پھر میں ہدایت پاگیا
 

119

3:- اصحاب اور لشکر اسامہ
اس کا اجمالی قصہ یہ ہے کہ آنحضرت نے اپنے انتقال سے صرف دو دن پہلے روم سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر تیار کیا اور اس کا سردار اسامہ بن زید حارثہ کو بنایا ۔ اسامہ کی عمر اس وقت 18 سال تھی اور اسامہ کی ماتحتی میں بڑے بڑے انصار اور مہاجرین کو قراردیا ۔ جیسے ابوبکر ، عمر ، ابو عبیدہ ۔ظاہر ہے کہ اس پر لوگوں کو اعتراض ہونا چاہیے تھا ۔ اور کچھ لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ ہمارے اوپر ایسے نوجوان کو کیونکر سردار بنایا جاسکتا ہے جس کے چہرے پر ابھی ڈاڑھی بھی نہیں ہے اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے اس سے پہلے اسامہ کے باپ زید کی سرداری پر اعتراض کیا تھا ۔ اسامہ کے بارے میں ان لوگوں نے ضرورت سے زیادہ نقد وتبصرہ کیا تھا ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کو شدید غصہ آگیا تھا ۔ آپ دوآدمیوں کا سہارا لے کر اس طرح نکلے تھے کہ آپ کے قدم زمین پر خط دیتے ہوئے جارہے تھے ۔بیماری کی وجہ سے آپ بہت خستہ تھے (میرے ماں باپ حضور پر فدا ہوجائیں) آتے ہی آپ منبر پرگئے حمد وثنا ئے الہی کے بعد فرمایا :
"ایھا الناس" ! یہ کیا بات ہے جو اسامہ کی سرداری کےبارے میں میں سن رہا ہوں ۔اگر تم میری اس بات پر اعتراض کررہے ہو کہ میں نے اسامہ کو کیوں لشکر کا سردار بنایا ۔(تویہ کوئی نئی بات نہیں ) تو اس سے پہلے میرے اوپر زید کو سردار بنانے میں اعتراض کرچکے ہو ۔خدا کی قسم زید سرداری کا مستحق تھا اور اس کا بیٹا (اسامہ) بھی اس کے بعد سرداری وامارت کا لائق وسزاوار ہے (1)۔
--------------
(1)::- طبقاب ابن سعد ج 2 ص 190 ۔تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 210 ۔السیرۃ الحلبیہ ج 3 ص 207 ۔طبری ج 3 ص 226

120
اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جلدی کوچ کرنے کے لئے آمادہ کرنا شروع کردیا کبھی فرماتے "جھزوا جیش اسامۃ " اسامہ کے لشکر کو تیار کرو اور جاؤ ! کبھی فرماتے "انفذوا جیش اسامۃ " اسامہ کے لشکر کو (جلدی) روانہ کرو ۔کبھی فرماتے :ارسلوا بعث اسامۃ " اسامہ کے ساتھ لوگوں کو (جلدی ) بھیجو! ان جملوں کی باربار تکرار کرتے رہے ۔لیکن ہر مرتبہ لوگ ٹال مٹول کرتے رہے اور مدینہ کے کنا رے جاکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ مگر یہ لوگ جانے والے نہیں تھے ۔
اس قسم کی بات مجھے یہ پوچھنے پر مجبور کرتی ہے :آخر رسول (ص) کے ساتھ اتنی بڑی جسارت کی ہمت کیسے ہوئی؟ وہ رسول اکرم جو مومنین کے لئے رو‌ف ورحیم ہے ۔اس کے حق میں یہ کیسی نافرمانی ؟ میں تو کیا کوئی بھی آدمی اس سرکشی وجراءت کی معقول تاویل نہیں کرسکتا ۔
میں نے خدا کے حضور میں عہد کیا ہے کہ انصاف سےکام لوں گا اپنے مذہب کے لئے تعصب نہ برتوں گا ۔ اور ناحق اس کے لئے کسی وزن کا قائل نہیں ہوں گا ۔اور جیسا کہ کہا جاتا ہے یہاں پر حق تلخ ہے اور آنحضرت نے فرمایا بھی ہے : حق بات کہو چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور حق بات کہو چاہے وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔اور اس واقعہ میں حق بات یہ ہے کہ جن صحابہ نے بھی اسامہ کو سردار بنائے جانے پر آنحضرت پر اعتراض کیا تھا انھوں نے حکم الہی کی مخالفت کے ساتھ ان صریح نصوص کی مخالفت کی ہے جو نہ قابل شک ہیں اور نہ قابل تاویل ۔اورنہ ہی اس سلسلہ میں کوئی عذر پیش کیا جاسکتا ہے ۔سوائے اس "عذر بارد" کے جو کرامت امت صحابہ اور سلف صالح کے نام پر بعض حضرات نے پیش کیا ہے لیکن کوئی بھی عاقل وآزاد اس قسم کے اعذار کو قبول نہیں کرسکتا ۔ ہاں جن کو حدیث فہمی کا شعور نہ وہ یا عقل سے پیدل ہوں یا مذہبی تعصب نے ان کو اس حد تک اندھا بنادیا ہو کہ جو واجب الاطاعت فرض واور واجب الترک نہیں میں فرق نہ کرسکتے ہوں ۔ان کی بات الگ ہے ۔میں نے بہت کوشش کی

