المیہ جمعرات
 

316

غدر معاویہ کے دیگر نمونے
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انسانی قدروں کو پامال کرنےمیں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا ۔
اس نے حضرت مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی نے انہیں محمد بن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقررکیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے ‎سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کردیا تو تیری زمین کا خراج نہیں لیا جائے گا ۔
چنانچہ جب حضرت مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا ۔جس کی وجہ سے حضرت ومالک شہید ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو بن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کردے تو اسے گراں قدر انعام دیاجائے گا اور اس کی شادی یزید سے کی جائے گی ۔
امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کی انگیخت پر انہیں زہر دیا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے ۔
مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضرا ء
سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی ۔آواز سن کر معاویہ فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی

317
اطلا ع ملی ہے ۔ اسی لئے میں نے باآواز بلند تکبیر کہی ہے ۔(1)

زیاد بن ابیہ کا الحاق
زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا ۔ معاویہ اپنی شاطرانہ سیاست کے لئے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑ کر میرے پاس آجاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو ۔
زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا ۔اسی لئے لوگ اسے زیاد بن ابیہ ۔یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔
حضرت علی علیہ السلام کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہا ہے ۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ شیطان ہے جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے غافل پاکر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے ۔واقعہ یہ ہے کہ عمر بن خطاب کے زمانہ میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطان وسوسوں میں سے ایک وسوسہ تھی ۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے ۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم مے نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے (2)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد دوم ۔ص 307
(2):- نہج البلاغہ مکتوب 44

318
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ :-
40 ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپن بھائی بنا لیا اور گواہی کے لئے زیاد بن اسماء مالک بن ربیعہ اور منذر بن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے ۔اور ان کے بعد ابومریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بن کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی طائف کے محلہ "حارۃ البغایا" میں بدنام زندگی گزار تی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آکر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا ۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لئے کوئی عورت تلاش کرکے لے آؤ ۔
میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوتی ۔ تو میں نے ابو سفیان کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی ۔ تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی تم لاؤ ۔
چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا اور اسی رات کے نطفہ سے زیادکی پیدائش ہوئی ۔ اسی لئے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ معاویہ کا بھائی ہے ۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس بن عبید نے کھڑے ہو کر کہا ۔
معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ " بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں " اور تو فیصلہ کررہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے ۔یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے ۔عبدالرحمن بن ام الحکم نے اس واقعہ کو دیکھ کریہ شعر کہے تھے :-

319
الا بلغ معاویہ بن حرب ۔۔۔ مغلغۃ من الرجل الیمانی
اتغضب ان یقال ابوک عف--- وترضی ان یقال ابوک زانی
فاشھد ان رحمک من زیاد ۔۔۔ کرحم الفیل من ولد الاتان
" ایک یمنی آدمی کا پیغام معاویہ بن حرب کو پہنچادو ۔ کیا تم اس بات پر غصّہ ہوتے ہو کہ تمہارے باپ کو پاک باز کہا جائے اور اس پر خوش ہوتے ہو کہ اسے زانی کہا جائے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا زیاد سے وہی رشتہ ہے جو ہاتھی کا گدھی کے بچے سے ہوتا ہے ۔"
ابن ابی الحدید نے اپنے نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :
"جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح وبلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا ۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ گزرے ہیں ؟
تو لوگوں نے اسے بتایا زیاد بن ابی سفیان اپنے مصاحبین کے ساتھ گزرا ہے ۔ تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ،معاویہ ،عتبہ، عنبہ ،حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں ۔ یہ زیاد کہاں سے آگیا ؟
اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا ۔کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیاکہ تم اسے ‎سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کردو۔
زیاد نے دوسو دینار اس کے پاس روانہ کئے ۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا ۔
نابینا ابو العریان اسلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے (1)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص 68

320
حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لئے کافی تھی ۔
1:- امت کے دنیا طلب جہال کو ساتھ ملاکر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے ۔
2:- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا ۔
3:- زیاد کو اپنا بھائی بنایا ۔ جب کہ رسول خدا کا فرمان ہے کہ لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔
4:- حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا (1)۔

اقوال معاویہ
معاویہ نے اپنی مرض موت میں یزید کو بلایا اور کہا کہ دیکھو میں نے تمہارے لئے زمین ہموار کردی ہے ار سرکشان عرب وعجم کی گردنوں کو تمہارے لئے جھکا دیا ہے اور میں نے تیرے لئے وہ کچھ کیا جو کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کے لئے نہیں کرسکتا ۔مجھے اندیشہ ہے کہ امر خلافت کے لئے قریش کے یہ چار افراد حسین بن علی ۔عبداللہ بن عمر ،عبدالرحمن بن ابو بکر اور عبداللہ بن زبیر تیری مخالفت کریں گے ۔
ابن عمر سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر باقی لوگ بیعت کرلیں گے تو وہ بھی تیری بیعت کرے گا ۔
حسین بن علی کو عراق کے لوگ اس کے گھر سے نکالیں گے اور تجھے ان سے جنگ کرنا پڑے گی ۔
عبد الرحمن بن ابو بکر کی ذاتی رائے نہیں ہے وہ وہی کچھ کرے گا جو اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 248

