پھر میں ہدایت پاگیا
 

202

(4)
احادیث حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب بتاتی ہیں
جن حدیثوں نے میری گردن پکڑ کر حضرت علی کی اقتدا پر مجبو رکردیا وہ وہی حدیثیں ہیں جن کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے ۔ اور ان کے صحیح ہونے کی تاکید کی ہے اور شیعوں کے یہاں تو الی ماشااللہ احادیث ہیں جو حضرت علی کے لئے نص ہیں ۔ لیکن میں اپنی عادت کے مطابق صرف انھیں احادیث پر اعتماد کروں گا ۔ ۔اور انھیں سے استدلال کروں گا جو فریقین کے یہاں متفق علیھا ہوں ، انھیں سے چند یہ ہیں
(1) :- "حدیث مدینہ " " انا مدینۃ العلم وعلی بابھا " (1)
رسول خدا(ص) کے بعد تشخیص قیادت کے سلسلے میں یہ حدیث ہی کافی ہے کیونکہ جاہل کے مقابلہ میں عالم کی اتباع کی جاتی ہے خود ارشاد رب العزت ہے "قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون(پ 23 س 39 (زمر) آیت 9)۔اے رسو ل تم پوچھو تو بھلا کہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے " قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّيَ إِلاَّ أَن يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (پ 11 س10 (یونس) آیت 35) ۔ تو جو شخص دین کی راہ دکھاتا ہے کیا وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کے حکم کی پیروی کی جائے یا وہ شخص جو دوسرے کی ہدایت تو درکنار ( خود جب تک دوسرا اس کو راہ رنہ دکھائے نہیں پاتا ) تو تم کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟
ظاہر سی بات ہے عالم ہدایت کرتا ہے اور جاہل ہدایت کی جاتی ہے ، جاہل دوسروں سے کہیں زیادہ ہدایت کا محتاج ہوا کرتا ہے ۔
--------------
(1):- مستدرک حاکم ج 3 ص 127 ،تاریخ ابن کثیر ج 7 ص 258 ، مناقب (احمد بن حنبل )

203
اس سلسلے میں تاریخ کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت علی(ع) مطلقا تمام صحابہ سے زیادہ عالم تھے اور اصحاب امہات المسائل میں حضرت علی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے ، لیکن حضرت علی نے کسی صحابی کی طرف کبھی بھی رجوع نہیں فرمایا اس کے برخلاف ابو بکر کہا کر تے تھے ۔"لا ابقانی اللہ لمعضلۃ لیس لھا ابو الحسن " (خدانے مجھے کسی ایسی مشکل کے لئے زندہ نہ رکھے جس کے (حل )کیلئے حضرت علی نہ ہوں ) اور عمر بار بار کہتے تھے : لولا علی لھلک عمر" اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
حبر الامۃ ابن عباس کہا کرتے تھے ۔ میرا اور تمام اصحاب محمد کا علم حضرت علی کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسے سات سمندروں کے مقابلہ میں ایک قطرہ (2)
خود حضرت علی فرمایا کرتے تھے ۔ میرے مرنے سے پہلے (جو چاہو) مجھ سے پوچھ لو ۔ خدا کی قسم اگر تم قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے بارے میں پوچھو گے تو اس کو بھی بتا دوں گا ۔ مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھو ۔خدا کی قسم قرآن کی کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ یہ رات میں اتری ہے یا دن میں پہاڑ پر اتری یا ہموار زمین پر (3)۔
اور ادھر ابوبکر کا یہ عالم تھا کہ جب ان سے "ابّ" کے معنی پوچھے گئے جو اس آیت میں ہے ۔
وفاکھۃ وابّا متاعا لکم ولانعامکم (پ 30 س80 (عبس) آیت 20،21،22) ۔اور میو ے اورچارا (یہ سب کچھ )تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے (بنایا) تو اس کے جواب میں کہنے لگے ۔ کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرےگا اور کون سی زمین مجھے اٹھا ئےگی اگر میں کہوں کہ کتاب خدا میں ایسی آیت ہے جس کے معنی میں نہیں جانتا ۔۔۔اور عمر کہتے تھے ،: عمر سے زیادہ ہر شخص فقہ جانتا ہے انتہا یہ ہے کہ پردہ میں بیٹھنے والیاں بھی ،" حضرت عمر سے ایک آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو عمر نے پہلے تو اس کو ڈانٹا پھر درہ لے کر اس پر پل پڑے اور اتنا مارا کہ وہ لہو لہان ہوگیا کہنے لگے ایسی چیزوں کے بارےمیں نہ پوچھا کرو کہ اگر ظاہر ہوجائیں تو تم کو برا لگے (4)۔
--------------
(1):- استیعاب ج 3 ص 39 ،مناقب (خوارزمی )ص 48، ریاض النفرۃ ج 2 ص 124
(2):- حوالہ سابق
(3):- الریاض النفرۃ (محب الدین) ج 2 ص 198 ، تاریخ الخلفاء (سیوطی) ص 124 ،اتقان ج 2 ص 219 ،فتح الباری ج 8 ص 485 ،تہذیب ج 7 ص 328
(4):- سنن دارمی ج 1 ص 54 ،تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 232 ،در منثور ج 6 ص111

204
بے چارے سائل نے کلالۃ کے معنی پوچھ لئے تھے ۔
طبری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عمر کہتے تھے ۔ اگر مجھے "کلالۃ " کے معنی معلوم ہوتے تو یہ بات میرے نزدیک شام کے قصروں سے زیادہ محبوب تھی ۔۔۔ ابن ماجہ نے بی سنن میں عمر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ موصوف فرماتے تھے : تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ (ص) نے ان کو بیان کردیا ہوتا تو مجھے دنیا وما فیھا سے زیادہ سے محبوب ہوتیں " کلالۃ ، ربا ، خلافت ،
سبحان اللہ ! ناممکن ہے کہ رسول خدا نے ان چیزوں کو بیان نہ کیا ہو ۔
(2):- "حدیث منزلت " " یا علی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی "
اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی بس یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا !
اس حدیث سے حضرت علی کی وزارت (ولایت) وصیات ،خلافت صریحی طور سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ صاحبان عقل کے نزدیک یہ بات مخفی نہیں ہے ۔ جب جناب موسی میقات رب کے لئے گئے تھے تو ان کی عدم موجودگی میں جناب ہارون آپ کے وزیر ،وصی ،خلیفہ تھے یہی چیز حضرت علی کیلئے بھی ثابت ہے ، اس حدیث سے دو باتیں اور بھی ثابت ہوتی ہیں ۔
(1):- حضرت ہارون کی طرح حضرت علی(ع) حضرت رسول (ص) کی تمام خصوصیات کے نبوت کے علاوہ حامل تھے ۔
(2):- حضرت علی(ع) رسولخدا (ص) کے علاوہ آپ کے تمام اصحاب سے افضل وبرتر تھے ۔
(3):- "حدیث غدیر" " من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وآل من والاہ وعاد من عاداہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ وادر الحق معہ حیث مادار :!"

205
جس لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ابو بکر ،عمر ،عثمان اس شخص پر فضیلت رکھتے ہیں ،جس کو رسول خدانے اپنے بعد مومنین کا ولی بنا یا ہے ،ان لوگوں کے خیال باطل کو باطل کرنے کے لئے صرف یہ حدیث اکیلی ہی کافی ہے ۔اور جن لوگوں نے صحابہ کا بھرم رکھنے کے لئے سا حدیث میں لفظ "مولی" کی تاویل کی ہے اس سے مراد "محب اور ناصر" ہے ان کی تاویل بے اعتبار ہے کیونکہ جس اصلی معنی کا رسول نے ارادہ کیا تھا اس معنی سے اس کو موڑنا ہے ۔کیونکہ شدید گرمی میں جب رسول خدا نے کھڑے ہوکر فرمایا ۔ کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے ہو کہ میں مومنین کے نفوس پر مومنین سے زیادہ اولویت رکھتا ہوں ،تو سب نے کہا بیشک یا رسول اللہ ! تب آپ نے فرمایا " من کنت مولاہ الخ " یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں ،خدا یا جو علی کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھ ۔ اور جو علی سے دشمنی رکھےتو بھ اس کو دوشمن رکھ ، جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد کر جو علی کی مدد نہ کرے تو بھی اس کی مدد نہ کر "جدھر علی مڑیں اسی طرف حق کو موڑدیے !
یہ نص صریح ہے کہ حضور حضرت علی کو اپنی امت پر خلیفہ بنارہے ہیں ، ہر عقلمند اسی مطلب کو قبول کریگا اور دور از کار تاویلوں کوترک کرےگا ۔ رسول کا احترام صحابہ کے احترام سے کہیں زیادہ ہے اس لئے کہ اگر یہ مان لیاجائے کہ صرف یہ بتانے کے لئے کہ علی ناصر ہیں اور محب ہیں آنحضرت نے چلچلاتی دوپہر میں جس کی گرمی ناقابل برداشت تھی صرف اتنا کہنے کیلئے اکٹھا کیا تھا تو یہ رسول کامذاق اڑانا ہے ان کو (معاذاللہ) احمق ثابت کرتا ہے اس کے علاوہ جو محفل مبارکباد منعقد کی گئی تھی اس کی کیا تاویل کی جائیگی ؟ بھلا اتنی سی بات کیلئے ایسی محفل تبریک کی کیا ضرورت تھی ؟ جس میں سب سے پہلے امہات المومنین نے مبارک باد پیش کی پھر ابو بکر وعمر آکر بولے ،۔مبارک ہو مبارک ابوطالب کے فرزند تم تمام مومنین ومومنات کےمولا ہوگئے آگر خلافت وامامت مراد نہ ہوتی تو رسول یہ سب نہ کرتے نہ محفل سجتی نہ مبارک باد پیش کی جاتی ؟
واقعہ اور تاریخ دونوں تاویل کرنے والوں کو جھٹلاتے ہیں ارشاد خدا ہے ۔ وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون (پ 3 س 2 (بقرہ ) آیت 146) اور ان میں ایسے بھی ہیں جو دیدہ ودانستہ حق بات کو چھپاتے ہیں ۔

