پھر میں ہدایت پاگیا
 

79

حیرت وشک
اس میں شک نہیں کہ سید محمد باقر الصد ر کے جوابات واضح اور قانع کرنے والے تھے ۔لیکن مجھ جیسا شخص جس نے اپنی عمر کے 25 سال تقدیس واحترام صحابہ کے ماحول میں گزارے ہوں خصوصا جس کے رگ وپے میں ان خلفائے راشدین کی محبت وعظمت سرایت کرچکی ہو جن کی سنت سے تمسک کرنے اور جن کے راستہ پر چلنے کی رسول خدا نے تاکید کردی ہو ۔ اور ان خلفاء میں بھی سرفہرست سیدنا ابو بکر وسیدنا عمرالفاروق ہوں ۔ اس کے دل ودماغ میں سید صدر کی باتیں کیسے اثرانداز ہوتیں ؟ میں نے جب سے عراق کی زمین پر قدم رکھا ہے سیدنا ابو بکر وعمر کانام سننے کے لئے میرے کان ترس گئے ہیں ۔ البتہ ان کے بدلے ایسے عجیب وغریب نام اور امور سننے میں آتے رہے ہیں ۔ جن سے میں بالکل ہی ناواقف ہوں ۔(مثلا)بارہ اماموں کے نام ۔ اور یہ دعوی کہ امام علی کے لئے رسول اللہ نے مرنے سے پہلے نص کردی تھی ۔(وغیرہ وغیرہ) بھلا میں اس بات کو کیونکر مان سکتا ہوں کہ تمام مسلمان یعنی صحابہ کرام جو رسول اللہ کے بعد خیرالبشر تھے وہ سب کے سب کیسے امام علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف متفق ہوگئے تھے ۔؟ حالانکہ ہم کو تو گہوارہ ہی سے یہ سیکھا یا جاتا ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم امام علی کا احترام کرتے تھے ۔ ان کے حق پہچانتے تے ۔کیونکہ آپ فاطمہ الزہرا (س) کے شوہر حسن وحسین (ع) کے باپ تھے ۔ باب مدینۃ العلم تھے ۔ جیسے کہ خود سیدنا علی علیہ السلام ابو بکر صدیق کے حق کو پہچانتے تھے جو سب سے پہلے مسلمان ،رسول اللہ کے غار کے ساتھی تھے جیسا کہ خود قران نے ذکر کیا ہے ۔رسول خدا نے اپنے مرض الموت میں نماز کی امامت بھی صدیق کے حوالہ کردی تھی ۔ اور فرمایا تھا : میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابو بکر ہوتے اور انھیں اسباب کی بنا پر مسلمانوں نے ان کو اپن خلیفہ چن لیا تھا ۔

80
اسی طرح امام علی سیدنا عمر کے حق کو بھی پہچانتے تھے جن کے ذریعہ خدا نے اسلام کو عزت بخشی ۔اور رسول اکرم نے ان کا نام فاروق (حق وباطل میں فرق کرنے والا) رکھا ۔ اسی طرح حضرت امام علی سیدنا عثمان کے حق کو بھی پہچانتے تھے جن سے ملائکہ رحمان حیا کرتے تھے ۔ اور جنھوں نے جیش العسرہ کو ‎سازوسامان سے آراستہ کیا تھا ۔ جن کا نام رسول اللہ نے ذوالنورین رکھا تھا آخر یہ ہمارے شیعہ بھائی ان باتوں سے کیونکر جاہل ہیں ؟ یا پھر یہ لوگ تجاہل عارفانہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ایسے عام آدمی خیال کرتے ہیں جن کو خواہشات اور طمع دنیا حق کی پیروی سے باز رکھ سکتی ہے اور یہ لوگ رسول خدا کی وفات کے بعد ان کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں ۔حالانکہ یہ وہی لوگ تو ہیں جو رسول کے احکام کی تعمیل میں ایک دوسرے پر سبقت لےجانے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔ عزت اسلام ونصرت حق کی خاطر اپنے آباء اولاد ،خاندان تک کو قتل کردیا کرتے تھے ۔ انھیں میں ایسے بھی تھے جو رسول کی اطاعت کے لئے اپنے باپ اور بیٹے کو قتل کریتے تھے ۔ناممکن ہے کہ طمع دنیا ( حصول تخت خلافت) ان کو دھوکہ دے سکے اور یہ رسول کے بعد ان کی باتوں کو پس پشت ڈالدیں ۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ نہیں نہیں ناممکن ہے ۔ انھیں تصورات وخیالات کی بنا پر میں شیعوں کی ہر بات نہیں مانتا تھا ۔اگر چہ بہت سی باتوں پر میں قانع ہوچکا تھا ۔میں شک وحیرت میں پڑگیا ۔شک تو اس وجہ سے جو علمائے شیعہ نے میری عقل میں ڈال دیا تھا کیونکہ ان کا کلام معقول ومنطقی ہوتا ہے ۔ اور جس حیرت میں میں ڈوب گیا وہ یہ تھی کہ میرے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ صحابہ کرام (رض) کیا اس بد اخلاقی کے درجہ تک گر سکتے ہیں کہ ہماری طرح کے عادی انسان بن جائیں گے کہ نہ تو رسالت ان پر صیقل کرسکے اور نہ ہدایت محمدی ان کو مہذب بنا سکی ؟ اہم بات تو یہ ہے کہ یہی شک وحیرت کمزوری کی ابتدا اور اس بات کے اعتراف کا سبب بن گئی کہ دال میں کالا ضرور ہے جس کی تحقیق حقیقت تک پہونچنے کے لئے ضروری ہے ۔

81
ہمار دوست منعم آگیا تھا اور ہم لوگ عازم کربلا ہوگئے ۔وہاں پر ہم نے سیدنا الحسین کی محنتوں کا اندازہ اس طرح لگا یا جس طرح شیعہ لگاتے ہیں ۔ وہا ں جاکر ہم کو پتہ چلا کہ سیدنا الحسین مرے نہیں ہیں ان کی ضریح کے ارد گررد لوگوں کاہجوم اور پروانوں کی طرح گرنا ،تڑپ تڑپ کر رونا یہ سب ایسی باتیں تھیں کہ ہم نے اس کا مثل دیکھا ہی نہیں تھا ۔معلوم یہ ہوتا تھا ۔ کہ جیسے حسین ابھی شہید ہوے ہیں ۔ میں نے خطبیبوں کو دیکھا منبروں سے حادثہ کربلا کو نوحہ وزاری کے ساتھ ان طرح بیان کر رہے تھے کہ سننے والا اپنے دل پر قابو رکھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور تھا ۔ اور پھر میں بھی رونے لگا بے تحاشا رونے لگا ۔ عنان صبر ہاتھوں سے چھوٹ گئی انپے نفس کو آزاد کردیا کہ دل بھر کر رولے ۔ اور جب میں چپ ہو تو مجھے ایسی روحانی راحت ملی ہے کہ جس سے میں اس کے قبل تک نا آشنا تھا ۔گویا پہلے میں حسین کے دشمنوں کی صف میں تھا اور اب دفعۃ ان کے ان اصحاب وانصار میں شامل ہوگیا جو اپنی جان فدا کرنے پر تیار تھے ۔ خطیب حر کا قصہ بیان کررہا تھا۔ یہ بھی پہلے ان فوجی سرداروں میں تھے جو حسین (ع) سے جنگ کے لئے آئے تھے لیکن (عاشورکے دن) میدان جنگ میں شاخ نخل کی طرح کانپ رہے تھے اور جب ان کے کسی ساتھی نے پوچھا ۔کیا تم موت سے ڈر رہے ہو؟ تو حر(رح) نے کہا نہیں خدا کی قسم نہیں ۔ بلکہ میں اپنے کو جنت ودوزخ کے بیچ میں پارہا ہوں یہ کہہ کر گھوڑے کر ایز لگائی اور حسین(ع) کی خدمت میں پہونچ کر کہنے لگے ۔فرزند رسول کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟۔۔۔۔اتنا سنتے ہی میں زمین پر گر کر بچھاڑ کھانے لگا گویا میں حر ہوں اور حسین سے کہہ رہا ہوں فرزند رسول(ع) کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ فرزند رسول مجھے معاف کردیجئے ۔خطیب کی آواز بہت اثر انگیز تھی ۔لوگ ڈھاڑھیں مار مار کر رونے لگے ۔ اسی وقت میرا دوست میری چیخ کی آواز سن کر متوجہ ہو ا اور روتاہوا مجھ پر جھک پڑا اور مجھے سینے سے اس طرح چمٹالیا ۔جیسے ماں بچہ کو چمٹا لیتی ہے اور بار بار کہہ رہا تھا یا حسین یا حسین (ع) وہ چند لمحے ایسے تھے جس میں میں حقیقی گریہ کا مطلب میری سمجھ میں آیا ۔ اور میں نے محسوس کیا جیسے میرے آنسوؤں نے میرے قلب اور اندر سےمیرے پورے جسم کو دھودیا ۔

82
اور رسول کی اس حدیث کا مطلب سمجھا! جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو بہت کم ہنستے زیادہ تر روتے !
