پھر میں ہدایت پاگیا
 

99

ابتدائے تحقیق
میری خوشی کی انتہا نہ رہی ایک کمرہ میں جس کا نام میں نے کتب خانہ رکھا ۔ تمام کتابوں کو ترتیب سے رکھا ۔اور چند دن آرام کئے چونکہ درسی سال کی ابتدا ہورہی تھی ۔اس لئے ایک ٹائم ٹیبل تیار کیا ۔جس میں تین دن مسلسل پڑھانے کے اور چار دن آرام کے ہر ہفتہ میں رکھا ۔
اس کے بعد کتابوں کے مطالعہ میں جٹ گیا ۔چنانچہ "عقایدالامامیہ " "اصل الشیعہ واصولھا" کو پڑھنے کے بعد میری ضمیر کو بہت سکون ملا ۔کیونکہ خود میرا ضمیر بھی انھیں عقائد کو پسند کرتا تھا جو شیعوں کے تھے اس کے بعد ،سید شرف الدین الموسوی کی کتاب "المراجعات" پڑھی ابھی چند ہی صفحاپ پڑھے تھے کہ کتاب کی کشش نے پڑھنےپر مجبور کردیا ۔ اور پھر یہ عام ہوگیا کہ کسی شدید مجبوری کے بغیر میں کتاب چھوڑتا ہی نہیں تھا ۔کبھی کبھی تو کالج میں بھی اپنے ساتھ لئے چلا جاتا تھا شیعہ عالم کی صاف گوئی وصراحت اور سنی عالم کی مشکلات کو حل کردینے نے مجھے دہشت زدہ کردیا تھا کتاب کی صورت مین میری آرزو مجھے مل گئی ۔کیونکہ یہ کتاب عام دھرے پر نہیں لکھی گئی تھی ۔ کہ مولف کا جو جی چاہے کسی مناقشہ ومعارضہ کے بغیر لکھ دے ۔ بلکہ "المراجعات "دومختلف مذہب (شیعہ وسنی ) کے دو زبر دست عالموں کے درمیان گفتگو ۔۔۔خط وکتابت کی صورت میں ۔۔۔ہوئی تھی جس میں ہر چھوٹی وبڑی چیز کا دونوں ایک دوسر ے سےمحاسبہ کرتے تھے ۔ اور پوری بحث کا دارومدار مسلمانوں کے دو بنیادی مدارک پر تھے ۔۔۔۔ یعنی قرآن کریم اور سنت صحیحہ ۔۔۔اس پوری بحث کو اس میں جمع کردیا گیا تھا ۔ پس وہ کتاب کیا تھی گویا جو یائے حقیقت کو منزل تک پہنچانے والی تھی ۔ یہ کتاب بہت ہی مفید ہے اور میرے اورپر اس کا بہت بڑا احسان ہے
اس کتاب کوپڑھتے پڑھتے جب میں اس منزل پر پہونچا کہ صحابہ احکام (اوامر) رسول کی پابندی نہیں

100
کرتے تھے تو میں مبہوت ہوگیا ۔ مولف نے اس کی مثالیں دی ہیں ان میں ایک تو روزپنچشنبہ کی مصیبت کا حادثہ ۔۔۔۔ اس سے واقعہ قرطاس مراد ہے ۔۔۔۔ کیونکہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سیدنا عمر ابن الخطاب حکم رسول پر اعتراض کرسکتے ہیں اور ان کی طرف (معاذاللہ) ہذیان کی نسبت دے سکتے ہیں ۔ شروع میں تو مجھے یہی گمان ہوا کہ یہ شیعوں کی روایت ہے ۔لیکن میری حیرت و دہشت کی اس وقت انتہا نہیں رہی جب میں نے یہ دیکھا کہ شیعہ عالم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالہ سے نقل کررہا ہے میں نے اپنے دل میں کہا اگر یہ روایت واقعا صحیح بخاری میں ہے تو پھر اس میں ایک رائے ہوگی میں نے فورا ٹیونس کا سفر کیا اور وہاں سے صحیح بخاری ،صحیح مسلم، مسند امام احمد ۔صحیح ترمذی ، موطا امام مالک ۔انکے علاوہ دوسری مشہور کتابوں کو خریدا میں نے گھر آنے کا بھی انتظار نہیں کیا ۔ٹیونس سے قفصہ تک کا راستہ بھر بخاری کوالٹ پلٹ کر واقعہ قرطاس تلاش کرتا رہا ۔ اگر چہ میری دلی تمنا تھی کہ وہ نہ ملے مگر میری بد قسمتی کہ وہ عبارت مل گئی اور میں نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا جیسا شرف الدین نے لکھا تھا وہی تھا ۔ میں نے چاہا سرے سے اصل واقعہ ہی کوجھٹلادیا جائے کیونکہ سیدنا عمر ایسا اقدام نہیں کرسکتے لیکن جو باتیں صحاح میں ہیں ان کا کیونکر انکار کیا جاسکتا ہے ۔ اور صحاح بھی اہل سنت کی ۔ اسکے بارے میں ہم لوگ چوں بھی نہیں کرسکتے اور جسکی صحت کی گواہی پر مہر تصدیق ثبت ہے ۔ صحاح میں شک کرنا بعض کو جھٹلا دینے کا مطلب سارے معتقدات کو چھوڑ دینا ہے ۔اگر شیعہ عالم اپنی کتابوں سے نقل کرتا تو میں قیامت تک تسلیم نہ کرتا لیکن اس نے اہل سنت کی صحاح سے نقل کیا ہے جس میں خدشہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ہم نے خود یہ طے کر رکھا ہے کہ قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب بخاری ہے اس لئے اس کو ماننا پڑے گا ۔ ورنہ پھر صحاح میں شک کرنا پڑے گا اور صحاح میں شک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس احکام میں سب سے کوئی ایسی چیزیں نہیں ہے جس پر ہم بروسہ کرسکیں کیونکہ کتاب خدا میں جو آئے ہیں وہ مجمل طور سے ہیں ۔ صحاح کے انکار نہ کرسکنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ عہد رسالت سے بہت بعد میں آئے ہیں دینی احکام "ابا من جد" جو بھی ہم کو وراثت میں ملے ہیں انھیں صحاح کے وساطت سے ملے ہیں لہذا ان کتابوں کو نہ چھوڑا جاسکتا ہے ۔نہ جھٹلا یا جاسکتا ہے اس مشکل بحث میں داخل ہوتے ہی میں نے اپنے نفس سے یہ عہد لیا تھا کہ صرف انھیں صحیح

101
حدیثوں پر بھروسہ کرونگا جو شیعہ سنی دونوں کے یہاں متفق علیہ ہوگی اور ان تمام حدیثوں کو چھوڑ دوں گا ۔جن کو صرف سنی یا شیعوں نے لکھا ہوگا ۔ اس معتدل طریقہ پر عمل کرکے میں جذباتی اثرانگیزیوں سے دور رہ سکوں گا اور مذہبی وقومی یا وطنی تعصبات سے محفوظ رہ سکوں گا اور اسی کے ساتھ شک پر عمل نہیں کروں گا ۔تاکہ حبل یقین یعنی صراط مستقیم تک پہونچ سکوں ۔