیہ اور مرض الموت میں قلم ودوات کا نہ دینا اورحسبنا کتاب اللہ کہدینے کا تذکرہ میں اسی کتاب میں کرچکا ہوں ۔ لیکن یہاں پر ایک دوسرا واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں ، اور شاید اس سے عمر کی نفسیات کا مزید اندازہ ہوسکے کہ اس شخص نے جیسے طے کر رکھا تھا ، کہ سر کار رسالت سے مجادلہ ،معارضہ ،مناقشہ ضرور کروں گا ۔ واقعہ یہ ہے کہ رسولخدا (ص) نے ابو ہریرہ کو یہ کہہ کر

232
بھیجا کہ تمہاری ملاقات جس شخص سے ہو اور اس کو دیکھو کہ (زبان سے )لا الہ الا اللہ کہہ رہا ہو اور دل سے اس کا یقین بھی رکھتا ہو تو تم اس کو جنت کی بشارت دیدو ۔ ابو ہریرہ نکلے اور (اتفاق سے )عمر سے ملاقات ہوگئی ۔ عمر نے پورا واقعہ سن کر ان کو روکا کہ یہ نہ کرو اور اتنی دھنائی کی کہ ابو ہریرہ چوتڑوں کے بھل زمین پر گر پڑے اور پھر روتے ہوئے رسول خدا(ص) کی خدمت میں پہونچے اور پورا ماجرا سنایا ۔رسول (ص) نے عمر سے کہا تم نے یہ کیوں کیا ؟ عمر نے کہا " کیا آپ نے اس کو بھیجا تھا کہ جو شخص دل سے یقین رکھتے ہوئے زبان سے لا الہ الا اللہ کہے اس کویہ جنت کی بشارت دیدے ؟ رسول (ص) نے فرمایا : ہاں ! عمر نے کہا ایسا مت کیجئے مجھے ڈر ہے لوگ صرف لا الہ الا اللہ ہی پر بھروسہ کرنے لگے گے ! اور حضرت عمر کے صاحبزادے کو یہ خطرہ تھا کہیں لوگ تمیم پر بھروسہ نہ کرلیں اس لئے وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے : احتلام کے بعد پانی نہ ملے تو نماز چھوڑ دیا کرو ۔۔کاش یہ لوگ نصوص کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے اپنے عظیم اجتہاد سے اس کو بد لنے کی کوشش نہ کرتے جس کے نتیجہ میں شریعت کو مٹادیا ،حرمات الہی کو بیکار کردیا ، امت مسلمہ کو متعدد مذاہب ،مخلتف آراء اور فرقوں میں بانٹ دیا ۔
عمر کی متعدد مقامات پر رسول اور سنت رسول کی مخالفت کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ رسول کو معصوم نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک عادی انسان سمجھتے تھے جو کبھی غلطی کرتا ہے اور کبھی حق تک پہونچ جاتا ہے اور یہیں سے اہل سنت والجماعت کے علماء کا یہ عقیدہ ہوگیا کہ رسول اللہ صرف تبلیغ قرآن میں معصوم تھے اس کے علاوہ دیگر امور میں دیگر انسانوں کی طرح خطا کرتے تھے اور اس عقیدہ پر دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کئی مرتبہ ان کی رائے کی غلطی کی اصلاح کی ۔
جب رسول (ص) کا یہ عالم تھا ۔۔۔جیسا کہ بعض جاہل لوگ روایت کرتے ہیں ۔۔۔کہ آپ اپنے گھر ميں چت لیٹے ہوئے تھے ۔ اور شیطان کی بانسری سن ر ہے تھے اور عورتیں دف بجارہی تھیں اور شیطان کھیل رہا تھا کہ اتنے میں عمر گھر میں داخل ہوئے (ان کو دیکھتے ہی ) شیطان بھاگا اور جلدی جلدی عورتوں نے دفوں کو اپنے اپنے چوتڑوں کے نیچے چھپالیا ، تو رسول خدا نے فرمایا : اے عمر جب شیطان تم کو دیکھتا ہے کہ تم ایک گھاٹی سے جارہے ہو تو وہ دوسری گھاٹی سے راستہ طے کرتا ہے تو پھر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

233
کہ دین کے معاملات میں عمر اپنی ذاتی رائے رکھتے ہوں اور اپنے کو اس قابل سمجھتے ہوں کہ سیاسی امور میں بلکہ دینی امور میں بھی رسول خدا سے معارضہ کرسکیں جیسا کہ ابو ہریرہ کا واقعہ شاہد ہے ۔