تمام دن میں دل گرفتہ رہا ۔میرے دوست نے بہت ہی تسلی وتشفی دی بعض مرطبات کھانے کو لا کردئیے مگر سب بیکار ۔میری اشتہاء ختم ہوچکی تھی ۔ میں انے اپنے دوست سے کہا ۔ مقتل حسین کا قصہ مجھ کو سناؤ کیونکہ واقعات کربلا کے بارے میں نہ زیادہ نہ کم مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا صرف اتنا جانتا تھا کہ جب ہمارے بزرگ اس کا ذکر کرتے تھے تو کہتے تھے ۔جن دشمنان اسلام ومنافقین نے سید نا عمر ،سیدنا عثمان کو قتل کیا اور سیدنا علی کو شہید کیا انھیں نے سیدنا (امام ) حسین کو بھی شہید کرڈالا۔اس سے زیادہ ہم کو کچھ بھی نہیں معلوم تھا ۔ بلکہ ہم تو عاشورا کے دن کو ایک اسلامی عید کے عنوان ے مناتے تھے ۔اس دن زکاۃ نکالی جاتی ہے قسم قسم کےکھانے پکائے جاتے ہیں ۔اشتہاء بڑھانے والی غذائیں تیارکی جاتی ہیں ۔ چھوٹے بڑوں کے پاس عیدی مانگنے جاتے ہیں ۔ تاکہ اس عیدی سے کھانے پینے اور کھیلنے کی چیزیں خریدی جاسکیں ۔
یہ صحیح ہے کہ بعض دیہاتوں میں کچھ تقلیدی اور رسمی امور پائے جاتے تھے مثلا وہ (عاشورکو) آگ روشن کرتے تھے ۔اس دن کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔نہ شادی بیاہ کی رسم انجام دیتے تھے ۔ نہ خوشی مناتے تھے ۔ لیکن ہم لوگ اس کو"عادت ورسم" کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے ۔ ہمارے علماء عاشورا کے فضائل میں اس دن رحمتوں وبرکتوں کے بارے میں حدیثیں سنایا کرتے تھے ۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے ۔
یہاں (حرم امام حسین ع) سے ہم لوگ حسین (ع) بھائی (جناب ) عباس کی ضریح کی زیارت کے لئے گئے مجھے تو خیر نہیں معلوم تھا کہ یہ کون ہیں؟ لیکن میرے دوست نے ان کی شجاعت وبہادری کا قصہ سنایا تھا ۔ متعدد وعلماء وافاضل سے بھی ہم نے ملاقات کی مگر مجھے کسی کا نام یاد نہیں ہے ۔ ہاں بعض کے القاب یاد ہیں ۔ جیسے بحرالعلوم السید الحکیم ،کاشف الغطاء ،آل یسین طباطبائی ، فیروز آبادی ،اسد حیدر وغیرہ ۔

83
اور حق یہ ہے کہ یہ بڑے تقوی والے علماء ہیں ۔ ان کے چہرے پر رعب وجلال ہے ۔ شیعہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں ۔اپنے مال کا خمس ا ن کو لاکر دیتے ہیں ۔ اور یہ علماء انھیں رقوم س حوزات علمیہ کی ادارت کرتے ہیں ۔ مدارس بنواتے ہیں ۔ چھاپہ خانے لگواتے ہیں ،ہر اسلامی ملک سے آنے والے طالب علموں کا خرچ اسی سے دیتے ہیں ، یہ لوگ خود مستقل ہوتے ہیں حکام وقت سے دور یا نزدیک کا کوئی رابطہ نہیں رکھتے یہ ہمارے علماء کی طرح نہیں ہیں کہ جو فتوی تو فتوی گفتگو بھی اس حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں کرتے جو ان کوتنخواہ دیتی ہے اور جب چاہتی ہے تقرر کرتی ہے ۔اور جب چاہتی ہے معزول کردیتی ہے ۔
