پھر میں ہدایت پاگیا
 


25

کامیاب سفر

26

مصر میں
لیبیا کے دار لسلطنت "طرابلس"میں صرف اتنی دیر قیام کیا کہ مصری سفارت خانہ جاکر کنانہ کے داخلہ کے لئے ویزا حاصل کرسکوں ۔اتفاق کی بات ہے وہاں پر کچھ دوستوں سے ملاقات ہوگئی جنھوں نے میرا کافی ہاتھ بٹایا خدا ان کا بھلا کرے ۔
قاہرہ کاراستہ کافی تھکادینے والا ہے ۔تین دن رات کا مسلسل سفرہے ۔ہم نے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی جس میں ایک میں تھا اور چار مصری تھے ۔ جو لیبیا میں کام کرتے تھے ۔ لیکن اس وقت وہ لوگ اپنے وطن واپس جارہے تھے راستہ کاٹنے کے لئے میں نے ان لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کردیا ۔اور کبھی کبھی تلاوت قرآن بھی کرتا تھا ۔اس لئے وہ چاروں مجھ سے کافی مانوس ہوگئے بلکہ صحیح لفظ یہ ہے کہ مجھ سے محبت کرنے لگے اور سب ہی نے مجھے اپنے یہاں اترنے کی دعوت دی لیکن میں نے ان میں سے احمد کو پسند کیا اور اس کی دعوت قبول کرلی کیونکہ ایک تو فطری طور سے میرا دل اسکی طرف مائل تھا ۔ دوسرے اس کے تقوی وپرہیز گاری سے بھی متاثر ہوگیا تھا ۔
چنانچہ احمد نے اپنی حسب حیثیت میر بڑی خاطر مدارات کی اور میزبانی کا حق ادا کیا خدا اس کو جزائے خیر دے ۔میں نے بیس 20 دن قاہرہ میں گزارے ۔اس دوران میں نے شہنشاہ موسیقی فریدا الاطرش سے ان کے اس گھر میں ملاقات کی جو نیل کے کنارے پر بنایا گیا تھا ۔ میں جب ٹیونس میں تھا تو مصری اخباروں میں "جو ہمارے یہاں باقاعدہ بکتے تھے " فریدالاطرش کے اخلاق وتواضع کےبارے میں کچھ پڑھ چکا تھا۔ اور اسی زمانہ میں اسکو

27
پسند کرتا تھا لہذا فطری بات ہے کہ قاہرہ پہنچ کر میں اس سے ضرور ملاقات کرتا ۔ لیکن یہ میری بد قسمتی تھی کہ صرف بیس منٹ کی ملاقات ہوسکی کیونکہ جب میں پہونچا تو وہ گھر سے ہوائی اڈہ کے لئے نکل رہے تھے ان کو لبنا ن جانا تھا ۔
دوسری عظیم شخصیت جس سے قاہر ہ کے دوران ملاقات کی وہ دنیا کے مشہور ترین قاری قرآن جناب شیخ عبدالباسط محمد عبدالصمد تھے ۔ان کو میں دل وجان سے پسندکرتا تھا ۔خوش قسمتی سے تین دن ان کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ۔ اور اس دوران ان کے رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی کافی ملاقاتیں رہیں ۔ اور متعہ وموضوعات زیر بحث آئے ان لوگوں کو میری جراءت وصراحت لہجہ اور کثرت اطلاع پر بہت تعجب تھا ۔ کیونکہ جب کبھی غنا کا موضوع چھڑگیا تو میں نے ان کو بتایا کہ میں طریقہ تیجانیہ اور مدنیہ دونوں سے متعلق ہوں ۔اور اگر انہوں نے اپنے کو ترقی پسند ثابت کرنے کے لئے "مغرب کا تذکرہ نکالا تومیں نے گرمیوں کی تعطیلات میں مغربی ممالک میں گزارے ہوئے دنوں کو دہرانا شروع کردیا اور پیرس ،لندن ، بلجیک ،ہالینڈ، اٹلی ، اسپین کے قصّے سنانے شروع کردئیے وار اگر کبھی حج کا ذکر نکل آیا تو میں نے بتا یا کہ میں بھی حج کرچکا ہوں ۔اور اس وقت عمرہ کے لئے جارہا ہوں اور اسی کے ساتھ ان کو ایسے ایسے مقامات بتائے مثلا ، غار حرا، غار ثور ع ،مذبح اسماعیل وغیرہ جس کو یہ لوگ تو کیاوہ لوگ بھی نہیں جانتے جو سات سات مرتبہ حج کرچکے ہیں اور اگر بھولے سے ان لوگوں نے علوم واکتشافات واختراعات کاذکر کردیا توپھر کیاتھا نئی نئی اصطلاحیں ،ارقام ،اعداد وشمار ان کو بتانا شروع کردیئے تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئے ۔اور اگر سیاست کا موضوع زیر بحث آگیا تومیں نے اپنے نظریات پیش کرکے ان کو دم بخود بنادیا اور جب میں نے ان سے کہا :خدا ناصر پر ((جو اپنے دور کا صلاح الدین ایوبی تھا)) اپنی رحمت نازل کرے جس نے ہنسنا تو درکنار اپنے اوپر مسکرہٹ کو بھی حرام قراردے لیا تھا اورجب ان قریبی لوگوں نے ملامت کی کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ رسول اکرم (ص) کی

