پھر میں ہدایت پاگیا
 

13

حج بیت اللہ
مکہ مکرّمہ میں" عربک اینڈ اسلامک تحقیقاتی کمیٹی " کی پہلی منعقد ہونے والی کانفرس می بطور مندوب شرکت کرنے کے لئے تیونس کی قومی تحقیقاتی کمیٹی " نے جمہوریہ تیونس " کے ان چھ شخصوں کے ساتھ میرے نام کی بھی منظوری دے دی جو مکہ کانفرس میں بحیث نمائندہ شرکت کے لئے جارہے تھے ۔ اس وقت میری عمر صرف سولہ 16 سال کی تھی اس لئے میں پورے وفد میں اپنے کو سب سے چھوٹا اور معمولی ثقافت والا سمجھ رہا تھا ۔ کیونکہ اس وفد کے ممبروں میں دو تومدارس کے مدیر تھے تیسرا دارالسلطنت میں استاد تھا ۔چوتھا صحافی تھا البتہ پانچویں کا نام تو میں نہیں جانتا ۔لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت کے وزیر تربیت کا کوئی قریبی رشتہ دارتھا ۔
ہمارا سفر غیر مستقیم تھا ۔قفصہ سے روانہ ہوکر پہلے تو ہم یونان کے دار السلطنت (اثینا)(1) پہونچے تین دن تک ہمارا وہاں قیام رہا وہاں سے عمان (حکومت اردن کا دار السلطنت )پہونچے یہاں ہم نے چاردن تک قیام کیا ۔وہاں سے ہم سعودیہ پہونچے جہاں ہم کانفرس میں شرکت کے ساتھ مناسک حج وعمرہ بھی بجا لائے گویا ہم خرما ہم ثواب ہوئے ۔
بیت اللہ الحرام میں پہلی مرتبہ داخل ہوتے ہوئے میرا شعور ناقابل تصور تھا دل کی دھڑکنوں کا عالم یہ تھا کہ جیسے ہڈیوں کو توڑ کر دل اس " بیت عتیق" کو اپنے آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے جس کا مدتوں سے خواب دیکھتا رہا تھا۔ آنسوؤں کا وہ سیلاب امڈ ا تھا جس کے رکنے کا تو سوال ہی نہیں ،میں اپنے وجود کو اس میں ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ اپنی قوت متخیلہ کا اسیر تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ جیسے ملائکہ مجھے اٹھا ئے حاجیوں کے اوپر سے کعبہ کی چھت پر لےگئے اور وہاں پہونچ کر میں تلبیہ پڑھ رہاں ہوں ۔
"لبیک اللّھم لبیک " یہ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں آیا ہے ۔
--------------
(1)اینتھیس (ATHENS)
14
حجاج کرام کا تلبیہ سن کرمیں اس نتیجے پر پہونچا کہ ان بیچاروں نے اپنی عمریں گزاردیں ۔ حج کی تیاری کرتے رہے ۔اسباب اکٹھا کرتےرہے مال جمع کرتے رہے ۔تب کہیں یہاں پہونچے لیکن میں تو بغیر کسی تیاری کے دفعتا یہاں آگیا مجھے اپنے باپ یاد آرہے تھے اور کہتے جاتے تھے ۔" اے بیٹا تم کو مبارک ہو مشیت الہی یہی تھی کہ تم اس کمسنی میں حج سے شرفیاب ہو ۔ تم سیدی احمد التیجانی کے بیٹے ہو بیت اللہ میرے لئے دعا کرنا کہ خدا میری توبہ قبول کرلے اورمجھے (بھی حج کی تو فیق دے ۔