121
کہ کوئی عذر ان صحابہ کے لئے تلاش کرسکوں لیکن میری عقل میں کوئی ایسی بات نہیں آئی ۔ البتہ اہل سنت نے ان اصحاب کے لئے یہ عذر تلاش کیا ہے : وہ لوگ مشایخ قریش اور بزرگان قریش میں سے تھے سابق الاسلام تھے اور اسامہ ایک الہڑ نوجوان تھے ۔عزت اسلام کی فیصلہ کن جنگوں میں سے کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ جیسے بد ر،احد ، حنین وغیرہ اور نہ ہی کسی قسم کی سابقیت تھی بلکہ رسول خدا نے ان کو لشکر کا سردار بنایا تھا تو یہ بہت ہی کم سن تھے ۔ اور انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ جب بوڑھے ، بزرگ حضرات موجود ہوں تو لوگ جوانوں کی اطاعت پر تیار نہیں ہوتے اسی لئے اصحاب نے پیغمبر اسلام پر اعتراض کیا تھا ۔تاکہ اسامہ کی جگہ پر کسی بزرگ صحابی کو سرداری مرحمت فرادیں ۔۔۔۔ لیکن اس عذر کا مدرک نہ کوئی دلیل عقلی ہے ۔اور نہ شرعی اور نہ کوئی اس بات کو مان سکتا ہے جس نے قرآن پڑھا ہو اور اس کے احکام کو سمجھاہو کیونکہ قرآن کا اعلان ہے:
"وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھواہ (پ 28 س 59 (الحشر) آیت 7)
ترجمہ:- رسول جو حکم دیں اس کو لے لو (مان لو) اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ "۔ دوسری جگہ ارشاد ہے :-" وما کان لمومن ولامومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امر ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلا مبینا (پ 23 س 33 (الاحزاب )ایت 36)
ترجمہ:- نہ کسی مومن کو اور نہ کسی مومنہ کویہ حق ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کیس کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام ( کے کرنے نہ کرنے)کا اختیار ہوا ور (یاد رہے کہ جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ یقینا کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہوچکا ۔
ان نصوص صریحہ کے بعد بھلا کون سا عذر باقی ہے جس کو عقلا قبول کرسکیں ؟ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یمں ان لوگوں کے بارے یمں کہوں جنھوں نے رسول اللہ کو غضبناک کیا ۔ اور وہ جانتے تھے کہ رسول کی ناراضگی سے خدا ناراض ہوجاتا ہے ۔ رسو ل پر ہذیان کا الزام لگا یا ان کے سامنے تھے کہ تو تو ، میں میں ، شوروغل ،اختلاف کا مظاہرہ کیا ۔ جب کہ آپ مریض بھی تھے ۔انتہا یہ ہوگئی کہ خلق عظیم پر فائز پیغمبر نے ان لوگوں کو اپنے کمرے سے نکال دیا ۔کیا یہ سب باتیں کم ہیں ؟ اور بجائے اس کے یہ

122
لوگ ہدایت کی طرف پلٹتے اور خدا سے اپنے افعال پر توبہ واستغفار کرتے اور تعلیم قرآن کے مطابق رسول کی خدمت میں عرض کرتے کہ حضور ہمارے لئۓ استغفار فرمادیں ۔ یہ سب کرنے کے بجائے "مٹی اور گیلی کردی" یہ ہمارے یہاں کا عوامی محارہ ہے ۔مزید سرکشی کی اور جوان پررؤف ورحیم تھا ۔ اسی سے جسارت کی اس کے حق کا پاس ولحاظ بھی نہ کیا ۔ نہ اسکا احترام کیا ۔ بلکہ ہذیان کی نسبت کا زخم ابھی مندمل بھی نہیں ہو پایا تھا ۔کہ ٹھیک دودن کے بعد اسامہ کی سرداری پر اعتراض کر بیٹھے اور آنحضرت کو مجبور کردیا کہ دوآدمیوں کے سہارے گھر سے نکل کرآگئے ۔شدت مرض کیوجہ سے قدم اٹھ نہیں رہے تھے آتے ہی منبر پر جاکر قسم کھا کر یقین دلایا کہ اسامہ سرداری کے لائق ہے اور اسی کے ساتھ رسول (ص) نے ہم کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ وہی لوگ ہیں ۔جنھوں نے زید کی سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا ۔ آپ ہم کو تعلیم دے رہے تھے کہ یہ پہلا سابقہ نہیں ہے متعدد مواقع پر یہ لوگ ایسا کرچکے ہیں اور یہ لوگ ان میں سے نہیں ہیں کہ جو خدا اور رسول کے فیصلہ کے بعد تنگی نہیں محسوس کرتے اور سرتسلیم خم کرلیا کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ دشمنوں میں اور ان مخالفوں میں ہیں جو نقد ومعارضہ اپنا حق سمجھتے ہیں چاہے اس سے خدا ورسول کی مخالفت ہی لازم آتی ہو۔
ان کی صریح نافرمانی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے رسول کے غصہ کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ آنحضرت نے اپنے ہاتھوں سے علم باندھا اور لوگو کو عجلت سے راونگی کا حکم دیا ۔لیکن پھر بھی یہ لوگ ٹال مٹول کرتے رہے اور نہ جانا تھا نہ گئے ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کی شہادت ہوجاتی ہے اور اپ اپنے دل میں یہ داغ لے کرگئے کہ میری امت نافرمان ہے اور اس احساس کے ساتھ دنیا سے سدھارے کہ کہیں یہ لوگ الٹے پیر پھر نہ پلٹ جائیں اور جھنم کے کندے نہ بن جائیں او ر ان میں سے تھوڑے ہی نجات پانے والے ہیں ۔
اگر ہم اس قصہ کو گہری نظر سے دیکھیں تو ہم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے روح رواں خلیفہ ثانی تھے ۔کیونکہ یہی حضرت وفات حضرت رسول کے بعد ابو بکر کے پاس آئے اور کہنے لگے اسامہ کو ہٹا کر کسی دوسرے کو سردار بنادو اس پر ابو بکر نے کہا: اے خطاب کے بچے تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ! تو مجھے مشورہ

