پھر میں ہدایت پاگیا
 

152

2:- صحابہ نے نماز تک بدل دی
انس بن مالک کا بیان ہے : مرسل اعظم (ص) کے زمانہ میں جو چیزیں رائج تھیں ان میں سب سے پہلی چیز نماز ہے جن میں نے نہیں پہچان سکا ۔ انس کہتے ہیں ۔ جن چیزوں کو تم لوگوں نے ضائع کردیا کیا اس میں سے نماز نہیں کہ کہ جس تم نے ضائع کردیا ہے ، زہری کہتے ہیں :- دمشق میں انس بن مالک کے پاس گیا تو دیکھا وہ رو رہے ہیں ! میں نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کہنے لگے : اپنی زندگی میں میں نے اسی نماز کی معرفت حاصل کی تھی اور وہ بھی برباد کردی گئی (1)۔
کسی صاحب کو یہ شبہ نہ ہوجائے کہ مسلمانوں کی آپسی جنگوں اور فتنوں کے بعد تابعین نے تبدیلی کی ہے ۔ اس لئے میں یہ بتادیناچاہتا ہوں کہ سنت رسول میں جس نے سب سے پہلے تبدیلی کی ہے وہ مسلمانوں کے خلیفہ عثمان بن عفان اور ام المومنین عائشہ ہیں ۔ چنانچہ بخاری ومسلم دونوں میں ہے : منی میں مرسل اعظم(ص) نے دورکعت نماز پڑھی تھی ۔ آپ کے بعد ابو بکر اور ان کے بعد عمر بھی دو ہی رکعت پڑھتے رہے اور خو عثمان بھی اپنی خلافت کے ابتدائی ادوار میں دو ہی رکعت پڑھتے رہے پھر اس کے بعد چار رکعت پڑھنے لگے (2)۔ صحیح مسلم میں یہ بھی ہے : زہری کہتے ہیں : میں نے عروہ سے پوچھا کیا بات ہے عائشہ سفر میں بھی چاررکعت پرھتی ہیں ؟ انھوں نے عثمان کی طرح تاویل کر لی ہے (3)۔
حضرت عمر بھی سنن نبویہ کی نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اجتھاد کرتے تھے اور تاویل کرتے تھے بلکہ وہ تو قرآن مجید کے نصوص صریحہ کے مقابلہ میں بھی اپنی رائے کے مطابق حکم دیتے تھے ۔ مثلا عمر کا مشہور مقولہ ہے : دومتعہ(متعۃ النساء اور متعۃ الحج) رسول خدا کے زمانہ میں رائج تھے ۔ لیکن میں ان سے روکتاہوں
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 1 ص 74
(2):- بخاری ج 2 ص 154 ،مسلم ج 1 ص 260
(3):- مسلم ج 2 ص 143 کتاب صلواۃ المسافرین

153
اور (اگر کوئی میری مخالفت کرے گا ) تو اس کو سزا دوگا ۔ اسی طرح حضرت عمر نے اس صحابی کو نماز پڑھنے سے روگ دیا جو رات کو مجنب ہوگیا تھا ۔ اور غسل کے لئے پانی اس کو نہیں ملا تھا ۔ حالانکہ قرآن کا حکم ہے :" فان لم تجدوا ماءا فتیمموا صعیدا طیبا " اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی پر تیمم کر لیا کرو ۔۔۔۔۔ مگر نماز کو نہ چھوڑو ،
بخاری نے (اگر مجنب کو اپنی ذات کے لئے خطرہ ہو) کے باب میں روایت کی ہے کہ راوی کہتا ہے: میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : ایک مرتبہ میں عبداللہ اور ابو موسی کے پاس تھا کہ ابو موسی نے کہا : اے ابا عبدالرحمان اگر کوئی مجنب ہوجائے اور غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟ عبداللہ (ابا عبدالرحمان ) نے کہا جب تک پانی نہ ملے نماز تر ک کردے ۔ اس پر ابو موسی نے کہا پھر عمار کے قول کو کیا کروگے کہ آنحضرت نے فرمایا تھا: عمار بس یہ کافی ہے ۔عبداللہ نے کہا: مگر عمر اس بات سے مطمئن نہیں ہوپائے تھے اس پر ابو موسی نے کہا: خیر عمار کے قول کو جانے دو اس آیۃ (ان لم تجدوا الخ) کے بارے میں کیا کہوگے ؟ یہ با ت سن کر عبداللہ کوئی جواب تو نہیں دے سکے مگر اتنا کہا : اگر پانی نہ ملنے کی صورت میں ہم تیمم کی اجازت دیدیں تو خطرہ یہ ہے کہ اگر کسی کو سردی محسوس ہورہی ہے تو وہ بھی پانی چھوڑ کر تیمم کرلیا کرے گا اس پر میں نے شقیق سے کہا : تو پھر اسی وجہ سے عبداللہ نے کراہت کی تھی ؟ کہا :- ہاں ! (1)۔

3:- صحابہ کی اپنے خلاف گواہی
انس بن مالک کہتے ہیں : رسول اکرم نے انصار سے فرمایا :- میرے بعد تم لوگ زبردست مالداری دیکھو گے ۔مگر اس پر اس وقت تک صبر کرنا جب تک حوض (کوثر) پر خدا اور اس کے رسول سے ملاقات نہ کرلو ۔انس کہتے ہیں لیکن ہم لوگ صبر نہ کرپائے (2)۔
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 54
(2):- بخاری ج 2 ص 125

