پھر میں ہدایت پاگیا
 

39

عراق کی پہلی زیارت
پھر ہم دمشق سے بغداد کے لئے نجف (اشرف ) کے بسوں کی ایک عالمی کمپنی کیایرکنڈیشن لمبی بس میں سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔جب بغداد پہونچے ہیں تو درجہ حرارت 40ڈگری تھا ۔بس سے اتر تے ہی فورا ہم منطقہ "جمال: کے ایک خوبصورت محلہ میں واقع اپنے دوست کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے پورا مکان ہی ایرکنڈیشن تھا اسی لئے وہاں پہونچتے ہی سکون کا احساس ہوا ۔ میرا دوست ایک جھا بڑجھلا قسم کی وسیع قمیص لے کر میرے پاس آیا ۔جس کو وہاں کی زبان میں (دشداشہ) کہتے ہیں ۔
پھر دستر خوان پر قسم قسم کے میوہ جات اورکھانے لگادئیے گئے ۔میرے دوست کے گھر والے مجھے آکر بڑے ادب واحترام سے سلام کرنے لگے ۔ان کے والد کا یہ عالم تھا کہ مجھ سے اس طرح معانقہ کررہے تھے جیسے مجھے پہلے سے جانتے ہوں ۔ البتہ ان کی والدہ سیاہ عبا اوڑھے دروازے پر آکر کھڑی ہوگئیں اور سلام کیا ۔مرحبا کہا میرے دوست نے اپنی والدہ کی طرف سے معذرت کرلی چونکہ ہمارے یہاں مردوں سے مصافحہ ہے اس لئے میری والدہ ہاتھ نہیں ملاسکتیں مجھے اس پر بہت تعجب ہوا اور میں نے اپنے دل میں کہا جن لوگوں کو ہم متہم کرتے ہیں کہ یہ دین سے خارج ہیں ۔یہ لوگ ہم سے زیادہ دین کے پابند ہیں ۔اور پہلے بھی سفر میں جو دن اپنے دوست کے ساتھ گزارے تھے میں نے بلندی اخلاق ،عزت نفس ، کرامت ،شہامت کو محسوس کرلیا تھا ایسی تواضع وپرہیز گاری جس کا میں نے کبھی مشاہدہ ہی نہیں کیا تھا اور مجھے یہ احساس ہوگیا کہ ان لوگوں میں میری حیثیت مہمان کی نہیں بلکہ گھر کے ایک فرد جیسی ہے اور گویا اپنے ہی گھر میں ہوں

40
رات کو ہم سب چھت پرسونے کے لئے گئے جہاں سب کے سونے کے بستر الگ الگ بچھائے تھے ۔میں کافی دیر تک جاگتا رہا اور ہیجانی عالم میں یہ جملے ادا کررہا تھا : میں جاگ رہا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں ؟ کیا واقعی میں بغداد میں سیدی عبدالقادر جیلانی کے پڑوس میں ہوں ؟
میری بڑابڑاہٹ کو سنکر میرے دوست نے ہنستے ہوئے مجھ سے پوچھا ٹیونس والے عبدالقادر جیلانی کےبارے میں کیا کہتے ہیں ؟ پس پھر کیا تھا میں نے تمام وہ کرامات جوہمارے یہاں مشہور ہیں ایک ایک کرکے بیان کرنا شروع کردیا ۔ اور بتایا کہ قطب الدائرۃ ہیں جس طرح محمد مصطفی سیدالانبیاء ہیں اسی طرح وہ سید الاولیاء ہیں جنکے قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہیں ۔آپ فرمایا کرتے تھے ۔ لوگ خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرتے ہیں اور خانہ کعبہ میرے خیمہ کا طواف کرتا ہے ۔
میں نے اپنے دوست کو یہ کہہ کر قانع کرناچا ہا کہ شیخ عبدالقادر اپنے بعض مریدوں اور چاہنے والوں کے پاس جسم ظاہری میں آتے ہیں ان کی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں ۔ ان کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرتے ہیں ۔ اور اس وقت میں "وہابی عقیدہ (جس سے بہت متاثر تھا)کو بھول گیا تھا یا بھلا دیا تھا کہ یہ ساری باتیں شرک باللہ ہیں اورجب میں نے محسوس کیا کہ میرے دوست کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو میں نے اپنے نفس کو مطمئن کرنے کے لئے اس سے پو چھا "آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ باتیں صحیح نہیں ہیں ؟
میرے دوست نے ہنستے ہوئے کہا " سفر کرکے تھک گئے ہو سوجاؤ ذرا آرام کرلو! کل انشا اللہ شیخ عبدالقادر کی زیارت کو چلیں گے ۔۔۔اس خبر کو سن کر میرا دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا ۔ اور میرا دل چاہ رہا تھا کاش اسی وقت صبح ہوجائے ۔ لیکن نیند کاغلبہ ہوچکا تھا اور پھر میں سویا تو سورج نکلنے کے بعد ہی اٹھا ۔میری نماز صبح بھی قضا ہوگئی تھی ۔ میرے دوست نے بتایا کہ اس نے کئی بار مجھے بیدار کرنے کی کوشش کی مگر بیکار۔ اس لئے اس نے چھوڑ دیا تاکہ میں آرام کرلوں