206
(4)"حدیث تبلیغ""علی منی وانا منہ ولا یودی عنی الا انا او علی (1)۔
"علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ،میری طرف سے اس کی تبلیغ میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا "
یہ حدیث بھی ایسی ہے جس میں صاحب رسالت نے وضاحت کردی کہ میری طرف سے پہونچانے کی اہلیت صرف علی کے اندر ہے ، رسول نےحج اکبر کے موقعہ پر ابو بکر کو سورہ برائت دیکر بھیج دیا تھا پھر جبرئیل کے آنے کے بعدآنحضرت نے حضرت علی کو بھیج کر یہ کام ان کے سپرد کردیا اور ابوبکر کو واپس بلالیا اس وقت فرمایا تھا " لا یودی عنی الا اناوعلی " اور ابو بکر روتے ہوئے واپس آئے تھے ۔ اور آکر پوچھا یا رسول اللہ کیا میرے بارےمیں کچھ نازل ہوا ہے ؟ تو فرمایا خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یا خود پہونچاوں یا پھر علی پہونچا ئیں اسی طرح ایک دوسرے مناسب موقع پر فرمایا : اے علی تم میرے بعد امت جن چیزوں میں اختلاف کرے گی اس کو بیان کرنے والے ہو(2)۔
جب رسول خدا کی طرف سے صرف حضرت علی تبلیغ کرسکترے ہیں اور اختلاف امت کی وہی ر سول کے بعد وضاحت کرسکتے ہیں تو جن لوگوں کو "اب" یا "کلالۃ" کے معنی تک نہ معلوم ہوں ان کے ان کو حضرت علی پر کیوں کر مقدم کرسکتے ہیں ؟ خدا کی قسم یہ وہ مصیبت ہے جس میں امہ مسلمہ گرفتار ہے اور اسی لئے یہ امت ان فرائض کو نہیں پورا کر سکتی جس کو خدا نے اس کے سپرد کیا تھا ، اس میں خدا یا رسول یا علی کی کوتاہی ہیں ہے بلکہ اس میں سراسر ان لوگوں کی خطا وکوتاہی ہے جنھوں نے نافرمانی کی اور دین الہی میں تبدیلی کردی ، ارشاد خدا ہے :
--------------
(1):-سنن ابن ماجہ ج 1 ص 44 ،خصائص النسائی ص 20 ،صحیح الترمذی ج 5 ص 300 ،جامع الاصول (ابن کثیر ) ج 9 ص 471 ،الجامع الصغیر (سیوطی) ج 2 ص 56
(2):- تاریخ دمشق (ابن عساکر) ج 2 ص 488، کنوز الحقائق (مناوی) 203 ،کنز العمال ج 5 ،ص 33

207
واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ آباءنا اولوکان آباءھم لا یعلمون شیئا ولا یھتدون (پ 7 س 5 (مائدہ ) آیت 104)
ترجمہ :- اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو(قرآن) خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ (اور جو کچھ کہیں اس کو سنو اور مانو) تو کہتے ہیں کہ ہم نے جس (رنگ) میں اپنے باپ دادا کو پایا وہی ہمارے لئے کافی ہے (کیا یہ لوگ لکیر کے فقیر ہی رہیں گے ) اگر چہ ان کے باپ دادا (چاہے ) کچھ نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں ۔
(5):- "حدیث الدّار یوم الانذار" " رسولخدا(ص) نے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :" ان ھذا اخی ووصیی وخلیفتی فاسمعوا لہ واطیعو"(1)
یہ (علی) میرا بھائی ہے اور میرا وصی ہے اور میرے جانشین ہے لہذا اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو!
یہ حدیث بھی ان صحیح حدیثوں میں سے ہے جس کو موخین نے ابتدا ئے بعثت میں لکھا ہے اور رسول خدا (ص) کے معجزات میں شمار کیا ہے ،لیکن برا ہوسیاست کا جس نے حقائق بدل دیئے اور واقعات کو ملیامٹ کردیا اور یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ وہ تو تاریک دورتھا ،آج عصر نور میں بھی یہی حرکت کی جارہی ہے ،محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب حیات محمدی میں اس حدیث کو مکمل طور سے لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے ،"طبع اول سنہ 1354 ھ کا صفحہ 104 لیکن اس کتاب کا جب دوسرا ایڈیشن اور اس کے بعد والے ایڈیشنز چھپتے ہیں تو اس میں (وصی ،خلیفتی من بعدی) کا لفظ حذف کردیا جاتا ہے اسی طرح تفسیر طبری کے ج 19 ص 121 سے "وصیتی وخلیفتی "
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 219 ،تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 62 ،السیرۃ الحلبیہ ج 1 ص 311 ،شواہد التنزیل ج 1 ص 371 کنزل العمال ص 15 ،تاریخ ابن عساکر ج 1 ص 85 ،تفسیر الخازن (علاء الدین ) ج 3 ص 371 حیات محمد (ہیکل )چاپ اول باب وانذر عشیرتک الاقربین

208
کو کاٹ کر ا س کی جگہ ان ھذا اخی وکذا کذا لکھا دیا جاتا ہے ،مگر ان تحریف کرنے والوں کو پتہ نہیں ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ کے ج 2 ص 219 پر پوری حدیث لکھی ہے دیکھئے یہ لوگ کس طرح تحریف کرتے ہیں اور یہ نور خدا کو بجھانا چاہتے ہیں مگر واللہ متم نورہ ۔۔۔۔۔ اس بحث کے درمیان حقیقت حال کے واضح ہوجانے کے لئے میں نے (حیات محمد) کا پہلا ایڈیشن ڈھونڈ ھنا شروع کیا اور سعی بسیار وزحمت کثیر وخرچ کثیر کے بعد بمصداق جویندہ یا بندہ " وہ نسخہ مجھے مل ہی گیا ۔اور اہم بات یہ ہے کہ واقعا یہ تحریف ہے اور اس سے میرے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے اہل سوء کی ساری کوشش اس بات کے لئے ہے کہ وہ سچے واقعات اور ثابت حقائق کو مٹادیں تاکہ ان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کوئی قوی دلیل نہ پہونچ سکے ،
لیکن منصف مزاج حق کامتلاشی جب اس قسم کی تحریفات کو دیکھے گا تو ان سے اور دور ہوجائے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ یہ لوگ معجزہ کرنے دسیسہ کاری کرنے ،حقائق کو بدلنے کیلئے ہر قیمت دینے کو تیار ہیں ۔ اور انھوں نے ایسے قلم خرید لئے ہیں اور ان کے لئے القاب اور اسناد کی بھر مار اسی طرح کردی ہے جس طرح مال ودولت سے ان کو چھکا دیا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل قلم ان صحابہ کی آبرو بچانے کے لئے جو رسول کے بعد الٹے پاؤں پھر گئے تھے ۔ اور جنھوں نے حق کو باطل سے بدل دیا تھا ۔ ہر طرح دفاع کریں چاہے شیعوں کو گالی دینا پڑے ان کوکافر کہنا پڑے " كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ" پ 1 س 2 (بقرہ ) آیت 118
ترجمہ :- اسی طرح انھیں کی سی باتیں وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے تھے ۔ ان سب کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کو تو اپنی نشانیاں صاف طورسے دکھاچکے ۔

209
"وہ صحیح حدیثیں جو اہل بیت کی اتباع کو واجب بتاتی ہیں "
(1):-" حدیث ثقلین" رسول خدا (ص ) کا ارشاد ہے " یا ایھا النا‎س ! انی ترکت فیکم ماان اخذتم بہ لن تضلو کتاب اللہ وعترتی اھلبیتی " لوگو میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں کہ اگر تم نے ان سے تمسک کیا تو گمراہ نہ ہوگے اور وہ خدا کی کتاب اور میری عترت (یعنی ) میرے اہل بیت ہیں اور اس طرح بھی فرمایا " یوشک ان یاتی رسول ربی وانی تارک فیکم الثقلین اولھما کتاب اللہ فیہ الھدی والنور واھلبیتی اذکر کم اللہ اھلبیتی اذکر کم اللہ اھلبیتی (1)۔
قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور یمں لبیک کہوں ، میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزوں کوچھوڑ رہاہوں پہلی چیز قرآن ہے جس میں ہدایت ونور ہے اور( دوسری چیز) میرے اہلبیت ہیں الخ۔
اس حدیث میں پہلے ہم خوب غوروفکر کرتے ہیں جس کو صحاح اہل سنت والجماعت میں ذکر کیا ہے تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ صرف شیعہ حضرات ہی ثقلین (قرآن وعترت ) کی پیروی کرتے ہیں اور اہل سنت حضرت عمر کی اتباع "حسبنا کتاب اللہ" میں کرتے ہیں کاش کتاب اللہ ہی پر عمل کرتے اور اس کی تاویل اپنی خواہشات کے مطابق نہ کرتے ،جب خود حضرت عمر کتاب اللہ میں کلالۃ اورآیت تمیم کا مطلب نہیں جانتے تھے بلکہ مزید دیگر احکام کو نہیں جانتے تھے تو جو لوگ ان کے بعد دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اوربغیر کسی اجتہاد کےبا لنصوص قرآنیہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرکے عمر کی تقلید کرتے ہیں وہ بے چارے قرآن کو کیا سمجھیں گے ؟
--------------
(1):- صحیح مسلم باب فضائل علی ج 5 ص 122 صحیح ترمذی ج 5 ص 328 ،مستدرک الحاکم ج 2 ص 148 ،مسند امام احمد بن حنبل ج 3 ص 17