154

155

156
أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (٦٢) الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ (٦٣) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ لاَ تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (٦٤) (پ 11 س 10(یونس (آیت 62،63،64)
ترجمہ:- آگاہ رہو اس میں کئی شک نہیں کہ دوستان خدا پر (قیامت میں )نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (خدا سے )ڈرتے تھے ان ہی لوگوں کیلئے دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی ) خوشخبری ہے خدا کی باتوں میں ادل بدل نہیں ہوا کرتا یہی تو بڑی کامیابی ہے ۔"
دوسری جگہ ارشاد فرما تا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (٣٠) نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (٣١) نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (٣٢) (پ 24 س 41 (فصلت) آیت 30، 32،31)
صدق اللہ ع العلی العظیم
ترجمہ:-جن لوگوں نے (سچے دل سے )کہا کہ ہمارا پروردگار تو (بس )خدا ہے پھر وہ اسی پر قائم رہے ان پر موت کے وقت (رحمت کے)فرشتے نازل ہوں گے (اور کہیں گے ) کہ کچھ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور جس بہشت کا تم سے وعدہ کیاگیا تھا ۔ اس کی خوشیاں مناؤ ، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اورآخرت میں بھی (رفیق ) ہیں ۔ اور جس چیز کو بھی تمہارا جی چاہے بہشت میں تمہارے واسطے موجود ہے اور جو چیز کروگے وہاں تمہارے لئے حاضر ہوگی (یہ)بخشنے والے مہربان (خدا ) کی طرف سے (تمہاری )مہمانی ہے ۔
اب آپ فیصلہ کیجئے خدا کے اس وعدے کے بعد ابوبکر وعمر کی تمنا یہ کیوں ہے کہ کاش بشر نہ ہوتے ؟ حالانکہ خدا نے بشر کو اپنی مخلوقات پر فضیلت دی ہے اور جب عام مومن جو اپنی زندگی سیدھی طرح سے گزارنا ہے تو مرتے وقت اس پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور اس کو جنت میں اس کی خوشخبری دیتے

157
ہیں ۔اور وہ پھر نہ عذاب سے ڈرتا ہے اور نہ جوکچھ دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے اس پر رنجیدہ ہوتا ہے آخرت کی زندگی سے پہلے ہی اس کو زندگا نی دنیا ہی میں بشارت دیدی جاتی ہے تو پھر ان بزرگ صحابہ کو کیا ہوگیا ہے جو رسول کے بعد خیر خلق ہیں ( جیسا کہ ہم کو بچپنے سے یہی تعلیم دی جاتی ہے) کہ یہ تمنا کرتے ہیں : کا ش ہم پاخانہ ہوتے ، ہم مینگنی ہوتے ، بال ہوتے ، بھوسا ہوتے (سب کچھ ہوتے مگر انسان نہ ہوتے )
اگر ملائکہ نے ان کو بشارت جنت دے دی ہوتی تو یہ عذاب خدا سے بچنے کے لئے زمین پر واقع ہونے والے پہاڑ وں کے برابر سونا راہ خدا میں صدقہ دے کر عذاب خدا سے بچنے کی تمنا نہ کرتے ۔
ایک اور جگہ ارشاد خدا ہے " وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الأَرْضِ لاَفْتَدَتْ بِهِ وَأَسَرُّواْ النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ الْعَذَابَ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ "(1)۔
ترجمہ:- اور (دنیا) جس جس نے (ہماری نافرمانی کرکے) ظلم کیا ہے(قیامت کے دن) اگر تمام خزانے جو زمین میں ہیں اسے مل جائیں تو اپنےگناہ کے بدلہ ضرور فدیہ دے نکلے اور جب وہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو اظہار ندامت کریں گے اور ان میں باہم انصاف کے ساتھ حکم کیا جائےگا اور ان پر (ذرہ برابر )ظلم نہ کیا جائےگا ۔
ایک دوسری جہ ارشاد ہوتا ہے:" وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُون "(2)۔
ترجمہ:- اور اگر نافرمانوں کے پاس روئے زمین کی پوری کا ئنات مل جائے بلکہ اس کے ساتھ اتنی ہی اور بھی ہوتو قیامت کے دن یہ لوگ یقینا سخت عذاب کا فدیہ دے نکلیں (اور اپنا چھٹکارا کرانا چاہیں ) اور(اس وقت) ان کے سامنے خدا کی طرف سے وہ بات پیش آئےگی جس کا انھیں وہم وگمان بھی نہ تھا اور جو بد کردار یاں ان لوگوں نے کی تھیں (وہ سب ) ان کے سامنے کھل جائیں گی اور جس (عذاب )پر یہ لوگ قہقہے لگاتے تھے وہ انھیں گھیرلے گا ۔
--------------
(1):- (پ 11 س10 (یونس )آیت 54
(2):- پ 24س 29(زمر) آیت ، 47،48

158
میں نے اپنے پورے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ یہ آیتیں صحابہ کبار جیسے ابو بکر وعمر کو شامل نہ ہوں لیکن جب ان نصوص کو پڑھتاہوں تو ان اصحاب کے رسو ل اللہ سے زبردست قسم کے تعلقات اور پھر ان روابط کے باوجود آنحضرت (ص) کے احکام سے انحراف اور انتہا یہ ہے کہ آنحضرت کے آخری عمر میں ان کی ایسی نافرمانی جس سے حضور کو غصہ آجائے اور ان لوگوں کو اپنے گھر سے باہر نکال دیں ۔ ان (دونوں ) کو سوچتا ہوں تو بہت دیر تک مجھ پر سکوت طاری ہوجاتا ہے اور میری نظروں کے سامنے فلم کی طرح وہ تمام واقعات یکے بعد دیگرے آنے لگتے ہیں جو رسول خدا کے بعد پیش آئے جیسے ان کی لخت جگر فاطمہ زہرا کو ان لوگوں نے اذیت دی ان کی توہین کی حالانکہ خود حضور فرماگئے تھے ۔ فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا (1)۔
جناب فاطمہ نے ابو بکر وعمر سے فرمایا :-
میں تم دونوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا تم نے رسولخدا(ص) کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ؟ فاطمہ کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور فاطمہ کی ناراضگی میری ناراضگی ہے جس نے میری بیٹی فاطمہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے فاطمہ کو راضی رکھا ،اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا دونوں نے کہا: ہاں ! ہم نے رسول اللہ سے سنا ہے تب جناب فاطمہ نے فرمایا : میں خدا اور اس کے ملائکہ کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا اور مجھے راضی نہیں کیا اور جب میں رسول خدا سے ملاقات کروں گی تو تم دونوں کی ضرور شکایت کروں گی (2)۔
خیر اس روایت کو چھوڑئیے جس سے دل زخمی ہوجاتے ہیں ۔ ابن قتیبہ جو علمائے اہل سنت میں سے تھے اور بہت سے فنون میں بے مثال تھے ۔ تفسیر ،حدیث ،لغت نحو ، تاریخ وغیرہ میں ان کی بہت ہی اہم تالیفات ہوسکتا ہے یہ بھی شیعہ رہے ہوں کیونکہ ایک مرتبہ ایک شخص کو میں نے تاریخ الخلفاء
--------------
(1):- بخاری ج 2 ص 206 باب مناقب قرابۃ رسول اللہ
(2):- فدک فی التاریخ ص 92