41
(جناب )عبدالقادر جیلانی (حضرت امام) موسی الکاظم (علیہ السلام)
ناشتہ کے بعد ہی ہم لوگ :باب الشیخ" کے لئے روانہ ہوگئے ۔ اور میری آنکھوں نے اس متبرک مقام کی زیارات کی جس کی تمنا نہ جانے کب سے میرے دل میں کروٹیں لے رہی تھی ۔میں دوڑ نے لگا ۔جیسے کسی کے دید کا مشتاق ہو اور اس بیتابی سے داخل ہوا ۔ جیسے کسی کی گود میں اپنے کو گرادوں گا ۔ جدھر میں جاتا تھا میرا دوست سایہ کی طرح ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔ آخر زائرین کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں کود پڑا ۔جو قبر شیخ کی زیارت کے لئے اس طرح ٹوٹے پڑرہے تھے جیسے حاجی لوگ بیت اللہ الحرام پر گرتے ہیں ،کچھ لوگ ہاتھوں میں حلوا لے کر پھینک رہے تھے اور زائرین اس کو اٹھانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرتے تھے میں بھی دوڑکر دوٹکڑے اٹھالئے ۔ایک تو برکت کے لئے وہیں فورا کھا گیا ۔اور دوسرا یادگار کے عنوان پر اپنی جیب میں محفوظ کرلیا ۔ وہاں نماز پڑھی جسب مقدور دعاپڑھی ،پانی اسطرح پیا جیسے آب زم زم پی رہا ہوں ۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ اتنی دیر میرا انتظار کیجئے کہ میں اپنے ٹیونی دوستوں کو اسی جگہ سے خرید ے ہوئے ان لفالفوں پر خط لکھ دوں جن پر مقام شیخ عبدالقادر کے سبز گنبد کی تصویر ہے تاکہ اپنے دوستوں پر یہ بات ثابت کرسکوں اور رشتہ داروں پر بھی کہ میری بلند ہمتی دیکھئے جس نے مجھے وہاں پہونچا دیا ۔جہاں یہ لوگ نہیں پہونچ پائے ۔
یہاں فرصت پاکر ہم لوگوں نے ایک قومی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا ۔یہ ہوٹل بغداد کے عین وسط میں واقع تھا ۔اس کے بعد میرے دوست نے کرایہ کی ٹیکسی لی اور ہم لوگ کاظمین پہونچے اس لفظ کی معرفت اسی وقت ہوگئی تھی جب میرا دوست ٹیکسی ڈرائیور سے گفتگو کرتے ہوئے اس لفظ کو تکرار کرتاتھا ۔ابھی ہم ٹیکسی سے اتر کر تھوڑی دور چلے ہونگے کہ لوگوں کی بہت بڑی جمعیت جس میں مرد عورتیں بچے سب شامل تھے اسی طرف جارہے تھے جدھر ہم لوگ رواں دواں تھے یہ لوگ کچھ