210
فطری بات ہے کہ اہل سنت اپنے یہاں کی روایت" ترکت فیکم کتا ب اللہ وسنتی " میں تم میں دوچیزیں چھوڑرہا ہوں قرآن اور اپنی سنت " سے ہماری رد کرنے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن یہ حدیث اگر صحیح ہے (اگرچہ باعتبار معنی درست ہے) تو حدیث سابق میں جو لفظ عترت آئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ عترت کی طرف رجوع کرو تاکہ وہ میری سنت بیان کریں ، یا یہ ہے کہ جب رجوع کرو گے تو وہ حضرات صحیح احادیث بیان کریں گے کیونکہ وہ کذب سے مبراہیں اور خدا نے آیت تطہیر کے ذریعہ ان کی عصمت پر مہر کردی ہے ، دوسرے یہ بھی احتمال ہے کہ وہ حضرات معانی ومقاصد کو بیان کریں گے کیونکہ تنہا قرآن ہدایت کیلئے کافی نہیں ہے ،کیونکہ کتنے ہی گمراہ فرقے ہیں کہ وہ بھی قرآن سے استدلال کرتے ہیں ، جیسا کہ یہ بات رسول خدا سے بھی اس وقت مروی ہے جب آپ نے فرمایا : بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں بھی ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے ، قرآن تو خاموش ہے اس میں جتنے احتمال چاہو پیدا کرو ۔ قرآن میں محکم متشابہ بھی ہے جس کا علم صرف راسخون فی العلم ہی کو ہے اس لئے تعبیر قرآنی کی بنا پر انھیں کی طرف قرآن فہمی کیلئے رجوع کرنا ہوگا یا تعبیر نبوی کی بنا پر اہلبیت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔ (راسخون فی العلم سے مراد اہل بیت ہیں مترجم) اس لئے شیعہ حضرات تمام چیزوں میں ائمہ معصومین ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اجتہاد کرتے ہیں اوراجتہاد صرف وہاں کرتے ہیں جہاں معصوم کی نص موجود نہ ہو ۔
اور ہم لوگ (سنی ) خواہ تفسیر قرآن ہو یا اثبات سنت کا مسئلہ ہویا تفسیر کا مقصد ہو سب ہی میں صحابہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور صحابہ کے حالات ان کے کردار ،ان کے استنباط ،ان کا اپنی رائے سے اجتہاد ( اور وہ بھی نصوص صریحہ کے مقابلہ میں ) ان سب کا علم آپ کو ہے ہی قرآنی نصوص کے مقابلہ میں صحابہ کے سینکڑوں ذاتی اجتہاد ہیں اس لئے ان کی طرف رجوع کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے ۔
جب بھی ہم اپنے علماء سے پوچھتے ہیں آپ کس کی سنت کی پیروی کرتے ہیں ؟ تو فورا جواب دیتے ہیں رسول خدا کی سنت کی لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے اس لئے کہ اہل سنت نے خود رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر نے فرمایا : تمہارے اوپر واجب ہے کہ میری سنت کی پیروی کرو میرے بعد والے
--------------
(1):- صحیح مسلم ، نسائی ، ابن مابہ ، ابی داوؤد وغیرہ نے اس مشہور حدیث کے اپنے اپنے یہاں لکھا ہے

211
خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرو اس پر بہت مضبوطی سے عمل کرو ۔ لہذا جس سنت پر یہ حضرات عمل کرتے ہیں وہ سنت رسول نہیں بلکہ وہ زیادہ تر سنت خلفاء ہے بلکہ سنت رسول بھی خلفاء ہی کے حوالہ سے منقول ہے (تو در حقیقت وہ بھی سنت خلفاء ہی ہے)
(اور اگر سنت رسول فرض بھی کر لیا جائے تو بقول اہلسنت سنت رسول ہے ہی نہیں تو پھر پیروی کیسی )کیونکہ اہلسنت کی صحاح میں روایت ہے کہ رسول خدا نے لوگوں کی اپنی سنت نقل کرنے سے روک دیا تھا ، کہ کہیں وہ قرآن سے خلط ملط نہ ہوجائے اور ابو بکر وعمر اپنی خلافت کے اوائل میں اس پر سختی سے کاربند بھی تھے ۔ تو سنت منقول ہی نہ ہوسکی ،تو اس کی پیروی کیسی ؟ لہذا ترکت فیکم سنتی (1):- رہی کہاں جو حجت ہوتی ۔ اس بحث میں جو مثالیں میں نے ذکر کی ہیں (جو نہیں ذکر کی ہیں ان کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے ) وہی اس حدیث کے بطلان کے لئے کافی ہیں کیونکہ سنت خلفاء (ابو بکر وعمر وعثمان ) سنت رسول کی ضد ہے جیسا کہ آپ نے خود ہی محسوس کرلیا ہوگا ۔
رسول خدا کے انتقال کے بعد ہی سب سے پہلی حدیث (یا سیرت خلیفہ) جو پیش کی گئی اور جس کو اہل سنت والجماعت اور مورخین سبھی نے لکھا ہے وہ :نحن معاشر الانبیاء لانورث ما ترکناہ صدقۃ " والی حدیث ہے ، جس سے ابو بکر نے استدلال کیا تھا ، اور جناب فاطمہ نے اس حدیث کی تکذیب کی تھی اور اس کو باطل قرار دیا تھا ، اور ابو بکر کے مقابلہ میں احتجاج کرتے ہوئے فرمایا تھا ،میرے باپ کسی بھی طرح قرآن کے خلاف کہہ ہی نہیں سکتے جب کہ قرآن یہ کہتاہے :- یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثین "(2)۔
خدا تمہاری اولاد کے حق میں تم سے وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ۔ اوریہ آیت سب کے لئے ہے انبیاء یا غیر انبیاء تو میرے باپ اس کے خلاف کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ اسی طرح جناب فاطمہ نے اس آیت سے بھی " وورث سلیمان داوؤد (پ 19 س 27 (نمل)اول علم وحکمت جائداد منقولہ
----------
(1):-کتاب اللہ وعترتی تو ہے لیکن سنتی کی لفظ صحاح ستہ میں سے کسی میں نہیں آیا ہے اس حدیث کو لفظ سنتی کے ساتھ مالک ابن انس اپنی کتاب موطاء ،میں تحریر کیا ہے مرسل نقل کیا ہے مسند کرکے نہیں لکھا ہے طبری وابن ہشام وغیرہ نے مالک ہی سے لیا ہے اور مالک کی طرح مرسل نقل کیا ہے ۔
(2):- پ 4 س4 (نساء)آیت 11

212
وغیر منقولہ سے میں) سلیمان داؤد کے وارث ہوئے ! استدلال فرمایا ، اور اس آیت سےبھی احتجاج کیا : فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعلہ رب رضیا (پ 16 س 19 (مریم)آیت 65) ترجمہ :- پس تو اپنی گوبارگاہ سے مجھے ایک جانشین (فرزند) عطا فرما جو میری اور یعقوب کی نسل کی میراث کا مالک ہو اوراے میرے پرورد دگار اس کو اپنا پسنددیدہ بنا ۔
دوسرا حادثہ بھی ابو بکر کا ہے جو ان سے قریب ترین شخص تھا وہ حادثہ اسی کے ساتھ پیش آیا یہ واقعہ ابو بکر کی ابتدا ئے خلافت میں پیش آیا تھا اور مورخین اہل سنت نے اس کو لکھا ہے واقعہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں نے زکات دینے سے انکار کردیا تھا ابو بکر کافیصلہ تھا کہ ان سے جنگ کرکے ان کو قتل کیا جائے لیکن عمر اسکے مخالف تھے ، وہ کہتے تھے ان سے قتال نہ کرو میں نے خود رسولخدا کو فرماتے ہوئے سنا ہے ، مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہ کہیں اور جو اس کو کہے اس کا مال اس کا خون محفوظ ہے اس کا حساب اللہ پر ہے ۔
مسلم نے اپنی صحیح میں لکھا ہے ، رسول اللہ نے جب خیبر میں علم علی کے حوالہ کیا تو علی نے پوچھا میں ان لوگوں سےکسی چیز پر قتال کروں ؟آنحضرت نے فرمایا :- جب تک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہ کہیں اور جب اس کا اقرار کرلیں تو تمہارے لئے ان کا خون بہانا ،اور مال لوٹنا نا جائز ہے مگر یہ کہ وہ حق ہو اور اس کا حساب خدا کے اوپر ہے (1)۔ لیکن ابوبکر اس حدیث سے قانع نہیں ہوئے اور کہنے لگے ۔خدا کی قسم جو نمازوزکات میں فرق ڈالے گا میں اس سے جنگ کروں گا ،اس لئے کہ زکات حق المال ہے ،اس طرح کہا تھا : خدا کی قسم لوگ رسول اللہ کو جو دیا کرتے تھے اگر کسی نے اس میں سے ایک اونٹ باندھنے کی رسی بھی نہ دی تو میں اس سے جنگ کروں گا ۔ابو بکر کی اس بات سے عمرقانع ہوگئے اور فرمایا :میں نے ابوبکر کو اس پر مصر دیکھا یہاں تک کہ خدا نے میرے لئے بھی شرح صدر کردیا ،
مجھے معلوم نہیں کہ جو لوگ خدا کی مخالفت کررہے ہوں خدا کس طرح ان کا شرح صدر کردیتا ہے ؟ چونکہ قرآن میں خدا نے اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں سے قتال حرام قراردیا ہے ،آیت یہ ہے
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 8 ص51 کتاب الایمان

213
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُواْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً"پ 5 (نساء )آیت 94)
ترجمہ:- اے ایماندارو جب تم خدا کی راہ میں (جہاد کرنے کو) سفر کرو تو(کسی کے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو بلکہ ) اچھی طرح چانچ لیا کرو اور جو شخص (اظہار اسلام کی غرض سے) تمہیں سلام کرے تو تم بے سوچے سمجھے نہ کہدیا کرو کہ تو ایماندار نہیں ہے (اس سے تو ظاہر ہوتاہے ) کہ تم(فقط) دنیاوی اثاثہ کی تمنا رکھتے ہو ( کہ اسی بہانہ قتل کرکے لوٹ لو اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر یہی ہے ) تو خدا کے یہاں بہت سی غنمیتیں ہیں ( مسلمانو) پہلے تم خود بھی تو ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا کہ (بے کھٹکے مسلمان ہوگئے )غرض خوب چھان بین کرلیا کرو بیشک خدا تمہارے ہر کام سے خبردار ہے ۔۔۔۔ اس لئے مسلمانوں سے قتال کے جواز کے لئے یہ تاویل کی گئی ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے ابو بکر کو زکات دینے سے انکار کیا تھا وہ وجوب زکات کے منکر نہیں تھے ،بلکہ اس لئے دیر کی تھی کہ معاملہ واضح ہوجائے ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں زکات نہ دینے والے لوگوں میں سے کچھ لوگوں میں سے کچھ لوگ رسول خدا کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک تھے ، انھوں نے حضرت علی کی خلافت پر نص کو سماعت کیا تھا ، اس لئے جب (خلاف توقع ) ابو بکر کے خلیفہ ہونے کی خبر پہونچی تویہ لوگ بھونچکا رہ گئے اور زکات میں ذرا تاخیر کی تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے لیکن ابوبکر نے ان کو قتل کرنے کا بھونچکارہ گئے اور زکات میں ذرا تاخیر کی تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے ، لیکن ابوبکر نے ان کو قتل کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ بات دب جائے اور میں چونکہ نہ شیعوں کے قول سے استدلا کرتا ہوں نہ اجتجاج اس لئے اس قصہ کو ان لوگوں کے لئے چھوڑ دیتا ہوں جو اس میں دقت نظر سے تحقیق کرنا چاہیں ۔
لیکن اتنی بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ آنحضرت کے زمانہ میں ثعلبہ نےآکر کہا خدا کے رسول (ص) میرے لیے دعا کردیں کہ خدا مجھے مالدار کردے اور بہت اصرار کیا اللہ سے معاہدہ کیا کہ وہ صدقہ دیا کرے گا بہر حال پیغمبر نے اس کے لئے دعا کی اور وہ اتنا مالدار ہوگیا کہ اطراف مدینہ مین اس کے اونٹوں ، بھیڑوں کی گنجائش نہ رہی تو وہ مدینہ سے دورچلا گیا اور نماز جمعہ میں حاضر ی بھی نہیں دے پاتا تھا ، پھر جب پیغمبر اسلام نے زکات کی وصول تحصیل کرنے والوں کو اس کے پاس زکات کے لئے بھیجا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ تو جزیہ

