پھر میں ہدایت پاگیا
 

55

نحف کا سفر
ایک رات میرے دوست نے مجھے بتایا کال انشااللہ نجف چلیں گے ۔میں نے پوچھا نجف کیا ہے ؟ اس نے کہا وہاں حوزہ علمیہ ہے اور امام علی ابن ابیطالب کا مرقد (مطہر ) ہے مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا کہ حضرت علی کی قبر مشہور کیسے ہوئے ؟ کیونکہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ سیدنا علی کی قبر معروف کا کہیں وجود نہیں ہے ۔
ہم لوگ ایک عمومی گاڑی پر سوار ہو کر کوفہ پہونچے وہاں ہم اتر گئے ۔مسجد کوفہ جو ایک اسلامی آثار قدیمہ میں سے ہے اس کی زیات کی ۔میرا دوست تاریخی چیزوں کو دکھاتا رہا ہے ۔مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی زیارت کرائی ۔اورمختصرا ان کی شہادت کا ذکر کیا ۔اور مجھے اس محراب میں بھی لے کیا جس میں حضرت علی (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہم نے امام علی (علیہ السلام) کا وہ مکان بھی دیکھا ۔جس میں آپ اپنے دونوں بیٹوں سیدنا حسن وسیدنا حسین (علیھما السلام) کےساتھ رہا کرتے تھے ۔ اس مکان میں ایک کنواں بھی ہے جس کے پانی سے یہ لوگ وضو بھی کرتے تھے اور اسی کے پانی کو پیتے تھے ۔ میں نے وہاں ایسی روحانیت محسوس کی کہ اتنی دیر کے لئے دنیا ومافیھا کو فراموش کربیٹھا ۔اور میں امام علی (علیہ السلام) کے زہد میں ڈو ب گیا کہ آپ امیرالمومنین اور چوتھے خلیفہ راشد ہو کر بھی ایسی معمولی زندگی بسر کرتے تھے ۔
یہ بات لائق توجہ ہے ہ وہاں کے لوگ بڑے بامروت ومتواضع ہیں ۔ہم لوگ جدھر سے گزر جاتے تھے لوگ احتراما کھڑے ہوجاتے تھے ۔ اور ہم کو سلام کرتے تھے میرا دوست ان میں اکثر کو پہچانتا بھی تھا ۔ معہد کوفہ کے مدیر نے ہماری دعوت کی وہاں ہماری ملاقات اس

56
کے بچوں سے ہوئی اور وہ رات اسی کے پاس ہم لوگوں نے بڑی راحت وارام سے بسر کی مجھے تویہ محسوس ہورہا تھا۔ جیسے اپنے قبیلہ وخاندان میں ہوں ۔ وہ لوگ اہل سنت والجماعت کا ذکر کرتے تو کہتے :ہمارے سنی بھائی ! ہم ان کی گفتگو سے جب مانوس ہوگئے تو ہم نے بطور امتحان بعض سوالات بھی کئے کہ دیکھیں یہ لوگ کہاں تک سچے ہیں ؟
اس کے بعد ہم نجف کے لئے روانہ ہوگئے جو کوفہ سے دس کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے وہاں پہونچتے ہی مجھے بغداد کی مسجد الکاظمیہ کی یاد تازہ ہوگئی کہ سنہری منارے جن کے بیچ میں خالص سونے کا گنبد تھا ۔شیعہ زائرین کی حسب عادت ہم نے بھی اذن دخول پڑھ کر حرم امام علی میں قدم رکھا ۔یہاں مجھے (حضرت امام)موسی الکاظم کی مسجد جامع سے زیادہ تعجب خیز چیزیں دکھائی دی ۔ اپنی عادت کے مطابق میں نے فاتحہ پڑھی لیکن یہ شک بہر حال رہا ۔ کہ آیا اس قبر میں الامام علی (ع) کا جسم ہے ؟ میں نے اپنے کو قانع کرنا چاہا ۔لیکن کہاں کوفہ کا وہ سادہ سا مکان جس میں امام رہتے تھے اور کہاں یہ ! میں نے اپنے دل میں کہا حاشا وکلا جب کہ پوری دنیا کے مسلمان فاقوں سے مررہے ہوں تو کیا علی (ع) اس سونے چاندی پر راضی ہوسکتے ہیں ؟ خصوصا جب کہ راستہ میں فقرا ہاتھ پھیلائے گزرنے والوں سے بھیک مانگ رہے تھے ۔میری زبان حال کہہ رہی تھی ۔ اے شیعو! تم غلطی پر ہو کم از کم اس غلطی کا تو اعتراف کر ہی لو رسول اکرم نے حضرت علی کو تمام قبروں کو برابر کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔پھر آخر یہ سونے وچاندی سے لدی ہوئی قبریں ! اگر یہ شرک باللہ نہ بھی ہوں تو کم ازکم ایسی فاش غلطی ضرور ہے جس کو اسلام معاف نہیں کرسکتا ۔
میرے دوست نے ایک خشک مٹی کر ٹکڑے (سجدہ گا ہ) کی طرف ہاتھ بڑھا تے ہوئے مجھ سے پوچھا کیا تم بھی نماز پڑھناچاہتے ہو؟ میں نے تیزی سے جواب دیا۔ہم لوگ قبور کے ارد گرد نماز نہیں پڑھا کرتے دوست نے کہا اچھا تو پھر اتنی دیر انتظار کرو کہ میں دورکعت نماز پڑھ کر آجاؤں ۔اس کے انتظار میں ضریح پر جوچیزیں ٹنگی ہوئی تھیں ان کو پڑھنے لگا اور سنہری جالیوں کے بیچ س اندر کی چیزوں کو دیکھنے لگا ۔ جس کے اندر دنیا کے سکوں کے ڈھیر پڑھے ہوئے تھے