42
سامان بھی اٹھا ئے ہوئے تھے اس منظر کو دیکھتے ہی مجھے حج کا منظر یاد آگیا ۔ ابھی تک مجھے منزل مقصود کا پتہ نہیں تھا ۔ اتنے میں کچھ سونے کے قبے اور منارے دکھائی دیئے جو آنکھوں کو چکا چوند کررہے تھے ۔مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ شیعوں کی مسجد ہے کیونکہ میں پہلے سے جانتا تھا ۔کہ یہ لوگ اپنی مسجدوں کو سونے چاندی س ملمع کرتے ہیں جو اسلام میں حرام ہے اس خیال کر آتے ہی میرا جی چاہا کہ میں جانے سے انکار کردوں ۔لیکن اپنے دوست کی دل شکنی کا خیال کرتے ہوئے غیر اختیار ی طور پر ساتھ ساتھ چلاہی گیا ۔
پہلے دروازے سے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا بوڑھے بوڑھے سن سفید ڈاڑھی والے دروازوں کو مس کررہے ہیں اور بوسہ دے رہے ہیں لیکن ایک کافی بڑے سائن بورڈ کو دیکھ کر مجھے ذرا تسلی ہوئی جس پر لکھا تھا( بے حجاب عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے ) ار اسی کےساتھ امام علی کی ایک حدیث بھی لکھی تھی ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب عورتیں نیم عریاں لباس پہنیں گی ۔۔۔۔۔ ہم ایک جگہ پہونچے میرا دوست تو اذن دخول پڑھنے لگا اور میں دروازے کو دیکھ دیکھ کر متعجب ہوتا رہا جس پر سونے کے بہترین نقوش تھے اور پورے دروازے پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ اذن دخول پڑھ کر جب میرا دوست اندر داخل ہونے لگا تومیں اس کے پیچھے لگ لیا اور میرے ذہن میں بار بار بعض کتابوں کی چند سطریں آرہی تھیں جن میں شیعوں کے کفر کا فتوی دیا گیا ہے ۔میں نے داخل مقام میں ایسے نقش ونگار دیکھے جن کا کبھی تصور بھی نہیں کرسکا تھا اور جب میں نے اپنے کو ایک غیرمانوس وغیر معروف ماحول میں پایا تو دہشت زدہ رہ گیا ۔ اور وقتا فوقتا میں بڑی نفرت سے ان لوگوں کو دیکھ لیتا تھا جو ضریح کا طواف کررہے ہیں ۔ رودھو رہے ہیں ضریح کو چوم رہے ہیں اس کی لکڑیوں کو بوسے دے رہے ہیں ۔ اور بعض تو ضریح کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں ۔ فورا ہی میرے ذہن میں رسولخدا کی حدیث آگئی ۔خدا یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انھوں نے اولیاء خدا کی فبروں کو مسجد بنا لیا ۔اور میں اپنے اس دوست سے بھی دور ہوگیا جو داخل ہوتے ہی بے تحاشا رونے لگا ۔ پھر میں اس کو نماز پرھتا چھوڑ کر اس لکھے ہوئے زیارت نامہ کے قریب پہونچا جو ضریح پر لٹکا ہوا

43
تھا ۔ میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ لیکن اس میں ایسے عجیب وغریب اسماء تھے جن کو میں جانتا ہیں نہیں تھا اس لئے زیادہ حصہ میری سمجھ میں نہیں آیا ۔میں نے گوشہ میں کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھی اور کہا خدا وندا ! اگر یہ مسلمان میں سے ہے تو اس پر رحم فرما اور تو سب کی حقیقت حال کو جاننے والا ہے ۔اتنے میں میرا دوست میرے قریب آکر میرے کان میں بولا اگر تمہاری کوئی حاجت ہے تو یہاں پرخدا سے سوال کرو پوری ہوجائے گی کیونکہ ہم لوگ ان کو باب الحوائج کہتے ہیں ۔ میں نے اپنے دوست کے قول کوسنی ان سنی کردی ۔ خدا مجھے معاف کردے ۔ میں تو ان بوڑھوں کو دیکھ رہا تھا جن کے نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ،سن سفید سی لمبی لمبی داڑھیاں سروں پرسیاہ وسفید عمامے پیشانیوں پرسجدوں کے نشانات ،ان کے جسموں سے خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں ۔تیز تیز نظر رکھنے والے کہ ان میں سے جب بھی کوئی داخل ہوتا تو داڑھیں مار مار کر رونے لگتا تھا ۔اس چیز نے مجھے اپنے دل ودماغ سے یہ سوال کرنے پر آمادہ کردیا ۔ کیایہ سارے آنسو جھوٹے ہیں ؟ کیا یہ عمر رسیدہ لوگ سب ہی غلطی پر ہیں ۔؟
ان چیزوں کا مشاہدہ کرکے میں حیران وپریشان وہاں سے نکالا ۔جبکہ میرا دوست پشت کی طرف سے
چلتا ہوا نکلا کہ کہیں اس کی پشت صاحب قبر کی طرف نہ ہو جائے یہ ادب واحترام کا بنا پر تھا ۔میں نے پوچھا : یہ کس کا مقبرہ ہے ؟"
دوست:-" الامام موسی کاظم (ع)۔
میں :-" یہ امام موسی کاظم کون ہے؟"
دوست:-" سبحان اللہ تم برادران اہل سنت نے مغز کو چھوڑ کر چھلکے سے وابستگی اختیار کرلی ہے ۔ "
میں:-" (غصہ اور ناراضگی کے ساتھ) یہ کیسے آپ نے کہہ دیا کہ ہم نے چھلکے سے تمسک کیا ہے اور مغز کو چھوڑ دیا ہے ؟"
دوست:-" (مجھے دلاسہ دلاتے ہوئ) برادر آپ جب عراق آئے ہیں برابر عبدالقادر جیلانی کا ذکر کررہے ہیں آخر یہ عبدالقادر جیلانی کون ہے؟ جس کا آپ اتنا احترام کرتے ہیں ؟"
میں :-"( فورا فخر سے ) یہ ذریت رسول سے ہیں اگر رسول خدا کے بعد کوئی نبی ہوتا تو یہی ہوتے !"