123
دیتا ہے کہ جس کو رسول سردار بناگئے تھے میں اس کو معزول کردوں ؟(1)۔
آخر عمر نے اس بات کو کیوں نہ سمجھا جس کو ابو بکر نے سمجھ لیا ؟ یا اس میں کوئی اور راز ہے جو مورخین سے پوشیدہ رہ گیا ہے ؟ یا خود مورخین نے عمر کی عزت وآبرو کو بچانے کے لئے ان کا نام چھپا لیا ہے؟ جیسا کہ ان مورخین کی عادت ہے اور جیسا کہ (انھوں نے (یھجر) کی لفظ کو بدل کر "غلبۃ الوجع " کی لفظ رکھ دی ہے ۔
مجھے ان صحابہ پر تعجب ہے جنھوں نے پنچشنبہ کے دن رسول کو ناراض کیا اور ہذیان کی نسبت دی ۔اور حسبنا کتاب اللہ کہا ۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے : قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعوانی یحببکم اللہ"۔ ترجمہ:- اے رسول ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو (تو ) خدا تم کو دوست رکھے گا ۔
گویا یہ اصحاب کتاب خدا کو اس سے زیادہ جانتے تھے۔ جس پر یہ کتاب نازل ہوئی تھی ۔واقعہ قرطاس کے صرف دو دن بعد اور وفات سے صرف دودن پہلے رسول کو غضبناک کردیتے ہیں ۔ اور اسامہ کو سردار بنانے پر اعتراض کرنے لگتے ہیں ۔رسول کی اطاعت نہیں کرتے ۔اگر واقعہ قرطاس میں آپ مریض تھے بستر پر پڑے تھے ۔ تو دوسرے میں مجبور کردیا کہ سر پر عصا بہ باندھے دوآدمیوں پر ٹیک لگا کر اس طرح چلتے ہوئے آئے کہ آنحضرت کے پیر زمین پر خط دیتے جاتے تھے ۔آتے ہی منبر پر جاکر مکمل خطبہ دیا جس میں حمد وثنا ئے الہی فرمائی تاکہ ان لوگوں کو بتادیں میں ہذیان نہیں بکتا ۔ پھر ان کو بتایا کہ تمہارا اعتراض مجھے معلوم ہے ۔پھر اس قصہ کا ذکر کیا جو چار سال پہلے پیش آیاتھا کیا اس پوری گفتگو کےبعد بھی کوئی عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ آپ ہذیان بک رہے ہیں ۔یا بیماری کا غلبہ ہے کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہے کہ کیا فرما رہے ہیں ؟
سبحانک اللھم وبحمدک : یہ لوگ کتنے جری ہوگئے تھے کہ کبھی رسول کو معاہدہ صلح کو جسے آپ نے مضبوطی سے باندھا تھا "
--------------
(1):- الطبقات الکبری ابن سعد ج 2 ص 190 ۔تاریخ الطبری ج 3 ص 226

124
اس کی یہ لوگ زبردست مخالفت کررہے ہیں کبھی رسول قربانی وسرمنڈاونے کا حکم دے رہے ہیں اور یہ لوگ شدت کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں ۔ایک مرتبہ نہیں تین مرتبہ حکم دیا مگر کسی نے لبیک نہیں کہا ۔ اور رسول سے کہہ رہے ہیں : خدا نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے روکا ہے اے خدا ! گویا یہ لوگ تیرے رسول کو وہ چیزیں تعلیم دے رہے ہیں جو تو اپنے ر سول پر نازل کرچکا ہے حالانکہ تو نے اپنے قرآن میں کہا ہے " وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (پ 14 س 16 (النمل )آیہ 44)
ترجمہ:- اورتمہارے پاس قرآن کیا ہے تاکہ جواحکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں تم ان سے صاف صاف بیان کردو۔
اور تو ہی نے فرمایا :- انا انزلنا الیک الکتاب با لحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ( پ 5 س 4(نساء)آیت 105) ترجمہ:- اے رسول ہم نے آپ پر بر حق کتاب اسلئے نازل کی ہے کہ جس طرح خدا نے تمہاری ہدایت کی ہے اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کردو ۔ اور معبود تونے ہی فرمایا ہے اور تیرا قول حق ہے ۔ : کما ارسلنا الیکم رسولا منکم یتلوا علیکم ایاتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتاب والحکمۃ ویعلمکم ما لم تکونوا تعلمون(پ 2 س2 (البقرۃ ) آیت 151)
ترجمہ:-جیسا کہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور تمہارےنفس کو پاکیزہ کرے اور تمہیں کتاب (قرآن ) اور عقل کی باتیں سکھائے اور تم کو وہ باتیں بتائے جن کی تمہیں (پہلے سے ) خبر بھی نہ تھی ۔
کتنا تعجب ہے ان لوگوں پر جو اپنے کو اونچا سمجھتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود تو حکم رسول کا امتثال نہیں کرتے کبھی رسول پر ہذیان کا اتہام لگاتے ہیں ۔اور بہت ہی بے شرمی وبے ادبی کے ساتھ ان کی موجودگی میں لڑتے جھگڑتے ہیں ۔ شوروغل کرتے ہیں ۔ اور کبھی زید بن حارثہ کی سرداری پر اعتراض کرتے ہیں اور تو کبھی اسامہ بن زید کی سرداری پر لعن وطعن کرتے ہیں ۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی جویائے حقیقت کے لئے یہ فیصلہ کر لینا بہت آسان ہے کہ حق شیعوں کے ساتھ ہے کیونکہ جب وہ لوگ