159
دکھائی تو اس نے بر جستہ کہا: یہ تو شیعہ تھے ، اورہمارے علماء جب کسی سوال کا جواب نہیں دے پاتے تو ان کے پاس آخری حیلہ یہی رہتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف شیعہ ہے چنانچہ ان کے نزدیک طبری شیعہ ہے ، امام نسائی ۔۔۔جنھوں نے حضرت علی کے خصائص میں کتاب لکھی ۔۔۔شیعہ تھے ، ابن قتیبہ بھی شیعہ تھے ، موجودہ ڈاکٹر طہ حسین مصری نے جب اپنی شہرہ افاق کتاب "الفتنۃ الکبری " لکھی اور اس میں حدیث غدیر کا ذکر کیا اور دیگر حقائق کا اعتراف کیا تو یہ بھی شیعہ ہوگئے ۔
واقعہ یہ کہ ان میں کوئی بھی شیعہ نہیں تھا ۔لیکن ہمارے علماء کی عادت ہے جب کبھی شیعوں کاذکر کرتے ہیں ۔ تو ان کو شیعوں میں کوئی اچھائی نہیں نظر آتی صرف برائی کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اور اپنا سارا زور علمی صحابہ کی عدالت پر صرف کرتے ہیں ،اور کسی نہ کسی طرح ان کو عادل ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں ۔
لیکن اگر کسی نے حضرت علی کے فضائل کا ذکر کردیا وار یہ اعتراف کر لیا کہ بڑے بڑے صحابہ سے بھی غلطی ہوئی ہے تو فورا اس پر تشیع کا الزام لگادیتے ہیں ۔ صرف اتنی سی بات کافی ہے کہ اگر آپ کسی کے سامنے نبی کریم کاذکر کرکے صلی اللہ علیہ وآلہ کہہ دیجئے یا حضرت علی کا نام لے کر علیہ السلام کہہ دیجئے تو وہ فورا کہہ دے گا تم شیعہ ہو ۔اسی بنیاد پر ایک دن میں اپنے ایک (سنی ) عالم سے بات کرتے ہوئے بولا : آپ کی رائے بخاری کے بارے میں کیا ہے ؟ فرمایا: ارے وہ تو ائمہ حدیث میں سے ہیں ان کی کتاب قرآن کےبعد سب سے زیادہ صحیح ہے اور اس پر ہمارے تمام علماء کا اجماع ہے ، میں نے کہا ، وہ تو شیعہ تھے ۔ تو اس پر وہ عالم میرا مذاق اڑانے کے انداز میں بہت زور سے ٹھٹھا مار کے ہنسے اور بولے : حاشا کلا، بھلا امام بخاری شیعہ ہوں گے ؟ میں نے عرض کیا ابھی آپ نے فرمایا کہ حضرت علی کا نام لے کر علیہ السلام کہے وہ شیعہ ہے ۔ بولے ہاں ! ہاں یہ تو واقعہ ہے ! تب میں نے ان کو اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے سب کو بخاری میں متعدد مقامات دکھائے جہاں حضرت علی کے بعد علیہ السلام اور حضرت فاطمہ کے بعد علیھا السلام اور حسن وحسین ابن علی کے بعد علیھما السلام لکھا تھا(1)
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 127 ،130 اور ج 2 ص 126،205

160
تو یہ دیکھ کر مبہوت ہوگئے ،اور چپ ہوگئے کوئی جواب نہ دے سکے ۔
اب میں پھر اسی روایت کی طرف آتا ہوں جس میں ابن قتیبہ لے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ ابو بکر و عمر پر بہت غضبناک تھیں ۔ ہوسکتا ہے آپ کو شک ہو ۔لیکن میں کم از کم بخاری کے بارے میں شک نہیں کرسکتا جو ہمارے یہاں قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے اور ہم نے اپنے لئے لازم قرار دے لیا ہے یہ واقعا صحیح ہے اور شیعوں کو حق ہے کہ اس کتاب سے ہم کو ملزم قرار دیں جس طرح خود ہم نے اپنے کو ملزم قراردے لیا ہے اور عقلمند لوگوں کے لئے انصاف کا طریقہ بھی یہی ہے لیجئے بخاری کا باب مناقب قرابۃ رسول اللہ مطالعہ فرمائیے اس میں ہے : فاطمہ میرے دل کا ایک ٹکڑا ہے جس نے فاطمہ کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ۔ اور باب غزوہ ، خیبر میں ہے عائشہ بیان کرتی ہیں فاطمہ بنت النبی (علیھا السلام) نے ابو بکر کے پاس آدمی بھیجا کہ رسول خدا کی میراث مجھے دو ۔لیکن ابو بکر نے اس میں سے ایک حبہ بھی دینے سے انکار کردیا ۔تو فاطمہ اس وجہ سے غضبناک ہوگئیں ۔ اور ان کا بائیکاٹ کردیا ۔ مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔
دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے بخاری نے اس واقعہ کو اختصار کے ساتھ اور ابن قتیبہ نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دونوں کا نتیجہ یہ ہے : رسول اللہ فاطمہ کی ناراضگی سے ناراض ہوتے تھے اور فاطمہ کی خوشی سے خوش ہوتے تھے اور فاطمہ مرگییں مگر ابو بکر سے راضی نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔
اب اگر بخاری یہ کہتےہیں : فاطمہ ابو بکر پر ناراضگی کے عالم میں مری ہیں اور مرنے دم تک بات نہیں کی تو اس کا بھی مطلب وہی ہے جو ابن قتیبہ نے لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور بقول جناب بخاری ۔۔۔"؛ کتاب الاستئذان باب من ناجی بین الناس۔۔۔۔۔ جب فاطمہ تمام دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں اور پوری امت مسلمہ میں اکیلی وہ عورت ہیں جو آیت تطہیر کی رو سے معصومہ ہیں تو ان کا غضبناک ہونا کسی ناحق بات پر تو ہو ہی نہیں سکتا ۔اسی لئے خدا اور رسول فاطمہ کے غضبناک ہونے سے غضبناک ہوجاتے ہیں اور اسی لئے ابو بکر نے بھی کہا تھا : اے فاطمہ میں خدا اورآپ کی ناراضگی سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ کہہ کر ابو بکر باآواز بلند رونے لگے اور قریب تھا کہ ان کی روح جسم سے مفارقت کرجائے مگر فاطمہ یہی کہتی رہیں ۔ خدا کی قسم میں ہر نماز کے

