پھر میں ہدایت پاگیا
 

135

(1)
اصحاب کے بارے میں قرآن کا نظریہ
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کروں کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں متعدد مواقع پر رسول اکرم کے ان اصحاب کی مدح سرائی فرمائی ہے جنھوں نے رسول سے محبت کی ان کی پیروی کی اور بغیر کسی لالچ یا معاوضہ یا استکبار واستقلال کے ان کی اطاعت کی اور یہ اطاعت محض خدا اور رسول کی خوشنودی کے لئے کی یہی وہ اصحاب ہیں جن سے خدا بھی راضی ہے اور یہ لوگ بھی اپنے خدا سے خوش ہیں ۔ اصحاب کی اس قسم کو مسلمانوں نے ان کے کردار وافعال کے ذریعہ پہچانا ہے اور پہچان کران سے دل کھول کر محبت کی ہے ان عظمت کے قائل ہیں ۔ جب اس قسم کے اصحاب کاذکر آتا ہے مسلمان فورا رضی اللہ عنھم کہتے ہیں ۔ اور میری بحث بھی ان اصحاب سے نہیں ہے کیونکہ یہ حضرات سنی وشیعہ سب ہی کی نظر میں قابل احترام ہیں ۔ اسی طرح میری بحث کا تعلق ان اصحاب سے بھی نہیں ہے جن کا نفاق طشت ازبام ہے ۔اور سنی وشیعہ ہر ایک کی نظر میں قابل لعنت ہیں ۔
بلکہ میں صرف ان اصحاب کے بارے میں بحث کروں گا جن کے بارےمیں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور خود قرآن نے بھی بعض مواقع پر ان کی باقاعدہ تو بیخ وتہدید کی ہے اور پیغمبر اسلام نے بھی منا سب مواقع پر ان کی توبیخ کی ہے ۔ اور لوگوں کو ان کے بارےمیں ڈرایا ہے ۔ جی ہاں ! سنی وشیعہ کے درمیان زبردست اختلاف ایسے ہی اصحاب کےبارے میں ہے کیونکہ شیعہ ان حضرات کے اقوال وافعال سب ہی کو قابل نقد وتبصرہ سمجھتے ہی نہیں بلکہ نقد وتبصرہ کرتے بھی ہیں ۔ اوران کی عدالت کے بارے میں شک رکھتے ہیں جبکہ اہل سنت والجماعت ان کی تمام مخالفتوں اور رو گردانیوں اورجسارتوں کے باوجود ان کا ضرورت سے زیادہ احترام کرتے ہیں ۔ میں انھیں اصحاب کے

136
بارے میں اپنی بحث کو اس لئے محدود کرنا چاہتا ہوں تاکہ پوری حقیقت نہ سہی تھوڑی ہی حقیقت کھل کر سامنے آجائے ۔
میں یہ بات صرف اس لئے کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی صاحب یہ نہ کہہ دیں کہ میں نے ان آیات سے چشم پوشی کرلی ہے جو مدح صحابہ پر دلالت کرتی ہیں اور محض ان آیات کو پیش کیا ہے جن سے قدح صحابہ ثابت ہوتی ہے ۔بلکہ میں نے بحث کے درمیان ان آیات کو پیش کیا ہے جو بظاہر مدح پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان سے ہی نتیجہ نکالا ہے کہ ان سے قدح ثابت ہوتی ہے یا ایسی آیتوں کو پیش کیا ہے جن سے بظاہر قدح ثابت ہوتی ہے لیکن ان سے مدح ثابت ہوتی ہے ۔
اور اس سلسلہ میں گزشتہ تین سالوں کی طرح بہت زیادہ محنت ومشقت نہیں کروں گا بلکہ بطور مثال بعض آیتوں کو ذکر کروں گا ایک تو اس لئے کہ یہی طریقہ معمول ہے اور دوسرے اس وجہ سے کہ میں اختصار سے کام لینا چاہتاہوں ۔ ہاں جو لوگ مزید اطلاع حاصل کرنا چاہیں وہ بحث ومباحثہ کریں ۔حوالوں کو دیکھیں جیسا کہ میں نے کیا ہے تاکہ حقیقت تک رسائی ،عرق جبین وفکری تگ ودو کے بعد حاصل ہوجیسا کہ خدا ہر ایک سے یہی چاہتا بھی ہے کہ خود محنت کرکے نتیجہ تک پہونچو! اور وجدا ن کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ جو شخص زحمت بسیار کے بعد ہدایت تک پہونچے گا ۔ اس آندھیاں اس کے موقوف سے ہٹا نہیں سکتیں ۔ اور ظاہر سی بات ہے جو ہدایت زحمت کشی کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ جذبات کے رو میں بہہ کر حاصل ہونے والی ہدایت سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے ۔خدا اپنے نبی کی مدح کرتے ہوئے کہت ہے " ووجدک صالا فھدی "(1) یعنی ہم نے تم کو پایا کہ حق کے لئے جستجو کرتے ہو تو اس لئے حق تک تمہاری ہدایت کردی ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ۔ والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (2) جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا انھیں ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کریں گے ۔
--------------
(1):-پ 30 س 93 (والضحی )آیت 7
(2):- پ 21 س 29 (العنکبوت) آیت 69