57
درہم ،ریال ،دینا ر لیرہ سب ہی کچھ یہ وہ تدرائے تھے ۔جو زائرین ضریح کے اندر ڈال دیا کرتے تھے تاکہ روضہ کے متعلق جو امور خیر انجام دئیے جائیں ۔ ان میں یہ بھی شریک ہوجائیں ۔وہ سکے اتنے زیادہ تھے کہ میرا خیال ہے مہینوں میں جمع ہوئے ہونگے لیکن میرے دوست نے مجھے بتایا کہ ذمہ دار حضرات روزانہ نماز عشاء کے بعدان سکوں کو نکال لیتے ہیں یہ صرف ایک دن میں ڈالے گئے سکے ہیں ۔
میں اپنے دوست کے پیچھے پیچھے مدہوش ہوکر نکلا گویا میری تمنا یہ رہی ہو کہ کاش اس میں تھوڑا سا مجھے بھی مل جاتا ۔ یا فقراء ومساکین پر تقسیم کردیا جاتا ۔ کیونکہ فقراء ومساکین کی تعداد بھی الی ماشااللہ تھی ۔روضہ کے چاروں طرف جو دیوار کھینچی ہوئی ہے ۔ روضہ سے نکل کر میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ کہیں پر نمازجماعت ہورہی تھی ۔ اور ایک دو نہیں کئی کئی اور کہیں پر کوئی خطیب تقریر کررہا تھا اور لوگ بیٹھے سن رہے تھے خطیب بڑے اونچے منبر پر تھا ۔ اتنے میں کچھ لوگوں کے رونے کی آوازیں بھی آنے لگیں ۔ کچھ سسک سسک کر رورہے تھے کچھ زورزور سے اور اپنے سینہ پر ہاتھ ماررہے تھے ۔میں نے چاہا کہ اپنے دوست سے پوچھوں کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ رو رہے ہیں ۔ اور سروسینہ کوٹ رہے ہیں کہ اتنے میں ہمارے قریب ایک جنازہ گزرا بعض لوگوں کو دیکھا و صحن سے پتھرا اکھاڑ رہے ہیں اور اس میں میت کو رکھ رہے ہیں ۔ اس وقت میرا خیان یہ ہوا کہ اس عزیز میت پر یہ لوگ رورہے ہونگے

