پھر میں ہدایت پاگیا
 

102

گہری تحقیق کا آغاز

104

"اصحاب "
شیعوں اور سنیوں کی نظر میں
تمام بحثوں میں سب سے امہم بحث (جس کو "سنگ بنیاد " کہا جائے ) اصحاب کی زندگی ان کے عقائد کردار کی بحث ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچادیتی ہے کیونکہ ہر چیز کے لئے یہی حضرات ستون ہیں ۔ انھیں سے ہم نے دین لیا ہے تاریکیوں میں احکام خدا کی معرفت کے لئے انھیں کے نور سے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ علمائے ماسبق صرف انھیں حضرات پر اکتفا کرتے تھے لہذا ان کے بارے میں ان کی سیرت کے بارے میں کافی بحث وتمحیص سے کام لیا ہے ۔ اور متعدد کتابیں تالیف فرمائی ہیں ۔مثلا" اسدالغابہ فی تمیز الصحابہ " "الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ "" میزان الاعتدال" اور نہ جانے کتنی کتابیں ہیں جن میں زندگانی صحابہ کو نقد وتحلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔۔۔ لیکن سب اہل سنت کے مخصوص نظریہ کے مطابق لکھی گئی ہیں ۔
اس لئے ان میں یہ اشکال ہے کہ پہلے والے علماء نہ صرف یہ کہ تاریخ وسیرت کی کتابین عباسی اور اموی حکّام کے حسب منشاء لکھاکرتے تھے جن کی اہل بیت سے دشمنی طشت ازبام ہے بلکہ جو بھی اموی وعباسی حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتا تھا یہ علمائے کرام صرف انھیں کے چشم وابرو کے اشارے پر رقص کرتے تھے اس لئے صرف انھیں کے اقوال کو حجت سمجھ لینا اور دوسرے ان علماء کے اقوال کو

105
کو کوڑے دان میں ڈال دینا انصاف سے بعید نہیں ہے ۔ جنھیں صرف ولائے اہل بیت کے جرم میں حکومتوں نے قتل کردیا ۔ملک بد کردیا ۔ان پر مصائب کے پہاڑ توڑ دیئے ۔ان کی زندگی اجیرن بنادی ۔ان ظالم ومنحرف حکومتوں کے خلاف انقلاب کا مرکز بھی یہی علماء تھے ۔
ان تمام چیزوں میں بنیادی چیز "صحابہ " تھے ۔کیونکہ یہی وہ لوگ تھے جب رسول اکرم نے قیامت تک گمراہی سے بچانے والی تحریر لکھنی چاہی تو اختلاف کربیٹھے ۔یہی حضرات ہیں جنھوں نے امت اسلامیہ کو فضیلت سے محروم کردیا اور گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا کہ آج امت ٹکڑیوں میں بٹ گئی ۔کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ اختلافات پھوٹ پڑے ۔امت کمزور ہوگئی ۔ اسلام کا رعب ودبدبہ مخالفین کے دلوں سے جاتارہا ۔
یہی تھے جنھوں نے خلافت میں اڑنگے لگائے ۔کچھ لوگ حکومت حاصل کر لینے میں کامیاب ہوگئے کچھ لوگ مد مقابل بن کر ابھرے ۔جس کے نتیجے میں شیعہ علی اور شیعہ معاویہ میں امت تقسیم ہوگئی ۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے کتاب خدا اور حدیث رسول کی تفسیر میں اختلاف ڈال دیا جس کے نتیجہ میں متعدد فرقے پیدا ہوگئے ۔مختلف کلامی وفکری مدارس وجود میں آگئے ،مختلف فلسفے ظاہر ہوگئے جن کا سرچشمہ سیاسی اسباب تھے ۔ اور حصول تخت وتاج تھا ۔
اگر صحابہ نہ ہوتے تو نہ مسلمان تقسیم ہوتے نہ آپس میں اختلاف ہوتا جتنے بھی اختلافات ہوئے ہیں یا ہونگے ان کی بازگشت صحابہ کے اختلاف کی طرف ہے ۔حالانکہ سب کا خدا ایک ہے ،قرآن ایک ،رسول ایک قبلہ ایک ، اور سب ہی ان چیزوں پر متفق ہیں ۔ لیکن رسول کے انتقال کے بعد سب سے پہلا اختلاف سقیفہ بنی ساعدہ میں رونما ہوا جو آج تک جاری ہے ۔اور (عقیدت صحابہ کی برکت سے)الی ماشا اللہ باقی رہے گا میں نے علمائے شیعہ سے گفتگو کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کے یہاں صحابہ کی تین قسمیں ہیں ۔

1:- پہلی قسم:-
وہ نیک صحابہ جنھوں نے خدا ورسول کی کما حقہ معرفت حاصل کی اور موت پر بیعت کی ،رسول کے سچے صحابی رہے قولا وعملا رسول کے بعد بھی نہیں بدلے بلکہ اپنے عہد پر باقی رہے اور یہی

106
وہ اصحاب ہیں جن کی خدانے اپنی کتاب میں متعدد جگہ تعریف وتوصیف کی ہے اور رسول نےبھی بکثرت ومواقع پر ان کی مدح سرائی کی ہے شیعہ ان اصحاب کاذکر بڑے احترام وتقدیس سے کرتے ہیں اور جس طرح اہل سنت احترام وتقدیس کرتے ہیں رضی اللہ کہتے ہیں شیعہ بھی یہی سب کہتے اور کرتے ہیں ۔

