پھر میں ہدایت پاگیا
 

31

شپ کی ملاقات
ایک مصری شپ (پانی کا جہاز) کے اندر جو بیروت جارہاتھا ۔اور جس میں پہلے ہی سے میں نے اپنی جگہ کا ریزرویشن کرالیا تھا ۔ اسی حساب سے اسی دن میں اسکندر یہ سے روانہ ہوگیا میں نے اپنے بستر پر لیٹے لیٹے محسوس کیا کہ جسمانی اور فکری دونوں اعتبار سے بہت ہی خستہ ہوں لہذا تھوڑی دیر سوگیا ۔کشتی کو سمندر میں چلتے ہوئے دو تین گھنٹے ہوئے تھے ۔سوتے میں اپنے بغل والے شخص کو کسی سے گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا : معلوم ہوتا ہے یہ بھائی صاحب بہت تھکے ہیں ! میں نے ذرا آنکھ کھول کر کہا :جی قاہرہ سے اسکندریہ تک کا سفر نے انچر پنچر ڈھیلے کردیئے ہیں ۔چونکہ مجھے حسب وعدہ بہت ہی سویرے پہونچنا تھا اس لئے رات کو سوبھی نہیں سکا ۔اس شخص کےلب ولہجہ سے میں انے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص مصری نہیں ہے۔ میری بکواس کرنے کی عادت نے مجھے اس بات پر آمادہ کردیا کہ اس کو اپنا تعارف کرادوں اور اس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کروں اس نے بتایا کہ وہ عراقی ہے اس کا نام منعم ہے ۔ بغداد یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے ۔قاہرہ گیا تھا تکہ ۔پی ایچ ڈی کے تھیسس "جامعۃ ازہر میں پیش کرے ۔
پھر ہم میں گفتگو چھڑگئی ہم نے مصر کے بارے میں "عالم اسلام "کے موضوع پر "عالم عرب " کے سلسلے میں "عربوں کی شکست یہودیوں کی فتح کےبارے میں گفتگو کی اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ "بات میں بات نکلتی چلی آتی ہے" میں انے اپنی گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ شکست کا اصلی سبب مسلمانوں اور عربوں کا چھوٹی چھوٹی حکومتوں اور مختلف مذہبوں میں بٹ جانا ہے

32
مسلمانوں کی دنیا میں اتنی بڑی اکثریت ہونے کےباوجود ان کے دشمنوں کی نظریں میں ان کی کوئی قدر قمیت نہیں ہے ۔
زیادہ تر گفتگو مصر اور اہل مصر کے بارے میں ہوئی ۔شکست کے اسباب پرہم دونوں متفق تھے ۔میں نے اتنی بات کا اور اضافہ کیا کہ استعمار نے ہم کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہےتاکہ ہم پر حکومت کرسکے ۔اور ہماری نکیل اس کے ہاتھ میں رہے ۔ میں اس کا بہت شدید مخالف ہوں ۔ ہم آج بھی مالکی اور حنفی میں بٹے ہوۓ ہیں ۔ چنانچہ میں نے اس کو اپنا ایک واقعہ بتایا کہ قیام قاہرہ کے دوران میں نے ایک مرتبہ مسجد ابی حنیفہ میں جاکر عصر کی نماز جماعت سے ادا کی لیکن نماز ختم ہوتے ہی جو شخص میرے پہلو میں کھڑا تھا مجھ پر برس پڑا ۔ اور تہدید آمیز لہجہ میں کہنے لگا" تم نے نماز میں ہاتھ کیوں نہیں باندھے ؟ میں نے بہت ادب واحترام سے عرض کیا " مالکی حضرات ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور میں مالکی ہوں ۔اس نے اسی غصہ کی حالت میں کہا تو مالک کی مسجد میں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو ۔چنانچہ میں وہاں سے بہت رنجیدہ وارغصہ میں چلا آیا او رمجھے شدید حیرت ہوئی ۔
اتنے میں عراقی استاد زیرلب مسکراتے ہوئے بولے : (دوسری مثال میری ہے کہ )میں شیعہ ہوں ۔ اتنا سنتے ہی میں آگ بگولا ہوگیا ۔اور بغیر کسی پاس ولحاظ کے میں نے کہا " اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ شیعہ ہیں تو آپ سے میں بات ہی نہ کرتا ۔انھوں نے کہا آخر کیوں ؟ میں نے کہا آپ لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔آپ لوگ علی ابن ابی طالب کی عبادت کرتےہیں ۔البتہ جو اعتدال پسند ہیں وہ عبادت تو خدا کی کرتے ہیں مگر محمد مصطفی کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتے اور جبریئل کوسب وشتم کرتے ہیں رسالت علی کے حوالہ کرنے کے بجائے محمد کے حوالہ کردیا ۔اور اسی قسم کی بہت سی باتیں میں نے ذکر کیں ۔ اور اس پوری گفتگو کے دوران میرا ہمسفر تو تبسم زیر لب کرتا تھا اور کبھی "لاحول ولا قوۃ الا باللہ "کہتا تھا اور جب میں انے اپنی گفتگو ختم کرلی ۔ تو اس نے مجھ سے کہا: کیا تم مدرس ہو؟ تم بچوں کو پڑھاتے