58

علماء سےملاقات
میرا دوست حرم کے ایک گوشہ میں بنی ہوئی ایک ایسی مسجد میں لے گیا ۔جہاں پوری مسجد میں سجادہ بچھا ہوا تھا اور اس کے محراب مین بہت ہی جلی اورعمدہ خط سے قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں ۔ میری نظر ان چند بچوں پر جاکر جم گئی جو عمامہ لگائے محراب کے قریب مشغول مباحثہ تھے ، اور ہر ایک کے ہاتھ میں کتاب تھی ۔اس بہترین منظر کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوا ۔ میں نے ابھی تک ایسے شیوخ نہیں دیکھے تھے جن کی عمریں تیرہ 13 سال سے لیکر سولہ 16 تک تھیں ۔ اس لباس نے ان کے جمال وخوبصورتی میں چار چاند لگادیئے تھے ۔ بس یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ چاند کے ٹکڑے ہیں ۔ میرے دوست نے ان سے " السید" کے بارے میں پوچھا ۔انھوں نے بتایا وہ نماز جماعت پڑھانے گئے ہیں ۔ میں نہیں سمجھا کہ جس "السید کے بارے میں میرے دوست نے پوچھا ہے وہ کون ہے؟ البتہ اتنا ضرور سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی عالم دین ہیں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس سے مراد "السید الخوئی" ہیں جو فی الحال زعیم الحوزۃ العلمیہ " ہیں ۔ شیعوں کے یہاں السید " صرف انھیں کو کہا جاتا ہے ۔جو خاندان رسالت سے ہوں اور السید خواہ عالم ہو یا طالب علم سیاہ عمامہ باندھتا ہے جب کہ دوسرے علماء سفید عمامہ باندھتے ہیں اورالشیخ سے مخاطب کئے جاتے ہیں ۔ وہاں کچھ اور اشراف لوگ ہیں جو عالم تو نہیں ہیں ۔ مگر شریف ہیں وہ لوگ سبز عمامہ باندھتے ہیں ۔
میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ ۔آپ یہاں تشریف رکھئے میں ذرا سید سے ملاقات کرلوں ان طلاب نے مجھے مرحبا کہا اور تقریبا نصف دائرہ کی صورت میں بیٹھ گئے ۔ اور میں ان کے چہروں کو دیکھ رہا تھا ۔ اور یہ محسوس کررہا تھا کہ یہ گناہوں سے پاک ہیں ان کی سریت اور ان کا طبع بہت شفاف ہے ۔اتنے میں میرے ذہن میں رسول اکرم کی

59
حدیث یادآگئی ۔ ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔لیکن اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنادیتے ہیں یا عیسائی بنادیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔ میں نے اپنے دل میں کہا" یا اس کو شیعہ بنادیتے ہیں ۔
ان طلاب نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنےو الے ہیں ۔؟ میں نے کہا ٹیونس کا ! انھوں نے پو چھا کیا آپ کے یہاں بھی حوزات علمیہ ہیں ؟ عرض کیا یونیورسٹیاں اور مدارس ہیں ۔ اس کے بعد تو چاروں طرف سے سوالات کی بوچھار ہونے لگی ۔ اور ہر سوال مرکزی اور مشکل تھا ۔ یمں ان بے چاروں کو کیا بتاتا جن کا عقیدہ یہ ہے کے پورے عالم اسلام میں حوزات علمیہ ہیں ۔ جن میں فقہ واصو الدین والشریعہ اور تفسیر پڑھائی جاتی ہے ۔ان کو یہ نہیں معلوم کہ عالم اسلام میں او رہمارے ملکوں میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مدارس قرآنیہ کے بدلے بچوں کے لئے باغیچے بنوادئیے گئے ہیں جن کی نگرانی نصرانی راہبات کے سپرد ہے اب کیا می ان سے کہہ دیتا کہ آپ لوگ ہمارے بہ نسبت بہت پسماندہ ہیں ؟
ایک نے انھیں میں سے پوچھا ٹیونس میں کون سا مذہب رائج ہے ؟ میں نے کہا مالکی ! میں نے دیکھا کہ بعض ہنسنے لگے ۔ لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں کی ان میں نے ایک نے کہا: آپ لوگ مذہب جعفری کو بھی جانتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں یہ کون سانیا نام ہے ؟ نہیں ہم لوگ مذاہب اربعہ ۔۔۔حنفی ،مالکی، شافعی ، حنبلی ۔۔۔۔۔ کے علاوہ کسی اور مذہب کو نہیں جانتے اور جو مذہب ان چاروں کے علاوہ ہوگا وہ یقینا غیراسلامی ہوگا ۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا: معاف کیجئے گا مدہب جعفری ہی خالص اسلام ہے ۔کیا آپ نہیں جانتے ابو حنیفہ امام جعفر صادق کے شاگرد تھے ؟ اور اسی سلسلے میں ابو حنیفہ نے کہا " لولا السنتان لھلک النعمان" اگر دوسال (جو امام جعفر صادق کی شاگردی میں گزارے )نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا ۔ میں یہ سن کر خاموش ہوگیا ۔اور کوئی جواب نہیں دیا ۔