125
علامات استفہام لگا لگا کراصحاب کے کرتوتوں کےبارے میں ایک ایک کرکے سوال کرتے ہیں اور ان کے احترام پر ناک بھول چڑھاتے ہیں اور وہ اپنی محبت ومودت کو صرف رسول وآل رسول کے لئے مخصوص کرتے ہیں تو ہم ان کا جواب نہیں دے پاتے ۔
میں نے تو اختصار کے لئے صرف چار پانچ مقامات مخالفت کے دکھائے ہیں اور محض بعنوان مثال ۔لیکن علمائے شیعہ نے ان تمام مقامات کا احصاء کیا ہے جہاں پر صحابہ نے نصوص صریحہ کی مخالفت کی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انھوں نے صرف انھیں چیزوں کو پیش کیا ہے جس کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح ومسانید میں درج کیا ہے ۔
خود میں جب بعض واقعات کا مطالعہ کرتا ہوں کہ بعض اصحاب نے رسو ل خدا کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا تھا ۔ تو متحیر ومدہوش ہوجاتا ہوں ۔صرف ان اصحاب کی جسارت وبدتمیزی پر ہی نہیں بلکہ عمائے اہلسنت والجماعت کے اس رویہ پر اور زیادہ تعجب کرتاہوں جنھوں نے ہمیشہ عوام کو اس دھوکہ میں رکھا کہ اصحاب برابر حق پر ثابت قدم رہے تھے ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا نقد وتبصرہ حرام وگناہ ہے ان لوگوں نے اپنے اس اقدام کی وجہ سے طالب حق کو کبھی حقیقت تک پہونچنے ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ فکری تناقضات کے بھنور میں چکر کھاتا رہا ۔میں گذشتہ واقعات کے علاوہ بعض اور مثالیں پیش کرتاہوں جس سے صحابہ کی حقیقت عریاں ہوکر سامنے آجائے گی اسطرح شیعوں کا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
صحیح بخاری ج 4 ص 47 کے کتاب الادب با ب :الصبر علی الاذی ار قول خدا انما یوفی الصابرون اجرھم " کے سلسلہ میں ہے اعمش کہتے ہیں ۔ میں نے شقیق کو کہتے ہوئے سنا کر عبداللہ کہہ رہے تھے ۔رسول خدا نے ایک قسم ایسی کھائی جیسے لوگ کھایا کرتے ہیں ۔ تو ایک انصاری نے کہا : واللہ یہ قسم خدا کے لئے نہیں ہے ۔ میں نے کہا اس بات کو رسول خدا سے ذکر کروں گا ۔ چنانچہ میں آنحضرت کے پاس اس وقت پہونچا ۔جب آپ اپنے اصحاب کے جمگھٹے میں تھے ۔میں نے آپ کے کان میں یہ بات کہی تو آپ کوبہت ناگوار ہوا چہرہ کارنگ بدل گیا اورآپ غضب میں بھر گئے آپ کی حالت

126
دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کاش میں نے آنحضرت کو خبر ہی نہ دی ہوتی ۔ اس کےبعد آنحضرت نے فرمایا ۔موسی کو اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی تھی ہی کہہ کر آپ نے صبرفرمایا ۔۔۔ اسی طرح بخاری کے کتاب الادب باب التبسم والضحک میں ہے : انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں رسول خدا کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے موٹے تھے اتنے میں ایک بد عرب ملا اور اس نے بہت زور سے نبی کی چادر پکڑ کر گھیسٹا میں نے دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے رسول اللہ کے کندھوں کے کناروں پر اس کا نشان پڑگیا تھا ۔چادر کھینچ کر بدو نےکہا : اے محمد خدا کا مال جو تمہارے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دو ۔ رسول اس کی طرف مڑکر ہنسنے لگے ۔ اور حکم دیا ا س کو کچھ دیے دیا جائے ۔
اسی طرح کتاب الادب میں بخاری نے بات: من لم یواجہ الناس بالعتاب " میں ایک روایت حضرت عائشہ سے نقل کی ہے فرماتی ہیں : رسول اللہ نے خود کوئی چیز بنائی اور لوگوں کو استعمال کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کے استعمال سے اعراض کیا ۔ اور رسول کو اس کی اطلاع ہوگئی تو آپ نے ایک خطبہ دیا جس میں حمد وثنا ئے الہی کے بعد فرمایا : آخر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جس کو میں نے بنایا ہے اس سے پرہیز کرتے ہیں واللہ میں خدا کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور سب سے زیادہ ڈرتا ہوں ۔
جو شخص بھی اس روایت کو غور سے پڑھے گا ۔ وہ خود سمجھ لے گا کہ اصحاب اپنے رسول سے اونچا خیال کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ رسول تو غلطی کرسکتے ہیں مگر خطا نہیں کرسکتے ۔ بلکہ اسی چیز نے بعض مورخین کو اس بات پر امادہ کیا کہ وہ صحابہ کے ہر فعل کو صحیح سمجھتے ہیں چاہیے وہ افعال فعل رسول کے مخالف ہی ہوں ۔اور بعض صحابہ کے بارے میں کھلم کھلا یہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کا علم وتقوی رسول اللہ سے کہیں زیادہ تھا ۔جیسا کہ (تقریبا) مورخین کا اجماع کہے کہ بد ر کے قیدیوں کے بارے میں رسول خدا (ص) نے غلطی کی تھی ۔ اور عمر کی رائے بالکل صحیح تھی ۔ اور اس سلسلہ میں جھوٹی روایتیں نقل کرتے ہیں ۔مثلا آنحضرت نے فرمایا :- اگر خدا ہم کو کسی مصیبت میں مبتلا کردے تو اس سے

