پھر میں ہدایت پاگیا
 

49

شکوک وسوالات
تین دن تک اپنے دوست کے یہاں مستقل آرام کرتا رہا اریہ ان لوگوں کےبارے سوچتا رہا جن کا میں نے انکشاف کیا تھا گویا یہ لوگ چاند پر رہنے والے تھے (اگر ایسا نہیں تھا تو) ان کے بارے میں لوگوں نے صرف رسواکن اور غلط پروپیگنڈے کیوں کئے تھے ؟ ا ن کی معرفت کے بغیر ان کو کیوں ناپسند کرتارہا ۔اور کیوں ان کی طرف سے کینہ رکھتا تھا؟ شایدان سب پروپیگنڈوں کا نتیجہ ہو ۔جو مسلسل ان کے خلاف کئے جاتے تھے کہ یہ لوگ علی کی پرستش کرتے ہیں ۔ اور اپنے ائمہ کو خدا کا مرتبہ دتے ہیں اور کہتے ہیں خدا ان کے اماموں میں حلول کئے ہوئے ہے یہ لوگ خدا کے بجائے پتھر (سجدہ گاہ) کو سجدہ کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قبر رسول پر صرف اس لئے آتے ہیں ۔ ۔۔۔جیسا کہ میرے باپ حج کی واپسی پر بیان کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔کہ قبر مطہر پر غلاظت وگندگی ڈالیں اسی لئے سعودیوں نے گرفتار کرکے ان کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ۔۔۔اوریہ لوگ ۔۔۔اور یہ لوگ ۔۔۔جو جی چاہے ان کے بارے میں کہے کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔
ذرا سوچیے مسلمان ان چیزوں کو سن کر شیعوں سے کیسے کینہ نہ رکھے گا ۔ اور ان کو کیوں کر دشمن نہ رکھے گا ۔بلکہ ان سے قتال پر کیوں آمادہ نہ ہوگا ۔
لیکن میں (اپنے ان تجربات کے بعد) کیوں کر ان پروپیگنڈوں کا یقین کرلوں ۔میں نے جو کچھ بھی دیکھا ہے یا سنا ہے یہ آنکھوں دیکھا اور اپنے کانوں سنا ہے ۔اب تو ان کے درمیان رہتے ہوئے ایک ہفتہ سے زیادہ ہوگیا ۔میں نے ان کی ہر بات عقل ومنطق کے مطابق پائی ۔ان کی باتیں عقلوں میں اتر جاتی ہیں ۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ان کی عبادتیں ،نمازیں ،اخلاق علماء کا احترام مجھے اتنا پسند آیا کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش میں بھی ان کی طرح کا ہوجاتا ۔ میں خود اپنے سے پوچھتاہوں کیا یہ لوگ واقعی رسول اکرم