60
ان لوگوں نے ایسی بات کہہ دی جس کو میں آج سے پہلے سنا ہی نہ تھا لیکن میں نے خدا کی حمد کی کہ ان کے امام ۔۔۔۔جعفر صادق ۔۔۔امام مالک کے استاد نہیں تھے ۔لہذا میں نے کہا ہم لوگ مالکی ہیں ۔ حنفی نہیں ہیں ۔ اس جوان نے کہا چاروں مذاہب والے بعض نے بعض سے تعلیم حاصل کی ہے ۔احمد بن حنبل امام شافعی سے تحصیل کیا ہے اور امام شافعی نے امام مالک سے ،امام مالک نے امام ابو حنیفہ سے اور امام ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق سے سب کچھ اخذ کیا ہے ! اسی طرح سب کے سب جعفربن محمد کے شاگرد ہیں ۔ امام جعفر صادق پہلے آدمی ہیں ۔ جنھوں نے اپنے جد کی مسجد (مسجد النبی ) میں جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) کی بنیاد ڈالی اور چار ہزار سے زیادہ محدث وفقیہ نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔مجھے اس بچے کے حافظہ پر بہت تعجب ہوا ۔یہ جو باتیں کہہ رہا تھا ۔اس طرح کہہ رہاتھا ۔جیسے ہم لوگ قرآن کے سوروں کو یاد کرکے فرفرسناتے ہیں اور اس وقت تومیری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بعض تاریخی مصادر کے حوالوں کو جلدوں ابواب وفصول کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیا ۔اس نے اس طرح میرے ساتھ گفتگو شروع کردی جیسے کوئی استاد اپنے طالب علم سے کرتا ہے ۔ میں نے اس کے سامنے اپنی کمزوری کا اچھی طر ح احساس کرلیا تھا ۔ اور اس وقت میری تمنا کہ کاش اپنے دوست کے ساتھ میں بھی چلا گیا ہوتا ۔ ان بچوں میں نہ پھنسا ہوتا ان میں سے جس نے بھی فقہ یا تاریخ کے بارے میں جو سوال پوچھا وہ ایسا ہی تھا کہ میں جواب نہیں دے سکا ۔ایک نے پوچھا آئمہ میں سے کس کی تقلید کرتے ہیں؟ میں نے کہا امام مالک کی ! اس نے کہا :آ پ اس میت کی تقلید کیونکر کرتے ہیں جس میں اور آپ میں چودہ صدی کا فاصلہ ہے؟ اگر آپ ان سے اس وقت کے جدید مسائل کےبارے میں پوچھیں تو کیا جواب دے سکیں گے ؟ میں نے تھوڑی دیر سوچا اس کے بعد کہا تمہارے امام جعفر صادق کو مرے ہوئے بھی چودہ سال گزر چکے ہیں آپ لوگ کس کی تقلید کرتے ہیں ؟ تمام بچوں نے فورا جواب دیا : ہم لوگ السید الخوئی کی تقلید کرتے ہیں ۔ وہی اس وقت ہمارے