28
سیرت یہ رہی ہے کہ ہر ایک سے مسکرکر ملتے تھے ؟ توجواب دیا :تم لوگ مجھ سے مسکراہٹ کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟حالانکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسجد الاقصی دشمنوں کے قبضہ میں ہے ۔نہیں نہیں خدا کی قسم میں اس وقت تک مسکراؤں گا بھی نہیں جب تک مسجد اقصی کو آزاد نہ کرالوں یا اس کے لئے جان نہ دیدوں ۔
قیام قاہرہ کے دوران جلسے بھی منعقد ہوتے تھے ۔ اور میں بھی تقریریں کرتا تھا ، میری تقریروں میں جامعہ ازہر کے شیوخ بھی شرکت کرتے تھے ۔ اور اپنی تقریروں میں میں آیات اور احادیث کی تلاوت کرتا تھا اور میرے پاس جو براہین قاطعہ اور دلائل ساطعہ تھے جب ان کو پیش کرتا تھا ۔تو عوام توخیر عوام ہوتے ہیں ازہر کے شیوخ بہت متاثر ہوتے تھے اور مجھ سے پوچھتے تھے آپ کس یونیورسٹی کے سند یافتہ ہیں؟ تو میں بہت فخر سے کہا کرتا تھا "جامعۃ الزیتونیۃ " کا فارغ تحصیل ہوں ۔ یہ جامعہ (یونیورسٹی ) ازھر یونیورسٹی سے پہلے کا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی اضافہ کردیتا تھا کہ جن فاطمیین نے جامعہ ازہر بنایا تھا وہ شہر مھدیہ سے ٹیونس چلے گئے تھے ۔
اس طرح جامعہ ازہر کے بہت سے علماء وافاضل سے میں متعارف ہوگیا اور ان حضرات نے بعض کتابیں بھی مجھے بطورتحفہ مرحمت فرمائی تھیں ۔ایک دن امور ازھر کے ذمہ داروں میں سے ایک ذمہ دار کے کتب خانہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حکومت مصر کے انقلابی کمیٹی کا ایک ممبر وہاں آیا اور اس نے کہا : (کتب خانہ کے مالک کو مخاطب کرتے ہوئے) قاہرہ کی ریلوے لائن کے سلسلے میں مصری کمپنیوں میں سے سب سے بڑی کمپنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا اجتماع ہورہا ہے اس میں آپ کی شرکت ضروری ہے ۔(درحقیقت جنگ حزیزاں (جون) کے موقع جو توڑ پھوڑ اور تخریبی کاروائی ہوئی تھی اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے یہ اجتماع تھا ) مالک کتب خانہ نے مجھ سے کہا : تمہارے بغیر میں ہرگز نہ جاؤں گا ۔ لہذا تم بھی میرے ساتھ چلو ۔چنانچہ میں بھی گیا اور وہاں ڈائس پر ازہری عالم اور الاب شنودہ کے درمیان مجھے بٹھایا گیا ۔ پھر مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں بھی اس جلسہ میں ایک تقریر کروں ! چونکہ میں مسجدوں اور ثقافتی کمیٹیوں میں تقریر وں کا عادی تھا