اسی لئے مجھے یہ گمان ہوا کہ رب کعبہ نے مجھے آوازدی ہے اس کی مخصوص عنایت نے مجھے اپنے دامن میں پناہدی ہے اور اس مقام تک مجھے پہونچا دیا جہاں تک پہونچا دیا جہاں تک پہونچنے کی حسرت وتمنا میں ان گنت لوگ موت کی آغوش میں سر رکھ کرابدی نیند سوگئے ہیں ۔لہذا بھلا مجھ سے زیادہ تلبیہ کہنے کا حق کس کو ہے ؟ میری شیفتگی اور والہانہ پن کا عالم یہ تھا کہ نمازوطواف وسعی میں دل وجان سے مشغول ہونے کے ساتھ بے تحاشا آب زمزم بھی پی رہا تھا جبل نور جبل رحمت کی طرف پہونچنے میں لوگ ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے اسی طرح جبل نور پر جو غار حرا ہے اس کے لئے بھی یہی کوشش تھی ۔چنانچہ عشق الہی میں سرشار میں بھی پہونچا اور صرف ایک سو ڈانی جوان کے علاوہ مجھ سے پہلے کوئی نہیں پہونچ سکا ۔پہونچتے ہی میں لوٹنے لگا اور اس طرح جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں لوٹ رہا ہوں اور ان کے انفاس قدسیہ کا استشمام کررہا ہوں ۔ہائے وہ تصورات اور وہ یادیں جنھوں نے میرے دل ودماغ پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے جس کا محو ہونا نقوش حجری کے مٹ جانے سے زیادہ مشکل ہے ۔
خدا کا ایک خاص کرم یہ بھی تھا کہ وفود کے تمام لوگ جو مجھ سے ملتے تھے محبت کرنے لگتے تھے اور خط وکتابت کے لئے میرا پتہ مجھ سے لکھ لیتے تھے ۔ بلکہ خود میرے بعثہ (1) کے لوگ جب ترتیب سفر کے لئے تیونس کے دارالسلطنت میں پہلی مرتبہ ملے تھے تو مجھے ذلیل نظروں سے دیکھ رہے تھے اور میں نے اس بات کو تاڑ
--------------
(1):- بعثہ عربی میں اس کو کہتے ہیں جو لوگ حکومت کی طرف سے وفد کی شکل میں کہیں بھیجے جائیں ۔

15
لیا تھا ۔لیکن جب سادھ لی تھی کیونکہ مجھے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ شمال والے جنوب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اور ان کو پسماندہ خیال کرتے ہیں ۔ مگر اثنائے سفر کا نفرنس ،اور حج میں ان کے نظریات کافی بدل گئے تھے اور اب وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے تھے کیونکہ اسلامی دنیائے سے آئے ہوئے مختلف وفود کے سامنے میں نے ان کے چہرے روشن کردیئے تھے ۔ اپنے حافظہ کے بھروسے پر یاد کئے اشعار قصائد اور مختلف مقابلوں میں جیتے ہوئے میرے انعامات نے ٹیونسی وفد کی عزت بچالی تھی ۔
سعودیہ میں ہمارے قیام کی مدت 25دن تھی ان دنوں میں ہم علماء سے ملتے رہے ان کی تقریریں سنتے رہے اور میں بذات خود بعض وہابی عقیدوں سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا تھا ۔ اور یہ میری دلی آرزو ھتی کہ کاش سارے مسلمان وہابی ہوتے اس مختصر سی مدت میں میں نے یہ باور کرلیا تھا کہ خداوند عالم نے "بیت الحرام " کی حفاظت کے لئے اس فرقہ کو منتخب کیا ہے اس لئے یہ لوگ سب سے زیادہ اعلم سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ ہیں روئے ارض پر ان کا کوئی مثیل ونظیر نہیں ہے ۔ خدانے ان کو سیال سونا دے کر مالدار بنادیا ہے ۔تاکہ یہ لوگ ضیوف الرحمان (یعنی حجاج کرام )کی خدمت کرسکیں ۔
٭