61
قائد اور مرجع ہیں ! میں یہ نہ سمجھ پایا کہ الخوئی اعلم ہیں یا (امام) جعفر الصادق (ع)؟
مختصر یہ کہ میں ان بچوں کے ساتھ موضوع بدلنے کی فکر میں تھا ۔ میں ان سے ایسا سوال کرناچاہتا تھا جس سے وہ میرا مسئلہ بھول جائیں ۔ چنانچہ میں نے ان سے نجف کی آبادی کے بارے میں پوچھا اوریہ پوچھا کہ نجف وبغداد میں کتنا فاصلہ ہے؟ کیاآپ لوگوں نے عراق کے علاوہ کوئی اور ملک بھی دیکھا ہے؟ وہ جیسے جواب دیتے تھے میں فورا دوسرا سوال کردیتا تھا میرا مقصد ان کو الجھائے رکھنا تھا تاکہ یہ مجھ سے سوالات نہ کرسکیں ۔کیونکہ میں نے احساس کرلیا تھا ۔کہ میں ان بچوں کے مقابلہ میں کمزور ہوں لیکن ان کے سامنے تو اعتراف کرنہیں سکتا تھا اگر چہ دل میں معترف تھا کیونکہ وہ عزت وبزرگی وعلم جو مصر میں مجھے حاصل ہوا تھا ۔وہ بخاربن کر یہاں اڑگیا ۔خصوصا ان بچوں سے ملنے کے بعد کہنے والے کی اس حکمت کو پہچان گیا جس نے کہا ہے

فقل لمن یدعی فی العلم فلسفۃ
عرفت شیئا وغابت عنک اشیاء

ترجمہ :-اس شخص سے کہہ دو جو علم میں فلسفہ بگھارتا ہو کہ تم نے ایک ہی چیز کو پہچانا ہے اور بہت سی چیزیں تم سے غائب ہوگئیں ہیں " اور میں نے یہ طے کرلیا ان بچوں کو عقل ازہر کے ان بوڑھوں سے زیادہ ہے جن سے میرا مقابلہ ہوا تھا ۔ اور ان بزرگوں سے بھی زیادہ ہے جن کی معرفت مجھےٹیونس میں حاصل ہوئی تھی۔
اتنے السید الخوئی تشریف لائے اور ان کے ساتھ علماء کی ایک جماعت تھی جن کے چہرے سے ہیبت وقار ظاہر ہورہا تھا ۔ سارے طلاب تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے انھیں کے ساتھ میں بھی کھڑا ہوگیا ۔اور سب آگے بڑھ بڑھ کر السید الخوئی کا ہا تھ چومنے لگے لیکن میں اپنی جگہ پر میخ کی طرح قائم رہا ۔ سید کے بیٹھتے ہی سب بیٹھ گئے ۔ سید خوئی نے ہر ایک کو مخاطب کرکے مساکم اللہ بالخیر کہنا شروع کردیا ۔جس سے وہ کہتے تھے وہ بھی جواب

62
میں یہی کہتا تھا ۔ یہا تک کہ میرا نمبر آیا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا ۔اس کےبعد میرے دو ست نے سید خوئی سے آہستہ آہستہ میری طرف اشارہ کرکے کہا ۔ اور مجھ سے کہا آپ سید کے قریب آجائے ۔ سید نے مجھے اپنے داہنی طرف بٹھایا ۔سلام ودعا کے بعد میرے دوست نے مجھ سے کہا ۔ سید سے بتاؤ کہ ٹیونس میں تم شیعوں کے بارے میں کیا سنتے رہے ہو ؟ میں نے کہا برادر جو قصے کہانیاں وہاں سنتے رہے ہیں ۔ وہی ہمارے لئے کافی ہیں میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ شیعہ کیا کہتے ہیں ؟ میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ جوابات بالکل صریح ہوں لیکن میرے دوست نے اصرار کرنا شروع کردیا کہ پہلے آپ سید کوبتا ئیے کہ آپ کا عقیدہ شیعوں کےبارے میں کیا ہے ؟
میں :-"ہمارے نزدیک شیعہ اسلام کے لئے یہودو نصاری سے زیادہ سخت نقصان دہ ہیں ۔ کیونکہ یہود ونصاری خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ جناب موسی کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن شیعہ ( جیسا کہ ان کےبارے میں سنا جاتا ہے) علی کی عبادت کرتے ہیں اور انھیں کی تقدیس بیان کرتے ہیں ۔ ہاں شیعوں میں ایک فرقہ جو خدا کی عباد کرتا ہے لیکن وہ بھی حضرت علی کو حضرت رسول کی جگہ جانتے ہیں ۔ پھر میں نے جبرئیل کا قصہ بتایا کہ شیعوں کی بنا پر انھوں نے کتنی بڑی خیانت کی کہ رسالت علی تک پہونچانے کے بجائے محمد کی پہونچا گئے ۔ سید خوئی نے تھوڑی دیر سرجھکا یا اور دیکھتے ہوئے کہا ہو گواہی دیتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ص) اللہ کے رسو ل ہیں ۔ خدا ان پر اور ان کے پا ک پاکیزہ آل پر رحمت نازل کرے اور (حضرت) علی اللہ کے ایک بندے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اورمیری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے ۔دیکھو غلط پروپیگنڈے کس طرح لوگوں کو غلط راستہ پر ڈال دیتے ہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے میں نے دوسروں سے اس سے بھی زیادہ سنا ہے ۔ " لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے فرمایا