214
یا مثل جزیہ ہے اور زکات نہیں دی لیکن رسول خدا نے نہ تو اس سے قتال کیا نہ حکم قتال ، ویا ،،،، البتہ قرآن کی آیت آئی :" وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللّهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ ۔فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُواْ بِهِ وَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعْرِضُونَ" (پ 10 س 9 (توبہ ) آیت 75 ،76)
ترجمہ:- اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خدا سے قول وقرار کرچکے تھے کہ اگر اپنے فضل وکرم سے (کچھ مال ) دے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کرینگے اور نیکو کار بندے ہوجائیں گے تو جب خدا نے اپنے فضل وکرم سے انھیں عطا فرمایا تو لگے اس میں بخل کرنے اور کتراکے منہ پھیرنے ! ۔۔۔۔۔نزول آیت کے بعد ثعلبہ روتا ہوا خدمت رسول میں آیا کہا میری زکات قبول کرلیں تو رسول خدا نے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔
اب اگر ابو بکر وعمر سنت رسول کی پیروی کرتے ہیں تو یہ مخالفت کیسی؟ اور محض زکات نہ دینے پر بیگناہ مسلمانوں کا خون بہانا کیسا ؟ ابو بکر کی طرف سے عذر پیش کرنے والے اور ان کے غلط فعل کی تاویل کرنے والے زکات حق مال ہے اس کے روک لینے پر قتل کرنا جائز ہے ثعلبہ کے قصہ کے بعد کیا تاویل کرینگے ؟
اس نے بھی جزیہ سمجھ کر روک لیا تھا لیکن رسول نے قتال کا حکم نہیں دیا ثعلبہ کے قصہ نے نہ ابو بکر کیلئے تاویل کی گنجائش چھوڑی ہے اور نہ ان کے ماننے والوں کیلئے ۔
اور کون جانتا ہے کہ ابو بکر نے عمر کو اس طرح مطمئن نہ کیا ہوگا کہ زکات نہ دینے والوں کا قتل اس لئے ضروری ہے کہ وہ غدیر والے واقعہ کو پیش کرکے عذر کررہے ہیں کہیں تمام اسلامی شہروں میں یہ بات پھیل نہ جائے بس اسی کے بعد خدا نے عمر کے لئے بھی شرح صدر کردیا کہ ان کا قتل کرنا جائز ہے کیونکہ یہی عمر ہیں جب انکار بیعت کرنے والے بیت فاطمہ میں جاکر بیٹھ رہے تو انھوں نے دھمکی دی اگر نکل کر بیعت ابوبکر نہیں کرتے تو میں اس گھر میں آگ لگادوں گا ۔
تیسرا حادثہ جو ابو بکر کی ابتدا ئے خلافت میں پیش آیا ۔ اور عمر وابوبکر میں اختلاف رائے پیدا ہوا اور ابو بکر نے نصوص قرآنی ونصوص نبوی من مانی تاویل کی وہ خالد بن ولید کا قصہ ہے جنھوں نے مالک بن نویرہ کو تڑپا تڑپا کے قتل کیا اور اسی رات مالک کی بیوی سے ارتکاب زنا کیا ۔ حضرت عمر نے خالد سے کہا : اے دشمن خدا تونے ایک مسلمان کو قتل کیا پھر اس کی بیوی سے زنا کیا ۔خدا کی قسم میں تجھے پتھروں سے رجم کروں گا (یعنی پتھر مار

215
مار ڈالوں گا )(1)۔
لیکن ابو بکر نے خالد کا دفاع کیا اور کہا : اے عمر اس کو چھوڑدو اس نے تاویل کی اور اس تاویل میں غلطی کی اب خالد کے بارے میں اپنی زبان بند رکھو!
یہ ایک اور رسوائی ہے اور وہ بھی ایک اتنے بڑے صحابی کے لئے جس کا ہم احترام وتقدس سے ذکر کرتے ہیں جس کا لقب "سیف اللہ" ہے اور مصیبت یہ ہے کہ تاریخ نے اس کو بھی اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے ۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خالد بن ولید جیسے صحابی کے بارے میں کیا کہوں جس نے ایک ایسے جلیل القدر صحابی کو جو بنی یربوع کا سردار فتوت ،کرم وشجاعت میں ضرب المثل تھا یعنی مالک بن نویرۃ اس کو قتل کردیا مورخین کا بیان ہے کہ خالد نے مالک بن نویرہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی کیونکہ جب ان لوگوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور نماز جماعت پڑھی تو دفعۃ خالد کے ساتھیوں نے ان کو رسیوں میں جکڑ دیا ۔ ان قیدیوں میں لیلی بنت المنھال مالک کی بیوی بھی تھی اور وہ عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں تھی ،کہا جاتا ہے اس سے زیادہ خوبصورت عورت دیکھی نہیں گئی ۔ خالداس کو دیکھتے ہی بے چین ہوگیا ۔
مالک نے خالد سے کہا کہ تم ہمیں ابوبکر کے پاس بھیج دو ! وہ جو چاہیں گے میرے حق میں فیصلہ کرینگے ، عبداللہ بن عمر اور ابو قتادہ انصاری نے بھی خالد سے شدید اصرار کیا کہ مالک کو ابو بکر کے پاس بھیج دو لیکن خالد نے کسی کی نہ سنی اور بولے :- اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو خدا مجھے معاف نہ کرے! اس وقت مالک اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اسی نے مجھے قتل کرایا ۔ خالد نے حکم دیا اور مالک کے سروتن میں جدائی ڈال دی گئی ۔خالد نے مالک کی بیوی لیلی کو اپنے قبضہ میں کیا اور اسی رات اس سے منہ کالا کیا (2)-
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 3 ص280، تاریخ ابی الفداء ج 1 ص 110، الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ ج 3 ص 236
(2):- تاریخ ابی الفداء ج ص 158 ،تاریخ یعقوبی ج 2 ص 110 ،تاریخ اب السخہ بر حاشیہ کامل ج 11 ص 114 وفیات الاعیان ج 6 ص 14

216
میں صحابہ کرام کے بارے میں کیا کہوں جو خواہشات نفس کی تکلمیل کیلئے بے گناہ مسلمانوں کوقتل کرتے ہیں ،محرفات الہی کو مباح قرار دیتے ہیں ، فروج کو اپنے لئے حلال کرلیتے ہیں حالانکہ خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔ اسلام کےاندر جس عورت کا شوہر مرجائے وہ عد پورا کئے بغیر نہیں کرسکتی لیکن خالد کا خدا خواہش نفس تھی ، اس کی نظر میں مالک اور ان کے ساتھیوں کو تڑپا تڑپا کر ظلما وعدوانا قتل کرنا پھر وعدہ کا خیال کے ، بغیر مالک کی بیوی سے زنا کرنا کوئی بات ہی تھی ۔ عبداللہ بن عمر نے گواہی دی کہ یہ لوگ مسلمان ہیں مگر خالد کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی ابو قتادہ انصاری خالد کے ان افعال قبیحہ پر شدید غضبناک ہوگئے اور فورا مدینہ واپس چلے آئے ،اور قسم کھائی کہ اس لشکر میں رہ کرجنگ نہ کروں گا جس کا سردار خالد ہو(1)۔
اس سلسلہ میں استاد محمد حسین ہیکل اپنی کتاب "الصدیق ابو بکر" میں عمر کی رائے ودلیل اس معاملہ میں " کے زیر عنوان جو اعتراف ہے وہی لئے کافی ہے ۔ چنانچہ ہیکل تحریر کرتے ہیں :
لیکن عمر ۔۔۔جو کاٹ دار عدل کی مثال تھے ۔۔۔۔ کی رائے یہ تھی کہ خالد نے ایک مسلمان پر تعدی کی ہے اور انقضائے وعدہ کے پہلے اس کی بیوی سے منہ کالا کیا ہے اس لئے کسی بھی لشکر کی سرداری کے لائق نہیں ہے ۔ اس کا ہٹا نا ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھا سکے جس سے امور مسلمین فاسد ہوجائیں اور عربوں کے درمیان مسلمانوں کی وقعت گھٹ جائے اور مالک کی بیوی لیلی کے ساتھ جو اس نے زنا کیا ہے اس پر سزا دیئے بغیر اس کو چھوڑا نہ جائے !!!!!
اگر یہ بات مال لی جائے کہ خالد نے مالک کے سلسلہ میں تاویل کرنے میں غلطی کی ،اگر چہ حضرت عمر اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے " تو لیلی کے ساتھ جو منہ کالا کیا اس پر حد کا جاری کیاجانا ضروری تھا ۔ یہ عذر نہیں پیش کیا جاسکتا کہ وہ " سیف اللہ" تھے اور ایسے قائد تھے کہ جدھر کا رخ کرتے تھے نصرت وکامیابی ان کے ہمرکاب ہوتی تھی کیونکہ اگر یہ عذر قابل قبول ہوجائے تو پھر خالد وامثال خالد کے لئے کھلی چھوٹ ہوجائے گی ، اور مسلمانوں کے لئے بد ترین مثال قائم ہوجائے گی ۔ اسی لئے عمر برابر سزا
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 280 ،تاریخ یعقوبی ج ص 110 ، تاریخ ابی الفداء ،اصابہ ج 3 ص 326