فریضہ حج کی ادایئگی کے بعد جب میں سعودی لباس پہنے ہوئے سر پر عقال باندھے ہوئے اپنے وطن مالوف پہنچا تو میرا بہت ہی شاندار استقبال کیاگیا ۔ اس استقبال کا اہتمام خود اباجانی نے کیا تھا ۔ پورا سٹیشن لوگوں س چھلک رہا تھار کھوے سے کھوا چھل رہاتھا۔ مجمع کے آگے آگے ڈھول ودف لئے ہوئ الطریقہ العیساویہ کے شیخ اور شیخ التیجانیہ شیخ القادریہ تھے ۔۔۔۔۔۔پھر یہ مجمع مجھے اپنے ساتھ لے کر شہر کی سڑکوں پر نعرہ تکبیر اور لا الہ الااللہ کے نعرے لگاتا ہوا چلا جب کسی مسجد سے یہ مجمع گزرتا تھا تو تھوڑی دیر کے لئے اس کے دروازے پر مجھے کھڑا کر دیا جاتا تھا اور چاروں طرف سے لوگ مجھے بوسہ دینے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے ۔خصوصا بڈھے تو مجھے چومتے تھے اور بیت اللہ کی زیارت اور قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقوف کے شوق میں ڈاڑھیں مار مار کر روتے تھے ۔ ان حضرات نے

16
اپنی زندگی میں اتنا کم سن نہ قفصہ نہ غیر قفصہ کہیں بھی نہیں دیکھا تھا ۔
اس وقت میں اپنی زندگی کے سعید ترین ایام گزار رہاتھا ۔شہر کے شریف اور بڑے لوگ ہمارے گھرمبارک باد ی ،سلام ودعا کے لئے آئے تھے ۔ بہت سے خوش عقیدہ حضرات میرے والد کی موجودگی میں مجھ سے دعا کرنے اور فاتحہ پڑھنے کی خواہش بھی کر دیتے تھے جس سے کبھی تو مجھے شرمندگی ہوتی تھی اورکبھی میری ہمت بڑھتی تھی اور میری والدہ مرحومہ کا عالم یہ تھا کہ جب بھی زائر ین گھر سے جاتے تھے وہ فورا حاسدوں کے شر سے بچانے والے اور شیاطین کے کید کو دور کرنے والے تعویذات میرے گلے میں ڈالدیتی تھیں اور بخورات جلادیتی تھیں تاکہ میں ہر قسم کے شر سے محفوظ رہوں ۔اللہ رے ماں کی محبت ۔
اباجانی جنت مکانی مسلسل تین راتوں تک مرزارات تیجانیہ پر چڑھاوے چڑھاتے رہے اور روزانہ ایک دنبہ ذبح کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے ۔اور لوگوں کا عالم یہ تھا کہ چھوٹی سی چھوٹی باتوں کے بارے میں بڑی دلچسپی سے سوال کرتے تھے اور میں زیادہ تر سعودیوں کی تعریف میں رطب اللسان رہتا تھا اور بتاتا تھا کہ ان لوگوں نے نشر اسلام اور مسلمانوں کی نصرت وحمایت کےلئے کیا کیا کارنامے انجام دیئے ہیں ۔
شہر والوں نے میرا لقب "الحاج" رکھ دیا دیا تھا ۔ جب بھی اس لفظ کا استعمال کیا جاتا تھا ۔فورا لوگوں کے ذہنوں میں میرا تصور بھرتا تھا ۔اس کے بعد تو میری شہرت دن دونی رات چوگنی بڑھتی گئی ۔مخصوصا دینی کمیٹوں وغیرہ میں جیسے اخوان المسلمین اور اسی قسم کی دیگر جماعتیں ہیں ۔
اور پھر میرایہ وطیرہ ہوگیا کہ کوچہ کوچہ گلیوں گلیوں خصوصا مسجدوں میں جاکر ضریح کا بوسہ دینے لکڑیوں کو چومنے سے لوگوں کو روکنے لگا ۔ اور اپنی ساری کوشش اس بات پر صرف کرتا تھا کہ لوگوں کو قانع کردوں کہ یہ باتیں شرک ہیں رفتہ رفتہ جب اس میں کامیابی ہونے لگی تو جمعہ کے دن امام کے خطبہ سے پہلے مسجدوں میں دینی دروس بھی کہنے لگا ۔ اور پھر میں "جامع ابی یعقوب "اور جامع کبیر" دونوں میں وقتا فوقتا جانے لگا ۔کیونکہ نمازجمعہ دونوں میں ہوتی تھی ۔ اوریکشنبہ کو جو دروس کہتا تھا اس

17