33
ہو؟ میں نے کہا ہاں ! اس نے کہا "جب استادوں کا یہ حال ہے تو عوام کو ملامت کرنا فضول ہے ۔
کیونکہ عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ان کو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا!
میں نے کہا " آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ کیا مقصد ہے آپ کا؟
انھوں نے فورا کہا" معاف کیجئے گا ذرایہ تو بتائیے یہ جھوٹے ادعات آپ کہاں سے حاصل کئے ؟
میں نے کہا" تاریخ سے اور جو تمام لوگوں کے نزدیک مشہور ہے ان باتوں سے !
انھوں نے کہا" لوگوں کو خیر جانے دیجئے جناب عالی نے تاریخ کی کون سی کتاب پڑھی ہے ؟
میں نے کہا" میں نے بعض کتابوں کے نام گنوانے شروع کردیئے مثلا "فجر الاسلام""ضحی الاسلام" ظہر الاسلام" احد امین وغیرہ کی کتابون کے نام لئے ۔
وہ " بھلا احمد امین کی باتین شیعوں پر کیسے حجت ہوجائیں گی ؟ یہ کہہ کر انھوں نے اضافہ کیا دیکھئے عد ل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شیعوں کے اصلی مشہور مصادر سے اثبات کیجئیے !
میں" جو بات خاص وعام ہی کے نزدیک مشہور ومعروف ہو اس کی تحقیق کی کیا ضرورت ہے؟
وہ " سنئے جب احمد امین نے پہلی مرتبہ عراق کی زیارت کی تھی تو نجف اشرف میں جن اساتذہ نے ان سے ملاقات کی تھی ان میں ایک میں بھی تھا اور جب ہم لوگوں نے ان کو سرزنش کی کہ آپ نے شیعوں کے بارے میں کیسے کیسے خرافات تحریر کردیئے ہیں؟ تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کیل کہ : میں آپ حضرات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا اور اس سے پہلے کبھی کسی شیعہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے معذرت چاہتا ہوں