137

1:- آیت انقلاب
ارشاد خداوند عالم ہے:-" وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضراللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین(1)
ترجمہ:- اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو صرف رسول ہیں (خدا نہیں ہے) ان سے پہلے اور بھی بہت سے پیغمبر گز رچکے ہیں پھر کیا اگر (محمد) اپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم الٹے پاؤں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا ( بھی) تو (سمجھ لو کہ) ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ پایگا وار عنقریب خدا کا شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا ۔
یہ آیہ مبارکہ صریحی طور پر اس بات کو بتاتی کہ اصحاب ،وفات رسول کے بعد فورا الٹے پاؤں پھر جائیں گے صرف کچھ لوگ ہوں گے جو ثابت قدم رہیں گے جن کی تعبیرات خدانے شاکرین" کے لفظ سے کی ہے کہ یہ لوگ ثابت قدم رہیں گے اور شاکرین کی تعداد بہت ہی کم ہے جیسا کہ ارشاد ہے :-" وقلیل من عبادی الشکور(2)" اور میرے بندوں میں سے شکر کرنے والے (بندے ) تھوڑے سے ہیں ۔
اور خود پیغمبر اسلام کی وہ حدیثین جو اس انقلاب کی تفسیر کرنے والی ہیں ان کی بھی دلالت اسی بات پر ہے کہ زیادہ تر لوگ مرتد ہوجائیں گے ۔بعض روایات کو آگے چل کرمیں خود بھی نقل کروں گا اورجب خدا نے اس آیت میں مرتد ہونے والوں کے عقاب کاذکر نہیں کیا ہے صرف ثابت قدم رہنے والوں کی تعریف کی ہے اور ان کی جزا کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں بھی اس چکر میں نہیں پڑنا ہے کہ ان کا عذاب
--------------
(1):- پ 4 س 3(آل عمران) آیت 144
(2):-پ 12 س 34(سباء) آیت 13