161
بعد تم دونوں کے لئے بد دعا کرتی رہوں گی ۔ اس واقعہ کے بعد ابو بکر روتے ہوئے نکلے اور کہتے جاتے تھے " مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے ۔ مجھ سے اپنی (اپنی )بیعت توڑ دو (1)۔
ویسے تم ہمارے بہت سے مورخین وعلماء نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عطیہ ،میراث ،سہم القرباء کے سلسلے میں جناب فاطمہ (س) نے ابو بکر سے نزاع کی لیکن ابو بکر نے آپ کا دعوی رد کردیا اور آپ مرتے دم تک ابو بکر سے ناراض رہیں ۔ ۔۔۔ لیکن یہ حضرات اس قسم کے واقعات کو پڑھ کر اس طرح گزر جاتے ہیں ۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور اس قسم کے واقعات پر جن سے قریب سے یا دور سے صحابہ کی بزرگی پر دھبہ آتا ہو" اپنی حسب عادت زبان ہی نہیں کھولتے ۔۔۔۔ اس سلسلہ میں سب سے عجیب بات میں نے ایک بزرگوار کی پڑھی جو واقعہ کو ذرا تفصیل سے تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : میں نہیں تسلیم کرسکتا کہ جناب فاطمہ نے ناحق چیز کا مطالبہ کیا ہو جیسے کہ میں یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ ابو بکر نے فاطمہ کے جائز حق کو روک دیا ہو۔۔۔۔۔۔ اس سفسطہ سے اس عالم کو شاید یہ خیال پیدا ہوا ہو کہ اس نے مسئلہ کو حل کردیا اور بحث کرنے والوں کو قانع کردیا ۔ حالانکہ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی کہے : میں تسلیم نہیں کرسکتا کہ قرآن ناحق بات کہے جیسے کہ میں یہ بات تسلیم نہیں کرسکتا کہ بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کی ہو ۔۔۔۔ ہمارے لئے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارے علماء ایسی بات کہتے ہیں ہیں جس کو وہ خود نہیں سمجھتے وار یہ نقیضین پر عقیدہ رکھتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ نے دعوی کیا اور ابو بکر نے اس کو رد کردیا ۔اب یا تو (معاذاللہ) جناب فاطمہ جھوٹی تھیں یا پھر ابو بکر ظالم تھے یہاں کوئی تیسری صورت حال نہیں ہے جیسا کہ ہمارے بعض علماء کہنا چاہتے ہیں ۔
اور چونکہ عقلی ونقلی دلیلوں سے ثابت ہے کہ سیدہ عالمیان جھوٹی نہیں ہوسکتیں کیونکہ ان کے باپ کی صحیح حدیث ہے فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو اذیت پہونچائی اس نے مجھ کو اذیت پہونچائی اور واضح سی بات ہے کہ رسول کی طرف سے یہ سند کسی جھوٹے کو نہیں دی جاسکتی ہے ۔پس یہ حدیث تو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ نہ جناب فاطمہ جھوٹ بول سکتی ہیں اور نہ کسی دیگر بری چیز کا ارتکاب
-------------
(1):- الامامۃ والسیاسۃ (لابن قتیبہ )ج 1 ص 20

162
کرسکتی ہیں ،جس طرح آیت تطہیر ان کی عصمت پر دلیل ہے (1)۔جو حضرت عائشہ کی گواہی کی بنا پر وفاطمہ ا ن کے شوہر ان کے بچوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ لہذا اس کے علاوہ کوئی چار ہ نہیں ہے کہ صاحبان عقل اس بات کو تسلیم کرلیں کہ وہ معصومہ مظلومہ تھیں ،فاطمہ کا جھوٹا ہونا انھیں لوگوں کے لئے ممکن ہے جو یہ دھمکی دے سکتے ہوں کہ اگر بیعت سے انکار کرنے والے فاطمہ کے گھر سے نہ نکلے تو ہم فاطمہ کے گھر کوآگ لگادیں گے (2)۔
انھیں تمام اسباب کی بنا پر جناب فاطمہ نے ابو بکر وعمر کو اپنے گھرمیں اجازت مانگنے پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور جب حضرت علی ان دونوں کو گھر میں لائے تو جناب فاطمہ نے اپنا منہ دیوار کی طرف کرلیا ۔ اور ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا (3)۔
جناب فاطمہ کی وصیت کے مطابق ان کو راتوں رات دفن کیا گیا تاکہ ان میں سے کوئی جنازہ میں شریک نہ ہوجائے (4)۔
اور بنت رسول کی قبر آج تک لوگوں کے لئے مجہول ہے ۔میں اپنے علماء سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ان حقائق پر کیوں خاموش ہیں ؟ کیوں اس کے بارے میں بحث نہیں کرتے ؟ بلکہ اس کا ذکر تک نہیں کرتے ؟ اور ہمارے سامنے صحابہ کو ملائکہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگ نہ گناہ کرتے تھے اور نہ ان سے غلطی ہوتی تھی آخر ایسا کیوں ہے ؟
جب میں کسی عالم سے پوچھتا ہوں :خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان بن عفان ذی النورین کو کیسے قتل کردیاگیا ؟ تو صرف یہ جواب ملتا ہے کہ مصریوں ۔۔۔ جو سب کافر تھے ۔۔۔۔نے آکر قتل کردیا صرف دو جملوں میں بات تمام کردی جاتی تھی ۔ لیکن جب مجھے فرصت ملی اورمیں نے تاریخ کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ عثمان کے قاتل نمبر ایک کے اصحاب تھے اور ان میں بھی سب سے آگے ام المومنین عائشہ تھیں جو چلا چلا کر لوگوں کو عثمان کے قتل پر ورغلاتی تھیں ۔اور ان کے خون کو مباح بتاتی تھیں اور کہتی تھی ۔:-
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 7 ص 112 ،120
(2)-(3):- تاریخ الخلفاء ج 1 ص 20
(4):- صحیح بخاری ج 3 ص 39