217
دئے جانے پر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ ابو بکر نےخالد کو بلا کر تو بیخ کی (1)۔
کیا میں اس استاد ہیکل اور ان جیسے دوسرے علما ء جو کرامت صحابہ بچانے کے لئے چالاکی سے کا م لیتے ہیں سے پوچھ سکتا ہوں ،کہ ابو بکر نے خالد پر حد کیوں جاری نہیں کی ؟ اورجب بقول ہیکل صاحب عمر العدل الصارم تھے تو صرف لشکر کی قیادت ہی سے الگ کرنے پر کیوں اصرارتھا " حد شرعی جاری کرنے پر کیوں نہ اصرار کیا ؟ کیا ان لوگوں نے قرآن کا احترام کرکے حدود جاری کیں؟ استغفراللہ ! یہ تو سیاست ہے اور ابھی آپ سیاست کو کیا سمجھیں یہ تو حقائق کو بدل دیتی ہے عجیب چیز کو خلق کرتی ہے ۔ آیات قرآنی کو دیوار پر ماردیتی ہے ۔
کیا میں اپنے علمائے کرام سے سوال کرسکتاہوں کہو انھوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے ایک شریف عورت نے چوری کی ۔ اسامہ اس کی سفارش کرنے کے لئے رسولخدا (ص) کے پاس گئے ، سفارش کرتے ہی رسول خدا برس پڑے اور غصہ میں فرمایا تجھ پر وائے ہو کیا حد الہی کے سلسلہ میں سفارش کرنے آئے ہو؟ اگر فاطمہ نے بھی سفارش بھی چوری کی ہوتی تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ! تم سے پہلے والے اسی لئے ہلاک ہوئے کہ جب شریف چوری کرتا تھا تو چھوڑ دیتے تھے اورجب کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر حد جاری کرتے تھے ۔ پھر اس واقعہ کے بعد بےگناہ مسلمانوں کے قتل پر اور اسی رات ان کی بیویوں سے ہمبستری کرنے پرکیوں صحابہ کرام خاموش رہتے تھے ؟ حالانکہ شوہر کے مرنے سے بیوی پر غم کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں ۔ پھر بھی اس کو نہ بخشنا کون سی شرافت ہے اسی کو کہتے ہین "مرے پر سو درے" کاش یہ علماء صحابہ کے ان اقدامات سے شرم وحیا محسوس کرکے ہی خاموش رہتے ، لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جھوٹی باتیں بنا کر خالد کے جھوٹے فضائل ومحاسن بیان کرکے خالد کو سیف اللہ کالقب دیکر اس کے فعل کے جواز کے لئے چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔
میرا ایک دوست م‍ذاق کرنے اور مطلب کو دوسری طرف لیجانے میں ماہر تھا اس نے مجھے ایک مرتبہ دہشت زدہ کردیا قصہ یہ ہوا کہ میں اپنے زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ خالد کے فضائل بیان کر
-------------
(1):- "الصدیق ابو بکر"(ہیکل) ص 151

218
رہا تھا ، میں نے بیان کرتے کرتے کہا خالد ہی سیف اللہ لمسلول(خدا کی کھینجی ہوئی تلوار) ہیں اس نے بر جستہ کہا : جی نہیں وہ سیف الشیطان المشلول ہیں( شیطان کی کند تلوار ہیں) اس وقت مجھے یہ بات بہت عجیب لگی ، لیکن جب بحث کے بعد خدا نے میری بصیرت کھول دی اور تخت خلافت پر زبردستی بیٹھنے والوں کی قدروقیمت مجھے معلوم ہوگئی اور اس کی تحقیق ہوگئی کہ یہی لوگ احکام الہی کو بدلنے والے حدود الہی کو معطل کرنے والے تھے تو میرا تعجب دور ہوگیا ۔
خود رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں خالد کا ایک قصہ مشہور ہے ، رسول اسلام نے خالد کو بنی خذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لئے بھیجا لیکن ان سے قتال کرنے کو نہیں فرمایا : بنی خزیمہ اچھی طرح سے اسلمنا نہیں کہہ پائے صبانا صبانا کہتے رہے ( ہم اسلام کی طرف مائل ہیں ) خالد نے ان کو قتل کرنا اور گرفتار کرنا شروع کردیا قیدیوں کو ساتھیوں کے حوالہ کرکے حکم دیدیا کہ ان کو قتل کردو ۔ لیکن بعض نے قتل کرنے سے انکار کردیا کہ یہ لوگ مسلمان ہوچکے ہیں اب ان کا قتل جائز نہیں ہے ۔جب یہ لوگ واپس آئے تو رسول خدا سے پورا قصہ بتایا تو آنحضرت نے دومرتبہ فرمایا : پالنے والے خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں (1)۔ اس کے بعد حضرت علی کو کافی مال دیکر بنی خزیمہ کے پاس بھیجا آپ نے مقتولین کی دیت ادا کی جو مال تباہ ہوگیا تھا اس کا عوض دیا انتہا یہ ہے کہ کتے کی بھی قیمت ادا کی اور رسول خدا رو بقبلہ ہاتھویں کو اٹھا کر کھڑے ہوئے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ بغل کے نیجپے کا حصہ دکھائی دینے لگا اور فرمایا :" خدا یا میں خالد کے اقدام سے بری ہوں اس جملہ کو تین مرتبہ فرمایا (2)۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اب اصحاب کی عدالت کہاں گئی ؟ جب خالد بن ولید جو ہمارے بزرگ ترین صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور ہم ان کو سیف اللہ کہتے ہیں تو کیا خدا کی تلوار اس لئے ہے کہ اسے بے گناہوں اور مسلمانوں کے اوپر اٹھایا جائے ، اسمیں صریحی طور سے تناقض ہے کیونکہ ایک طرف توخد ا قتل نفس سے روکتا ہے فحشاء ومنکر ،بغی کے ارتکاب سے منع کرتا ہے لیکن (دوسری طرف )حضرت خالد جو سیف اللہ ہیں وہ بغاوت کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں ان کے خو ن ومال کو رائگان کردیتے
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 4 ص باب اذا قضی الحاکم بجور فہو رد
(2):- سیرۃ ابن ہشام ج 4 ص 53 طبقات ابن سعد اسد الغایۃ ج 3 ص 102

219
ہیں ،عورتوں وبچوں کو قیدی بنالتے ہیں ۔۔۔ یقینا یہ خدا پر بہتان ہے ۔ پروردگار تو اس سے بلند وبرتر ہے ۔ معبود تو نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل نہیں پیدا کیا یہ تو کافروں کا خیال ہے ۔ ابو بکر جو خلیفۃ المسلمین تھے ان کے لئے یہ کیسے جائز ہوگیا کہ اتنے بڑے بڑے جرائم کو سن کو خاموش رہیں ؟ یہی نہیں بلکہ عمر کو آمادہ کریں کہ خالد کے خلاف زبان کو روک لو کیا واقعا ابو بکر اس پر قانع ہوگئے تھے کہ خالد نے تاویل میں غلطی کی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہر مجرم ہتک حرمت کرکے تاویل کرلیا کریگا ۔
لیکن میں کسی قیمت پر یہ نہیں مان سکتا کہ ابو بکر خالد کے معاملہ میں تاویل کے قائل تھے ۔ خالد وہ شخص ہے جس کو عمر نے (دشمن خدا کے لقب سے نوزا ،۔اور عمر کی رائے تھی کہ خالد کو قتل کرنا واجب ہے کیونکہ اس نے ایک مسلمان کو بے گناہ قتل کیا ہے یا پھر اس کو رجم کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اس نے مالک کی بیوی لیلی سے زنا کیا ہے لیکن ان میں سے کچھ بھی نہ ہو ا بلکہ خالد نے عمر کے مقابلہ میں میدان جیت لیا تھا ۔ کیونکہ ان سےباتوں کے باوجود ابو بکر خالد کے حمایتی بن گئے اور ابو بکر دوسروں کے بہ نسبت خالد کی حقیقت سے زیادہ واقف تھے ۔۔۔۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس رسوا کن واقعہ کے بعد پھر ابو بکر نے خالد کو یمامہ بھیج یدا وہاں پہونچ کر خالد کو پھر فتح نصیب ہوئی اور وہاں بھی خالد نے ایک عورت سے منہ کالا کیا ، جیسے لیلی سے کیا تھا ۔ اور ابھی نہ تو مسلمانوں کا خون خشک ہوپایا تھا نہ مسیلمہ کے پیروکار وں کا کہ خالد نے پھر یہی گل کھلا یا اس مرتبہ ابوبکر نے خالد کو اس سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کی جتنی لیلی کے مسئلہ میں کرچکے تھے (1)
ظاہر سی بات ہے کہ یہ دوسری عورت بھی شوہر دار ہی تھی جس کے شوہر کو قتل کرکے خالد نے اس کے ساتھ منہ کالا کیا تھا جس طرح مالک کی زوجہ لیلی سے کرچکے تھے ، ورنہ ابوبکر اس مرتبہ اتنی زیادہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرتے ،
اس کے علاوہ مورخین نے اس خط کی عبارت بھی نقل کی ہے جو ابو بکر نے خالد کو لکھا تھا اس میں تھا اے ام خالد کے بیٹے تو برابر عورتوں سے منہ کالا کرتا ہے حالانکہ تیرے گھر کے سامنے بارہ سو مسلمانوں کا خون
--------------
(1):- "الصدیق ابوبکر" ص 151 اور اس کے بعد