2:- دوسری قسم:-
ان اصحاب کی ہے جو اسلام لائے اور رسول کی پیروی کی خواہ خوف سے خواہ شوق سے مگر کی ، یہ لوگ رسول پر احسان جتاتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور بعض اوقات رسول کو اذیت بھی پہونچاتے تھے ۔آنحضرت کے اوامر ونواہی کی بجا آوری نہیں کرتے تھے ۔بلکہ نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اپنی رائ کی اہمیت دیتے تھے ۔یہاں تک کہ کبھی تو قرآن نے ان کی توبیخ کی اور کبھی ان کی تہدید کی اور بہت سی آیتوں میں ان کو رسوا بھی کیا ۔ رسول نے بھی بہت سی حدیثوں میں ڈرایا دھمکایا ہے ۔شیعہ ان اصحاب کا ذکر ان کے افعال کے ساتھ کرتے ہیں ۔ نہ کوئی احترام کرتے ہیں نہ تقدیس ۔

3:- تیسری قسم:-
ان منافقین کی ہے جو رسول کے ساتھ ان کو نقصان پہونچانے کی فکر میں رہتے تھے یہ بظاہر تو مسلمان تھے مگر درپردہ وہ کافر تھے ۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہونچانے کے لئے رسول کے قریب رہتے تھے ۔خدا نے پورا سورہ منافقون ان کےبارے میں میں نازل کیا ہے ۔ بہت سی جگہوں پر ان کا ذکر ہے ۔ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ کی دھمکی دی گئی ہے رسول نے بھی ان کاذکر کیا ہے ۔ان سے بچنے کے لئے کہا ہے ۔بعض اصحاب کو منافقین کےنام بھی بتادیے تھے ۔اور ان کی علامتیں بھی یہ قسم اصحاب کی ایسی ہے کہ شیعہ وسنی دونوں ان پر لعنت کرتے ہیں اور ان سے براءت کرتے ہیں ۔
ایک اور قسم بھی ہے وہ بھی اگرچہ صحابہ ہیں لیکن قرابت رسول خلقی ،نفسی ،فضائل ،خدا ورسول کی طرف سے دی ہوئی خصوصیات کی بنا پر سب سے الگ تھلگ ہیں ان کے برابر کا کوئی نہیں ہے اور نہ ان کے درجہ تک کوئی پہونچ سکتا ہے اور یہ وہ اہلبیت ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور کردیا ہے اور پاک وپاکیزہ بنادیا ہے (1)
--------------
(1):- پ 22 س 33 (احزاب )آیت 33

107
ان کے اوپر درود بھیجنا ویسا ہی واجب ہے جیسا کہ رسول پر ان کے لئے خمس قراردیا گیا ہے (1)۔اجر رسالت کے عنوان پر ہر مسلمان پر ان کی مودت واجب قراردی گئی ہے (2)۔ یہی اولوالامر ہیں جن کی اطاعت واجب قراردی گئی ہے (3)۔ یہی راسخون فی العلم ہیں جو تاویل قرآن او ر محکم ومتشابہ کا علم رکھتے ہیں (4)۔ یہی اہل ذکر ہیں جن کو رسول نے حدیث ثقلین میں قران کا ساتھی قراردیا ہے اور دونوں سے تمسک کو واجب قراردیا ہے(5)۔ انھیں کو سفنیہ نوح جیسا قرار دیا گیا ہے ۔جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اورجو الگ رہا ڈوب گیا (6)۔ صحابہ اہل بیت کی قدر پہچانتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں شیعہ انھیں اہل بیت کی پیروی کرتے ہیں اور ان کو جملہ صحابہ سے افضل مانتے ہیں اور اس پر نصوص صریحہ پیش کرتے ہیں ۔۔۔
لیکن اہل سنت والجماعت اہل بیت کی عظمت وتفضیل واحترام کے قائل ہونے کے باوجود اصحاب کی اس تقسیم کو قبول نہیں کرتے اور نہ اصحاب میں سے کسی کو منافق سمجھتے ہیں ۔بلکہ تمام صحابہ ان کے نزدیک رسول خدا کے بعد افضل الخلائق ہیں اور اگر وہ کسی تقسیم کو مانتے بھی ہیں تو سابق الاسلام ہوئے اور اسلام مین مصائب برداشت کرنے کے اعتبار سے ہے ۔چنانچہ سب سے افضل خلفائے راشدین اس کے بعد عشرہ مبشرہ کے باقی چھ 6 افراد ہیں اسی لئے جب وہ نبی اورآل نبی پر دورود بھیجتے ہیں تو بلا استثناء تمام صحابہ پر درود بھیحتے ہیں یہ باتیں میں خود سنی ہونے کی وجہ سے اور علمائے کرام اہل سنت سے سن کر جانتا ہوں ۔اور وہ تقسیم میں نے علمائے شیعہ سے سنی ہے ۔اوریہی چیز باعث نبی کہ میں پہلے صحابہ کے بارے میں ایک عمیق بحث کرلوں اور اپنے خدا سے یہ عہد کرلیا ہے کہ مجھے جذباتی نہ بنائے تاکہ حزبی نہ کہلاؤں اور دونوں طرف کی بات سن کر احسن کی پیروی کر سکوں ۔
--------------
(1):- پ 9 س 10 (انفال) آیت 41
(2):- پ 25س (شوری) آیت 23
(3):- پ س (نساء) آیت 59
(4):- پ س (آل عمران) آیت 7
(5):- کنزالعمال ج 1 ص 44 ۔مسند احمد ج 5 ص 188 پر حدیث ثقلین کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔
(6):- مستدرک حاکم ج 3 ص 151 تلخیص الذہبی ،الصواعق المحرقہ ابن حجر ص 147 و 234