نصوص کے مقابلہ میں ذاتی رائے کے استعمال کرنے اور اجتہاد کرنے کے نظر یہ سے صحابہ کے اندر ایک مخصوص جماعت پیدا ہوگئی تھی جس کی قیادت عمربن خطاب کرتے تھے ۔ اور یہی وہ جماعت تھی جس نے واقعہ قرطاس پر حضرت عمر کی بھرپور تائید کی تھی ،حالانکہ عمر کی رائے نص صریح کے مقابلہ میں تھی ، اور اسی سے ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ اس جماعت نے نص غدیر کو ایک سیکند کے لئے بھی قبول نہیں کیا تھا ، جس میں رسول خدا نے حضرت علی (ع) کو خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے نامزد کیا تھا ، اور یہ لوگ موقعہ کی تلاش میں تھے چنانچہ وفات نبی کے بعد یہ موقعہ ان کو مل گیا اور سقیفہ کے اندر ابو بکر کا انتخاب اسی نظریہ اجتہاد کا نتیجہ تھا ۔ اورجب ان کی حکومت مضبوط ہوگئی اورخلافت کے سلسلہ میں لوگوں نے رسول کے نصوص کو فراموش کردیا ان لوگوں نے ہر چیز میں اجتہاد کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ کتاب خدا بھی ان کے زد سےنہ بچ سکی اور انھوں نے حدود الہی کو معطل کرنا احکام الہی کو مبدل کرنا شروع کردیا ، اسی کے نتیجہ میں حضرت علی (ع) کا حق غصب کرلینے کے بعد جناب فاطمہ (س) کا تکلیف دہ مسئلہ پیش آیا اور اس کے بعد مانعین زکات کا مسئلہ درپیش ہوا یہ سب نصوص کے مقابلہ میں اجتھاد کا نتیجہ تھا ۔ اور پھر عمر کی خلافت اسی اجتہاد کاحتمی نتیجہ تھی ، کیونکہ ابو بکر نے اپنی ذاتی رائے استعمال کرکے اس شوری کو بھی ختم کردیا جس کے سہارے اپنی خلافت کی صحت پر استدلال کرتے تھے ، اورجب جب عمر تخت خلافت پر بیٹھے تو انھوں نے مٹی کو اور بھی گیلا کردیا جس چیز کو خدا اور رسول (ص) نے حرام (1) قراردیا تھا انھوں نے اس کو حلال کردیا اور جس کو خدا اور رسول نے حلال قراردیا تھا اس کو حرام کردیا (2)
اور جب حضرت عثمان کا دور آیا تو انھوں نے حدکردی اور اپنے سے پہلے والوں سے چار قد م آگے
--------------
(1):- جیسے ایک ہی وقت میں تین طلاق کا جائز کردینا ملاحظہ وہ صحیح مسلم باب الطلاق الثلاث ،سنن ابی داود ج 1ص 344
(2):- جیسے متعہ الحج اور متعۃ النساء کو حرام کردینا ملاحظہ ہو صحیح مسلم کتاب الحج ،صحیح بخاری کتاب الحج باب التمتع

234
ہی چلے گئے ،سیاسی ودینی زندگی میں انھوں نے اجتہاد ات کے وہ کرشمے دکھائے کہ ان کے خلاف عام بغاوت ہوگئی اور اس اجتہاد کی قمیت زندگی دے کرچکائی
اور پھر جب حضرت علی (ع) کا دور آیا تو لوگوں کو سنت رسول کی طرف اور قرآن کی طرف پلٹانے میں بڑی زحمتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپ نے چاہا کہ ان بد عتوں کوختم کردیا جائے جو دین میں داخل کر دی گئی ہیں ، لیکن بعض لوگوں نے چیخنا شروع کردیا "واسنۃ عمراہ" (ہائے عمر کی سنت ختم کی جارہی ہے) مجھے یقین ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت علی کی مخالفت کی اور ان سے امادہ پیکار ہوئے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ لوگوں کو صحیح راستہ پر لانا چاہتے تھے اور ان نصوص صحیحہ کا پیرو بنانا چاہتے تھے اور ایک چوتھائی صدی تک دین میں جن بدعتوں کا اضافہ کیاگیا تھا اور جو اجتہادات کئے گئے تھے ان کا خاتمہ کردینا چاہتے تھے ا س لئے لوگوں نے مخالفت شروع کردی، کیونکہ لوگوں نے عموما اور دنیا پرستوں نے خصوصا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس لئے یہ لوگ مال خدا کو ذاتی جائداد بنانے اور اللہ کے بندوں کوغلام بنانے سونے چاندی کاڈھیر لگانے کمزوروں کے معمولی حقوق تک نہ دینے کے عادی ہوچکے تھے ،