220
ابھی خشک بھی نہیں ہوپایا (1)۔خالد نے جب خط پڑھا توکہا یہ اسی اعسر(بنیہتے)(2) کا کام ہے ،یعنی عمربن خطاب کا ان تمام اسباب کی بنا پر میں اس قسم کے اصحاب سے نفرت کرنے لگا ، اور ان کے ان پیروکاروں سے بھی نفرت کرنے لگا جو ہر صحابی کے نام کے آگے رضی اللہ عنہ لگاتے ہیں اور ان (علماء) سے بھی نفرت کرنے لگا جو بڑی دلیری کے ساتھ ایسے اصحاب کا دفاع کرتے ہیں ، اور نصوص کی تاویل کرتے ہیں اورابو بکر ، عمر ، عثمان ، خالد بن ولید ، معاویہ ، عمر وعاص جیسے لوگوں کے افعال کو صحیح ثابت کنے کیلئے جعلی روایات نقل کرتے ہیں ۔۔۔۔ پالنے والے میں توبہ واستغفار کرتاہوں ،معبود میں ان لوگوں سے بیزاری اختیار کرتاہوں اور ان کے ان تمام اقوال وافعال سے بیزاری اختیار کرتا ہوں ، جن کے ذریعے انھوں نے تیرے احکام کی مخالفت کی تیرے حرمات کو مباح کیا ، اورتیرے حدود سے تجاوز کرگئے ، اور ان کے جان بوجھ کر پیروکاروں ،ماننے والوں ،محبت کرنے والوں سےبھی نفرت کرتاہوں ، میرے مالک پہلے جب میں جاہل تھا تو ان سے محبت کرتا تھا تو میری غلطی کو معاف کردے حالانکہ تیرے رسول نے کہہ دیا ہے ۔جاہل اپنے جہالت کی وجہ سے معذور نہیں سمجھا جا یئگا ۔
خداوندا! ہمارے بزرگوں نے ہم کو راستہ سے بھٹکا دیا تھا ۔ حقیقت کو ہم سے مخفی کردیا تھا پچھلے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جانے والے صحابہ کو تیرے رسول کے بعد افضل الحق بتارکھا تھا ، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے آباء واجداد امویوں اور ان کے بعد عباسیوں کی دھوکہ دہی کے شکار ہوگئے تھے ، پروردگار ان کو ہم کو بخش دے تو رازہائے سربستہ اور دل میں چھپی باتوں تک سے واقف ہے ہمارے بزرگ ان صحابہ کا جو احترام واکرام کرتے تھے اور ان سے جو محبت کرتے تھے وہ اس حسن نیت کی بنا پر تھا کہ یہ لوگ تیرے رسول کے انصار اور تیرے رسول کے چاہنے والے تھے ، اے میرے آقا ! تو خوب جانتا ہے کہ ہمارے آباء واجداد اور ہم عترت طاہرہ یعنی ان ائمہ سے محبت کرتے ہیں جن سے تونے اذھاب رجس کیا ہے اور ان کو پاک کرنے کی طرح پاک کردیا ہے جن کے سید وسردار سید المسلمین ، امیرالمومنین ، قائد الغراء المحجلین ،امام المتقین حضرت علی ابن ابیطالب ہیں
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 254 ، تاریخ خمیس ج 3 ص 243
(2):- بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا

221
خداوند ا مجھے انھیں ائمہ معصومین کے شیعوں میں ، اور ان کی جہل ولایت سے تمسک کرنے والوں میں ، ان کے راستہ پر چلنے والوں میں سے قرار دے اور ان لوگوں میں سے قرار دے جو ان کی کشتی پر سوار ہونے والے ہیں ، اور ان کے عروۃ الوثقی سے متمسک رہنے والے ہیں اور ان کے عتبات عالیات میں داخل ہونے والے ہیں ، ان کی محبت ومودت کے راستہ پرچلنے والے ہیں ، اور ان کے اقوال واعمال کرنے والے ہیں ۔ان کے فضل وبخشش کاشکریہ ادا کرنے والے ہیں ۔
خدا وندا مجھے انھیں کے زمرے میں محشور کر۔ کیونکہ تیرے نبی (صلواتک علیہ وعلی آلہ) نے فرمایا ہے : انسان جس کو دوست رکھتا ہے اسی کے ساتھ محشور ہوگا ۔
(2) "حدیث سفینۃ " "انما مثل اھل بیتی اھلبتی فیکم مثل سفینۃ نوح فی قومہ من رکبھا نجی ومن تخلف عنھا غرق "(1)
رسول خدا نے فرمایا : " میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان میں کشتی نوح کی طرح ہے قوم نوح میں جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا جو الگ رہا وہ ڈوب گیا ۔
دوسری حدیث میں اس طرح ہے :" انما مثل اھل بیتی فیکم مثل باب حطۃ فی بنی اسرائیل من دخلہ غفرلہ (2)
میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان میں ایسی ہی ہے جیسے بنی اسرائیل میں باب حطّہ کی جواب اس میں داخل ہوا ہو بخشا گیا ۔
ابن حجر نے صواعق محرقہ میں اس حدیث کو لکھ کر فرمایا ہے کہ کشتی سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو ان سے محبت رکھے اور ان کی عظمت کرے خدا کی نعمت کا شکریہ ادا کرے اور علمائے اہلبیت کی ہدایت
--------------
(1):- مستدرک ج 3 ص 151 ،تلخیص الذہبی ، ینابیع المودۃ ص 30 ، 37 صواعق محرقہ ص 184 ،224 ،تاریخ الخلفاء جامع صغیر ،اسعاف الراغبین ،
(2):- مجمع الزوائد (الہیثمی ) ج 9 ص 168

222
پر عمل کرے وہ مخالفتوں کی ظلمتوں سے نجات پاجائے گا ۔ اورجو ان کی مخالفت کرے گا وہ کفران نعمت کے سمندر میں ڈوب جائے گا ۔ اور طغیان کے جنگلوں میں ہلاک ہوجائے گا ۔ اورباب حطہ سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس باب میں تواضع کے ساتھ داخل ہونے کو سبب مغفرت قراردیا ہے ، باب حطہ سے مراد یا تو باب اریحا " ہےیا بیت المقدس ہے ۔ اور اس امت کے لئے اہلبیت کی محبت کو سبب مغفرت قراردیا ہے ۔
کاش میں ابن حجر سے پوچھتا کہ کیا آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو سفینہ پر سوار ہوئے اور دروازے میں داخل ہوئے ، اور علماء کی ہدایت پر عمل پیرا ہوئے یا ان لوگوں میں سے ہیں جو کہتے کچھ میں کرتے کچھ ہیں ۔ اور عقیدہ کچھ رکھتے ہیں اور کام کچھ کرتے ہیں ، اور ایسے تو بہت سے نابینا وظالم علماء ہیں کہ جب میں ان سے سوال کرتا اور احتجاج کرتاہوں تو فورا جواب دیتے ہیں ہم اہل بیت سے اور حضرت علی سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ ہم اہل بیت کا احترام کرتے ہیں کوئی ایسا نہیں ہے جو اہل بیت کے فضائل کا انکار کرتاہو۔
جی ہاں ! وہ زبان سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی اور یا پھر یہ حضرات احترام وتقدیر تو اہل بیت کا کرتے ہیں لیکن اقتداوتقلید دشمنان اہل بیت وقاتلان اہل بیت ومخالفین اہلبیت کی کرتے ہیں ۔ اوریا پھر یہ لوگ اہل بیت کو جانتے ہی نہیں کیونکہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ اہل بیت کون ہیں ؟ تویہ فورا جواب دیتے ہیں کہ وہ ازواج پیغمبر ہیں جن خدا نے رجس کو دور کردیا ہے ، اورا س پہیلی کو میرے لئے ایک شخص نے حل کردیا جب میں نے اس سے یہی سوال پوچھا تو اس نے کہا: اہل سنت والجماعت سب کے سب اہل بیت کی اقتدا کرتے ہیں ، مجھے اس کے کہنے پر بہت تعجب ہوا میں نے کہا بھائی یہ کیسے ؟ اس نے کہا :رسول خدا نے فرمایا ہے نصف دین تو تم حمیرا (عائشہ ) سے حاصل کرو لہذا ہم نے نصف دین اہل بیت (یعنی عائشہ) سے حاصل کیا ! دیکھا آپ نے یہ اہل بیت کسکو سمجھتے ہیں ؟ اسی بنیاد پر ان کے اس کلام کو ہم اہل بیت کا احترام کرتے ہیں " اس مطلب پر حمل کرنا چاہئیے لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ بارہ اماموں کو جانتے ہیں ؟ تو وہ سوائے حضرت علی

223
امام حسن ، امام حسین کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ، اور امامت حسنین(ع) کی بھی نہیں مانتے ہیں ، یہ تو صرف معاویہ بن ابی سفیان جیسے لوگوں کا احترام کرتے ہیں جیسے عمروعاص ، حالانکہ معاویہ وہ شخص ہے جس نے امام حسن کو زہر سے شہید کرایا ہے اور یہ لوگ اس کو " کاتب الوحی " کہتے ہیں ۔
درحقیقت یہی تناقض ہے یہی خلط وتلبیس ہے اسی کو حق کو باطل میں مخلوط کردینا کہتے ہیں روشنی کو تاریکی کے غلاف میں بند کردینا ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مومن کے دل میں شیطان ورحمان دونوں کی محبت جمع ہوجائے ؟ خداوند عالم کا ارشاد ہے :" لَا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ "(پ 28 س 58 (مجادلہ ) آیت 22)۔
ترجمہ:-جو لوگ خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ پاؤگے ۔اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ (کیوں نہ ) ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان کو ثابت کردیا ہے اور خاص اپنے نور سے ان کی تائید کی ہے اور ان کو ( بہشت کے ) ان( ہرے بھرے)باغوں میں داخل کریگا جس کے کے نیچے نہریں جاری ہیں ،(اور وہ ) ہمیشہ اس میں رہیں گے ، خدا ان سے راضی اور وہ خدا سے خوش سے خوشی ، یہی خدا کا گروہ ہے سن رکھو کہ خدا ہی کے گروہ کے لوگ دلی مراد پائیں گے
دوسری جگہ ارشاد ہوتاہے :" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءكُم مِّنَ الْحَقِّ " (پ28 س 60 (ممتحنہ)آیت 1)
ترجمہ:- اے ایماندارو! اگر تم جہاد کرنے میں میری راہ میں اور میری خوشنودی کی تمنا میں (گھر سے ) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کے پاس دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور جو (دین)