50
کوناپسند کرتے ہیں ؟ میں جب بھی حضور کا نام لیتا ہوں ۔۔۔۔۔اور زیادہ تر ان لوگوں کا امتحان لینے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔۔۔۔۔تو یہ لوگ دل وجان اور پورے خلوص کے ساتھ زور سے کہتے ہیں ۔"اللھم صلی علی محمد وآل محد " پہلے میں یہ بھی سوچتا تھا کہ کہیں یہ لوگ منافقت نہ برتتے ہوں ۔لیکن جب میں نے ان کی کتابوں کو پڑھا توپتہ چلا کہ یہ لوگ شخصیت رسول (ص) کی اس قدر احترام ،تقدس، تزیہ کرے قائل ہیں جس کا عشر عشیر ہماری کتابوں میں نہیں ہے تومیری ساری بد گمانی دور ہوگئی ۔ یہ لوگ تورسول اکرم کو قبل از بعثت بھی اور بعد از بعثت بھی معصوم مانتے ہیں اور ہم اہلسنت والجماعت صرف تبلیغ قرآن کے سلسلہ میں معصوم مانتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کواپنا جیسا خطا کار انسان مانتے ہیں بلکہ ہم تو آنحضرت کو خطاکار اوربعض صحابہ کو خطا سے مبرا سمجھتے ہیں ہمارے پاس اس کی بہت سی مثالیں ہیں حالانکہ شیعہ حضرات کسی بھی قیمت پر رسول کی غلطی اور دوسروں کی تصویب کو تسلیم ہی نہیں کرتے پھر ان تمام باتوں کے باوجود میں کیسے مان لوں کہ شیعہ رسول (ص) کو ناپسند کرتے ہیں ؟
یہ کیسے ممکن ہے ایک دن میں نے اپنے دوست سے درج ذیل گفتگو کی اور اس کو قسم دلادی کہ بالکل صاف صاف بات کرو گفتگو یہ تھی ۔
میں :- " کیا آپ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ وکرم اللہ وجہہ کو نبی مانتے ہیں ؟ کیونکہ آپ لوگوں میں سے جو بھی ان کا تذکرہ کرتا ہے "علیہ السلام "ضرور لگا دیتا ہے "۔
دوست:-" نہیں نہیں ! ہم لوگ جب امیر المومنین یا کسی امام کا تذکرہ کرتے ہیں تو علھم السلام کہتے ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہے کہ وہ حضرات انبیاء ہیں ۔ یہ حضرات ذریت رسول کااور آنحضرت کی عترت ہیں ۔ جن پر خدانے قرآن میں صلواۃ وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔اس لئے ہم لوگ " علیھم الصلاۃ والسلام "بھی کہتے ہیں "۔
میں :- "برادر ہم لوگ صرف رسول اللہ اورآپ سے پہلے والے انبیاء پر صلاۃ وسلام کے قائل ہیں اس میں حضرت علی اور ان کی اولاد رضی اللہ عنھم کا کوئی دخل نہیں ہے "۔

51
میں :-" میں آپ سے خواہش کرتاہوں کہ آپ مزید مطالعہ کیجئے تاکہ حقیقت واضح ہوجائے ۔"
میں :-"میرے دوست میں کون سی کتاب پڑھوں ؟ کیا آپ نے مجھ سے نہیں فرمایا تھا کہ احمد امین کی کتابیں شیعوں پر حجت نہیں ہیں ۔ تو پھر اسی طرح شیعوں کی کتابیں ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ۔ اورنہ ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ کیاآپ نے نہیں کہا تھا ، عیسائیوں کی طرح جو کتابیں معتمد ہیں ۔ان میں حضرت عیسی کا قول تحریر ہے کہ :" میں خدا کا بیٹا ہوں "جب کہ قرآن کہتا ہے ۔۔۔اور قرآن اصدق القائلین ہے ۔۔۔حضرت عیسی کی زبانی نقل کرتے ہوئے : میں نے تو ان سے صرف وہی کہا تھا جس کا تو نے حکم دیا تھا کہ اس خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا (سب ہی کا) رب ہے ۔
دوست :- جی ہاں ! میں نے کہا تھا اور آپ سے بھی جس کا مطالبہ کرتاہوں وہ یہی ہے کہ آپ عقل منطق کو استعمال کریں اورقرآن کریم اور سنت صحیحہ سے استدلال کریں جب گفتگو کسی مسلمان سےہو ۔لیکن اگر گفتگو کسی یہودی یا عیسائی سے ہو تو استدلال قرآن سے نہیں کیا جائے گا ۔
میں :-" میں کس کتاب سے حقیقت کا پتہ لگاؤں کیوں کہ ہر مؤلف ،ہر فرقہ ،ہر مذہب کا دعوی ہے کہ وہی حق پر ہے باقی سب باطل پر ہیں ۔"
دوست:-" میں بہت ہی بدیہی وحسی دلیل پیش کرتا ہوں ، مسلمان اختلاف مذاہب وتشتت فرق کے باوجود اس دلیل پر متفق ہیں مگر آپ نہیں جانتے یہ تعجب ہے ۔آپ دعا کیجئے :ربّ زدنی علما "اچھا یہ بتائیے کیا آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟"
"ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلو اعلیہ وسلموا تسلیما (پ 22 س 33 (احزاب) آیت 56)
اسمیں شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر (اور ان کی آل ) پر دوردو بھیجتے ہیں ۔ تو اے ایماندارو! تم بھی درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو :۔۔۔۔۔۔ کی تفسیر پڑھی ہے ؟