میں اس کالج کے لڑکے بھی بکثرت شریک ہوتے تھے جس میں ٹیکنا لوجی اور اقتصادیات کے درس کہا کرتا تھا چونکہ میں نے ان کے ذہنوں سے ان پر دوں کو ہٹادیا کرتا تھا جو ملحد قسم کے فلسفی اور مادی وکمیونسٹ اساتذہ ڈال دیا کرتے تھے اس لئے وہ متعجب ہونے کے ساتھ ساتھ میرے احترام کے قائل ہوگئے تھے اور مجھ سے محبت کرنے لگے تھے ۔ چنانچہ یہ طلاب بڑی بے چینی س ان دروس کا انتظار کرتے تھے اور کچھ تومیرے گھر پر بھی آتے تھے کیونکہ میں نے خود بھی بعض دینی کتابوں کو خرید کر باقاعدہ مطالعہ شروع کردیا تھا تاکہ مختلف پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دے سکوں جس سال میں حج سے مشرف ہوا تھا نصف دین (شادی )تو حاصل ہی کرلیا تھا کیونکہ والد ہ مرحومہ کو اپنے مرنے سے پہلے میری شادی کردینے کی خواہش بہت زیادہ تھی ۔ میری والدہ ہی نے اپنے شوہر کی تمام اولاد کی تعلیم وتربیت کی تھی اور سب کی دھوم دھام سے شادی رچائی تھی اس لئے ان کی دلی آرزو میرے بھی دولھا بننے کی تھی ۔چنانچہ خداوند عالم نے انکی مراد پوری کردی کہ میں نے ان کے حکم کے مطابق ایسی الھڑ دوشیزہ سے شادی کی رضامندی دیدی جس کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے دونوں بڑے بیٹوں کی ولادت بھی ان کی زندگی میں ہوگئی اور انھوں نے دنیا کو اس عالم میں چھوڑا ہے کہ مجھ سے راضی تھیں ۔ جیسا کہ دوسال قبل اباجانی بھی دا غ مفارقت دے چکے تھے ۔ لیکن للہ الحمد کہ مرنے سے دوسال قبل حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوچکے تھے ۔" اور توبہ نصوح "بھی کرچکے تھے ۔
اسرائیل سے شکست کھانے کے بعد جب مسلمانوں اور خصوصا عربوں کے حصہ میں جو ذلت ورسوائی آئی اور عرب پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے تھے کہ طوفان کی طرح ایک جوان قائد انقلاب بنکر اٹھا جو صرف اسلام کی بات کرتا تھا لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھاتا تھا اور جس نے لیبیا کے گلے سے غلامی کی زنجروں کو کاٹ دینے کے بعد قدس کی آزادی کا نعرہ دیا تھا ۔ عربی اور اسلامی ممالک کے اکثر نواجوانوں کی طرح میرے دل میں بھی اس جوان سے ملاقات کا شدید جذبہ تھا ۔مزید اطلاع کی حرض نے ہم کو ایک ثقافتی دورہ پر مجبو کیا کہ لیبیا کو قریب سے

18
جاکر دیکھیں ۔چنانچہ ہم نے چالیس تعلیم یافتہ اور مثقف حضرات پر مشتمل ایک وفد انقلاب کے اوائل ہی میں منظم کر لیا اور لیبیا کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے ۔اورجب وہاں سے پلٹے ہیں تو سب ہی کے دلوں میں امت عربیہ اور مسلمہ کے تابناک مستقبل کے چراغ روشن تھے ۔ ان گزشتہ سالوں میں بعض دوستوں کے محبت بھرےخطوط آتے رہے جنھوں نے دوستوں کی ملاقات کے شوق کو تیز تر کردیا ۔اور پھر آخر کار چند دوستوں کے شدید اصرار پر جو اس سفر میں میرے ہمرکاب رہنا چاہتے تھے میں نے رخت سفر باندھ ہی لیا ۔اور ایک لمبے سفر کا پروگرام بنا ڈالا جو تین مہینوں کے شب وروز پر مشتمل تھا ۔اور طے ہوگیا کہ گرمیوں کی چھٹیاں بھی نذر سفر کردی جائیں اسی لئے تین ماہ کا سفر ہوگیا ۔ہمارا پروگرام یہ تھا کہ خشکی کے راستہ سے لیبیا پہونچا جائے وہاں سے مصر وہاں سے سمندری راستہ سے لبنان چلاجائے پھر سوریہ و اردن ہوتے ہوئے سعودیہ میں پڑاو ڈالا جائے سعودیہ کو پروگرام میں دومقصد کی وجہ سے شامل کیا تھا ایک تو عمرہ کرنا مقصود تھا اور دوسرے وہابیت کے نئے عہدوپیمان باندھنے تھے ۔ جس کی میں نے نوجوان طلباء اور مساجد میں آنے والے مسلمانوں اور "اخوان المسلمین "میں بھر پور ترویج کی تھی ۔