63
سید : کیا آپ نے قرآن پڑھا ہے ؟
میں :- دس سال کی عمر میں آدھا قرآن حفظ کرلیا تھا ۔
سید :- کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلامی فرقے اپنے مذہبی اختلاف کے باوجود کریم پر متفق ہیں ؟ جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے ۔ وہی قرآن آپ حضرات کے پاس بھی موجود ہے ۔
میں :- جی ہاں ! اس بات کوجانتا ہوں ۔
سید :- پھر کیا آپ نے خداوندعالم کایہ قول نہیں پڑھا "وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل " (پ 4 س 3 (آل عمران) آیت 144) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تو صرف رسول ہیں (خدا نہیں ہیں ) ان سے پہلے اور بھی بہتر ے پیغمبر گزرچکے ہیں ۔۔۔ اسی طرح خدا کا یہ قول " محمد رسو ل اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار (پ 26 س 48 (فتح) آیت 29) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)خد کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں اسی طرح خدا کای قول : ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (پ 22 س 23(احزاب) آیت 40) ۔(لوگو) محمد تمہارے مردوں میں سے (حقیقتا )کسی کے باپ نہیں ہیں ۔ بلکہ اللہ کے رسول اورآخری نبی ہیں ۔
میں :- جی ہاں ! میں ان آیات کو بخوبی جانتا ہوں ۔
سید:- پھر اس میں علی کو نبوت کا کہاں ذکر ہے ؟جب ہمارا قرآن محمد کو رسول اللہ کہتا ہے توہمارے اوپر یہ الزام کہاں سے لگا دیاگیا ؟ میں خاموش ہوگیا ۔میرے پاس کوئی جواب بھی نہیں تھا ۔سید نے پھر کہنا شروع کیا رہی جبریئل کی خیانت والی بات تو حاشا للہ (واستغفراللہ) یہ تو پہلے الزام سے بھی بد تر ہے ۔کیونکہ خدا نے جب جبرئیل کو آنحضرت کے پاس بھیجا ہے تو محمد کی عمر چالیس سال تھی اورعلی کا بچپنا تھا۔حضرت علی کی عمر چھ سال رہی ہوگی ۔ پس کیا جبرئیل بوڑھے اور بچے میں فرق نہیں کرسکتے تھے ؟
سید خوئی کی اس منطقی دلیل پر میں کافی دیرخاموش رہا ۔اور ان کی دلیلوں کےبارے میں