29
اس لئے میرے لئے کوئی مشکل بات نہیں تھی میں نے لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک تقریر کی ۔
اس پوری فصل میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ مجھے احساس ہونے لگا تھا اور اس قسم کا غرور ہوگیا تھا اور مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں بھی ایک بڑا عالم ہوں اور یہ احساس کیوں نہ ہوتا جب کہ ازہر شریف کے علماء نے اس کی گواہی بھی دی تھی اور بعض نے تویہاں تک کہہ دیا تھا :تمہاری اصلی جگہ ازہر ہے اور ان سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ حضرت رسول خدا (ص) نے مجھے اپنے تبرکات کے زیارت کی اجازت مرحمت فرمادی تھی ۔قصہ اس طرح ہے کہ قاہرہ میں حضرت سیدنا الحسین (ع) کی مسجد ہے اس کے مدیر نےمجھ سے کہا : رسول اللہ نے مجھے خواب میں بتایا ہے کہ تمام تبرکات کی تم زیارت کرادوں !چنانچہ وہ مجھے اکیلا لے کر گیا اور جس حجرہ کو اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں کھول سکتا تھا اس نے اس کو کھولا اور مجھے اندر داخل کرنے کے بعد پھر اندر سے دروازہ کو مقفل کردیا پھر تبرکات کا صندوق کھول کر رسول خدا (ص) کی قمیص دکھائی ۔ میں نے اس کو چوما اس کے بعد دیگر تبرکات دکھائے ۔میں وہاں سے آنحضرت کی عنایت کو سوچتا ہوا رو تا باہر آیا کہ حضور نے میری ذات پر کتنا کرم فرمایا ہے ۔ اور اس بات پر مجھے زیادہ تعجب تھا کہ اس مدیر نے نقدی صورت میں مجھ سے کوئی نذرانہ نہیں طلب کیا ۔بلکہ نہ لینے پر مصر رہا ۔ جب میں نے بہت کچھ اصرار کیا اور تضرع وزاری کی توبہت ہی معمولی سی رقم لی اور اس نے مجھےتہنیت پیش کی کہ تم حضرت رسول اکرم (ص) کے نزدیک مقبول لوگوں میں ہو ۔
اس واقعہ سے میں بہت زیادہ متاثر ہوگیا تھا اور کئی راتیں میں نےیہ سوچتے سوچتے آنکھوں میں کاٹ دیں کہ وہابیوں کا یہ عقیدہ :رسول خدا بھی دوسرے مردوں کی طرح مرگئے ! غلط معلوم ہونے لگا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ عقیدہ محض بکواس ہے ۔جب خدا کی راہ میں قتل ہونے والا شہید زندہ ہے اور خدا اس کو رزق دیتا ہے تو جو سیدالاولین والآخرین ہو وہ کیسے زندہ نہ ہوگا ۔؟

30
میرے اس شعور و عقیدہ کو بچپنے کی تعلیم نے مزید تقویت پہونچائی مجھے زمانہ ماضی میں صوفیوں کی تعلیم جو دی گئی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ صوفیوں کے اولیاء وشیوخ کو خداوند نے یہ صلاحیت اس لئے دی ہے کہ انھوں نے خدا کی بے انتہا عبادت کی تھی ۔نیز کیا حدیث قدسی میں یہ نہیں ہے ؟" میرے بندے تو میری عبادت کر میں تجھے اپنا جیسا بنادوں گا کہ تو جو کہو گے وہ چیز فورا ہوجائے گی "۔
یہ میری اندرونی کشمکش مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔مختصر یہ کہ قیام قاہرہ کے آخری دنوں میں حقیر نے تمام مساجد کی زیارت کی اورسب میں نماز یں پڑھیں ۔امام مالک کی مسجد سے لیکر امام ابو حنیفہ کی مسجد تک امام شافعی مسجد سے لے کر احمد بن حنبل کی مسجد تک پھر سیدہ زینب (س) اور سیدنا حسین (ع) کی مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھیں اور " زاویۃ التیجانیہ" کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ اس سلسلہ میں بھی بڑی لمبی چوڑی حکایتیں ہیں جن کا بیان کرنا سبب طول ہوگا ۔اور میں مختصر کا ارادہ کرچکا ہوں ۔