پھر میں ہدایت پاگیا
 

9

میری زندگی کے مختصر لمحات
میری یادوں کی کڑیوں میں یہ بات ابھی تک بہت اچھی طرح سے محفوظ ہے کہ میری عمر یہی کوئی دس 10 سال کی رہی ہوگی ۔جب ماہ مبارک رمضان میں میرے والد ماجد مجھے نماز تراویح کے لئے محلہ کی مسجد میں اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے نمازیوں کی صف میں کھڑا کردیا فطری بات ہے لوگوں کو یہ دیکھ کربہت تعجب ہو ۔ چند دنوں سے یہ بات بھی سمجھ گیا تھا کہ میرے معلم نے کچھ اس طرح کے انتظامات کررکھے ہیں جس سے دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ نماز تراویح بھی پڑھ لوں ۔ویسے میری عادت یہ بن گئی تھی کہ محلہ کے ہم سن بچوں کو نماز جماعت پڑھا تا تھا ۔ اور اس انتظار میں رہا کرتا تھا کہ امام جماعت قرآن کے نصف آخر (یعنی سورہ مریم )تک پہونچے ۔
چونکہ میرے اباجا نی جنت مکانی کی دلی آرزو تھی کہ مدرسہ کے علاوہ گھر میں بھی راتوں کو بعض اوقات میں قرآن کی تعلیم حاصل کیا کروں جن میں مسجد جامع کے امام اقامت پذیر ہوئے تھے ۔ یہ امام جماعت نابینا تھے اور میرے رشتہ دار بھی تھے ۔ اور حافظ قرآن تھے ۔ اور میں نے اس سن وسال میں نصف قرآن حفظ کرلیا تھا جب عموما بچے غم دوراں اور غم جاناں سے بے فکر ہو کر زندگی کا سرمایہ کھیل کود کو سمجھتے ہیں ۔اس لئے میرے معلم نے اپنے فضل واجتہاد کا سکہ بٹھانے کیلئے مجھے منتخب کیا اور مجھے تلاوت کے رکوع وغیرہ نہ صرف بتائے بلکہ باربار پوچھ کر ذہن نشین بھی کرادیئے ۔۔۔۔۔اور پھر جب میں نماز جماعت وتلاوت کے امتحان میں اپنے والد ومعلم کی توقع سے کہیں زیادہ ممتاز نمبروں سے کامیاب ہوگیا تو لوگ مجھے پیار کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور میری تعریف کے ساتھ معلم کو شکریہ اور ابا جانی کوتبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔اور سب یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے ۔ یہ سب (شیخ صاحب کی برکتیں ہیں )
پھر کچھ دنوں میں میں نے بڑی ہنسی خوشی کے دن گزارے اور وہ مسرت آفریں لمحات میرے ذہن پر چھائے رہے ۔ کیونکہ میری زندگی کا یہ ایسا مسرت آگیں زمانہ تھا جس سے میں دوچار ہوا تھا جس کو بھلانے پر میں قادر نہیں تھا ۔

10
میری شہرت وکامیابی کا ڈنکا میرے محلہ سے نکل کر پورے شہر میں بج رہا تھا ۔ اور رمضان المبارک کی ان متبرک راتوں نے میری زندگی پر ایسا مذہبی چھاپ لگایا جس کے نشانات آج تک باقی ہیں کیونکہ جب بھی شاہراہ سے کوچے گلیاں سڑکیں نکل کر مجھے راستوں کے چکر میں الجھانا چاہتی ہیں ایک غیر مرئی طاقت مجھے کھینچ کر پھر شاہراہ پر پہونچا دیتی ہے اور جب کبھی مجھے اپنی شخصیت کے ضعف وناتوانی اور زندگی کے بے مائیگی کا احساس ہونے لگتاہے ۔میری یہی ((ماضی کی یادیں )) اعلی روحانی درجات تک مجھے بلند کردیتی ہیں اور میرے ضمیر میں ایسا شعلہ ایمان روشن کردیتی ہیں جس سے زندگی کی ذمہ داریوں کے سنبھالنے کا جذبہ پھر ابھرآتا ہے ۔
یہ وہی مسئولیت وذمہ داری کا بوجھ ہے جس کو میرے والد نے میرے کاندھے پر ڈالا تھا یا یوں کہوں کہ اس کھلنڈرے پن کے زمانہ میں امام جماعت کابار جو میرے معلم نے میرے اوپر ڈالا تھا مجھے برابر ان کا احساس رہتا ہے ۔کہ جس مقام تک میں پہونچنا چاہتا تھا وہاں تک نہ پہونچنے میں میری کمی ہے ۔یا کم از کم جس منزل کا خواب ان بزرگوں نے دیکھا تھا اس تک نہ پہونچے میں میری انپی کوتاہی ہے ۔
اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا بچپنا اور جوانی نسبتا بہت اچھی گزاری اس میں لہو اور عبث کا عنصر بھی تھا لیکن زیادہ تر تقلید اور اطلاع کا جذبہ غالب تھا ۔پرور دگار کی عنایت مجھے اپنے حفظ وامان میں لئے ہوئے تھی ۔ اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ متین اور خاموش گناہوں میں نہ ڈوبنے والا تھا ۔
یہ بھی ذکر تا چلوں کہ میری زندگی بنانے میں میری والدہ مرحومہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔آنکھ کھولتے ہی نماز وطہارت کی طرح مجھے قرآن کریم کے چھوٹے چھوٹے سورے یاد کرائے ۔ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے ضرورت سے زیادہ میرا خیال رکھتی تھیں حالانکہ اسی گھر میں ان کی ایک سوٹ مدتوں پہلے سےرہتی تھیں ان کی اولادیں میری والدہ مرحومہ کے ہم سن تھیں لیکن مرحومہ میری تعلیم وتربیت کرکے خود تسلی دے لیتی تھیں گویا کہ اپنی سوت اور شوہر کے لڑکوں سے مقابلہ کررہی ہوں ۔

