پھر میں ہدایت پاگیا
 

144

(2)
اصحاب کے بارے میں رسول(ص) کا نظریہ

1:- حدیث حوض
رسو ل خدا (ص) فرماتے ہیں :- میں کھڑا ہوں گا کہ دفعۃ میرے سامنے لوگوں کا ایک گروہ ہوگا ۔اور جب میں ان لوگوں کو اچھی طرح پہچان لوں گا ۔ تو میرے اور ان لوگوں کے درمیان سے ایک شخص نکل کر کہے گا آؤ ! میں پو چھوں گا ان کو کہاں لیجارہے ہو؟ وہ کہے گا جہنم میں ! میں پوچھوں گا ا ن کی کیا خطا ہے ؟ وہ کہے گا ۔ آپ کے بعدیہ لوگ مرتد ہوگئے تھے ، پچھلے پاؤں (اپنے دین کی طرف پلٹ گئے تھے ) میں دیکھوں گا کہ سائے چند مختصر لوگوں کے جوآزاد جانور کی طرح پھر رہے ہوں گے ۔ سب ہی کو جہنم کی طرف لیجایا جائے گا (1)۔
رسول اکرم کا ا رشاد ہے :- میں تم میں سے پہلے حوض پر ہوں کا جو میرے پاس سے گزریگا وہ سیراب ہوکر جائیگا ۔اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔ وہیں حوض پر میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا ۔ اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے ۔ پھر میرے اور ان کے درمیان ایک حائل پیدا کردیا جائے گا ۔ میں کہوں گا (ارے یہ تو) میرے اصحاب ہیں ! پھر جواب میں کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا کیا ہے تومیں کہوں گا وائے ہو وائے ان لوگوں پر جنھوں نے میرے بعد (دین میں تغیر وتبدل کردیا ہے(2)۔
--------------
(1)-(2):- صحیح بخاری ج 4 ص94 ص 156 وج 2 ص32 ۔صحیح مسلم ج 7 ص 66 حدیث الحوض

145
جو بھی شخص ان حدیثوں کو غور سے پڑھے گا ۔ جس کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح اورمسانید میں لکھا ہے اس کو اس میں کوئی شک نہیں رہے گا کہ اکثر صحابہ نے یہ تبدیلی کردی ہے بلکہ آنحضرت کے بعد اکثر مرتد ہوگئے ہیں سوائے ان مختصر لوگوں کے جو آزاد جانوروں کی طرح پھر رہے ہوں گے ان احادیث کو کسی بھی طرح صحابہ کی تیسری قسم یعنی منافقین پر حمل کرنا درست ہی نہیں ہے کیونکہ روایت میں ہے حضور کہیں گے یہ میرے اصحاب ہیں ! بلکہ یہ حدیثیں درحقیقت ان آیتوں کی تفسیر ونکی مصداق ہیں جن کو ہم پہلے بیان کرچکے کہ آیت نے صراحۃ کہا ہے یہ لوگ مرتد وہوجائیں گے اور ان کو عذاب عظیم کی دھمکی بھی دی گئی ہے ۔

2:- حدیث دنیا طلبی
رسول خدا (ص) نے فرمایا :- میں تم سے پہلے جاؤں گا ۔ اور تم سب پر گواہ ہوں ۔ خدا کی قسم میں اس وقت بھی اپنی حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی (یا زمین کی )کنجایاں دی گئی ہیں ۔ اور میں خدا کی قسم اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے ۔ لیکن میں اس سے ضرور ڈرتا ہوں کہ تم میرے بعد دنیا طلبی میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگوگے (1)
رسول خدا نے بہت سچ فرما یا تھا آپ کے بعد صحابہ دنیا کی طرف اتنے راغب ہوگئے تھے کہ نیا م سے تلواریں نکل آئی تھیں ۔ خوب خوب آپس میں لڑے ، ایک نے دوسرے کو کافر کہا ۔بعض مشہور ترین صحابہ سونے وچاندی کا ذخیرہ جمع کرنے پر لگ گئے ۔ مورخین کہتے ہیں ۔مثلا مسعودی نے مروج الذہب میں اور طبری وغیرہ نے لکھا ہے کہ صرف زبیر کے پاس پچاس ہزار دینا ،ایک ہزار گھوڑے ، ایک ہزار غلام ، بصرہ ،کوفہ ،مصر وغیرہ میں بہت زیادہ کاشت کی زمینیں تھیں (2)۔
سی طرح طلحہ کا عالم یہ تھا کہ صرف عراق کی زمین سے اتنا غلہ پیدا ہوتا تھا کہ روز انہ ایک ہزار دینار کے برابر کا غلہ ہوتاتھا ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ کا ہوتا تھا (3)
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 4 ص 100،101
(1)-(2):- مروج الذہب مسعودی ج 2 ص 241

146
عبدالرحمان بن عوف کے پاس سوگھوڑے ایک ہزار اونٹ ایک ہزار دینا ر ،دس ہزار بھیڑ بکریاں تھیں ان کے مرنے کے بعد ترکہ کا اٹھواں حصہ بیویوں کا حق ہوتا ہے اس آٹھویں حصہ کو چار بیویوں پر تقسیم کیاگیا تو ہر بیوی کے حصہ میں چوراسی چوراسی ہڑآ ئے تھے ۔(3)
اور سیٹھ عثمان نے اپنے مرنے کے بعد ڈیڑلاکھ دینا چھوڑا ۔جانوروں ،قابل کاشت زمینوں اور غیر قابل کاشت زمینوں کا تو شمار ہی ممکن نہیں ہے ۔زید بن ثابت نے سونے چاندی کی اتنی بڑی بڑی اینٹیں چھوڑی تھیں جن کو کلہاڑی سے کاٹنا پڑتا تھا ۔ کا ٹتے کاٹتے لوگوں کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے تھے ۔یہ علاوہ ان اموال اور قابل کا شت زمینوں کے ہے جن کی قیمت ایک لاکھ دینار تھی ۔(2)
دنیا پرستی کی یہ چند مثالیں ہیں ۔ تاریخ میں تو اس کے شواہد بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن ہم سردست اس کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ اپنی بات کے ثبوت میں ہم اسی قدر کافی سمجھتے ہیں اور اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر دنیا پرست تھے ۔
٭٭٭٭٭
--------------
(1)-(2):- مروج الذہب مسعودی ج 2 ص 341