163
" اقتلوا نعثلا فقد کفر" نعثل کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے (1)۔۔۔نعثل ایک یہودی تھا عثمان کی ڈاڑھی اس کی ڈاڑھی سے بہت مشابہ تھی اس لئے عائشہ عثمان کو نعثل کہا کرتی تھیں ، مترجم۔۔۔ اسی طرح طلحہ ،زبیر ،محمد ابن ابی بکر ،وغیرہ جیسے مشہور صحابی نے عثمان کا محاصرہ کرلیا تھا اور ان کے اوپر پانی بند کردیا تھا تاکہ مجبور ہوکر خلافت سے مستعفی ہوجائیں ۔مورخین کا بیان ہے کہ یہی صحابہ کرام تھے جنھوں نے عثمان کے لاشہ کو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن نہیں ہونے دیا ۔ اور ان کو غسل وکفن کے بغیر حش کوکب میں دفن کیاگیا ۔ سجان اللہ ہم کو تو یہ بتایا جاتا کہ عثمان کے قاتل مسلمان ہی نہ تھے اور ان کو مظلوم قتل کیاگیا ہے ۔جناب فاطمہ اور ابوبکر کی طرح یہ دوسرا قصہ ہے کہ باتو عثمان مظلوم تھے تو پھر جتنے صحابہ نے ان کو قتل کیا یا ان کے قتل میں شریک رہے وہ سب کے سب مجرم ہیں کہ کیونکہ انھیں نے خلیفہ کو ظلما وعدوانا قتل کیا اور ان کے جنازے کے پیچھے پیچھے جنازے پر پتھر مارتے ہوئے لے گئے ۔ زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی ان کی توہین کی ۔۔۔اور یا پھر یہ تمام صحابہ حق پر تھے جنھوں نے عثمان کو قتل کیا ۔کیونکہ عثمان نے اسلام مخالف بہت سے اعمال کا ارتکاب کیا تھا ۔ جیسا کہ تاریخوں میں ہے دونوں میں سے ایک کو باطل ماننا ہوگا ۔یہاں کوئی تیسری صورت نہیں ہے ہاں یہ اور بات ہے ہ ہم تاریخ ہی کو جھٹلا دیں اور اور لوگوں کو دھوکہ دیں کہ جن مصریوں نے عثمان کو قتل کیا تھا وہ کافر تھے بہر حال دونوں صورتوں " خواہ عثمان کو مظلوم مانیں یا مجرم " میں الصحابۃ کلھم عدول" سارے صحابہ عادل ہیں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے یا تو یہ مانئے کہ عثمان عادل نہیں تھے یا یہ مانئے کہ ان کے قاتل عادل نہیں تھے ۔ دونوں ہی صحابہ اس طرح ہم اہل سنت کا دعوی تو باطل ہوجاتا ہے البتہ شیعوں کا دعوی ثابت ہوجاتا ہے کہ بعض صحابہ عادل تھے بعض عادل نہیں تھے ۔
اسی طرح میں جنگ جمل کے بارے میں سوال کرتاہوں جس کے شعلے ام المومنین عائشہ نے بھڑکائۓ تھے اور خودہی لشکر کی قیادت کررہی تھیں ۔آخر جب ان کو خدانے حکم دیا تھا کہ :
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 4 ص 407 ،تاریخ ابن اثیر ج3 ص 206 ،لسان العرب ج14 ص 193 ، تاج العروس ج 8 ص 141 ،العقد الفرید ج 4 ص 290

164
وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی (پ 22 س 33 (الاحزاب ) آیۃ 32)
ترجمہ :-اور اپنے گھروں میں نچلی بیٹھی رہو اور اگلے زمانہ جاہلیت کی طرح انپے بناؤ سنگار نہ دکھاتی پھرو ! انپے گھروں میں بیٹھی رہو تو ام المومنین عائشہ کیوں نکلی ؟
اسی طرح دوسرا سوال کرتا ہوں کہ ام المومنین نے حضرت علی کے خلاف کس دلیل کی بنا پر جنگ کی ؟ جبکہ حضرت علی تمام مومنین ومومنات کے ولی تھے ۔ لیکن حسب معمول ہمارے علماء بڑی سادگی سے جواب دیدیتے ہیں کہ ام المومنین حضرت علی سے دشمنی رکھتی تھیں کیونکہ "واقعہ افک " میں حضرت علی نے ( بشرطیکہ یہ صحیح ہو) رسول خدا کو مشورہ دیا تھا کہ انکو طلاق دے دیجئے ہمارے علماء ہم کو اس طرح مطمئن کرنا چاہتے ہیں چونکہ :واقعہ افک " میں حضرت علی نے (بشرطیکہ یہ صحیح ہو ) طلاق کا مشورہ دیا تھا اس لئے ام المومنین نے مخالفت کی تھی مگر آپ سوچئے تو کیا صرف اتنی سی بات پر حضرت عائشہ کے لئے جائز تھا کہ حکم قرآن کی مخالفت کریں ؟ اور وہ پردہ جو رسول نے ان پر ڈال رکھا تھا اس کو چاک کردیں ؟ اور اونٹ کی سواری کریں جب کہ رسول نے پہلے ہی روک دیا اور ان کو ڈرادیا تھا کہ حواب کے کتے بھونکیں گے (2)۔ اور بی بی عائشہ اتنی لمبی مسافت طے کریں یعنی مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سےبصرہ جائیں ،بے گناہ لوگوں کو قتل کریں ؟ حضرت علی اورجن صحابہ نے علی کی بیعت کی تھی ان سے جنگ کریں ؟ اور ہزاروں مسلمان قتل کئے جائیں جیسا کہ مورخین نے لکھا ہے (3)- ان سب جرائم کا ارتکاب صرف اس لئے جائز ہے کہ ام المومنین حضرت علی کو نہیں چاہتی تھی ۔اس لئے کہ حضرت علی نے طلاق کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن نبی نے طلاق تو نہیں دیا ۔ پھر اتنی نفرت کیوں؟ مورخین نے دشمنی کے وہ وہ واقعات تحریر کئے جن کی تفسیر ممکن ہی نہیں ہے (مثلا) جب آپ مکہ سے واپس آرہی تھیں تو لوگوں نے بتایا عثمان قتل کردیئے گئے اس خبر کو سن کر آپ پھولے نہیں سمارہی تھیں ۔لیکن جب لوگوں نے یہ خبر دی کہ مدینہ والوں نے علی کی بیعت کرلی تھی اس کو سنتے ہی آپ آگ بگولہ ہوگئیں اور فرمانے لگیں : مجھے یہ بات پسندتھی کہ علی
--------------
(1):- الامامۃ والسیاسۃ
(2):- طبری ،ابن اثیر مدائنی وغیرہ جنھوں نے سنہ 36 ھ کے حالات تحریر کئے ہیں ۔