127
عمربن الخطاب کے علاوہ کوئی نجات حاصل نہیں کرسکتا ۔ اور یہ لوگ زبان حال سے کہتے ہیں ۔ اگر عمر نہ ہوتے تو نبی ہلاک ہوجاتے (العیاذ باللہ) خدا اس فاسد عقیدہ سےبچائے جس سے بد تر کوئی عقیدہ نہیں ہوسکتا ۔میں قسم کھا کرکہتا ہوں جس کا بھی یہ عقیدہ ہو وہ اسلام سے اتنا دور ہے جتنا مشرق اور مغرب سے ہے ۔اس پر واجب ہے کہ اپنا علاج کرائے یا اپنے دل سے شیطان کو بھگائے قران کا اعلان ہے :افرایت من اتخذ الھہ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرغشاو ۃ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرون (پ 25 س 45(الجاثیہ ) آیت 22 )
ترجمہ:- بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنے نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور (اسکی حالت ) سمجھ بو جھ کر خدانے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر علامت مقرر کردیہے (کہ ایمان نہ لائے گا) اور اسکی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ پھر خدا کے بعد اس کی ہدایت کون کرسکتا ہے تو کیا تم لوگ (اتنا بھی) غور نہیں کرتے ۔ صدق اللہ العلی العظیم ۔
میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ رسول خدا خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور میلان نفس کی بنا پر حق سے عدول کرجاتے تھے ۔ اور خدا کے لئے قسم نہیں کھاتے تھے ۔بلکہ اپنی خواہش وجذبات میں بہہ جاتے تھے ۔ اور جو لوگ رسول خدا کی بنائی ہوئی چیزوں سے اس نے پرہیز کرتے تھے ۔ کہ وہ لوگ رسول سے زیادہ متقی اور رسول سے زیادہ عالم ہیں یہ تمام لوگ مسلمانوں کے نزدیک کسی بھی احترام کے لائق نہیں چہ جائیکہ ایسے لوگوں کو ملائکہ کی جگہ سمجھائے اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ رسول خدا کےبعد پوری کا ئنات میں سب سے افضل یہی لوگ ہیں ۔ اور مسلمانوں کو ان کی پیروی اور سیرت پر اس لئے چلنے کی دعوت دی جائے کہ یہ اصحاب رسول ہیں ۔اور اہل سنت و الجماعت کے یہاں یہی سب سے بڑا تضاد ہے کہ وہ محمد وآل محمد پر جب درود بھیجتے ہیں تو ان کے ساتھ سارے صحابہ کو بھی شامل کردیتے ہیں (کہاں آل محمد اور کہاں صحابہ ؟ (دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے) اور جب خداوند عالم آل محمد کی قدر ومنزلت کو جانتا ہے اور لوگوں کی گردنوں کو جھکانے

128
کے لئے اور ان کی قدر منزلت کا اظہار کرنے کےلئے سب ہی کو حکم دیتا ہے کہ رسول کے ساتھ ان کے اہلبیت طاہرین پر بھی درود بھیجا کریں تو بھلا ہم کو کہاں سے حق پہونچتا ہے کہ اصحاب کو آل محمد سے بڑھادیں یا اصحاب کو ان کے (اہل بیت طاہرین) برابر قراردیدیں ۔اہلبیت تو ہو ہیں ۔جن کو خدا نے عالمین پر فضیلت دی ہے ۔
مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہ نتیجہ اخذ کروں کہ اموی اور عباسی لوگ چونکہ اہل بیت کے فضل و منزلت کو جانتے تھے اس لئے انھوں نے اہل بیت نبی کو ملک بدر کیا ۔ دیس نکالا دیا ۔ ان کو ان کے پیروکاروں کو ان کے چاہنے والوں کو قتل کردیا ۔ خود خدا کسی مسلمان کی نماز اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اہلبیت پر درود نہ بھیج لے تو اہلبیت سے دشمنی رکھنے والے ،ان سے منحرف ہونے والے کیا جواز پیش کریں گے ۔؟
چونکہ اہل بیت کی فضیلت چھپائی نہیں جاسکتی تھی ۔ اس لئے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ان لوگوں یعنی امویوں اور عباسیوں نے صحابہ کو بھی اہلبیت سے ملحق کردیا اور کہنے لگے صحابہ اور اہلبیت فضیلت میں برابر ہیں ۔کیونکہ انھیں امویوں اور عباسیوں کے بعض بزرگوں ہی نے رسول کی صحبت یافتہ اور تابعین میں سے کچھ ناقص العقول افراد (بیوقوفوں )کو خرید لیا تھا۔ تاکہ وہ لوگ فضائل صحابہ میں جھوٹی ومن گڑھت روایات نقل کیا کریں ۔ خصوصا ان اصحاب کے لئے جو سریر آرائے خالفت ہوئے ہیں اور یہی لوگ براہ راست امویوں اور عباسیوں کو تخت خلافت تک پہونچانے والے اور مسلمانوں کی گردنوں پر حکومت کرنے کا سبب بنے ہیں ۔میری باتوں کی گواہ خود تاریخ ہے کیونکہ یہی حضرت عمر جو اپنے گورنروں کا محاسبہ کرنے میں بہت مشہور تھے ار معمولی سے شبہہ کی بنا پر معزول کردیا کرتے تھے ۔ معاویہ کے ساتھ اتنی نرمی برتتے تھے کہ جس کا حساب نہیں ۔ معاویہ سے کبھی محاسبہ نہیں کرتے تھے۔ معاویہ کو ابو بکر نے اپنی حکومت میں گورنر معین کیا تھا ۔حضرت عمر نے اپنے پورے دورخلافت میں معاویہ کو اس کی جگہ پر برقرار رکھا اور کبھی معاویہ پر اعتراض تک نہیں کیا ۔انتہا یہ ہے کہ اظہار ناراضگی یا ملامت تک نہیں کی حالانکہ بکثرت لوگوں کی شکایت کی مگر عمر اس کا ن سے سنکر اس کان سے اڑادیتے