میرے لئے تویہ نئی دنیا تھی جس کا (کولمبس کی طرح) میں نے پتہ لگا یا خدانے میرے لئے انکشاف کردیا تھا ۔ اس دنیا سے نفرت کے بعد میں مانوس ہوچکا تھا ۔ عداوت کے بعد اس سے محبت کرنے لگاتھا ۔ اس دنیا نے مجھے نئے نئے افکار دیئے تھے ۔میرے دل میں اطلاع ۔ بحث ،تلاش ،جستجو کی محبت پیدا کردی تھی ۔تاکہ اپنی گمشدہ حقیقت کو پالوں جس نے میرے خیالات میں اس وقت ہلچل پیدا کردی تھی جب میں نے یہ حدیث پڑھتی تھی کہ بنی اسرائیل اکہتر 71 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور نصاری 72 بہتر میں میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائےگی ۔ایک کے علاوہ سب ہی جہنمی ہوں گے ۔
ادیان متعددہ کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے کو بر حق اور دوسرے کا باطل پر سمجھتا ہے ۔لیکن جب میں اس حدیث کو پڑھتا ہوں تو متحیر ہوجاتا ہوں ۔ میرا تبحر صرف حدیث پر نہیں ہے بلکہ ان مسلمانوں پر بھی ہے جو اس حدیث کو پڑھتے ہیں ، اپنے خطبوں میں تکرار کرتے ہیں ہیں اور بغیر کسی تحلیل کے گزر جاتے ہیں اور مدلول حدیث سے بحث ہی نہیں کرتے جس سے فرقہ "ناجیہ" کا پتہ چل سکے ۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ ہر فرقہ دعوی کرتا ہے کہ صرف وہی "فرقہ ناجیہ " ہے حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا ! وہ لوگ مراد ہیں جو اسی راستہ پر ہوں گے جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں اب آپ ہی بتا ئیے کیا کوئی ایسا فرقہ ہے جو کتاب وسنت سے متمسک ہو؟

84
یا کوئی ایسا اسلامی فرقہ ہے جو اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مدعی ہو؟ اگر امام مالک یا ابو حنیفہ یا امام شافعی یا احمد بن حنبل سے پوچھا جائے تو کیا ان میں سے کوئی قرآن صحیحہ سے تمسک کے علاوہ کچھ اور کہہ سکتا ہے ۔؟
یہ تو سنیوں کے فرقے ہیں اب انھیں کے ساتھ اگر شیعہ فرقوں کو ۔۔۔۔جن کو میں ہمیشہ فاسد العقیدہ اور منحرف سمجھا کرتا تھا ۔ ۔۔۔ بھی شامل کرلیا جائے تو یہ حضرات بھی مدعی ہیں کہ ہم بھی قرآن اور سنت صحیحہ سے متمسک ہیں جو اہل بیت طاہرین سے منقول ہے ۔ اور ان کا کہنا ہے گھر والے گھر کی بات زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔تو ایسی صورت میں کیا یہ سب کے سب حق پر ہوسکتے ہیں ؟ ناممکن ہے کیونکہ حدیث شریف صرف ایک کو حق پر بتاتی ہے ہاں سب ہی کا حق پر ہونا اس وقت ممکن ہے جب حدیث جعلی وجھوٹی مان لی جائے ۔اور یہ اس لئے ناممکن ہے کہ حدیث سنی وشیعہ دونوں کے یہاں متواتر ہے ۔یا یہ مان لیا جائے کہ حدیث کا نہ کوئی مدلول ہے نہ کوئی مطلب ؟ لیکن استغفراللہ جو رسول اپنی طرف سے کچھ کہتاہی نہ ہو ۔ جس کی تمام حدیثیں حکمت وعبرت ہوں وہ کوئی ایسی بات کیونکر کہہ سکتا ہے جس کے مدلول ومعنی ہی نہ ہوں ۔۔۔۔ اس لئے ہمارے سامنے اس بات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم یہ تسلیم کرلیں کہ صرف ایک ہی فرقہ جتنی ہے ۔اور حق پر ہے باقی سب باطل پر ہیں ۔یہ حدیث جس طرح حیرت میں ڈال دیتی ہے اسی طرح نجات چاہنے والے کو تلاش حق پر مجبور کردیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شیعوں سے ملاقات کے بعد میرے اوپر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور اندرونی طور سے میں مذبذب ہوگیا ۔ہوسکتا ہے انھیں کی بات حق ہو ممکن ہے کہ یہی سچ کہتے ہوں ۔؟ لہذا میں خود ہی کیوں نہ تحقیق کرڈالوں تاکہ دودھ کا دودھ پانی پانی جدا ہوجائے ۔اور خود اسلام نے اپنے قرآن وسنت کے ذریعہ حکم دیا ہے کہ بحث وفحص ،تفتیش وتحقیق سے کام لیا جائے ۔قرآن کا ارشاد ہے ۔"والذین جاھدوا فینا لنھدینم سبلنا " (پ 21 س 29 (عنکبوت) آیت آخری) اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا انھیں ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کریں گے۔۔۔۔۔۔ دوسری جگہ ارشاد ہے : الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھداھم اللہ

85
والئک ھم اولوالالباب (پ 23 س 39 (الزمر ) آیت 18)۔
ترجمہ:- جو لوگ بات کو جی لگا کر سنتے ہیں اور پھر ان میں سے اچھی بات پر عمل کرتے ہیں یہی لوگ وہ ہیں ۔جن کی خدا نے ہدایت کی اور یہی عقلمند ہیں ۔۔۔۔ خود رسول اکرم (ص) نے فرماایا :-" اپنے دین کے بارےمیں اس طرح بحث کر کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگیں "۔ لہذا بحث و فحص ہر مکلف پر شرعی واجب ہے ۔
اس عہد وپیمان اور سچے ارادے کے ساتھ عراق کےاپنے شیعہ دوستوں سے رخصت ہوا ان سے معانقہ کرکے رخصت ہوتے ہوئے مجھے بہت افسوس ہورہا تھا ۔کیونکہ میں نے بھی ان سے محبت کی تھی ۔اور انھوں نے بھی دل سے مجھے چاہا تھا ۔ میں ایسے عزیز دوستوں کو چھوڑ رہا تھا جنھوں نے میرے ساتھ خلوص کا برتاؤ کیا میرے لئے اپنے وقت کی قربانی دی کسی اور وجہ سے نہیں "جیسا کہ خود انھوں نے کہا ہم کسی خوف یا لالچ سے ایسا نہیں کررہے ہیں بلکہ صرف رضائے خدا کے لئے! کیونکہ حدیث میں ہے : اگر خدا تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کردے تو وہ پوری دنیا سے بہتر ہے ۔"
شیعوں کے وطن اور ان کے ائمہ کے عتبات عالیات کے شہر عراق سے بیس دن قیام کرکے وداع ہورہا تھا ۔ اور یہ بیس دن اس طرح گزرگئے جیسے کوئی لذیذ خواب دیکھنے والے کی تمنا ہوکہ خواب پورا کئے بغیر بیدار نہ ہو ۔ عراق کو مختصر سی مدت کے بعد چھوڑا جس پر افسوس رہا ۔ عراق میں ان قلوب کو چھوڑا جو محبت اہل بیت پر دھڑکتے ہیں ۔اور وہاں سے بیت اللہ الحرام وقبر سیدالاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ الطیبن والطاہرین کی زیارت کے ارادہ سے حجاز کے لئے روانہ ہوگیا ۔