34
اس پر ہم لوگوں نے کہا " عذرگناہ بدترازگناہ والی مثال آپ پر صادق آتی ہے ۔جب آپ کو ہمارے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا تو ایسی باتیں آپ نے کیوں تحریر کیں ؟ اس کے بعد ہمارے ہم سفر نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا" برادر ! جب ہم قرآن کریم سے یہود ونصاری کی غلطی ثابت کرتے ہیں تو قرآن اگر چہ ہمارے لئے حجت بالغہ ہے لیکن جب وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تو اس سے ان کے خلاف دلیل نہیں لائی جاسکتی ۔لیکن اگر ان کی کتابوں جس پر وہ عقیدہ رکھتے ہیں ان کے مذہب کا بطلان کیا جائے تو یہ دلیل محکم ومضبوط ہوگی ۔ اور قرآن نے یہی کیاہے اسی لئے قرآن سے استدلال کرتےہیں ۔یعنی انھیں کتابوں سے ان کی غلطی ثابت کرو "بقول شخصی میاں کی جوتی میاں کا سرتب توبات صحیح ہے ورنہ نہیں !
ایک پیاسے کو شیریں پانی پی کر جیسے سکون ملتا ہے اسی طرح اپنے ہم سفر کی تقریر کا اثر میرے اوپر ہوا اور اب میں نے اپنے اندر یہ محسوس کیا کہ میں "ناقد حاقد"(کینہ پرور نقاد )نہیں رہا بلکہ "باحث فاقد" (گمشدہ شی کا متلاشی) کی حیثیت اختیار کرلی ہے ۔کیونکہ اس شخص کی منطق سلیم اور حجت قوی کو میری عقل نے تسلیم کرلیا تھا ۔اور اگر میں تھوڑی انکساری برتوں اورکان دھر کے اس کی بات سنوں تویہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔
چنانچہ میں نے رفیق سفر سے کہا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ محمد (ص) کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں "! اس نے کہا " نہ صرف میں بلکہ پوری دنیائے شیعیت کا یہی عقیدہے ، میرے بھائی ! شیعہ بھائیوں کےبارے میں ایسی بدگمانی نہ کرو "ان بعض الظن اثم " بعض بدگمانی گناہوتی ہے "اتنا کہہ کر مزید یہ بھی کہا " اگر آپ سردست حقیقت کے متلاشی اور حق کے جویاں ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر دل سے یقین کرناچاہتے ہیں تو میں آپ کو عراق کی زیارت اور وہاں کے علمائے شیعہ اور عوام سے ملاقات کی دعوت دیتا ہوں ۔ اس کے بعد مخالفین اور مطلب پرستوں کے جھوٹ کا پلندہ

35
کھل جائے گا ۔"
میں نے کہا" میری تویہ دلی تمنا تھی کہ کبھی عراق کی زیارت کروں اور وہاں کے مشہور آثار قدیمہ کو دیکھوں جن کو عباسی خلفاء چھوڑگئے ہیں مخصوصا ہارون رشید کے اسلامی آثار ۔۔۔لیکن اس سلسلے میں چند مجبوریاں میرے پیروں کی بیڑیاں بنی ہین پہلی بات تویہ ہے کہ میرے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔بڑی زحمتوں سے میں نے جوڑ جمع کرے اپنے عمرہ کا انتظام کیا ہے ۔دوسری مجبوری یہ ہ کہ میرا پاسپورٹ اس قسم کا ہے جس پر عراق کی حکومت ویزا نہیں دے گی ۔ورنہ ضرور آتا ۔"
رفیق سفر" جب میں نے آپ کو عراق کی دعوت دی ہے تو بیروت سے بغداد آنے جانے کا پورا خرچہ میں برداشت کروں گا ۔ اور بغداد میں آپ ہمارے مہمان ہونگے ۔اب رہا پاسپورٹ والا مسئلہ تو اس کو خدا پر چھوڑتے ہیں جب خدا چاہے گا تو آپ بغیر پاسپورٹ کے بھی عراق کی زیارت کرسکتے ہیں ۔ویسے ہم بیروت پہونچتے ہی عرق کے ویزا کی کوشش کریں گے ۔"
میں " اپنے رفیق سفر کی اس پیش کش کو سن کر بہت خوش ہوگیا اور اس سے وعدہ کرلیا کہ انشااللہ کل میں آپ کو اس کا جواب دوں گا ۔۔۔۔۔۔
سونے کے کمرے سے نکل کر جہاز کے عرشہ پر جاکر میں تازہ ہوا کھانے لگا اور اس وقت تک میں ایک نئی فکر سے دوچار ہوچکا تھا ۔سمندر میں جہاں حد نظر تک پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا ۔ میری عقل چکر لگارہی تھی ۔ میں اپنے اس خدا کی حمد وتسبیح میں مشغول تھا جس نے اس وسیع کائنات کو خلق فرمایا ہے اور اس جگہ تک پہنچنے پر اس کا شکر کررہا تھا اوریہ دعا بھی کررہا تھا ! خدایا ! مجھے شر اور اہل شر سے محفوظ رکھ ۔ خطا ولغزش سے میری حفاظت فرما۔ میری قوت فکر کے سامنے جیسے فلم دکھائی جارہی ہو اور ایک ایک کرکے تمام واقعات پردہ فلم کی طرح میرے حافظہ کے پردہ فلم پر آنے لگے ۔بچپنے میں جس نازونعم س پلا تھا ،زندگی میں جو واقعات پیش آئے تھے سب ایک ایک کرکے گزرنےلگے اور میں ایک شاندار مستقبل کاخواب دیکھنے لگا ۔اور مجھے یہ احساس ہونے لگا جیسے خدا اور رسول (ص) کی مخصوص عنایتیں مجھے اپنے گھیرے میں لئے ہیں پھر میں