165
کو خلافت ملنے سے پہلے آسمان پھٹ پڑتا اور فورا حکم دیا کہ مجھے واپس لےچلو ۔اور آتے ہیں حضرت علی کے خلاف آتش فتنہ بھڑکا دی ،وہ علی بقول مورخین جن کا نام لینا بھی پسند نیں کرتی تھیں ۔ کیا ام المومنین نے رسول خدا کایہ قول نہیں سنا تھا : علی کی محبت ایمان اور علی سے بغض رکھنا نفاق ہے (1)۔اور اسی لئے بعض اصحاب کا یہ قول مشہور ہے کہ ہم منافقین کو حضرت علی سے بعض رکھنے سے پہچان لیا کرتے تھے ۔۔۔ اور کیا ام المومنین نے رسول اسلام کا یہ قول نہیں سنا تھا : جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ۔۔۔۔ حتما سب کچھ سنا تھا لیکن نہ وہ علی کو چاہتی تھیں نہ ان کا نام لینا پسند کرتی تھیں بلکہ جب علی کے مرنے کی خبر سنی ہے تو فورا سجد ہ شکر کیا ہے (2)
ان باتوں کوجانے دیجیئے میں ام المومنین عائشہ کی تاریخ سے بحث نہیں کررہا ہوں میں تو صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے صحابہ نے مبادی اسلام کی مخالفت کی ہے اور رسول خدا کے احکام کی نافرمانی کرتے رہے ہیں ۔ رہا ام المومنین کا فتنہ تو اس سلسلہ میں صرف ایک ایسی دلیل کافی ہے جس پر تمام مورخین نے اجماع کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ام المومنین عائشہ کا گزر چشمہ حواب سے ہوا تو وہاں کے کتوں نے بھونکنا شروع کیا اس پر بی بی کو رسول خدا کی تحذیر یادآئی اور یہ یاد آیا کہ پیغمبر نے کہا تھا اسے عائشہ کہیں وہ اونٹ والی تمہیں نہ ہو ۔یہ یاد آتے ہی عائشہ رونے لگیں اور کہنے لگیں مجھے واپس کرو ،مجھے واپس کرو ،
لیکن طلحہ وزبیر نے پچاس آدمی کو دے دلا کر تیارکر لیا اور ان سبھوں نے آکر عائشہ کے سامنے اللہ کی جھوٹی قسم کھائی کہ یہ چشمہ حواب نہیں ہے بس پھر کیا تھا عائشہ نے اپنا سفر جاری رکھا اور بصرہ آگئیں ،مورخین کا بیان ہے کہ اسلام میں یہ سب سے پہلی جھوٹی گواہی ہے (3)
اے مسلمانو! اے روشن عقل رکھنے والو ، اس مشکل کا حل بتاؤ 1 کیا یہ وہی بزرگ صحابہ ہیں جن کو ہم رسول کے بعد سب سے بہتر مانتے ہیں اورجن کی عدالت کے ہم قائل ہیں جو جھوٹی گواہی دیتے ہیں حالانکہ جھوٹی گواہی کو رسول خدا نے ان گنا ہان کبیرہ میں شمار کیا ہے جو انسان کو جہنم میں پہونچا دیتے ہیں ۔
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 1 ص 48
(2):- طبری ، ابن اثیر ، الفتنۃ الکبری ، تمام وہ مورخین جنھوں نے سنہ 40 ھجری کے حالات لکھے ہیں
(3):- طبری ، ابن اثیر ، مدائنی اور دیگر وہ مورخین جنھوں سنہ 36 ھ کے حالات لکھے ہیں ،

166
وہی سوال پھر دہرانا پڑتا ہے اور ہمیشہ دہراتا ہوگا کہ کون حق پر ہے ؟ اور کون باطل پر ؟ یا تو عائشہ اور ان کے ہمنوا وطلحہ وزبیر اور ان کے ساتھی سب ظالم اور باطل پر ہیں اور یا پھر علی اور ان کے ساتھی ظالم اور باطل پر ہیں ۔ یہاں کوئی تیسرا احتمال نہیں ہے ۔ منصف مزاج اور حق کا متلاشی علی کی حقانیت کو تسلیم کرے گا ۔کیونکہ بقول مرسل کوچھوڑ دےگا کیونکہ انھیں لوگوں نےآتش فتنہ بھڑکائی تھی اور اس کو بجھانے کی کوشش بھی نہیں کی یہاں تک کہ اس نے ہر رطب ویابس کو جلا کر راکھ کردیا اور اس کے آثار آج تک باقی ہیں ۔
مزید بحث اور اپنے اطمینان قلب کے لئے عرض کرتا ہوں کہ بخاری کے کتاب الفتن اور باب الفتنۃ التی تموج کموج البحر" میں تحیریر ہے : جب طلحہ وزبیر وعا‏ئشہ بصرہ پہونچے تو حضرت علی نے عمار یاسر اور اپنے بیٹے حس کو بھیجا یہ دونوں کوفہ آئے اور منبر پر گئے حسن بن علی منبر کے سب سے اونچے زینہ پر تھے اور عمار حسن سے ایک زینہ نیچے تھے ۔ ہم لوگ دونوں کی باتیں سننے کے لئۓ جمع ہوئے تو میں نے عمار کو یہ کہتے ہوئے سنا : عائشہ بصرہ گئی ہیں ۔ خدا کی قسم وہ دنیا وآخرت میں تمہارے نبی کی بیوی ہیں لیکن خدانے تمہارا امتحان لینا چاہا ہے کہ تم خدا کی اطاعت کرتے ہوں یا عائشہ کی (1)۔
اسی طرح بخاری کےف " کتاب الشروط باب ما جا ء فی بیوت ازواج النبی " میں ہے : رسول خدا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور عائشہ کے مسکن کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : یہیں فتنہ ہے یہیں فتنہ ہے یہیں فتنہ ہے ، فتنہ یہاں سے شیطان کی سینگ کی طرح نکلے گا (2)۔
اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں عائشہ کا رسول کے ساتھ بد تمیز ی سے پیش آنا جس پر ابو بکر کا اتنا عائشہ کو مارنا کہ عائشہ کے جسم سےخون بہنے لگا ۔ اور عائشہ کا رسول کے خلاف مظاہرہ کرنا جس پر خدا کی طرف سے طلا ق کی دھمکی کا ملنا اوریہ دھمکی دینا کہ خدا تم سے بہتری بیوی نبی کودے گا اور اسی قسم کی عجیب وغریب عائشہ کے لئے نقل کیا ان قصوں کو دہرا نا کتاب کو طول دینا ہے ۔
-------------
(1):- بخاری ج 4 ص161
(2):- بخاری ج 2 ص 128