138
کیسا ہوگا ۔ لیکن اتنی بات بہر حال معلوم ہے کہ یہ لوگ ثواب ومغفرت کےبہر حال مستحق نہیں ہیں ۔ جیسا کہ مرسل اعظم نے خود متعدد مقامات پر اس کو بیان کردیا ہے اور انشااللہ بعض سے ہم بھی بحث کرینگے ۔
احترام صحابہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہنا کہ اس سے مراد طلیحہ ، سیحاح ،۔ اور اسود العینی ہیں اس لئے غلط ہے کہ یہ لوگ رسول کی زندگی میں ہی مرتد ہوگئے تھے اور ادعائے نبوت کیا تھا اور پیغمبر نے ان سے جنگ کی تھی ۔ اور آنحضرت غالب ہوئے تھے ۔ اور آیت وفات رسول کے بعد مرتد ہونے والوں کا ذکر رہی ہے اسی طرح اس آیت سے مراد متعدد اسباب کی بنا پر مالک بن نویرہ اور ان کے پیروکار نہیں ہوسکتے جنھوں نے ابو بکر کو زکواۃ دینے سے انکار کردیا تھا ۔کیونکہ یہ لوگ زکواۃ کے منکر نہیں تھے ۔بلکہ ابو بکر کو دینے میں مردد تھے کہ جب تک حقیقت حال واضح نہ ہوجائے اس وقت تک ہم زکات نہ دیں گے ۔ اور ان کے تردد کی وجہ بھی معقول تھی ۔کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک تھے ۔اور غدیر خم میں جب رسول اکرم نے حضرت علی کی خلافت کے لئے نص کردی تو ان لوگوں نے حضرت علی کی بیعت کرلی تھی ۔ ۔۔بیعت تو ابو بکر نے بھی کی تھی ۔۔۔ اب دفعۃ مدینہ سے آدمی رسول خدا کی موت کی خبر کے ساتھ ابو بکر کےنام پر وصولی زکات کا پیغام لے کر جب پہونچا تو ان کو تردد ہونا ہی چاہے کہ ہم نے بیعت علی کی کی تھی ۔یہ ابو بکر بیچ میں کہاں سے آکو دے؟تاریخ میں عظمت صحابہ مجروح نہ جائے اس لئے اس واقعہ کی گہرائی میں جانا مناسب نہیں سمجھا اس کے علاوہ مالک اور ان کے تمام ساتھی مسلمان تھے ۔جس کی گواہی خود عمر و ابو بکر نے بھی دی تھی اور اصحاب کی ایک جماعت نے بھی گواہی دی تھی جنھوں نے خالد کے اس فعل پر ۔۔یعنی مالک کے قتل پر ۔۔۔۔سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا ۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ ابو بکر نے مالک بن نویرہ کے بھائی متمم سے معافی مانگنے کے ساتھ بیت المال سے مالک کی دیت بھی متمم کو ادا کی ۔اگر مالک مرتد ہوگئے ہوتے تو ان کا قتل واجب تھا اور بیت المال سے دیت بھی نہیں دی جاسکتی تھی ۔ اور نہ ان کے بھائی سے معذرت جائز تھی ۔پس ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد مالک اور ان کے ساتھی نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ مرتد نہیں تھے ۔ اورآیت مرتدوں کا ذکر کررہی ہے ۔

139
لہذا معلوم ہوا کہ آیت انقلاب کے مصداق صرف وہ صحابہ ہیں ۔جو مدینہ میں آنحضرت ےک ساتھ زندگی بسر کرتے تھے ۔ اورآپ کی وفات کے بعد ہی بلافاصلہ مرتد ہوگئے ۔ پیغمبر کی حدیثیں اس مطلب کو اتنی وضاحت سے بیان کرتی ہیں ۔ کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔عنقریب ہم ان کو بیان کریں گے ۔اور خود تاریخ بھی بہترین شاہد ہے کہ وفات مرسل اعظم کے بعد کون لوگ تھے جو مرتد ہوگئے تھے ۔اور بھلا کون ہے جو صحابہ کی آپسی چپقلش سے واقفیت نہیں رکھتا ؟ صرف چند اصحاب ایسے تھے جو ان باتوں سے مبرا تھے ۔ورنہ سب ہی ایک حمام میں ننگے تھے ۔

2:- آیت جہاد
ارشاد پروردگار عالم ہے :-" یا ایھا الذین آمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض ارضیتم بالحیواۃ الدنیا من الآخرۃ فما متاع الحیواۃ الدنیا فی الآخرۃ الا قلیل الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما ویستبدل قوما غیرکم ولا تضروہ شیئا واللہ علی کل شئ قدیر (1)"۔
ترجمہ:-اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے جس تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لئے )نکلو تو تم لدھڑ ہو کے زمین کی طرف پڑتے ہو کیا تم آخرت کے بہ نسبت دنیا کی (چند روزہ ) زندگی کو پسند کرتے ہو تو(سمجھ لو کہ) دنیاوی زندگی کا سازوسامان آخرت کے (عیش وآرام کے )مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے اگر اب بھی نکلو گے تو خدا تم پر دردناک عذاب نازل فرمائے گا (اور خدا کچھ مجبور تو ہے نہیں) تمہارے بدلے کسی اور قوم کو لےآئے گا ۔اور تم اس کو کچھ بگاڑ نہیں پاؤ گے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔
یہ آیت صریح طور سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صحابہ جہاد میں سستی برتتے تھے اور
--------------
(1):- پ 10 س 9(التوبہ)آیت 28-29