11

کچھ اپنے نام کے بارے میں
میرا نام تیجانی رکھنے کی علت یہ ہوئی کہ سماوی خاندان میں اس لفظ کی بڑی اہمیت تھی ۔ قصہ دراصل یہ ہے کہ جب الجزائر کی واپسی میں الشیخ سید احمد التیجانی کے لڑکے شہر قفصہ میں "دار السماوی " کے مہمان ہوئے اسی وقت سے شہر کی اکثریت نے اس طریقہ کو قبول کرلیا خصوصا علمی اور مالدار گھرانوں کے تمام افراد اسی طریقہ تیجانیہ کے حلقہ بگوش ہوگئے ۔ اور سماوی فیملی تو پوری کی پوری اسی طریقہ تیجانیہ پر کاربند ہوگئی اسی لئے میری والدہ مرحومہ نے میرانام تیجانی رکھ دیا ۔ اور اپنے اسی نام کی وجہ سے میں "دارالسماوی " میں محبوب ہوگیا ۔ جس میں بیس 20 سے زیادہ خاندان آباد تھے اور یہاں سے باہر بھی میری شہرت ان تمام لوگوں میں ہوگئی ۔جنکو طریقہ تیجانیہ سے محبت وعقیدت تھی اور یہی وجہ ہے کہ جس ماہ مبارک کی راتوں کامیں نے تذکرہ کیا ہے تمام نمازی میرے سرکابوسہ لیتے تھے ۔ اور تاتھوں کو چومتے ہوئے کہتے جاتے تھے ۔"یہ سب الشیخ احمد التیجانی " کی برکتوں کا فیض ہے " اورسب لوگ میرے والد ماجد کو مبارک باد بھی پیش کررہے تھے ۔
ایک بات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ" طریقہ تیجانیہ " مغرب الجزائر ٹیونس ،لیبیا ،سوڈان ،مصر میں بہت ہی مشہور ہے اور اس کے ماننے والے ایک حد تک متعصب بھی ہیں ۔ یہ لوگ دوسرے اولیائے کرام کی زیارت نہیں کرتے ۔اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جتنے بھی اولیاء اللہ ہیں سب نے ایک دوسرے سے سلسلہ وار اخذ علوم ہے صرف الشیخ احمد التیجانی ایسے ولی ہیں جنھوں نے براہ راست رسول خدا سے اخذ کیا ہے ۔
حالانکہ شیخ کا زمانہ نبوت سے تیرہ سو 1300 سال کے بعد کا ہے ۔نیز یہ لوگ روایت کرتے ہیں کہ الشیخ احمد التیجانی بیان کرتے تھے کہ رسول خدا عالم بیداری میں میرے پاس تشریف لائے تھے نہ کہ عالم خواب میں یہ اوریہ بھی کہتے ہیں وہ مکمل نماز جس کو ان کے شیخ نے تالیف کیا ہے وہ چالیس40

12
ختم قرآن سے افضل ہے ۔
ہم دائرہ اختصار سے خارج نہ ہوجائیں اس لئے تیجانیہ طریقہ ےک ذکر کو یہیں پرختم کرتے ہیں ۔ اور انشااللہ اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ اس کا پھر ذکر کروں گا ۔
میں بھی دوسرے جوانوں کی طرح انھیں عقائد کو سینہ سےلگائے بچپنے کی دہلیز سے نکل کر جوانی کی منزل میں داخل ہوا ۔اورالحمداللہ ہم سب مسلمان ہیں اور اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اور مدینہ منورہ ےک امام حضرت مالک بن انس کے مذہب کی پیروی کرتے ہیں البتہ اس میں التیجانیہ ،القادریہ ،الرحمانیہ ، السلامیہ، العیاویہ ، سلسلے موجود ہیں اور ہر ایک کے ماننے والے بھی ہیں اور ختم قرآن رسم ختنہ ،کا میابی ایفائے نذر وغیرہ کے سلسلے میں جو محفلیں یارت جگے ہوتے ہوتے ہیں ان میں ہر سلسلے کے قصائد ،اذکار ،اوراد پڑھے جاتے ہیں ان صوفی سلسلوں نے دینی شعائر اور اولیائے کرام وصالحین کے احترام کی بقاء میں بہت ہی اہم رول ادا کئے ہیں ۔