44
دوست:-" برادر ! کیا اسلامی تاریخ سے آپ کو واقفیت ہے؟
میں :-" بغیر کسی تامل وتردد کے ۔جی ہاں ہے ! حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر ہیں کیونکہ میرے استاتذہ اور مدرسین اس کو پڑھنے سے روکتے تھے اور کہتے تھے " اسلامی تاریخ ایک سیاہ وتاریک تاریخ ہے ۔ اس کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ بطور مثال عرض کروں ۔میرے بلاغت کے استاد امام علی (ع) کی کتاب نہج البلاغہ کا خطبہ شقشقیہ پڑھا رہے تھے ۔اس خطبہ کوپڑھنے میری طرح اور لڑکے بھی متحیر ہوگئے آخر میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا ۔کیا یہ واقعی الامام علی کا کلام ہے ؟
استاد نے کہا:-" قطعا بھلا علی کے علاوہ ایسی بلاغت کسی کو نصیب ہوسکتی ہے؟ اگر یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کلام نہ ہوتا تو علمائے مسلمین جیسے الشیخ محمد عبدہ مفتی الدیار المصریہ قسم کے لوگ اس کی شرح میں اتنا اہتمام نہ کرتے" ۔
میں :-" اس وقت میں نے کہا الامام علی (علیہ السلام) ابو بکر وعمر کو غاصب خلافت کہہ کر متھم کررہے ہیں" ۔ یہ سن کر استاد کو غصہ آگيا اور مجھے زور سے ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر دوبارہ تم نے ایسے سوالات کئے تونکال دوں گا ۔پھر استاد نے اتنا اور اضافہ فرمایا :- میں بلاغت پڑھانے آیا ہوں تاریخ کا درس نہیں دے رہا ہوں ۔ ہم کو آج اس تاریخ سے کیا سروکار جس کے صفحات مسلمانوں کی خونی جنگوں اور فتنوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ خدا نے جس طرح ہماری تلواروں کو مسلمانوں کے خون سے پاک وپاکیزہ رکھا ہے اسی طرح ہمارا فریضہ ہے کہ اپنی زبان کو سب وشتم سےپاک رکھیں ۔استاد کی اس دلیل سے میں قانع نہیں ہوا بلکہ اس پر غصہ آیا کہ ہم کو بے معنی بلاغت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ میں نے اسلامی تاریخ پڑھنے کا کئی مرتبہ ارادہ کیا ۔لیکن مصادر وامکانات کی کمی راستہ کا روڑ ابنی رہی ۔ اور ہم نے اپنے علماء واستاتذہ میں بھی کسی کو نہ دیکھا جو تاریخ کا اہتمام کرتا ہو یا اس سے دلچسپی رکھتا ہو یا گویا سبھوں نے اس کو طاق نسیان پر رکھنے اور مطالعہ نہ کرنے پر اجتماع کر رکھا ہے ۔ اسی لئے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے پاس تاریخ کی کوئی کامل کتاب ہو۔