64
سرجھکائے ہوئے غور کرتارہا اور اس گفتگو کی چاشنی محسوس کرتارہا ۔جو میرے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی تھی ۔ اور جس نے میری آنکھوں سے پردہ اٹھادیا تھا می اپنے دل میں کہہ رہا تھا اس منطق کو کون نہ مانے گا ؟
سید :- سید نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا میں آپ کوبتا نا چاہتا ہوں ۔ تمام اسلامی فرقوں میں صرف اور صرف ایک فرقہ شیعہ ہے جو انبیاء اور ائمہ کی عصمت کا قائل ہے ۔ جب ہمارے آئمہ جو ہماری طرح کے بشر ہیں ۔وہ معصوم ہیں تو پھر جبرئیل جو ملک مقرب اورخدا نے ان کو روح الامین کہا ہے بھلا وہ کیسے خطا کار ہوسکتے ہیں ؟
میں :- پھر ان پروپگنڈوں کا مدرک کیا ہے ؟
سید :- جو اسلام دشمن عناصر ہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کرناچاہتے ہیں ایک کو دوسرے سےلڑانا چاہتے ہیں یہ انھیں لوگوں کی کارستانیاں ہیں ۔ ورنہ مسلمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں خواہ سنی ہوں یا شیعہ کیونکہ سب ہی ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں کوئی مشرک نہیں ہے سب کا قرآن ایک ہے نبی ایک ہے قبلہ ایک ہے ۔شیعہ وسنی میں صرف فقہی اختلافات ہیں جیسے خود اہل سنت میں ہیں کہ مالک ابو حنیفہ کے مخالف ہیں اور وہ شافعی کے و ھکذا ۔
میں :- اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کےبارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ محض افتراء ہیں ۔
سید:- آپ الحمداللہ عقلمند ہیں ۔تجربہ کار ہیں ۔ شیعہ شہروں کو دیکھا ہے ۔متوسط طبقوں میں گھومے بھی ہیں ۔ کیا آپ نے اس قسم کے خرافات اپنی آنکھوں سے دیکھی یا کسی شیعہ سے سنی ہیں ؟
میں :- جی نہیں ! نہ میں نے دیکھا ہے نہ سنا ہے میں خدا کی حمد کرتا ہوں کہ اس نے شپ میں استاد منعم سے میری ملاقات کرادی یہی میرے عراق آنے کا سبب بنے ہیں ۔ اور یہاں میں نے بہت سی چیزوں کو پہچانا ہے جن کومیں جانتا بھی نہیں تھا ۔

65
یہ سن کر میرا دوست منعم زور سے ہنسا وار بولا انھیں چیزوں میں سے حضرت علی کی قبر کا وجود بھی ہے ۔ میں نے اشارہ سے روکا اور کہنے لگا ۔میں نے یہاں آکر بہت کچھ سیکھا ۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان بچوں سے بھی سیکھا اورمیری تمنا ہے کا ش مجھے مہلت ملتی کہ اس طرح کے حوزہ علمیہ میں میں بھی تعلیم حاصل کرتا ۔
سید :- اھلاوسہلا ! اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حوزہ آپ کی ذمہ داری لیتا ہے اور میں آپ کا خادم ہوں ۔اس پیش کش کو تمام حاضرین نے پسند کیا ۔خصوصا میرے دوست منعم کا چہرہ تو خوشی کے مارے دمک رہا تھا ۔
میں :- لیکن میں شادی شدہ ہوں بیوی کے علاوہ ودوبچے بھی ہیں ۔
سید :- میں آپ کے تمام لوزمات کا متکفل ہوتاہوں گھر ،تنخواہ اور جس کی بھی ضرورت ہو ۔اہم چیز یہ ہے کہ آپ تعلیم حاصل کریں ۔ میں نے تھوڑی دیرغور کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا یہ بات غیر معقول ہے کہ پانچ سال مدرس رہ کر میں پھر طالب علم بنوں اور اتنی جلدی میں فیصلہ کرنا بھی آسان نہیں ہے ۔
میں نے سید خوئی کی اس پیشکش پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔اور عرض کیا کہ عمرہ سے واپسی کے بعد اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کروں گا ۔ ۔سردست تومجھے کتابوں کی شدید ضرورت ہے اس پر سید خوئی نے حکم دیا ان کو کتابیں دے دی جائیں اس حکم پر کچھ علماء اٹھے اور کچھ الماریوں کو کھولا اور پلک جھپکتے ہی میرے سامنے کتابوں کا انبار تھا ۔کچھ نہیں تو ساٹھ ستر دورے رہے ہوں گے ۔ ہر شخص ایک دورہ لے آیا اور سید خوئی نے فرمایا ۔یہ میری طرف سے ہدیہ ہے ! میں نے دیکھاکہ اتنی زیادہ کتابوں کا ہمراہ لے جانا بہت ہی مشکل ہے خصوصا جب کہ میں سعودیہ جارہا ہوں ۔اور سعودی حضرات کیس قسم کی کتاب اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتے کہ کہیں ان کے عقائد کے خلاف باتیں لوگوں تک پہونچ جائیں ۔ لیکن میں نے ان کتابوں کے بارےمیں تفریط سے کام لینا چاہا" میں نے تو اپنی زندگی میں ایسی کتابیں نہیں دیکھی تھیں "