224
حق تمہارے پاس آیا اس سے وہ لوگ انکار کرتے ہیں
(3)" حدیث سرور" " قال رسول اللہ : من سرّہ ان یحیا حیاتی ویموت مماتی ویسکن جنۃ عدن غرسھا ربی فلیوال علیا من بعدی والیول ولیہ ولیقتدر باہل بیتی من بعدی فانھم عترتی خلقوا من طینتی ورزقوا فھمی وعلمی فویل للکمکذبین بفضلھم من امتی القاطعین فیھم صلتی الا انا لھم اللہ سقاعتی (1)"
ترجمہ:-جس کو یہ بات پسند ہو کہ میری جیسی زندگی بسر کرے اور میری موت مرے اور اس جنت عدن میں رہے جس کو میرے رب نے لگایا ہے تومیرے بعد علی اور ان کے دوستوں کے دوست رکھے اور میرے اہل بیت کی پیروی کرےکیونکہ وہ میری طینت سے خلق کئے گئے ہیں اور میرا ہی علم وفہم ان کو عطا کیا گیا ہے ۔ میری امت کے جو ان کے فضل کا انکار کرتے ہیں اور مجھ سے رشتہ داری کو قطع کرتے ہیں ان پر ویل ہو اور ان کو میری شفاعت خدا نصیب نہ کرے ۔
یہ حدیث بھی ان صریحی حدیثوں کی طرح ہے جس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے اور مسلمان کو مجبور کرتی ہے بلکہ اس کی ساری دلیلوں کو کاٹ دیتی ہے جب کوئی علی کو دوست نہیں رکھے گا اور عترت رسول کی پیروی نہیں کرے گا تو رسول کی شفاعت سے محروم ر ہے گا ۔
میں یہاں پر ایک بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ جب میں نے یہ بحث شروع کی تو ابتدا میں اس حدیث کی صحت میں مجھے شک تھا کیونکہ اس حدیث میں علی اور اہل بیت کی مخالفت کرنے والے کو ایسی تہدید و دھمکی دی گئی ہے کہ میں اس کے بعد ابن حجر عسقلانی کا یہ قول پڑھا میں عرض کرتا ہوں اس حدیث کے روایوں میں یحی بن یعلی المحاربی ہے جو لغو اور بیکار آدمی ہے ! تو مسئلہ آسان ہوگیا اور میرے ذہن میں جو بعض
--------------
(1):- مستدرک ج 3 ص 128 الجامع الکبیر (طبرانی )اصابۃ (ابن حجر عسقلانی )کنز العمال ج 6 ص 155 ،ینابیع المودۃ ص 149 ،حلیۃ الاولیاء ج 1 ص 86 تاریخ ابن عساکر ج 2 ص 95

225
باتیں اس حدیث کے متعلق تھیں وہ سب رفع ہوگئیں ،کیونکہ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہی یحی بن یعلی المحاربی ہی اس حدیث کا گڑھنے والا ہے اور یہ ثقہ نہیں ہے ۔ لیکن خدا کی مرضی تھی کہ مجھے پوری حقیقت پر مطلع کردے چنانچہ ایک روز میں " ابراہیم الجہیان " کے مقالات میں "عقائدی مناقشات"(1) پڑھ رہا تھا اس وقت حقیقت واضح ہوگئی ۔
قصہ یہ ہوا کہ اس میں لکھا تھا یحیی بن یعلی المحاربی ان معتبر ترین لوگوں میں تھے جن پر بخاری ومسلم نے اعتماد کیا ہے چنانچہ میں بخاری ومسلم کو الٹ پلٹ کر پڑھنے لگا تودیکھا کہ بخاری نے سیری جلد کے ص 31 پر غزوہ حدیبیہ کےباب میں منجملہ حدیثوں کے ایک یہ بھی لکھی ہے اور مسلم نے پانچویں جلد ص 119 پر باب الحدود کے اندر اس کا ذکر کیا ہے اور ذہبی ۔۔جو اس سلسلہ میں بہت سخت تھے ۔۔۔نے ان کے مراسیل کی توثیق کی ہے اور دیگر ائمہ جرح وتعدیل نے بھی اس کا شمار(ثقات) میں کیا ہے اور شیخان (بخاری ومسلم) نے اس سے احتجاج واستدلال بھی کیا ہے تو پھر آخر اس فریب کاری دھوکہ وہی اورحقائق کو بدلنے اور ایسے شخص کے بارے میں طعن کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ اہل صحاح نے اس سے استلال کیا ہے کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ اس نے اظہار حقیقت کردیا ہے یعنی اہل بیت کی اقتدا کے وجوب کاذکر کردیا ہے ، اسی لئے ابن حجر اس کی تضعیف وتوہین پر اتر آئے حالانکہ ابن حجر کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ ان کے علاوہ بھی بڑے زبردست قسم کے علما ء ہیں جوان کی ہر چھوٹی بڑی لغزش کا حساب رکھیں گے اور ان کی جہالت وتعصب کے پردے کو چاک کرکے رہیں گے کیونکہ وہ لوگ نور نبوت سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور اہلبیت کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں ،
اس کے بعد میں اس بات کو جان گیا کہ ہمارے علماء کی پوری کوشش حقیقت کو چھپانے کی ہوتی ہے تاکہ ان کے پیرومرشد اصحاب کرام اور خلفاء کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے اسی لئے یہ لوگ کبھی تو صحیح حدیثوں کی تاویل کرتے ہیں اور ان کو دوسرے معانی پر حمل کرتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ حدیث من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ " میں مولی کے معنی کو اولی کے بجائے محب وناصر کے معنی میں کردیتے ہیں
--------------
(1):- مناقشات عقائدیۃ فی مقالات ابراہیم الجہبان ص 29

226
علمائے اہل سنت اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں مگر مولی کے معنی میں تاویل کرنا واجب جانتے ہیں ک مولی سے مراد محب اور ناصری ہیں اور یہ تاویل صرف ابو بکر ،عمر عثمان کی خلافت کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کرتے ہیں اگر یہ تاویل نہ کریں تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سب سے اولی ثابت ہوں گے بلکہ اس میں دیگر خرابیوں کے علاوہ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ تمام ان اصحاب کا مع الذکر کے فاسق ہونا لازم آتا ہے جنھوں نے ابو بکر کی بیعت کی تھی ،یہ ان علمائے اہل سنت والجماعت کا قول ہے جو ٹیونس میں رہتے ہیں اور جب میں نے ان سے کہا کہ رسول خدا نے خطبہ اور حدیث سے پہلے جب اصحاب سے پوچھ لیا کہ کیا میں تمہاری نفسوں پر تم سے زیادہ اولی نہیں ہوں اور سب نے کہا : ہاں 1 تب اس کے بعد نبی کا یہ حدیث بیان کرنا قرینہ ہے مولی بمعنی اولی بالتصرف کے ہے تو ان لوگوں نے جواب دیا یہ اضافہ شیعوں نے کیا ہے پھر جب میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ بات عقل میں آتی ہے کہ لاکھوں آدمیوں کو شدید گرمی میں روک کر صرف اتنا بتانا مقصود تھا کہ جس کا میں محب وناصر ہوں علی بھی اس کے محب وناصر ہیں ؟ تو وہ لوگ لاجواب ہوگئے اورخاموش ہوگئے ۔
اور کبھی ان تمام حدیثوں کو جھوٹی کہتے ہیں ان کے مذہب کے خلاف ہوں ۔ چاہے ان کی صحاح ومسانید میں وہ حدیثیں موجود بھی ہوں ، اس کی مثال یہ حدیث ہے ،: الخلفاء من بعدی اثناعشر کلھم من قریش " میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔ اور ایک روایت میں ہے (کلھم من بنی ہاشم )وہ سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے اس حدیث کو بخاری ومسلم کے ساتھ تمام اہل سنت والجماعت کے صحاح والوں نے نقل کیا ہے لیکن اس کے باجود یہ یہ لوگ اس کو جھٹلا تے ہیں اور ان بارہ اماموں کو نہیں مانتے جو اہل بیت سے ہیں جن کو شیعہ امام مانتے ہیں ۔بلکہ اہل سنت حضرات اس میں کہ چاروں خلفائے راشدین کو شمار کرتے ہیں اور کچھ لوگ خلفائے راشدین کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کو بھی شمار کرتے ہیں تو اس طرح تعداد پانچ ہوجاتی ہے اور پھر ٹہر جاتے ہیں آگے نہیں بڑھتے اور معاویہ ،یزید ،مروان بن الحکم ، مروان کی اولاد کو خلفائے راشدین میں شمار نہین کرتے اور یہ صحیح کرتے کرتے ہیں لیکن 12 کی تعداد پوری نہیں ہوپاتی ۔بلکہ ایک پہیلی ہو کر رہ جاتی ہے

227
اور ایسی پہیلی جس کا حل نہیں ہے مگر یہ کہ شیعوں والی بات مال لیں ۔اور کبھی حدیث کا آدھا حصہ یا 2/3 حصہ ہی حذف کردیتے ہیں تاکہ اس کو بدلا جاسکے اور اس کی مثال یہ حدیث ہے " ان ھذا اخی ووصیی وخلیفتی من بعدی فاسعموالہ واطیعوا! " اس حدیث کو آنحضرت نے حضرت علی کی گردن پکڑ کر فرمایا تھا ، اس حدیث کو طبری نے اپنی تاریخ میں ۔ ابن اثیر نے اپنی کامل میں لکھا ہے اسی طرح کنزل العمال میں مسند احمد بن حنبل میں بھی ہے ، سیرۃ حلبیہ اور ابن عساکر میں بھی ہے لیکن طبری کی جو تفسیر چھپی ہے اس کی ج 19 ص 121 میں پوری حدیث نہیں لکھی ہے بلکہ اس کے نام معانی کو حذف کردیا ہے اور اس کی جگہ ان ھذا اخی و کذا کذا !! تحریر ہے حالانکہ یہ لوگ اس سے غافل ہیں کہ طبری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کو مکمل لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے ج 2 ص 319 ۔۔ 321 یہ ہے علی امانت ؟ شاید اس بیچارے عالم کو کوئی حیلہ ہاتھ نہیں آیا جس سے حدیث کوجھٹلاسکے اوریہ حدیث رسول خدا کے بعد حضرت علی خلافت پر نص ہے اس لئے اس نے نصوص کوچھپا نے کی کوشش کی اور اس کو کذا وکذا سے بدل دیا اس بیچارے کو یہ خیال ہوا کہ اگر اس نے اپنی آنکھ بند کرلی تو سورج کی روشنی بھی چھپ جائے گی یا اس نے یہ سوچا کہ کذاکذا لکھ کر قارئین کو قانع کردےگا نہیں نہین ایسا نہیں ہوسکتا ۔
اور کبھی ثقہ ترین روایوں کو مشکوک بنا نے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں کیونکہ ان راویوں نے ایسی حدیثیں نقل کی ہیں جو ان لوگوں کی من پسند نہیں ہیں ۔جیسے ان لوگوں نے یحیی بن یعلی المحاربی کو مطعون قراردیا ہے حالانکہ وہ ان معتبر روایوں میں ہے جس سے بخاری ومسلم نے اپنی اپنی صحیح میں احتجاج کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر عسقلانی ن ےاس کے بارے میں خدشہ کیا ہے اور کہا ہے یہ ایک واہیات آدمی قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ اس نے حدیث "موالات " کو نقل کیا ہے جس میں جس میں رسول خدا نے اپنے تمام اصحاب کو یہ حکم دیا ہے کہ میرے بعد سب کے سب حضرت علی اور اہل بیت سے موالات کریں ۔ لیکن یہ حدیث ابن حجر اور ان کے ہم خیال لوگوں کو پسند نہیں آئی جس کا مقصد حقائق کو مٹانا ہے حالانکہ معاویہ نے حقائق کو چھپانے کے لئے اپنے تمام سونے چاندی کے ڈھیر کو صرف کردیا تھا ، لیکن ناکامیاب رہا تھا