52
شیعہ وسنی تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اصحاب کرام رسول اللہ کے پاس آکر بولے : ہم کو معلوم ہوگیا کہ آپ پر کیوں سلام بھیجیں ؟ لیکن یہ نہیں معلوم کیونکر درود بھیجیں تو آنحضرت نے فرمایا اس طرح کہو:
"اللھم صل علی محمد وآل محمد کمام صلیت علی ابراہیم وآل ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید "
اور دیکھ میرے اوپر کھبی دم بریرہ درود نہ بھیجنا ! اصحاب نے پوچھا سرکار یہ دم کٹی درود کیا ہے ؟ فرمایا :اللھم صلی علی محمد " کہہ کر چپ ہوجانا (سنو) خدا کامل ہے کامل ہی کو قبول کرتا ہے ان تمام اسباب کی وجہ سے صحابہ اور تابعین سب نے رسول خدا کے حکم کو پہچان لیا اور وہ سب مکمل درود بھیجا کرتے تھے اسی لئے امام شافعی نے اہل بیت کے لئے فرمایا ہے
یا آل بیت رسول اللہ حبکم + فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
کفاکم من عظیم القدر انکم+ من لم یصل علیکم لا صلاۃ لہ
اے اہل بیت رسول تمہاری محبت تواس قرآن میں واجب کی گئی ہے جس کو خدا نے نازل فرمایا ہے ۔تمہاری جلالت قدر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ جو تم پر (نماز میں )درود نہ بھیجے اس کی نماز ،نماز ہی نہیں ہے ۔
میرے دوست کا کلام میرے کانوں میں رس گھول رہا تھا اوردل میں اتر تا جارہا تھا اور میرا نفس اس کو قبول کرنے پر آمادہ تھا ۔سابقا میں نے یہ بات کسی کتاب میں پڑھی تھی ۔مگر اس وقت زور دینے کے باوجود کتاب کانام یا د نہیں آرہا تھا میں نے اتنا مان لیا کہ ہم لوگ بھی جب رسول پر درود بھیجتے ہیں تو آل واصحاب سب ہی پر بھیجتے ہیں ۔ لیکن شیعوں کی طرح صرف حضرت علی کے ذکر پر علیہ السلام نہیں کہتے میرے دوست نے مجھ سے پوچھا ۔بخاری کےبارے میں کیاخیال ہے" ؟ وہ سنی تھے یا شیعہ ؟
میں :- اہل سنت والجماعت کےبڑے جلیل القدر امام تھے ۔خدا کی کتاب کے بعد ان کی کتاب تمام کتابوں سے زیادہ صحیح ہے ۔میرے اتنا کہنے پرمیرا دوست اٹھا اور اپنی لائبریری سے صحیح بخاری نکال