36
مصر کی طرف متوجہ ہو ا جس کے ساحل کا کبھی کبھی کوئی حصہ یہاں سے نظرآجاتا تھا اور دل ہی دل مین مصر کو وداع کہنے لگا ۔اس مصر کو جس کی یادوں میں سے ابھی تک عزیزترین یاد " رسول کی قمیص تھی جس کا بوسہ لیا تھا " مجھے اب بھی ستارہی ہے ۔ اس کے بعد میرے ذہن میں اس نئے شیعہ دوست کا کلام آنے لگا ۔جس نے میرے بچپنے کے خواب کی تعبیر کو پورا کرنے کا وعدہ کرکے میرے دامن کو خوشیوں سے بھر دیا تھا ۔۔۔عراق کی زیارت ۔۔اور ان شہروں کی زیارت کرنا چاہتا تھا ۔جن کو میرے ذہن نے تخلیق کیا تھا ۔کہ ہارون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا ۔ اور مامون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا وہی مامون جو "دارالحکمۃ " کا موسس تھا جس میں مغرب سے مختلف علوم حاصل کرنے والے طلاب آیا کرتے تھے اور اس وقت اسلامی تہذیب اپنے پورے شباب پر تھی ۔اس کے ساتھ عراق ،قطب ربانی شیخ صمدانی سیدی عبدالقادر جیلانی " کا شہر ہے جن کا شہرہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہے ۔ ان جن کا طریقہ گاؤں گاؤں میں پہونچا ہواہے جس کی ہمت تمام ہمتوں سے بلند وبرتر ہے ۔میرے خواب کی تعبیر کے لئے یہ پروردگار کی طرف سے جدید عنایت تھی میں ابھی ابھی خیالات میں ڈوباہوا تھا اور امیدوں وتصورات کے سمندر میں پیر رہا تھا کہ کھانے کی گھنٹی نے مجھے ہوشیار کردیا ۔اور میں بھی ہوٹل کی طرف روانہ ہوگیا ۔ اور جیسا کہ ہر مجمع ہویں ہوتا ہے لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑ رہے تھے ۔اور ہر شخص دوسرے پر پہلے داخل ہوناچاہتاتھا ۔شوروغل کا یہ عالم تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اتنے میں میں نے دیکھا کہ میرا شیعہ رفیق سفر میرے کپڑے پکڑ کر اپنی طرف نرمی کے ساتھ پیچھے کی طرف کھینچ رہاتھا ۔ اور کہہ رہا ہے : برادر !بلاوجہ اپنے کو مت تھکاؤ ۔ہم لوگ بعد میں بڑے آرام سے کھالیں گے ۔یہ شور شرابہ بھی ختم ہوچکا ہوگا ۔میں تو ہر جگہ تم کو تلاش کرتا پھرا اچھا یہ بتاؤ تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا نہیں ! اس نے کہا" تو آؤ پہلے نماز پڑھ لیں پھر آکر کھانا کھائیں گے ۔ اس وقت تک یہ بھیڑ اور شورغل سب ہی ختم ہوچکا ہوگا ۔ہو لوگ آرام سے کھاسکیں گے !
میں سے اس کی رائے پسند کی اور ہم دونوں ایک خالی جگہ پہونچے وضو کے بعد میں نے اسی