140
عیش دنیا کی طرف مائل تھے ۔ حالانکہ ان کو معلوم تھا ۔ دنیا ھی لذتیں مختصر سی پونچی ہیں ۔یہاں تک کہ خدا نے ان کو دردناک عذاب کی دھمکی دی اور کہہ دیا کہ تمہارے بدلے سچے اور ایماندار مومنین کولائےگا ان لوگوں کے بدلے میں دوسرے لوگوں کے لانے کی دھمکی کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے جس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ جہاد سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ ایک دوسری آیت میں آیا ہے :- " وان تتولو ا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم (1)۔"اگر تم (خدا کے حکم سے )منہ پھیرو گے تو خدا( تمہارے سوا) دوسروں کو بدل دےگا ۔اور وہ تمہارے ایسے نہ ہوں گے ۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:" یا ایھا الذین آمنوا من یرتد عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم (2)۔
ترجمہ:- اے ایماندارو! تم میں سے کوئی انپے دین سے پھر جائے گا تو ( کچھ پرواہ نہیں پھر جائے ) عنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کو ظاہر کردے گا جنھیں خدا دوست رکھتا ہوگا ۔ اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے ایمانداروں کے ساتھ منکر اور کافروں کے ساتھ کڑے ۔خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں گے کواور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کچھ پراوہ نہ کریں گے ۔ یہ خدا کا فضل وکرم ہے ۔جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا توبڑی گنجائش والا اور واقف کار ہے ۔
اگر ہم ان تمام آیات کو تلاش کریں جو اس مطلب پر دلالت اور بڑی وضاحت کے ساتھ اس تقسیم کی تائید کرتی ہیں جس کے شیعہ قائل ہیں خصوصا صحابہ کے اس قسم کے بارے میں تو اس کے لئے ایک مخصوص کتاب کی ضرورت ہو کی قرآن مجید نے اسی بات کو بڑے بلیغ انداز میں اور بہت مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے :
--------------
(1):- پ 26 س 47 (محمد) آیت 38
(2):- پ 6 س 5( مائدہ) آیت 54

141
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون باالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون ولا تکونوا کا الذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاءھم البینات واولیئک لھم عذاب عظیم یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ فامّا الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون واما الذین ابیعت وجوھھم ففی رحمۃ اللہ ھم فیھا خالدون (1)۔
ترجمہ:-اور تم میں سے ایک گروہ (ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہئے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائیں اور اچھے کام کا حکم دیں ۔ اور برے کاموں سے روکیں اور ایسے ہی لوگ (آخرت میں) اپنی دلی مراد پائیں گے اور تم کہیں ان لوگوں کے ایسے ہن ہوجانا جو آپس میں پھوٹ ڈال کر بیٹھ رہے اور روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی ایک منہ ایک زبان نہ رہے ایسے ہی لوگوں کے واسطے بڑا (بھاری) عذاب ہے (اس دن سے ڈرو)جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید نورانی ہوں گے اورکچھ (لوگوں ) کےچہرے سیاہ ۔پس جن لوگوں کے منہ میں کالک ہوگی ( ان سے کہا جائے گا ) بائیں کیوں؟ تم تو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے ۔ اچھا تو(لواب) اپنے کفر کی سزا میں عذاب (مزے ) چکھو اورجن کے چہرے پر نور برستا ہوگا وہ تو خدا کی رحمت (بہشت ) میں ہوں گے اور اسی میں سدا ہیں (بسیں )گے ۔
ہر حقیقت کا متلا شی اس بات کو سمجھتا ہے کہ یہ آیت اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو تہدید کررہی ہیں کہ کہ خبردار روشن دلیلوں کے آجانے کے بعد تفرقہ اندازی اور اختلاف سے بچنا ورنہ عذاب عظیم کے مستحق ہوگے ۔ اور یہ آیتیں اصحاب کو دوقسموں پر بانٹ رہی ہیں ۔ ایک قسم ان اصحاب کی ہوگی جو قیامت میں روشن رواٹھیں گے اور یہ وہی شاکر بندے ہوں گے جو رحمت الہی کے مستحق ہوں گے اورکچھ اصحاب سیا ہ رواٹھیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے انھیں کے لئے خدانے عذاب عظیم کی دھمکی دی ہے ۔
ہر اسلامی تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ رسول اکرم کے بعد صحابہ میں زبردست اختلاف ہوگیا تھا اور
--------------
(1):- پ 4 س 3(آل عمران)آیت 104،105،106