45

46
بارے میں پوچھا جواب سے مجھے اندازہ ہو کہ وہ کوئی ڈاکٹر ہے جو عنقریب آنے والا ہے اسی اثناء میں میرے دوست نے کہا:" میں آپ کو یہاں پر اس لئے لایا ہوں کہ آپ کا تعارف ایک ڈاکٹر سے کرادوں جو تاریخ کا سب سے بڑا ماہر ہے ۔ اور بغداد یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر ہے اور اس نے عبدالقادر جیلانی پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے شاید وہ آپ کے لئۓ مفید ہو کیونکہ میں تاریخ کا اکسپرٹ نہیں ہوں ۔
ہم لوگوں نے وہاں کچھ ٹھنڈا پیا اتنے میں وہ ڈاکٹر بھی آگیا ۔میرا دوست اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا ۔اور اس کو سلام کرکے مجھے اس کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا : ان کو کچھ عبدالقادر جیلانی کےبارے میں بتائیے اور ہم سے اجازت لے کر کسی کام سے چلا گیا ۔ڈاکٹر نے میرے لئے ٹھنڈا منگوایا اور مجھ سے میرے نام ،شہر ،پیشہ ،وغیرہ کے بارے میں پوچھنے لگا ۔اسی طرح اس نے مجھ سے کہا ٹیونس میں عبدالقادر جیلانی کے بارے میں جو چیزیں مشہور ہیں ۔مجھے بھی ان کےبارے بتائیے۔
میں نے اس سلسلہ میں ڈاکٹر سےبہت سارے واقعات بتائے ۔یہاں تک کہ میں نے بتایا ہماری طرف مشہور ہے شب معراج جب جبرائیل آگے بڑھنے سے ڈرگئے کہ کہیں جل نہ جاؤں توجناب عبدالقادر نے رسول خدا کو اپنے کندھے پرسوار کر لیا ۔ اور رسول اللہ نے فرمایا : میرے قدم تیر گردن پر اور تیرے قدم قیامت تک اولیاء کی گردنوں پر ہوں گے ۔
ڈاکٹر میرا کلام سن کر بہت ہنسا ۔اب مجھے یہ نہیں معلوم ان حکایات کو سنکر ہنسا یا اس ٹیونسی استاد پر ہنسا جو اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ اولیاء اور صالحین کے بارے میں تھوڑی دیر مناقشہ کرنے کے بعد ڈاکٹر بولا:- میں نے سات سات تک تحقیق وجستجو کی اور اس درمیان میں متعدد ممالک کا سفر کیا ۔مثلا پاکستان ، ترکی ، مصر ، بریطانیہ ،اور تمام ان مقامات پر گیا ۔ جہاں ایسے محفوظات تھے عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب تھے ۔ان محفوظات کو دیکھا ان کی تصویریں حاصل کیں ۔ لیکن کہیں سے یہ بات نہیں ثابت ہوتا کہ عبدالقادر سلالہ رسول سے تھے ۔ زیادہ سے زیادہ ان کے اولاد واحفاد کی جو جو اشعار منسوب ہیں ان میں ایک شخص نے کہا ہے : میرے جد رسول اللہ تھے ۔ اور اس کو رسول کی اس حدیث