٭
میرے شہر سے میری شہرت آس پاس کے دوسرے شہروں تک پہونچنے لگی کیونکہ جب کوئی مسافر نماز جمعہ میں شریک ہوتا تومیرے دروس میں بھی شرکت کرتا تھا ۔ اور واپس جا کر لوگوں کو بتاتا تھا ۔ ہوتے ہوتے یہ خبر "عاصمۃ الجرید" کے شہر توزر کے مشہور صوفی مسلک کے سربراہ شیخ اسماعیل ہادفی تک بھی پہونچ گئی ۔ یہ توزر کے مشہور شاعر ابو القاسم شابانی کا مولد بھی ہے ۔شیخ اسماعیل ہادفی کے مرید تمام ٹیونس کے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔بلکہ ٹیونس کے باہر فرانس وجرمنی تک منتشر ہیں ۔
الشیخ اسماعیل ہادفی کے وہ وکلاء جو شہر قفصہ میں رہتے تھے انھوں نے مجھے بڑے لمبے چوڑے خطوط لکھے جن مین میرے ان مساعی جمیلہ کاشکریہ ادا کیا گیا تھا جو میں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمات کے لئے انجام دئیے تھے ۔اور مجھے یہ بھی بتا یا گیا تھا جو ان چیزوں سے ذرہ برابر تقرب

19
الہی حاصل نہیں ہوسکتا جب تک یہ امور کسی شیخ عارف کے تحت نظر نہ ہوں ۔نیز ان کے یہاں ایک مشہور حدیث ہے اس کی طرف مجھے متوجہ بھی کیا گیا تھا حدیث کا مفہوم یہ ہے "جس کا کوئی شیخ الطریقت نہ ہو اس کا شیخ شیطان ہوتا ہے"انھیں خطوط میں مجھے الشیخ اسماعیل ہادفی کی زیارت کی دعوت بھی دی گئی تھی اور یہ تاکید کی گئی تھی کہ تمہارے لئے ایک شیخ کا ہونا ضروری ہے ورنہ تمہارے پاس نصف علم ناقص ہے مجھے یہ بھی بشارت دی گئی تھی کہ صاحب الزمان (ان لوگوں کی مراد شیخ اسماعیل ہادفی ہے ) نے مجھے تمام لوگوں کے درمیان خاص الخاص قراردیا ہے ۔
اس خوشخبری سے میں جھوم اٹھا ۔خداوند عالم کی اس مخصوص عنایت پر میرا دل بھر آیا ،اور خوشی کے مارے میری آنکھوں نے ساون کا سماں پیش کردیا ۔اور میرے دامن نے ان موتیوں کو اپنے سینے میں چھپا لیا کیونکہ خداوند عالم مسلسل بلند سے بلند تر مقام تک مجھے پہونچا رہا تھا کیونکہ میں نے اپنے ماضی کو سیدی الھادی الحفیان کے نقش قدم کا پیرو بنا تھا اس لئے کہ وہ شیخ وصوفی تھے ۔ ان کی بہت سی کرامتیں اور خوارق عادات چیزیں زبان زد خاص وعام تھیں ۔ اسی لئے (یعنی ان کی پیروی کی وجہ سے ) میں ان کا عزیز ترین دوست تھا اسی طرح میں سیدی صالح سائح او رسیدی جیلانی وغیرہ کا پابند رہا جو معاصرین میں خود صاحب طریقت تھے ۔چنانچہ میں سیدی اسماعیل کی ملاقات کا بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگا (آخر خدا خدا کرکے میری قسمت کا ستارہ چمکا اور ملاقات کی گھڑی آپہونچی ) چنانچہ جب میں الشیخ کے گھر میں داخل ہوا تو بڑی حرص وحسرت سے لوگوں کے چہروں کو پہچاننے کی کوشش کرتارہا ۔ پوری مجلس مریدوں سے کھچا کھچ بھری تھی جس میں ایسے ایسے مشائخ بھی تھے جو بہت ہی سفید قسم کے لباس پہنے تھے ۔مراسم سلام وتحیت کے بعد شیخ اسماعیل نے قدوم میمنت لزوم فرمایا ان کے آتے ہوی پورا مجمع ادب واحترام سے کھڑا ہوگیا اور لوگ ان کے دست مبارک کو بوسہ دینے لگے وکیل نے مجھے ٹہوکا دیا وہ شیخ صاحب ہیں ۔ لیکن میں نے خاص اشتیاق کا اظہار نہیں کیا کیونکہ میں جو چیزیں دیکھیں تھیں میں ان کے علاوہ کا منتظر تھا ۔میں نے تو شیخ کے مریدوں اور وکلاء سے ان کے معجزات وکرامات سنکر ایک عجیب وغریب خیالی تصویر بنالی تھی اور شیخ صاحب کی یہ تصویر اس سے کہیں

20
مختلف تھی اسی لئے کسی اشتیاق کا اظہار نہ کرنا مطابق فطرت تھا ، میں نے ایک عادی قسم کے بوڑھے کودیکھا جس میں نہ وقار ہے ،نہ رعب ودبدبہ ،گفتگوکے دوران وکیل نے مجھے ان کے سامنے پیش کیا انھوں نے مرحبا کہہ کر داہنی طرف بٹھالیا پھر میرے لئے کھانا لایا گیا ۔ کھانے پینے کے بعد دوبارہ وکیل نے شیخ سے میرا تعارف کرایا تاکہ عہد وپیمان لیا جاسکے ۔اس کے بعد لوگ مجھ سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگے اور ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ لوگ میرے بارے میں خاصی معلومات رکھتے ہیں اور اسی خوش فہمی نے مجھ میں یہ جراءت پیدا کردی کہ سوال کرنیوالوں کے جو جوابات شیخ دے رہے تھے ان جوابات پر اعتراض کروں اور اپنی رائے کو قران وسنت سے ثابت کروں ۔لیکن میرے اس دخل درمعقولات کو بعض حضرات نے شدت سے ناپسند کیا اور حضرت شیخ کی موجودگی میں اس کو بے ادبی سمجھا گیا ۔کیونکہ وہ لوگ اس بات کے عادی تھے کہ شیخ کی موجودگی میں کوئی بھی شیخ کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھول سکتا ۔شیخ نے حاضریں کی اس بدمزگی کو محسوس کر لیا لہذا بڑی ذہانت سے افسردگی کے بادل کو یہ اعلان کرکے دور کردیا کہ جس کی ابتدا محرقہ (جلانے والی )ہوگی اس کی انتہا مشرقہ (روشن وتابناک) ہوگی ۔ حاضرین نے سمجھا کہ یہ شیخ کی طرف سے لقب ہے ۔اور میرےمستقبل کے تابناک ہونے کی ضمانت ہے بس پھر کیا تھا سب ہی بطیب خاطر تبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔مگر شیخ الطریقت بہت ہی ذہین وتجر بہ کار تھے ۔اس لئے بعض عرفاء کا قصہ سنانے لگے ۔ تاکہ میں پھر کہیں بیجا مداخلت نہ کربیٹھوں کہ ان بزرگوار کی مجلس میں بعض علماء بھی آکر بیٹھ گئے تو عارف نے کہا: پہلے جاکر غسل کرو چنانچہ وہ مولانا غسل کرکے آئے اور مجلس میں بیٹھنا ہی چاہتے تھے کہ کہ عارف نے کہا جاؤ پھر سے غسل کرکے آؤ ! وہ مولانا دوبارہ غسل کرنے گئے تو اپنے حساب سے بہت اچھا غسل کیا یہ سوچ کر کہ شاید پہلے میں کوئی کمی رہ گئی ہو اس کے بعد اگر مجلس میں بیٹھنے لگے تو شیخ عارف باللہ نے جھڑکا اور فرمایا پھر ے غسل کرکے آو ! وہ مولانا صاحب رونے لگے اورکہنے لگے : سیدی میں نے اپنے علم واپنے عمل کے مطابق غسل کیا اب اس سے آگے مجھے کچھ نہیں معلوم بجز اس کے کہ

21
خدا آپ کے ذریعہ کچھ کشف کردے اس وقت عارف نے کہا : اچھا اب بیٹھو !