142
یہ لوگ آپ میں ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے ۔ فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی تھی ۔ اور نوبت قتال وجدال کی پہنچ گئی تھی ۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ذلت ورسوائی ہوئی اور دشمنان اسلام کو خوب موقع ملا اس آیت کینہ تو تاویل ممکن ہے ۔اور نہ ذہن میں فورا آجانے والے معانی سے کسی اورطرف پلٹا نا ممکن ہے ۔

3:- آیت خشوع
ارشاد خداوند عالم ہے :- أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ۔(1)
ترجمہ:- کیا (ایمانداروں کے لئے )ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد اور قرآن کے لئے جو خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔ ان کے دل نرم ہوں ۔ اور وہ ان لوگوں کے سے نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب (توریت وانجیل ) دی گئی تھی تو (جب ) ایک زمانہ دراز ہوگیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہتیرے بدکار ہیں ۔
سیوطی نے در منثور میں لکھا جب اصحاب رسول مدینہ آئے تو سختیون کے بعد ان کو اچھی زندگی نصیب ہوئی ۔ لہذا بعض ان چیزوں سے جن کے یہ عادی تھے ان سے سستی برتنے لگے ۔ تو ان پر خدا کی طرف سے پھٹکار پڑی اور یہ آیت (الم یان للذین امنوا) بطور عتاب نازل ہوئی ۔ ایک دوسری روایت میں آنحضرت سے منقول ہے کہ نزول قرآن کے سترہ 17 سال بعد خدا نے مہاجرین کے دلوں کی سستی پریہ ایہ نازل کی ۔الم یان الخ ۔
ذرا سوچئے جب بقول اہل سنت والجماعت صحابہ خیر الخلق بعد رسول اللہ ہیں ۔ اور ان کا دل سترہ سا
-------------
(1):- پ 27 س57(حدید)آیت 16

تک نرم نہیں ہوا ۔ اورذکر خدا وقرآن کے لئے ان کے دلوں میں نرمی نہیں پیدا ہوئی ۔ یہاں تک کہ خدا نے اس قسی القلبی پر جو فسوق تک منجر ہوتی ہے ۔ اصحاب کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اورشدید عتاب کیا ۔ تو وہ سردار ان قریش جو ہجرت کے ساتویں سال فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ اگر ان کے دل نہیں نرم ہوئے تو جائے ملامت نہیں ہے ۔
بطور نمونہ مشتے از خردارے " یہ چند مثالیں میں نے قرآن مجید سے پیش کی ہیں ۔جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سارے صحابہ عدول نہیں تھے ۔ یہ تو صرف اہل سنت والجماعت کا پروپیگنڈہ ہے کہ تمام صحابہ عدول ہیں ۔
اور اگر کہیں ہو احادیث رسول میں تلاش کرنے لگیں تو دس گنا مثالیں مل جائیں گی لیکن اختصار کے پیش نظر میں چند حدیثوں کو ذکر کروں گا ۔ اگر کسی کو مزید اطلاع درکار ہو تو وہ خود احادیث کے اخبار سے ایسی بکثرت مثالیں تلاش کرسکتا ہے ۔