ہم نے یہ دیکھا کہ مستکبرین ہر زمانہ میں خود رائی کی طرف مائل تھے اور اس کیلئے ڈنکا پیٹتے تھے تاکہ ہر طریقہ سے اپنا الو سیدھا کریں ۔لیکن نصوص ۔۔۔خواہ وہ قرآنی ہوں یا رسول کی ہوں ۔۔۔۔ ان کے اور ان کے مقاصد کے درمیان پہاڑ بن کر حائل ہوجاتے تھے ۔
اس کے علاوہ ہر عصر ومصر میں ایسے اجتھاد کے انصار ومددگار بھی پیدا ہوجاتے ہیں بلکہ مستضعفین بھی ایسے اجتہاد کو پسند کرتے ہیں ، کیونکہ اس میں سہولت وآسانی ہے اور نص میں پابندی وعدم حریت ہوتی ہے اس لئے سیاسی حضرات اس کو "حکم ثیو قراطی"یعنی خدائی حکم کہتے ہیں اور اجتہاد میں کسی قسم کی قید وبند نہیں ہوتی اسمیں حریت ہوتی ہے اس لئے اس کو "حکم دیمقراطی" یعنی جمہوری کہتے ہیں ۔ پس سقیفہ میں جمع ہونے والےحضرات نے "حکومت ثیوقراطیہ " کو جس کی بنیاد رسول اسلام نے نصوص قرآنی پر رکھی تھی ، حکومت دیمقراطیہ سے بدل دیا ،جس میں پبلک جس کو مناسب سمجھے اس کو قائد چن لے حالانکہ صحابہ کلمہ

235
دیمقراطیہ کو تو جانتے ہی نہ تھے کیونکہ یہ عربی نہیں ہے اس کی جکہ نظام شوری کو جانتے وپہچانتے تھے (1)۔ آج جو لوگ نصی خلافت کو نہیں مانتے وہ نظام دیمقراطی کے علمبردار ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں سب سے پہلے اسلام نے اس نظام کو جاری کیا ہے ۔ یہی لوگ اجتہاد وتجدید کے نعرے لگاتے ہیں اور یہ لوگ بڑی حد تک مغربی نظام سے قریب ہیں ، اسی لئے مغربی حکومتیں ان لوگوں کی بڑی تعریفیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ درحقیقت یہی لوگ ترقی پسند مسلمان ہیں ۔
لیکن شیعہ حضرات حکومت ثیوقراطیہ کے قائل ہیں ( یعنی خدائی حکومت کے) اور یہ لوگ نص کے مقابلے میں اجتہاد کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ لوگ حکومت ا لہی اور حکومت شورائی میں فرق کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک شوری کا نصوص سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اجتہاد وشوری صرف ان مقامات پر قابل قبول ہے جہاں پر قرآن یا رسول کی نص موجود نہ ہو ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس خدا نے محمد (ص) کو رسول بنا کر بھیجا اسی نے ان کو حکم دیا "وشاورھم فی الامر "(پ 4 س 3 (آل عمران) آیت 159) اور ان سے (حسب دستور سابق)کا م کاج میں مشورہ کرلیا کرو۔۔۔۔لیکن جہاں تک قیادت بشر (امامت وخلافت )کا سوال ہے اس میں خدا کا حکم ہے " وربکم یخلق ما یشاء ویختار ما کان لھم الخیرۃ "( پ 20س 28 (قصص) آیت 68) اور تمہار پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور( جسے چاہتا ہے ) منتخب کرتا ہے اور یہ انتخاب لوگوں کے اختیار میں نہیں ہے ۔ پس شیعہ چونکہ رسول خدا کے بعد حضرت علی کی امامت کے قائل ہیں اس لئے وہ نص سے تمسک کرتے ہیں اور اگر وہ صحابہ پر طعن کرتے ہیں تو صرف صحابہ پر جنھوں نے نص کو چھوڑ کر ذاتی رائے پر عمل کرنا شروع کردیا ، اور اس طرح حکم خدا اور رسول کو ضائع وبرباد کردیا اور اسلام میں اتنا بڑا شگاف پیدا کردیا جو آج تک پر نہ ہوسکا ۔ اور اسی لئے مغربی حکومتیں اور ان کے مفکرین شیعوں کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کو متعصب ورجعت پسند کہتے ہیں ۔ کیونکہ شیعہ قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں جو قرآن چور کے ہاتھ کاٹنے کا زانی کو رجم کرنے کا جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے اور یہ ساری باتیں ان کی نظر میں
--------------
(1):-ویسے واقعہ یہ ہے کہ جمہوری نظام پر بھی انتخاب نہیں کیا گیا کیونکہ جن لوگوں نے ابوبکر کو چنا تھا وہ کسی بھی طرح عوام کے نمائندے نہ تھے

236
جنگی پن اور بربریت ہیں ۔
اس بحث کے درمیان میں بات کو اچھی طرح سمجھ گیا ، کہ دوسری صدی ہجری سے اجتہاد کا دروازہ سنیوں نے کیوں بند کردیا اس لئے کہ اسی اختہاد نے امت مسلمہ کو مصائب ،پریشانیوں ،ایسی خونی جنگوں میں مبتلا کردیا جس نے ہر خشک وتر کو تباہ کردیا ، اسی اجتہاد نے اس خیر امت کو ایسی پست قوم میں مبتلا کردیا ۔ جس میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔جس پر قبائل نظام کی حکمرانی ہے جو اسلام سے پھر جاہلیت کیطرف پلٹ چکی ہے ۔
البتہ شیعوں کے یہاں جب تک نصوص موجود ہیں اجتہاد کادروازہ بھی کھلا ہے کسی کو ان نصو ص میں تبدیلی کاحق نہیں ہے اور اس سلسلہ میں شیعوں کی سب سے زیادہ مدد ان بارہ اماموں نے کی ہے جو اپنے جد (رسول خدا ) کے علوم کے وارث تھے کیونکہ ان تمام ائمہ کی روش ایک تھی ،اور ان کہنا تھا : دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں خدا نے حکم نہ دیا ہو اور رسول نے اس کو بیان نہ کیا ہو (یعنی ان کے یہاں ذاتی راۓ کی گنجائش نہیں ہے)۔
اور میں اس بات کو بی سمجھ گیا کہ جب اہل سنت والجماعت نے ان اصحاب کی اقتدا ء کی جو ایسے مجتہد تھے ۔ کہ جنھوں نے احادیث نبوی کو قلمبند کرنے سے روک دیا تھا ۔ تو غیاب نصوص کی صورت میں یہ لوگ رائے ،قیاس ، استصحاب پر عمل کرنے کیلئے مجبور ہوگئے ۔
اور ان تمام باتوں سے یہ بھی سمجھ گیا کہ شیعہ علی بن ابی طالب ہی سے وابستہ رہے جو باب مدینۃ العلم تھے " اورجو لوگوں سے کہا کرتے تھے ۔ مجھ سے ہر چیز کے بارے میں پوچھ سکتے ہوکیونکہ رسول خدا نے مجھے علم کے ہزار بات تعلیم کردیئے ہیں اور ایک ایک باب سے ہزار ہزار بات میرے اوپر کھل گئے ہیں (1)۔اور غیر شیعہ معاویہ ابن ابی سفیان سے چپک گئے جس کوسنت نبوی کا علم ہی نہیں تھا اگر تھا بھی تو بہت ہی کم ۔ اور یہی معاویہ جو باغی گروہ کا لیڈر تھا حضرت علی (ع) کی وفات کے بعد مومنین کا امیر بن بیٹھا اور دین خدا میں اپنی رائے پر اتنا زیادہ عمل کیا کہ اس کے پیشرو اس سے کہیں پیچھے رہ گئے اور اہلسنت حضرات فرماتے ہیں معاویہ کاتب وحی تھا ۔ اور علمائے مجتہدین میں سے تھا میری سمجھ میں بات نہیں آئی کہ جس نے امام حسن سید شباب اہل الجنہ کو
--------------
(1):- تاریخ دمشق ج 2 ص484 حالات حضرت علی ،مقتل الحسین (خوارزمی )ج 1 ص 38 ،الغدیر (امینی)ج 3 ص 120

237