میں سمجھ گیا کہ اس قصہ سے میں ہی مقصود ہوں اور میں ہی کیا حاضرین بھی سمجھ گئے چنانچہ جب شیخ استراحت فرمانے کے لئے چلے گئے تو ان لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور مجھے ملامت کرنے لگے جناب شیخ کی موجودگی میں ان کا احترام اور خاموشی ضروری ہے ورنہ تمہارے سارے اعمال اکارت ہوجائیں گے ۔ کیا تم نے قرآن کا یہ قول نہیں پڑھا :
"یاایھا الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون "( پ 26 س 49 حجرات آیت 2)
اے ایمان والو! (بولنے میں )تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں زور (زور ) سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو ) کہ تمہارا کیا کرایا سب اکارت ہوجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
میں نے اپنی حیثیت پہچان لی اور پھر تمام اوامر ونصائح کو پابندی سے بجا لانے لگا اور اس وجہ سے شیخ نے مجھے اپنے سے اور زیادہ قریب کرلیا ۔ میں ان کے پاس تین دن رہا اس دوران میں نے متعدد سوالات بھی کئے کچھ تو امتحانا اور کچھ استعلاما ۔ شیخ اس بات کو سمجھتے تھے اور کہہ دیتے تھے قرآن بھی کا ظاہر اور ہے باطن اور ! قرآن کے سات سات باطن ہیں ۔خدا نے اس کے خزانے میرے اوپر کھول دیئے ہیں اور مخصوص چیزوں پر مجھے مطلع کردیا ہے اور صالحین وعارفین کا سلسلہ سند ہے اور مجھ سے ابو الحسن شاذلی تک مفصل ہے ان سے چند اولیاء کے واسطہ سے یہ سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہ تک پہنچتا ہے ۔
ایک بات بھول نہ جاوں جو حلقات ذکر قائم کئے جاتے ہیں وہ سب روحانی ہوتے تھے کیونکہ جلسہ کا آغاز شیخ تلاوت قرآن مجید سے تجوید کےساتھ کرتے تھے تلاوت کے بعد کسی قصیدہ کا مطلع پڑھ دیتے اور پھروہ مرید حضرات جن کو قصائد واذکار کا یاد ہوتے تھے شیخ کے بعد پڑھتے تھے

22
ان قصیدوں میں زیادہ تر دنیا کی مذمت اور آخرت کی طرف رغبت دلائی جاتی تھی ۔ اس میں زہد ،ورع کا تذکرہ ہوتا تھا ، اس کے بعد شیخ کی داہنی طرف جو مرید بیٹھا ہوتا تھا ،وہ قرآن کی تلاوت کا اعادہ کرتا تھا اورجب وہ "صدق اللہ العظیم" کہتا تھا تو شیخ کسی نئے قصیدہ کا مطلع شروع کردئیے تھے اور پھر سب مل کر اس کو پڑھتے تھے ۔ اسی طرح نوبت بہ نوبت تمام حاضرین پڑھتے تھے ، وہ ایک ہی آیت پڑھیں اورپھر سب کو حال آنے لگتا تھا اور جھومنے لگتے تھے ، ایک ایک شعر پر جھومتے تھے اور پھر شیخ کھڑے ہوجاتے تھے ان کے ساتھ ہی پورا مجمع کھڑا ہوجاتا تھا ۔
اور سب ایک دائرہ قطب میں ہوجاتے تھے ۔ اور اس دائرہ کا قطب شیخ ہوتے تھے ۔اور پھر صدر کے نام سے ابتداء کرکے آہ ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔آہ کہنا شروع کردیتے تھے اور شیخ بیج میں گھومتے رہتے تھے ۔