129
تھے ۔لوگو آآکر کہتے تھے ۔معاویہ سونے اور ریشم کا لباس پہنتا ہے اور رسول خدا نے اس کو مردوں پر حرام قرار دیا تھا ۔ تو عمر صرف یہ کہہ کرٹال دیتے تھے: چھوڑ دو و ہ عرب کا کسری ہے ۔"
معاویہ بیس سال تک بلکہ اس سے بھی زیادہ حکومت کرتا رہا کسی کی مجال نہیں تھی جو اس پر اعتراض کرتا یا سا کو معزول کرتا ۔ اور جب عثمان خلیفہ ہوئے (تب تو پوچھنا ہی کیا ہے سیال بھئے کوتوال" والی مثال صادق آتی ہے مترجم) تو انھوں نے چند دیگر ولایات کو معاویہ کے زیر حکومت کردیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاویہ بھر پور اسلامی ثروت کا مالک بن بٹھا لشکر کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا ۔ عرب کے جتنے اورباش بد معاش تھے سب کو اپنے اردگرد اکٹھا کرلیا ۔ تاکہ وقت ضرورت امام امت کے خلاف انقلاب برپا کیا جاسکے اور کذب وزور ، جبر وتشدد ،طاقت وقوت کے بل بوتے پر حکومت پر قبضہ کیا جا سکے اور مسلمانوں کی گردنوں پر بلا شرکت غیر حکومت کی جاسکے اور مرنے سے پہلے اپنے فاسق وشراب خوار ،زنا کا ، عیاش بیٹے یزید کے لئے زبردستی لوگوں سے بیعت لے سکے ۔بیعت یزید کا بھی ایک تفصیلی قصہ ہے جس کو اس کتاب میں بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ ان صحابہ کے نفسیات کو سمجھ لیں جو تخت خلافت پر (ناحق ) قابض ہوئے تھے ۔ اور جنھوں نے بنی امیہ کی حکومت کا راستہ ہموار کیا تھا ۔ ایک مفروضہ کی بنا پر قریش کویہ بات پسند نہیں ہے کہ نبوت وخلافت دونوں بنی ہاشم ہی میں رہے (1)۔
حکومت بنی امیہ کا حق کیا بلکہ اس پر واجب تھا کہ جن لوگوں نے اس کی حکومت کے لئے راستہ ہموار کیا تھا ان کا شکریہ ادا کر ے اور کم سے کم شکریہ یہ تھا کہ کچھ راویوں کو خرید لیا جائے جو ان کے آقا ومولی کے فضائل میں جعلی حدیثیں بیان کریں جن کی شہرت قریہ قریہ ،دیہات دیہات ہوجائے اور اسی کے ساتھ ان کے آقاؤں کو ان کے دشمنوں پر فضیلت بھی حاصل ہوجائے ۔یعنی اہلبیت پر فضیلت حاصل ہوجائے ایسی فضیلت کی روایتیں جعل کی گئی ہیں کہ پناہ بخدا حالانکہ خدا شاہد ہے اگر ان روایات کو عقلی ومنطقی وشرعی دلیلوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ھباءا منثورا " نظر آئیں گی ۔
--------------
(1):- خلافت وملوکیت مودودی ،یوم الاسلام احمد امین ۔

130
اور کوئی آدمی ان کے ذکر کری ہمت بھی نہ کرے گا البتہ جس کے دماغ میں بھوسا بھرا ہویا تناقضات پر ایمان رکھتا ہو تو بات ہی اور ہے ۔
میں بطور مثال (نہ بخاطر حصر) چند چیزوں کا ذکر کرتا ہوں ۔بچپنے سے عدالت عمر کی شہرت سنتے آئے ہیں اوریہ بات اتنی مشہور ہے کہ لوگ کہتے ہیں ۔ اے عمر تم عد ل کرتے کرتے سوگئے بعضوں نے یہ کہہ دیا کہ حضرت عمر کو قبر کے اندر سیدھا قیام کی صورت میں دفن کیاگیا تاکہ کہیں ان کے مرنے سے عد ل نہ مرجائے ، زبان زد خاص وعام ہے کہ عدالت عمر کے بارے میں جو چاہے بیان کریں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔۔ لیکن صحیح تاریخ کا کہنا ہے کہے سنہ 20 ھ میں حضرت عمر نے جب لوگوں میں عطایا کی رسم جاری کی تو نہ سنت رسول کی پیروی کی اور نہ اس ک پرواہ کی ۔کیونکہ رسول اکرم نے تمام مسلمانوں میں عطا کے سلسلے میں مساوات قائم کی تھی ۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی تھی ۔ خود ابو بکر اپنے دورخلافت میں رسول اکرم کی پیروی کرتے رہے ۔ لیکن حضرت عمر نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا انھوں نے سابقین کو دوسروں پر فوقیت دی ۔ اور قریش کے مہاجرین کو دوسرے مہاجرین پر فضیلت دی اور تمام مہاجرین کو (خواہ قریشی یا غیر قریشی )تمام انصار پرمقدم کیا ۔ عرب کو تمام غیر عربوں پر ترجیح دی ۔آقا کو غلام پر (1)۔ قبیلہ مضر کو قبیلہ ربیعہ پر اسطرح فوقیت دی کہ مضر کو تین سو اور ربیعہ کے دو سو معین کیا (2)۔قبلیہ اوس کو قبیلہ خزرج پر مقدم کیا (3)۔
اے عقل والو مجھے بتاؤ یہ تفضل کون سی عدالت ہے؟
سی طرح حضرت عمر کے علم کا بڑا شہرہ سنا کر تے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تمام صحابہ میں سب سے زیادہ عالم عمر ہیں ۔ اوربعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن میں بہت سی آیتیں موجود ہیں ۔ کہ جب رسول اکرم اور عمر بن الخطاب میں اختلاف رائے ہوتا تو قرانی آیات حضرت عمر کی تایید کرتی ہوئی اترتی تھی ۔۔۔۔لیکن صحیح تاریخ کہتی ہے کہ حضرت عمر نزول قرآن پہلے تو در کنار نزول قرآن کےبعد بھی قرآن کی موافقت
--------------
(1):- شرح ابن ابی الحدید ج 8 ص 111
(2):- تاریخ یعقوبی ج 2 ص 106
(3):- فتوح البلدان ص 437