228
تو پھر بیچارے ابن حجر راویوں میں خدشہ کرکے کیونکر چھپا سکتے ہیں ؟ معاویہ کے پاس تو حول وطول سلطنت وطاقت جاہ ومرتبہ سب کچھ تھا مگر وہ بری طرح ناکامیاب ہوگیا اور زمانہ نے اس کو تاریخ کے دبیز پردوں میں چھپا دیا ۔البتہ حضرت علی (ع) کا نور مرور ایام کےساتھ روشن سے روشن تر ہوتا گیا ۔ تو ابن حجر جیسے لوگوں کیلئے بھلا کہاں ممکن ہے کہ معتبر راویوں کے ساتھ میں خدشہ پیدا کرکے اہلبیت کی حقیقت کو مشکوک بنادیں ؟ نورخدا کا بجھا دینا ناممکن بات ہے ۔
اور کبھی حدیث کو پہلے ایڈیشن میں چھاپتے ہیں اور( پھر جب غلطی پر متنبہ ہوتے ہیں تو ) دوسرے ایڈیشنوں میں بغیر کسی اشارہ کے اس لئے حذف کیا جارہا ہے حذف کرتے ہیں لیکن تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں لوگ اس کو تلاش کرہی لیتے ہیں ۔ اس کی مثال محمد حسین ہیکل کی کتاب "حیات محمد (ص)" کا پہلا ایڈیشن ہے اس کے ص 104 پر وانذر عشیرتک الاقربین " کے ضمن میں مورخین کی طرح قصہ تحریر کرکے آخر میں لکھتے ہیں ۔: رسول خدا نے فرمایا " یہ میرا بھائی ہے تمہارے درمیان میرا خلیفہ ووصی ہے ۔۔۔۔۔!لیکن بعد والے ایڈیشنوں میں بغیر کسی اشارہ قریب یا بعید کے حدیث کے اس فقرہ کو حذف کردیا ۔اگر چہ محمد جواد مغنیہ نے ۔۔۔اور وہی اس کے ذمہ دار بھی ہیں ۔۔۔ اپنی کتاب "الشیعۃ فی المیزان" میں اس حادثہ کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ محمد حسین ہیکل نے اس فقرہ کو یعنی یہ میرا بھائی تمہارے درمیان میرا وصی وخلیفہ ہے ) ہزاروں گنیاں لیکر حذف کردیا ہے اور چونکہ ہیکل نے نہ تو اس خبر کی تکذیب کی ہے اور نہ ہی اس جملہ کوحذف کرنے کی کوئی علت بیان کی ہے اس لئے اس سے شیخ محمد جواد مغنیہ کی وسیع اطلاع اور سچائی کی تصدیق ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ میں ان جیسے لوگوں کیلئے ہوں جو تھوڑی سی پونجی کی خاطر آیات الہی کو بیچ ڈالتے ہیں :خدا سے ڈرو سچی بات کہو ،اور خدا کے اس فرمان کو یاد رکھو " إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ "(پ 2 س 2(بقرہ ) آیت 159) ۔ترجمہ:- بیشک جو لوگ (ہماری) ان روشن دلیلوں اور ہدایتوں کو جنھیں ہم نے نازل کیا ہے اس کے بعد چھپاتے ہیں ، جب کہ ہم کتاب (توریت ) میں لوگوں کے سامنے

229
صاف صاف بیان کرچکے تو یہی لوگ ہیں جن پر خدا بھی لعنت کرتاہے اور لعنت کرنے بھی لعنت کرتے ہیں اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے " إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً أُولَـئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"(پ 2 س 2(بقرہ)آیت 174) بیشک جو لوگ ان باتوں کو جو خدا نے کتاب میں نازل کی ہیں چھپاتے اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت (دنیوی نفع) لے لیتے ہیں یہ لوگ بس انگاروں سے اپنے پیٹ بھرتے ہیں اور قیامت کے دن ان سے بات تک تو کرےگا نہیں اورنہ انھیں (گناہوں سے) پاک کرے گا اور انھیں کے لئے دردناک عذاب ہے ! بس کیا یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں توبہ کریں گے ؟ اور حق کا اعتراف کرینگے ؟ اگر یہ لوگ ایسا کریں تو ہوسکتا ہے وقت گزر جانے سے پہلے خدا ان کی توبہ قبول کرلے ۔
بحث وتمحیص کے بعد یہ بات میرے اوپر بھی ثابت ہوچکی ہے اور میں اپنے دعوی پر مضبوط دلیل رکھتا ہوں کا ش یہ لوگ ان صحابہ کو بچانے کی کوشش نہ کرتے جو الٹے پاؤں کفر کی طرف چلے گئے تھے ، اسی غلطی کی وجہ سے ان کے اقوال میں تناقض ہے اور ان کی باتیں تاریخ سے متناقض ہیں ا ے کاش یہ لوگ حق ہی کی پیروی کرتے خواہ وہ کتنا ہی کڑوا ہوتا اگر وہ ایسا کرتے تو خود ان کو بھی راحت نصیب ہوتی اور دوسروں ک و بھی زحمت نہ ہوتی اور اس متفرق امت کو متحد کرنے میں ایک کار نمایاں انجام دیتے ، جب صحابہ اولین احادیث نبویہ کے نقل کرنے میں غیر ثقہ ہوں ، اور جوچیزیں ان کی خواہشات کے مطابق نہ ہوں ان کو باطل قراردیدیں خصوصا اگرو ہ حدیثیں وفات رسول کے وقت کی وصیتیں ہوں چنانچہ آپ ملاحظہ فرمائیں بخاری و مسلم دونوں نے لکھا ہے " رسول خدا نے مرتے وقت تین چیزوں کی وصیت فرمائی تھی ۔
(1):- مشرکین کو جزیرہ العرب سے نکال دو (2):- وفود کی اسی طرح آنے کی اجازت دو جس طرح میں اجازت دیتا تھا ۔ روای صاحب فرماتے ہیں ، تیسری چیز میں بھول گیا (1)۔۔۔ تو کیا یہ بات عقل میں آنے
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 121 ،باب جوائز الوفد من کتاب الجہاد والسیر ، صحیح مسلم ج 5 ص 75 کتاب الوصیہ

230
والی ہے کہ جو صحابہ موجود تھے اور انھوں نے رسول کی تینوں وصیتیں سنی تھیں وہ صرف تیسری ہی وصیت کو بھول گئے ؟ حالانکہ یہ لوگ صرف ایک مرتبہ سنکر لمبے لمبے قصیدے یاد کرلیتے تھے اس کو نہیں بھولتے تھے توکیسے مان لیا جائے کہ اس کو بھول گئے ؟ ہر گز نہیں یہ بھولے نہیں تھے (اور نہ اتنا بھولے تھے ) بلکہ سیاست نے ان کو بھلا دینے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔ اصحاب کے مضحکہ خیز چیزیہ بھی ہے اور یقینا پہلی وصیت حضرت علی کے خلیفہ بنانے کی تھی جس کو راوی نے بھلا دیا ہے ۔
حالانکہ جویائے حق کو چھپانے کے باوجود وصیت کی خوشبو پہونچ ہی جاتی ہے چنانچہ بخاری نے کتاب الوصایا اور مسلم نے کتاب الوصیہ میں نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عائشہ کے سامنے ذکر کیا گیا کہ نبی نے علی کے لئے وصیت فرمائی تھی(1) (آپ نے دیکھا اگر وصیت نہیں تھی تو عائشہ کے سامنے اس کا ذکر کیسے ہوا ؟ مترجم) آپ خود ہی ملاحظہ فرمائیے کہ خدا اپنے نور کو کس طرح ظاہر کرتا ہے چاہے ظالم کتنا چھپائیں ، میں اپنی بات کی طرف پھر پلٹتا ہوں ، کہ جب ایسے ایسے صحابہ رسول اکرم کی وصیت نقل کرنے میں غیر معتبر ہیں تو بے چارے تابعین وتبع تابعین کی کیا ملامت کیجائے ۔
اور جب ام المومنین عائشہ ذکر علی کو برداشت نہیں کرسکتی تھیں اور نہ ہی کسی قیمت پر حضرت علی کاذکر خیر پسند کرتی تھیں جیسا کہ ابن سعد نے اپنی طبقات میں (2) اور بخاری نے اپنی صحیح میں ۔۔۔باب مرض النبی ووفاتہ میں ۔۔۔۔ تحریر کیا ہے اور جب ام المومنین عائشہ حضرت علی کی موت کی خبر سن کر سجدہ شکر ادا کرتی ہوں تو پھر ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ حضرت علی کیلئے وصیت رسول کا ذکر کریں گی ؟ ام المومنین عائشہ کیلئے ہر خاص وعام جانتا ہے کہ یہ حضرت علی سے بغض رکھتی تھیں اون ان سے عداوت رکھتی تھیں (نہ صرف حضرت علی سے )بلکہ علی واولاد علی (ع) اور اہل بیت مصطفی سےبہت زیادہ عداوت رکھتی تھیں ۔۔۔

لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
٭٭٭٭٭
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 3 ص 68 باب مرض النبی ووفاتہ ،صحیح مسلم ج 2 ص 14 کتاب الوصیہ
(2):- طبقات ابن سعد ، القسم الثانی من الجزاف ص 29