66
لہذا میں نے دوست منعم اور حاضرین سے کہا میرا راستہ کافی طویل ہے ۔دمشق واردن سے ہوتے ہوئے سعودیہ جانا ہے واپسی میں لمبا سفر ہے میں مصر ولیبیا ہوتا ہوا ٹیونس پہونچوں گا وزن کی زیاد تی کے علاوہ اکثر حکومتیں اپنے ملک میں کتابیں داخل ہونے دیتیں ۔ اس پر سید خوئی نے کہا : آپ اپنا ایڈریس ہم کو دیتے جائیے ہم آپ کے پتہ پر بھیجوا دیں گے ۔ یہ رائے مجھے بہت پسندآئی ۔چنانچہ میں انے اپنا شخصی کارڈ جس پر ٹیونس کا پتہ تھا ۔ ان کے حوالہ کردیا ۔اور شکریہ ادا کیا ۔جب رخصت ہوکر چلنے کے لئے کھڑا ہوا تو وہ بھی کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں آپ کے لئے سلامتی کی دعاکرتا ہوں ۔ آپ جب میرے جد کی قبر پر پہونچیں تو میرا سلام کہہ دیں ۔ اس جملہ سے تمام حاضرین متاثر ہوگئے اور میں بھی بہت متاثر ہوا ۔میں نے دیکھا ان کی آنکھیں ڈبڈبا آئی ہیں یہ دیکھ کر میں نے کہا ناممکن ہے کہ یہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ناممکن ہے کہ یہ جھوٹے ہوں ۔ ان کی ہیبت ، عظمت ،تواضع بتارہی تھی کہ واقعا یہ شریف خاندان سے ہیں ۔ پھر میں بے اختیار ہوکر معانقہ کرنے کے بجائے ان کے ہاتھوں کو چومنے لگا ۔ میرےکھڑے ہوتے ہی سب لوگ کھڑے ہوگئے اور مجھے سلام کرنے لگے ۔وہ بچے جو مجھ سے مجادلہ کررہے تھے ۔ کچھ ان میں سے میرے ساتھ ہوگئے ۔ اور مجھ سے خط وکتابت کے لئے میرا ایڈریس مانگنے لگے جومیں نے دےدیا ۔
سید خوئی کی مجلس میں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے ایک کی دعوت پر ہم کو پھر کوفہ جانا پڑا اور یہ صاحب منعم کے دوست ابو شبر تھے ۔ہم ان کے گھر اترے اور چند مثقف (اپٹوڈیٹ) نوجوانوں کے ساتھ ساری رات ہم لوگوں نے باتوں میں کاٹ دی ۔ ان نوجوانوں میں کچھ سید محمد باقر الصدر کے شاگرد بھی تھے انھوں نے مجھ سے کہا کہ آپ سید صدر سے بھی ملاقات کریں ۔ اور انھوں نے اطمینان دلایا کہ اگلے دن ہم ملاقات کرادیں گے ۔ میرے دوست منعم کو بھی یہ تجویز بہت پسند آئی ۔لیکن ان کو اس کا بہت افسوس تھا کہ کہ کسی ضروری کا م کی وجہ سے جو بغداد میں درپیش ہے وہ ہمارے ساتھ باقرالصدر کے یہاں نہ جاسکیں گے ۔ آخر کار ہم لوگ اس

67
بات پر متفق ہوگئے کہ جب تک منعم بغداد سے واپس نہ آجائیں ہم سب ان کے انتظار میں تین چار دن ابو شبر ہی کے مکان میں قیام کریں ۔چنانچہ منعم نماز صبح کے بعد روانہ ہوگئے ۔ اور ہم لوگ سونے کے لئے چلے گئے ۔
یہ واقعہ ہے کہ جب طلاب کے ساتھ میں رات بھرجاگا تھا ۔ ان سے کافی استفادہ کیا اور مجھے اس پر کافی تعجب ہوا کہ حوزہ میں آخر کتنے مختلف قسم کے علوم فنون پڑھائے جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ طلاب علوم اسلامی مثلا فقہ ، شریعت ، توحید ، کے علاوہ اقتصادیات ، علم الاجتماع ،علم سیاست ،تاریخ ،لغات علوم فلک اور نہ جانے کیا کیا پڑھا کرتے تھے ۔