131

نہیں کرتے تھے ۔ چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ عمر کے زمانہ خلافت میں کسی صحابی نے عمر سے پوچھا :- اےامیر المومنین مین رات کو مجنب ہوگیا اور مجھے پانی نہ مل سکا تو میں کیا کروں ؟ عمر نے فورا کہا : نماز چھوڑ دو مت پڑھو ! لیکن عمار یاسر جو اس وقت جو اس وقت موجود تھے انھوں نے کہا ایسے موقع پر تیمم کرلیتے لیکن حضرت عمر مطمئن نہیں ہوئے اور عمار سے کہا : تم کو ہم اسی کا م کی رائے دیتے ہیں جو تم نے اپنے لئے کیا ہے (1) بھلا مجھے بتاؤ قرآن میں موجود آیت تیمم کا علم حضرت عمر کو کہا ں تھا ؟ عمر کا سنت نبوی کے بارے میں علم کیا ہوا ؟ آخر رسول نے جس طرح وضو کرنا سکھایا تھا تیمم کرنا بھی تو بتایا تھا اور (مدعی سست گواہ چست کے بمصداق)خود حضرت عمر متعدد واقعات کےبارے میں کہتے ہیں میں عالم نہیں ہوں ۔131
بلکہ یہاں تک فرمایا :ہر آدمی عمر سے زیادہ علم فقہ جانتا ہے ۔یہاں تک کہ گھر میں بیٹھنے والی عورتیں بھی زیادہ جانتی ہیں ۔ خود عمر نے متعدد مرتبہ کہا : "لو لا علی لھلک عمر " اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
بے چارے مرتے مرتے مرگئے ۔لیکن کلالۃ کا حکم نہیں جانتے تھے اسی لئے زندگی میں کلالۃ کے متعدد ومختلف احکام بیا ن کرگئے جیسا کہ تاریخ شاہد ہے (مگر ہمارے علمائے کرام اسی پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ حضرت عمر کو (اعلم الصحابہ ثابت کریں) اے صا حبان بصیرت حضرت عمر کا علم کیا ہوا ؟۔
اسی طرح ہم حضرت عمر کی طاقت وقوت وشجاعت کے بارے میں بہت کچھ سنا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ یہ بات کہی گئی کہ عمر کے اسلام لانے سے قریش خوفزدہ ہوگئے اور مسلمانوں کی شان وشوکت بڑھ گئی ۔یہ بھی کہا گیا خدا نے اسلام کی عزت عمر بن خطاب سے بڑھائی ہے ۔ بعضوں نے تو مبالغہ آرائی کی حد کردی کہ جب تک عمر اسلام نہیں لائے رسول علی الاعلان اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت نہیں دے سکتے تھے ۔لیکن تاریخ ان باتوں کی تردید کرتی ہے ۔تاریخ میں عمر کی کوئی شجاعت وبہادری نہیں ملتی ۔تاریخ یہ نہیں جانتی کہ عمر نے کسی مشہور کو کیا کسی معمولی آدمی کو بھی مقابلہ میں قتل کیا ہو یا بدر ،احد ، خندق ۔جیسی جنگوں میں کسی بہادر سےنبرد آزمائی کی ہو ۔ بلکہ تاریخ اس کے بر خلاف بیان کرتی ہے کہ معرکہ احد کے بھگوڑوں میں عمر بھی تھے ۔ اسی طرح حنین میں بھاگنے والوں کی فہرست مین ان
--------------
(1):-صحیح بخاری ج 1 ص 52

132
کا بھی نام نامی ہے ۔رسول خدا نے ان کو خیبر فتح کرنے کے لئے بھیجا ۔اور آپ شکست کھا کر واپس آگئے ۔جتنی جنگوں میں آپ شریک ہوئے سب میں محکوم رہے کبھی سرداری نصیب نہیں ہوئی ۔رسول کی زندگی میں آخری لشکر جو اسامہ بن زید کی سرکردگی میں بھیجا گیا اس میں بھی آپ محکوم ہی تھے ۔ حالانکہ اسامہ محض 18 سال کے جوان تھے ۔
صاحبان عقل خدا کے لئے آپ ہی فیصلہ کیجئے ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیسی شجاعت کیسی بہادری ؟
اسی طرح عمر بن خطاب کے تقوی وپرہیز گاری ،خوف خدا میں گریہ وزاری کےبارے میں بہت کچھ سنا کرتے تھے ۔ بات یہاں تک مشہور ہے کہ عمر بن خطاب اپنے نفس کا محاسبہ اتنا کرتے تھے کہ وہ اس بات سے لرزہ براندام ہوجاتے تھے کہ خدا نخواستہ اگر عراق میں کوئی خچر راستہ ک ناہمواری کی بنا پر ٹھوکر کھا جائے تو اس کی جوابدہی مجھے کرنی ہوگی کہ راستہ کیوں نا ہموار تھا ؟(حالانکہ موصوف مدینہ میں قیام فرماتے تھے ) لیکن تاریخ کا بیان ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ تھا بلکہ اس کے بر عکس آپ" فظا غلیظا " واقع ہوئے تھے ۔نہ رتی برابر خوف خدا تھا اور نہ ذرہ برابر ورع ۔ تند مزاجی کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی نے قرآن مجید کی کسی آیت کے بارے سوال کر لیا تو مارے درّوں کے اس کو خونم خون کردیتے تھے ۔ آ ّپ کی تند مزاجی سے لوگ اتنا خائف رہتے تھے کہ محض آپ کو دیکھ کر عورتوں کا حمل ساقط ہوجاتا تھا ۔ جب رسول اکرم کا انتقال ہوا تو آپ ننگی تلوار لے کر مدینہ کی گلیوں میں گھوم رہے تھے اور لوگوں کو دھمکی دے رہے تھے کہ : جس نے کہا محمد مرگئے اس دن اس کی گردن اڑادوں گا (1)۔ اور قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یقین دلا رہے تھے کہ محمد مرے نہیں ہیں وہ تو جنا ب موسی کی طرح اپنے خدا سے مناجات کرنے گئے ہیں ۔ آخر یہاں آپ کو خوف خدا کیوں نہیں آيا ؟اسی طرح جب حضرت فاطمہ کا گھر جلانے گئے تو کہا جو لوگ گھر میں ہیں ۔ اگر وہ نکل کر بیعت ابو بکر نہیں کرتے تو اس گھر میں آگ لگادوں گا (2)۔
--------------
(1):- تاریخ طبری ۔وابن اثیر
(2):- الامامہ والسیاسۃ