زہر سے قتل کرایا ہو یہ لوگ اس کو کیونکر مجتہد مانتے ہیں ؟ شاید اس کا بھی جواب یہ لوگ دیں کہ یہ بھی اس کا اجتہاد تھا اس نے اجتہاد کیا مگر اس میں غلطی ہوگئی ۔۔۔۔
نہ معلوم یہ لوگ اس شخص کو کیونکر مجتہد کہتے ہیں جس نے امت سے ظلم وجبر کے ذریعہ اپنے لئے پھر اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کیلئے بیعت لی اور نظام شوری کو شہنشاہی میں بدل دیا ؟ جس شخص نے لوگوں کو حضرت علی اور ذریت مصطفی پر منبروں سے لعنت کرنے پر مجبور کیا ہو اور یہ سنت سئیہ ساٹھ سال تک جاری رکھی ہو اس کو یہ لوگ کیونکر مجتہد تسلیم کرکے ایک اجر کا مستحق قراردیتے ہیں ؟ اور اس کو کاتب الوحی کس طرح کہتے ہیں؟ ۔۔۔کیونکہ رسول اللہ پر 23 سال تک وحی نازل ہوتی رہی اس 23 سال میں 11 سال تک معاویہ مشرک رہا اور رسول خدا فتح مکہ کےبعد مکہ میں اقامت پذیر نہیں ہوئے اور معاویہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا اس کے بعد کوئی ایسی روایت مجھے نہیں ملی کہ معاویہ نے مدینہ میں سکونت کی ہو پھر معاویہ کسی طرح کاتب وحی ہوگیا ؟ لا حول ولا قوۃ الا با اللہ العلی العظیم۔
میں وہی پرانا سوال پھر دہراتاہوں کہ دونوں میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر تھے ۔ اوریا پھر معاویہ اور اس کے پیروکار ظالم تھے اور باطل پر تھے حالانکہ رسول خدا نے دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ کردیا تھا ، اگرچہ بعض سنی جو مدعی سنت ہیں اس میں کج بحثی کرتے ہیں اور مجھ پر بحث کے دوران اور معاویہ کا دفاع کرنے والے حضرات سے گفت وشنید کرنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ معاویہ اور اس کے پیروکار سنت رسول کے بہر حال پیرو نہیں تھے خصوصا اگر کوئی ان کے حالات پر مطلع ہوجائے تو اسے بھی اس کا یقین ہوجائے گا کیونکہ یہ لوگ شیعیان علی سے بغض رکھتے ہیں،۔ عاشور ہ کے دن عید مناتے ہیں ، جن اصحاب نے رسول خدا کو ان کی زندگی میں اذیت پہونچا کران کی زندگی اجیرن کردی تھی ، ان کا دفاع کرتے ہیں ان کی غلطیوں کو سراہتے ہیں ، ان کے اعمال کوجائز قراردیتے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ حضرت علی اور اہلبیت کو بھی دوست رکھیں اور ان کے دشمنوں اور قاتلوں کو رضی اللہ بھی کہتے رہیں ؟ کیایہ ہوسکتا ہے کہ آپ خدا اور رسول کو بھی دوست رکھیں اورجو لوگ

238
خدا اور رسول (ص) کے احکام کوبدل دیتے ہیں اور احکام الہی میں اپنی رائے سے اجتہاد وتاویل کرتے ہیں انکا بھی دفاع کریں ؟
جو شخص رسول اللہ کا احترام نہ کریں بلکہ ان پر ہذیان کا اتہام لگائے آپ لوگ کیسے اس کا احترام کرتےہیں ؟ جو لوگوں کو اموی یا عباسی حکومت نے اپنے سیاسی اغراض کے پیش نظر امام بنایا ہو اس کی تو آپ لوگ تقلید کرتے ہیں ؟ اور جن کے اسماء(1)۔ اور تعداد (2) تک کو رسول اللہ نے معین کرکے بتادیا ہو ان کو آپ چھوڑ دیتے ہیں ؟ آخر یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ جو شخص نبی کی صحیح معرفت نہ رکھتا ہو اس کی تو تقلید کیجائے اورجو باب مدینۃ العلم ہو اور بمنزلئ ہارون ہوا سکو چھوڑ دیا جائے
--------------
(1):-صحیح بخاری ج 4 ص 164 ،مسلم ص 119 فی باب الناس تبع لقریش
(2):- ینا بیع المودۃ