37
کو آگے بڑھا دیا کہ یہی امامت جماعت کرے اور میں دیکھتا ہوں کیسی نماز پڑھتا ہے ۔اپنی نماز میں دوبارہ پڑھ لوں گا اور جوں ہی اس نے اقامت کے بعد قراءت ودعا پڑھی مجھے اپنی رائے بدلنی پڑی ۔کیونکہ کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے میں صحابہ کرام میں سے کسی کے پیچھے پڑھ رہاہوں جن کے بارے میں کتابوں میں پڑھتا رہا ہوں اور ان کے ورع ،تقوی کےف بارے میں پڑھتا رہا ہوں نماز ختم کرکے اس نے ایسی ایسی لمبی دعائیں پڑھیں جن کو اس سے پہلے نہ میں نے اپنے ملک میں سناتھا اور نہ دیگران ممالک میں جہاں کا میں سفر کرچکا تھا ۔ اور جب میں سنتا تھا کہ یہ شخص محمد وآل محمد پر درود پڑھ رہا ہے اور جس کے وہ حضرات اہل ہیں اس سے ثنا کررہا ہے تومیرے دل کو بڑا سکون ملتا تھا اور مطمئن ہوجاتا تھا ۔
نماز کے بعد میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور یہ دعا کرتے سنا کہ خدا میری بصیرت کھول دے اور مجھے عطا کرے ۔
نماز کے بعد جب ہم ہوٹل پہونچے تو وہ خالی ہوچکا تھا جب تک میں نہیں بیٹھ گیا میرا رفیق نہیں بیٹھا ۔ہمارے لئے کھانے کی دو پلیٹیں لائی گئیں ۔ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنی پلیٹ میرے سامنے رکھدی اور میری اٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی کیونکہ میری پلیٹ میں گوشت کم تھا ۔ اور مجھ سے اس طرح کھانے کے لئے اصرار کرنے لگا جیسے میں اس کا مہمان ہوں اور کھانے پینے دستر خوان کے ایسے ایسے لطیف قصے سنائے کہ جن کو میرے کانوں نے کبھی سناہی نہیں تھا ۔
مجھے اس کا اخلاق بہت پسند آیا ۔پھر ہم نے نماز عشا پڑھی اور اس نے ایسی دعائیں پڑھیں کہ میں اپنے گریہ کو ضبط نہ کرسکا ۔میں نے خدا سے دعا کی کہ میرا گمان اس کے بارے میں بدل جائے کیونکہ بعض ظنون گناہ ہیں لیکن کون جانتا ہے ؟
اس کے بعد میں سوگیا لیکن خواب میں بھی عراق اور الف لیلۃ کو دیکھتا رہا صبح میری آنکھ اس وقت کھلی جب وہ مجھے صبح کے لئے اٹھا رہا تھا ۔ نماز صبح پڑھ کر ہم دونوں خدا کی ان رحمتوں کا ذکر کرنے لگے جو اس نے مسلمانوں کو دی ہیں ۔۔۔۔دوبارہ میں پھر سوگیا اور جب میری آنکھ کھلی تو

38
میں نے دیکھا وہ اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تسبیح پڑھ رہا ہے ۔یہ دیکھ کر میرا نفس بہت مرتاح ہوا میرا دل مطمئن ہوگيا اورمیں نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا ۔
ہم ہوٹل میں کھانا کھاہی رہے تھے کہ سائرن کی آواز کے بعد یہ اطلاع دی گئی کہ لبنانی ساحل کے قریب ہمار ا شپ ( پانی کا جہاز) پہنچ چکا ہے ۔ اور کچھ دیر کے بعد ہم بیروت کی بندرگاہ پر ہونگے دوگھنٹہ کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا ۔کیا تم نے غور کرلیا اور کسی فیصلہ پر پہونچے ؟ میں نے کہا" اگر ویزا مل جائے تو پھرکوئی مانع نہیں ہے "۔ اور میں نے اسکی دعوت کا شکریہ ادا کیا ۔
بیروت اتر کر ہم نے وہ رات وہیں گزاردی ۔اس کے بعد بیروت سے دمشق کے لئے روانہ ہوگئے ۔وہاں پہونچتے ہی ہم نے سفارت خانہ عراق کارخ کیا اور ناقابل تصور حد تک جلدی میں مجھے ویزا مل گیا ۔جب ہم وہاں سے نکلے تو وہ ہم کو مبارک باد دے رہا تھا اور خدا کی اس اعانت پر اس کی حمد کررہا تھا ۔