133
لوگوں نے کہا ارے اس میں بی بی فاطمہ ہیں کہا :- ہوا کریں ۔ اس موقع پر آپ کو خوف خدا کیوں نہیں آیا ؟ کتاب خدا اور سنت رسول کی پرواہ نہیں کرتے تھے آپ کی جسارت کا عالم یہ تھا کہ اپنے دور خلافت میں متعدد ایسے احکام جاری فرمائے ۔جو قرآن کے نصوص صریحہ اور سنت نبی کے کھلم کھلا مخالف تھے (1)۔
اے خدا کے نیک بندو! ان تلخ واقعات کے باوجود وہ ورع وتقوی کہاں ہے جس کا اتنا زیادہ ڈھنڈھورا پیٹا جاتا ہے ؟
میں نے صرف عمر کی مثا ل اس لئے دی کہ یہ بہت مشہور صحابی ہیں اور بہت ہی اختصار کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ طول دینا مقصود نہیں ہے اگر میں تفصیل سے لکھنے لگوں تو کئی کتابیں میں لکھ سکتاہوں لیکن میرا مقصد حصر کرنا نہیں ہے بلکہ بطور مثال بیان کرنا ہے ۔
اور یہی مختصر سی تحریر صحابہ کی نفسیات سمجھنے کے لئے کافی ہے اور اس سے علمائے اہلسنت کا تنا قض بھی سامنے آجاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو لوگوں کو اصحاب کےبارے میں نقد وتبصرہ کرنے بلکہ شک کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف ایسی ایسی روایات تحریر کرتے ہیں جس سے شک کا پیدا ہونا فطری بات ہے کاش علمائے اہلسنت نے اس قسم کی روایات ہی کو ذکر نہ کیا ہوت جس سے عظمت صحابہ مجروح ہوتی ہے ۔ ان کی عدالت مخدوش ہوجاتی ہے اگر ایسی روایات نہ لکھی گئی ہوتیں تو ہم کبھی شک میں مبتلا نہ ہوتے ۔
مجھے اب تک نجف اشرف کے عالم جناب اسد حیدر صاحب مولف کتاب" الامام الصادق والمذاھب الاربعۃ" کی ملاقات یاد ہے کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے شیعہ وسنی کے بارے میں باتیں کررہے تھے ۔انھوں نے مجھ سے اپنے والد کا قصہ بیان کیا " کہ میرے کی ملاقات حج میں ایک ٹیونسی عالم سے ہوئی جو "الزیتونیہ یونیورسٹی" کے علماء میں سے تھے ۔ اور یہ واقعہ تقریبا پچاس سال پہلے کا ہے ۔ اسد حیدر صاحب اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں : میرے والد اور ٹیونسی عالم میں حضرت علی کی امامت کے سلسلہ میں گفتگو ہورہی تھی ۔ اور میرے والد حضرت علی کے استحقاق پر دلیلیں پیش کررہے تھے ۔چنانچہ انھوں نے
--------------
(1):-النص والاجتھاد ملاحظہ فرمائیے جس میں مع حوالہ کے تفصیل موجود ہے اور حوالے بھی ایسے ہیں جو تمام اسلامی فرقوں میں مقبول ہیں ۔

134
چار یا پانچ دلیلیں پیش کیں اور ٹیونسی عالم بڑے غور سے سن رہا تھا ۔جب میرے والد کی بات ختم ہوگئی تو ٹیونسی عالم نے پوچھا کچھ اوربھی دلیلیں ہیں یا بس اتنی ہی ؟ والد نے کہا بس یہی دلیلیں ہیں ۔ ٹیونسی عالم نے کہا اپنی تسبیح نکالو اور شمار کرنا شروع کردو پھر اس نے حضرت علی کی امامت پر سو ایسی دلیلیں پیش کیں جن کو میرے والد نہیں جانتے تھے ۔ شیخ اسد حید نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا :- اہلسنت والجماعت صرف اپنی کتابوں میں لکھی ہوئی دلیلوں کو پڑھ لیتے تو ہمارے ہم عقیدہ ہوجاتے اور آپسی اختلاف بہت پہلے ختم ہوجاتا ۔انتھی ۔
میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر انسان اندھی تقلید چھوڑ دے اور تعصب کو بالائے طاق رکھ کر صرف دلیل کا تابع ہوجائے تو اسد حیدر والی بات حق ہے اس سے مفر کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