167
ان تمام باتوں کے باوجود میں یہ پوچھتا ہوں کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک صرف عائشہ ہی کا کیوں اتنا احترام واکرام ہے ؟ کیا اس لئے کہ یہ نبی کی بیوی تھیں ؟ تو نبی کی بیویاں تو اور بھی تھیں ،بلکہ عائشہ سے افضل بھی تھیں جیسا کہ خود نبی نے فرمایا ہے ۔(1) تو عائشہ میں کیا خصوصیت ہے ؟ یاان کا احترام اس لئے زیادہ ہے یہ ابو بکر کی بیٹی تھیں ؟ یا اس لئے ان کا احترام زیادہ ہے کہ رسول خدا نے حضرت علی کے لئے جو وصیت کی تھی اس کو کالعدم بنانے میں سب سے اہم رول ان کا ہے ؟ جیسا کہ روایت میں ہے جب عائشہ کے سامنے ذکر آیا کہ نبی نے علی کے لئے وصیت کی تھی تو آپ جھٹ سے بولیں یہ کسی نے کہا ؟ رسول میرے سینہ پر تکیہ لگائے لیٹے تھے مجھ سے طشت مانگا میں طشت کے جھکی اور نبی کا انتقال ہوگیا ۔ مجھے پتہ بھی نہیں چلا پس علی کے لئے کیسے وصیت کردی (2)۔
یا پھر ان کا احترام اس لئے زیادہ ہے کہ انھوں نے حضرت علی سے ایسی جنگ کی جس میں نرمی کی گنجائش نہ تھی ۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد سے لڑیں انتہا یہ کردی کہ جب امام حسن کا جنازہ چلا تو آپ نے روکا اور یہ کہاجس کو میں میں دوست رکھے خدا اس کو دوست رکھے گا ۔ اور جو ان سے بغض رکھےگا خدا اس سے بغض رکھے گا ۔ یا ایک جگہ اور فرمایا تھا:- جوان سے جنگ کرے میں اس سے جنگ کروں گا جو ان سے صلح کرےگا ۔ میں اس سے صلح کروں گا ۔ الخ ان تمام حدیثوں کو ام المومنین بھول گئی تھیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی تھیں ؟ اور اس میں کوئی تعجب نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ حضرت علی کے بارے میں تو اس سے کئی گنا زیادہ سنا تھا لیکن نبی کی ممانعت کے باوجود حضرت علی سے جنگ کرکے رہیں اور لوگوں کو ان کے خلاف اکسا ہی کے مانا ، ان کے فضائل کا انکار کرکے رہیں ۔۔۔ دراصل یہ جوہ تھی جس کی بنا پر بنی امیہ نے ان سے محبت کا اظہار کیا ، اور ان کو اس درجہ تک پہونچا دیا جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہے اور ان کے فضائل میں ایسی ایسی (جعلی )روایات نقل کیں جس سے کتابیں بھرگئیں ،شہروں شہروں ،دیہاتوں دیہاتوں ان کا چرچا ہوگیا
--------------
(1):- ترمذی ، استیعاب در حالات صفیہ ، اصابۃ حالات صفیہ ام المومنین
(2):- بخاری ج 3 ص 68 باب مرض النبی ووفاتہ

168
اور آخر کار ان کو امت اسلامیہ کا مرجع اکبر کیونکہ آدھا دین تو صرف تنہا عائشہ کے پاس تھا ،
اور شاید دوسرا دین ابو ہریرہ کے پاس تھا ،جس نے بنی امیہ کے حسب منشاء خوب خوب روایات جعل کی تھیں اسی لئے انھوں نے ابو ہریرہ کواپنا مقرب بنالیا ، مدینہ کی گورنری ابوہریرہ کے حوالہ کودی، ابو ہریرہ کے لئے "قصرعقیق" بنوایا گیا ، جب کہ یہ بیچارے ایک مفلس قلاش آدمی تھے ان کو راویہ الاسلام کا لقب دیا گیا ، اسی طرح بنی امیہ کے پاس ایک نیا پورا دین آگیا ۔۔۔آدھا عائشہ کے ذریعہ آدھا ابو ہریرہ کے ذریعہ ۔۔۔جس میں کتاب خدا اور سنت رسول نام کی صرف وہ چیزیں تھیں جن کو یہ لوگ پسند کرتے تھے ، اور جس کے ذریعہ ان کی سلطنت مضبوط ہوسکتی تھی ظاہر ہے کہ یہ دین تناقضات وخرافات کا مجموعہ ہوگا ۔ اور اس طرح حقائق کو ختم کرکرے ان کی جگہ تاریکیوں کو دیدی گئی اور بنی امیہ نے لوگوں کو اسی نئے دن پر چلانا شروع کردیا اوراسی پر لوگوں کو ابھارا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین خدا ایک مضحکہ خیز چیزیں کے رہ گیا ۔ جس کی کوئی قدروقیمت ہی نہ رہی اور لوگ معاویہ سے اتنا ڈرنے لگے جتنا خدا سے نہیں ڈرتے تھے ۔
ہم جب اپنے علماء سے پوچھتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب جنکی بیعت مہاجرین وانصار نے کی تھی ان سے معاویہ کا جنگ کرنا کیسا ہے ؟ اور جنگ بھی ایسی کہ جس نے مسلمانوں کو شیعہ ،سنی دوفرقے میں بانٹ دیا ار اسلام میں اس کی وجہ سے ایسا رخنہ پڑگیا جو آج تک نہ بھر سکا ، تو وہ لوگ بڑی سادگی سےحسب عادت جواب دیتے ہیں : علی ومعاویہ دونوں ہی بڑے جلیل القدر صحابی ہیں دونوں نے اجتہاد کیا علی کا اجتہاد مطابق واقع تھا لہذا ان کو دو اجر ملے گا لیکن معاویہ نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی اس لئے ان کو صرف ایک اجر ملے گا ۔ہمارے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کے حق میں یا ان کے بر خلاف کچھ کہیں ، خود خدا وند عالم کا ارشاد ہے ،تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون(پ 1 س 2 (البقرۃ)آیت 132)
ترجمہ:- (اے یہودیو) وہ لوگ تھے جو چل بسے جو انھوں نے کمایا ان کے آگے آیا اور جو تم کماؤ گے تمہارے آگے آئیگا اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔

169
افسو س کی بات یہی ہے کہ ہمارے علماء کے جوابات اسی قسم کے ہوتے ہیں جو سفسطہ ہوتے ہیں ۔جن کو نہ عقل قبول کرتی ہے نہ دین نہ شریعت ۔۔ میرے معبود میں رائ کی غلطی ،خواہش کی لغزش ،شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوں ۔
بھلا وہ کون سی عقل سلیم ہے جو معاویہ کے اس اجتہاد پر اس کے لئے اجر کی قائل ہوگی جس کی بنا پر اس نے امام المسلمین سے جنگ کی بے گناہ مومنین کو قتل کیا ، ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جس کا شمار صرف خدا ہی کرسکتا ہے ،مورخین کے نزدیک مشہور ہے کہ معاویہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے لئے اور ان کو راستہ سے ہٹانے کے لئے اپنے مشہور طریقہ پر عمل کرتا تھا یعنی زہر آلود شہد کھلا دیتا تھا اورکہا کرتا تھا :خدا کا لشکر تو شہد میں ہے ۔
نہ معلوم یہ لوگ کیسے اس کو مجتہد مانتے ہیں اور اس کو اجر دینے کے لئے تیار ہیں حالانکہ "باغی گروہ" کا سردار تھا چنانچہ مشہور حدیث میں جس کو تمام محدثین نے لکھا ہے " آیا ہے : افسوس عمار یاسر پر ہے جس کو ایک باغی گروہ قتل کرےگا ۔ ۔۔اور معاویہ واس کے اصحاب نے جناب عمار کو قتل کیا ہے اس کو کیونکر مجتہد کہتے ہیں جس نے حجر بن عدی اور اس کے اصحاب کر بڑی بے دردی سے قتل کیا اور صحرائے شام میں" مرج عذرا" میں دفن کردیا کیونکہ ان لوگوں نے حضرت علیج پر لعنت کرنے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔۔۔ جس شخص نے سردار جوانان جنت امام حسن کو زہر دے کر قتل کرادیا کیسے اس کو عادل صحابی مانتے ہیں ؟ جس شخص نے امت مسلمہ سےجبرو زبر دستی سےپہلے تو اپنے لئے پھراپنے بد کار بیٹے یزید کے لئے بیعت لی جس نے شوری کے نظام کو بدل کر قیصر کی حکومت قائم کی (1)
جس نے لوگوں کو حضرت علی اور ان کے اہل بیت پر منبروں سے لعنت کرنے کیلئے مجبور کیا اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کو قتل کردیا اور یہ لعنت ایسی سنت بن گئی جس پر جوان بوڑھے ہوگئے بچے جوان ہوگئے ،بھلا ایسے شخص کو کیوں کر مجتھد کہا جاسکتا ہے؟ اور اس کو مستحق اجبر قرار دیا جاسکتا ہے؟
--------------
(1):- خلافت وملوکیت (مودودی )یوم الاسلام (احمد امین)

170
لا حول ولا قوۃ الا با اللہ ۔

پھر یہی سوال اٹھتا کہے کہ دونوں میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر تھا ؟ یا تو علی اور ان کے شیعہ ظالم تھے اور باطل پر تھے اوریا معاویہ اور اس کے ساتھی ظالم تھے اور باطل پر تھے ۔ حالانکہ رسول اللہ نے سب چیز واضح کردیا تھا ۔جو بھی ہو ہر صورت میں تمام صحابہ کی عدالت بہر حال ثابت نہیں ہوتی ۔اور نہ یہ منطق عقل سلیم پر پوری اترتی ہے ،ہر ہر چیز کی متعدد مثالیں ہیں جن کو خدا کے علاوہ کوئی احصاء نہیں کرسکتا ۔
اگر میں تفصیل میں جاؤں اور ہر واقعہ کے بارے میں ہر پہلو سے بحث کروں تو کئی ضخامت جلدوں کی ضرورت ہوگی ۔ مگر چونکہ میں نے اختصار کا ارادہ کرلیا ہے اور اس بحث میں صرف بعض مثالوں پر اکتفاء کی ہے ۔ اور یہ الحمداللہ ہماری قوم کے مزعومات کو باطل کرنے کے لئے کافی ہے ہماری قوم کا عالم یہ ہے کہ مدتوں سے ہماری فکروں کو جامد بنادیا ہے اوریہ پابندی لگادی ہے کہ میں حدیث سمجھنے کی کوشش نہ کروں ۔ عقل وشریعت کے معیار پر تاریخی واقعات کی تحلیل نہ کروں ۔ جب کہ قرآن کریم اور سنت رسول ہم کو میزان عقل پر تولنے کا حکم دیتی ہے ۔
اس لئے میں نے طے کر لیا ہے کہ میں سرکشی کروں گا اور تعصب کے جس غلاف میں مجھے لیٹا گيا ہے ، اس سے باہر نکلوں گا ۔ بیس سال سے جن بیڑیوں میں مجھے جکڑا گیا ہے اس سے آزادی حاصل کرکے رہوں گا ۔ میری زبان حال ان سے کہہ رہی ہے ۔ اے کاش میری قوم یہ جان لیتی کہ میرے خدانے مجھے کیوں بخش یدا اور میرا اکرام کیوں کیا ۔کاش میری قوم بھی اس نئی دنیا کا انکشاف کر لیتی جس کی وہ جہالت کے باوجود شدت سے مخالفت کرتی ہے ۔
٭٭٭٭٭