47
پر حمل کیا گيا ہے ۔ کہ آنحضرت نے فرمایا " میں ہر متقی کا جد ہوں ۔ جیسا کہ بعض علماء کا یہی خیال بھی ہے ۔اور جوبات میرے نزدیک ثابت ہے وہ یہ ہے کہ عبدالقادر ایرانی النسل تھے ۔ عرب نہیں تھے ۔ ایران کے ایک شہر جیلان (گیلان) میں پیدا ہوئے تھے ۔ اور اسی لئے جیلانی کہا جاتا ہے پھر یہ بغداد آگئے تھے وہیں تعلیم حاصل کی اور ایسے وقت میں مدرس ہوئے جب اخلاقی برائیاں عروج پرتھیں ۔
جیلانی ایک زاہد قسم کے آدمی تھے لہذا لوگ ان سے محبت کرنے لگے ان کے مرنے کے بعد لوگوں نے " الطریقۃ القادریہ" کی بنیاد رکھی جو انھیں کی طرف منسوب ہے جیسا کہ ہر صوفی کےماننے والے ایسا ہی کرتے ہیں پھر اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ہے کہ عربوں کی حالت اس سلسلہ میں بہت افسوسناک ہے ۔
اس سے میری رگ وہابیت پھڑک اٹھی ۔میں نے ڈاکٹر سے کہا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ بھی وہابی الفکر ہیں ۔ آخر وہ لوگ بھی تو یہی کہتے ہیں جو آپ فرمارہے ہیں کہ کوئی ولی وغیرہ نہیں ہے ۔
ڈاکٹر : جن نہیں! میں وہابی نہیں ہوں ۔مسلمانوں میں افسوسناک بیماری یہ ہے کہ یا تو حد افراط پر ہیں ۔ یا حد تفریط پر یاتو وہ ہر اس خرافات تک کو مان لیں گے جس پرنہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور یا ہر چیز کو جھٹلانے پر تل جائیں گے ۔چاہے وہ انبیاء کے معجزات ہی ہوں ۔ بلکہ اپنے نبی کے معجزات اور حدیثوں کا صرف اس لئے انکار بیٹھے ہیں کہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں یا جو من گھڑت عقیدہ ان کا ہے اس عقیدہ کے خلاف ہے ۔کچھ لوگ مشرق کی کہتے ہیں تو کچھ مغرب کی ۔
صوفی لوگ کہتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر کا ایک ہی وقت میں بغداد اور ٹیونس دو نوں جگہ پہونچنا ممکن ہے وہ ایک ہی وقت میں ٹیونس کے مریض کو شفا دےسکتے ہیں اور عین اسی وقت دجلہ سے ڈوبے والے کو نکال سکتے ہیں یہ افراط ہے ۔۔۔وہابی ۔۔۔۔ صوفیوں کے بلکل بر خلاف ۔۔۔ہر چیز کو جھٹلاتے ہیں ۔ انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی بنی کو وسیلہ بنائے تو اس کو بھی مشرک کہتے ہیں یہ تفریط ہے ۔ برادر نہ یہ درست ہے ۔نہ وہ ۔بلکہ جیسا کہ خدا نے کہا ہے :
وکذلک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونوا شھہدا علی الناس (پ 3 س 2 بقرہ آیت 143)

48
ترجمہ:( اور جس طرح تمہاری قبلہ کے بارے میں ہدایت کی )- اسی طرح تم کو عادل امت بنایا تاکہ لوگوں کے مقابلہ میں تم گواہ بنو۔ اور رسول (محمد) تمہارے مقابلہ میں گواہ بنیں ۔۔۔۔ ہم کو اس طرح ہونا چاہیے ۔ ڈاکٹر کا کلام مجھے بہت پسند آیا میں نے اس کاشکریہ ادا کیا ۔ او رجو کچھ اس نے کہا تھا اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر نے اپنا بیگ کھول کر عبدالقادر جیلانی کےبارے میں اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب مجھے بطور ہدیہ پیش کی ۔ اور کھانے کی دعوت دی ۔ لیکن میں نے معذرت کرلی ۔پھر ہم لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے کبھی ٹیونس کےبارے میں کبھی شمال افریقہ کے بارے میں یہاں تک کہ ہمارا دوست واپس آیا اور ہم لوگ رات کو گھر پہونچے ۔پورا دن زیارتوں او ربحث ومباحثہ میں گزار دیا تھا مجھے تھکن کا احساس ہورہا تھا ۔ لہذا لیٹے ہی سوگیا ۔
علی الصباح اٹھ کر نمازپڑھی ۔اور اس کتاب کا مطالعہ شروع کردیا ۔ عبدالقادر کے زندگی سے متعلق تھی ۔ میرا دوست اس وقت اٹھا جب میں آدھی کتاب پڑھ چکا تھا ۔اور وقتا فوقتا تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد نا شتہ کے لئے آتارہا ۔لیکن جب تک میں نے کتاب ختم نہیں کرلی ناشتہ کے لئے نہیں اٹھا اس نے گویا مجھے بانھ دیا تھا اور مجھے شک ہوگیا تھا مگر شک زیادہ تر نہیں رہا ۔عراق سے نکلتے نکلتے شک دور ہوچکا تھا ۔