53
لایا ۔اور بخاری کھول کر جس صفحہ کو تلاش کر رہا تھا ۔ تلاش کرکے مجھے دیا اور کہا پڑھو ! میں نے پڑھنا شروع کیا : مجھ سےفلان بن فلان نے بیان کیا اور اس سے علی نے الخ میری آنکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا اور اتنا تعجب ہوا کہ مجھے شبہ ہونے ۂگا یہ واقعی صحیح بخاری نہیں ہے؟ میں بے چینی کے ساتھ صفحہ اور کور کو دیکھنے لگا جب میرے دوست کو احساس ہو ا کہ مجھے شک ہے تو اس نے مجھ سے کتاب لے کر کیا دوسرا صفحہ نکال کر دیا ۔ اس میں تھا کہ مجھ سے علی ابن الحسین (علیھما السلام )نے بیان کیا ۔ اس کو دیکھنے کے بعد میں نے کہا سبحان اللہ ! میرا دوست (شاید میرے اس جملہ سے قانع ہو کر مجھے تنہا چھوڑ کرچلا گیا ۔اور میں سوچنے لگا ۔ بار بار ان صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا اورپڑھتا رہا اور یہ تلاش کرتارہا کہ یہ کتاب کہاں چھپی ہے ؟ دیکھا تو مصر کی شرکۃ الحلبی واولادہ کی مطبوعہ ہے اور وہیں سے نشر کی گئی ہے ۔
خدایا ! میں کب تک مکابرہ کروں ۔کب تک دشمنی کروں اس نے تو ہماری کتاب بخاری سے حسی دلیل پیش کردی اور امام بخاری قطعا شیعہ نہیں تھے ۔یہ تو سنیوں کے امام اور بہت بڑے محدث تھے کیا میں حقیقت تسلیم کرلوں یعنی ان کی طرح علی علیہ السلام کہنے لگوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہیں اس حقیقت کے ماننے پر کئی اور حقیقتوں کو نہ ماننا پڑے ۔مجھے اس حقیقت کا اعتراف پسند نہیں ہے ۔میں اپنے دوست سے دومرتبہ شکست کھا چکا ہوں ۔ایک تو عبد لقادر جیلانی کی قداست کوچھوڑ کر مجھے اعتراف کرنا پڑھا تھا کہ (امام موسی الکاظم) ان سے اولی ہیں ۔ اور یہ بھی تسلیم کرلیا تھا کہ علی کے ساتھ علیہ السلام جائز ہے ۔ لیکن اس مرتبہ شکست نہیں کھاناچاہتا ۔ارے میں وہی تو ہوں جو کچھ دنوں پہلے مصر میں مانا ہوا عالم تھا اپنے اوپر فخر کرتا تھا ،ازہر شریف کے علماء میری تعریف کرتے تھکتے نہیں تھے ۔ اور آج میں اپنے کو مغلوب ،شکست خوردہ محسوس کررہا ہوں ۔ وہ بھی کن لوگوں کے سامنے !جن کو ہمیشہ غلطی پر سمجھا کرتا تھا ۔ میں لفظ "شیعہ" کو گالی سمجھتا تھاے ۔
(درحقیقت )یہ تکبر در حب ذات ہے ،یہ انانیت ،عصبیت ،لجوج پن ہے ۔ خداوندا! مجھے رشد کا الہام کردے ! میری (حقیقت کے قبول کرنے پر) مدد فرما چاہے وہ تلخ ہو ! پروردگارا ! میر ی بصارت وبصیرت کو کھول دے ،صراط مستقیم تک میری ہدایت فرما ، مجھے ان لوگوں میں سے قراردے جو باتوں

54
کو سن کر اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔خدایا! مجھے حق دکھادے مجھے حق کی پیروی کی توفیق مرحمت کردے ۔میری نظر میں باطل کو باطل قراردیدے مجھے اس سے بچنے کی توفیقات عطافرما ۔
میرا دوست جب گھر واپس آیاتو میں اپنے دعائیہ کلمات کی تکرار کررہا تھا ۔اس نے مسکرا تے ہوے کہا : خدا ہم کو ،تم کو ، تمام مسلمانوں ہدایت دے وارخدا نے کہا ہے : جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتا ہے ہم ان کو اپنے راستہ کی ضرورہدایت کرتےہیں اور خدا تو احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے " اس آیت میں جہاد سے مراد حقیقت تک پہونچنے کے لئے علمی بحث ومباحثہ کرنا ہے ۔جو شخص حق کا متلاشی ہوتا ہے خدا اس کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