ہر مرتبہ ایک کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور ہوتے ہوتے جب محفل رنگ پرآجاتی تھی تو عاشقانہ اشعار ڈھول پیٹ پیٹ کر پڑھے جاتے تھے اوربعضوں کی وہ اچھل کود شروع ہوجاتی تھی جیسے یہ پاگل ہے اور ایک منظم نغمہ کےساتھ آوازیں بلند ہونے لگتی تھیں ۔ اورجب سب تھک جاتے تھے تو پھر پہلا جیسا سکوت وھدؤ طاری ہوجاتا تھا ۔لیکن یہ سکوت شیخ کے اختتامی قصیدہ پر ہوتا اور پھر تمام لوگ شیخ کے سر وکندھوں کو باری باری بوسہ دے کربیٹھ جاتے تھے ۔میں بعض حلقات میں شریک ہواہوں ان کی نقل تو میں نے کی لیکن میں اس پر مطمئن نہیں تھا کیونکہ یہ چیزمیرے اس عقیدہ کے خلاف تھی جو بچپن سے میرے ذہن میں راسخ تھا ۔ یعنی شرک "عدم شرک" اور عدم توسل" بغیراللہ ۔چنانچہ میں روتے روتے زمین پر گر پڑا ۔متحیر تھا اور ان دونوں متناقض عقیدوں میں میرا ذہن کام نہیں کررہا تھا (یعنی ) ایک طرف تو صوفیت کا بحر ذخار تھا جس کی پوری فضا روحانی تھی جس میں انسان کی گہرا ئیوں میں خوف ،زہد تقرب الی اللہ کا شعور پیدا ہوتا ہے البتہ یہ خدا کے صالح اور عارف بندوں کے وساطت سے ہوتا ہے ۔اور دوسری طرف وہابیت کا وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی پوری فضا میں ہر جگہ کفر ہی کفر ہے ۔

23
جس نے یہ بتایا ہے کہ یہ ساری چیزیں شرک ہیں اور خدا شرک کو کبھی نہیں معاف کرتا ۔اورجب محمد رسول اللہ کسی کو نفع نہیں پہونچا سکتے اور نہ بارگاہ ایزدی میں ان کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے ۔تو پھر ان اولیاء ،صالحین کی کیا قدر وقیمت ہے ؟
شیخ کی طرف سے جدید منصب پر فائز ہوجانے کے باوجود ۔۔۔۔کیونکہ شیخ نے مجھے قفصہ میں اپنا وکیل بنادیا تھا۔۔۔۔۔۔میں اندر ونی طور پر کلیہ مطمئن نہیں تھا اگر چہ یمن کبھی تو صوفیت کی طرف مائل ہوجاتا تھا اور ہمیشہ اس کا احساس رہتا تھا کہ میں صوفیت کا احترام کرتاہوں اولیاء اللہ اور صالحین کی ہیت میرے رگ وریشہ میں سمائی ہے لیکن پھر خود ہی تردید کردیتا تھا کہ خدا فرماتا ہے "ولا تدع مع اللہ الھا آخر لا الہ الّا ھو " (1)
اور خدا کے سوا کسی اور معبود کی پرستش نہ کرنا ۔اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں "
اور جب کوئی مجھ سے کہتا تھا خدا کا ارشاد ہے :
یا ایھا الذین آمنوا اتقواللہ وابتغوا الیہ الوسیلہ (2)
اے ایماندارو ! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کے تقرب کے ذریعہ (وسیلہ ) کی جستجو میں رہو ۔ تو میں فورا رد کردیتا تھا کہ وسیلہ سے مراد عمل صالح ہے جیسا کہ سعودی علماء نے مجھے سکھایا تھا ۔ خلاصہ یہ کہ اس زمانہ میں مضطرب اورپریشان فکر رہتا تھا۔ کبھی کبھی میرے گھر بعض مرید حضرات آجاتے تھے تو ہم شب بیداری کرتے تھے اور عمارۃ قائم کرتے تھے ((یعنی ایسے حلقہ قائم کرتے تھے جس میں عاشقانہ اشعار کے ساتھ اسم الصدر کاذکر کیا جاتا تھا))
شب بیداریوں میں ہمارے حلقوم سے جو بے ہنگم آوازیں نکلتی تھیں ان سے ہمسایوں کو اذیت ہوتی مگروہ علی الاعلان ہم سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے البتہ ہماری بیوی سے اپنی عورتوں
--------------
(1):- پارہ نمبر20 سورہ28(قصقص)آیت 88
(2):- پارہ نمبر 6 سورہ 5 (مائدہ)آیت 35

24
کے ذریعے شکایت کرتے تھے ۔ جب مجھے ان حالات کا علم ہوا تو شریک ہونے والے لوگوں سے میں نے کہا یہ حلقات ذکر آپ میں سے کسی کے گھر ہوا کریں تو بہتر ہے کیونکہ میں تقریبا تین ماہ کے لئے ملک سے باہر جانے والا ہوں یہ کہہ کر میں نے مریدوں سے معذرت کرلی ۔۔۔۔اس کے بعد اہل وعیال ،اقارب رشتہ داروں کو خدا حافظ کہہ کر اپنے خدا پر بھروسہ کر کے نکل کھڑا ہوا ۔۔۔۔ لا اشرک بہ شیئا


*****