321
کے دوست کریں گے ، وہ لہو ولعب اور عورتوں کا دلدادہ ہے ۔ لیکن ابن زبیر سے بچنا وہ شیر کی طرح تجھ پر حملہ کرے گا اور لومڑی کی طرح تجھے چال بازی کرے گا ۔ اگر تم اس پر قابو پاؤ تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردینا (1)۔
2:- طبری نے مختلف اسناد سے ابو مسعودہ فرازی کی روایت نقل کی ہے کہ :- معاویہ نے مجھ سے کہا :- ابن مسعدہ ! اللہ ابو بکر پر رحم کرے نہ تو اس نے دنیا کو طلب کیا اور نہ ہی دنیا نے اسے طلب کیا اور ابن حنتمہ کو دنیا نے چاہا لیکن اس نے دنیا کو نہ چاہا ۔عثمان نے دنیا طلب کی اور دنیا نے عثمان کو طلب کیا اور جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم تو دنیا میں لوٹ پوٹ چکے ہیں ۔
3:- جب معاویہ کی سازش سے حضرت مالک اشتر شہید ہوگئے تو معاویہ نے کہا! علی کے دو بازو تھے ایک ( عمّار یاسر) کو میں نے صفین میں کاٹ دیا اور دوسرے بازو کو میں نے آج کاٹ ڈالا ہے ۔
4:-معاویہ کو رسولخدا (ص) نے بد دعا دی تھی کہ اللہ اس کے شکم کو نہ بھرے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا نے پورا اثر دکھایا تھا ۔ چنانچہ معاویہ دن میں سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ خدا کی قسم پیٹ نہیں بھرا البتہ میں کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں ۔

بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ
ہم اپنی کتاب کا اختتام بنی ہاشم اور بنی امیہ کے باہمی فرق کے بیان پر کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہم نے حضرت علی علیہ السلام کے ایک خط کا نہج البلاغہ سے انتخاب کیا ہے ۔ یہ خط آپ نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا اور اس کے متعلق جامع نہج البلاغہ سید رضی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص 259-260

322
ہیں کہ :- " یہ مکتوب امیر المومنین کے بہتر ین مکتوبات میں سے ہے ۔"
" تمہارا خط پہنچا ۔تم نے اس میں ذکر کیا ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دین کے لئے منتخب فرمایا اور تائید ونصرت کرنے والے ساتھیوں کے ذریعے ان کو قوت وتوانائی بخشی ۔
زمانہ نے تمہارے عجائبات پر اب تک پردہ ہی ڈالے رکھا تھا جو یوں ظاہر ہورہے ہیں کہ تم ہمیں ہی خبر دے رہے ہو ۔ ان احسانات کی جو خود ہمیں پر ہوئے ہیں اور اس نعمت کی جو ہمارے رسول (ص) کے ذریعے ہم پر ہوئی ہے ۔اس طرح تم ویسے ٹھہرے جیسے "ہجر"(1) کی طرف کھجوریں لاد کر جانے والا یا اپنے استاد کو تیر اندازی کی دعوت دینے والا ۔
تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام میں سب سے افضل فلاں اور فلاں (ابو بکر وعم) ہیں ۔یہ تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر صحیح ہو تو تمہارا اس سے واسطہ نہیں اور غلط ہو تو تمہارا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔
اور بھلا تم کہاں اور یہ بحث کہاں ؟ افضل کون ہے اور غیر افضل کون ہے ۔ حاکم کون ہے اور رعایا کون ہے ؟
بھلا ۔"طلقاء" (آزاد کردہ لوگوں ) اور ان کے بیٹوں کو یہ حق کہاں ہوسکتا ہے کہ وہ مہاجرین اولین کے درمیان امتیاز کرنے ان کے درجے ٹھہرانے اور ان کے طبقے پہنچوانے بیٹھیں ؟
کتنا نامناسب ہے کہ جو ئے کے تیروں میں نقلی تیر آواز دینے لگے اور کسی معاملہ میں وہ فیصلہ کرنے بیٹھ جس کے خود خلاف ۔بہر حال اس میں فیصلہ ہوتا ہے ۔
اسے شخص ! تو اپنے پیر کے لنگ کو دیکھتے ہوئے اپنی حد پر ٹھہرتا کیوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- "ہجر" ایک جگہ کا نام ہے جہاں کجھوریں بکثرت ہوتی ہیں ۔

323
نہیں اور اپنی کوتاہ دستی کو سمجھتا کیوں نہیں اور پیچھے ہٹ کر رکتا کیوں نہیں ؟
جبکہ قضا وقدر کا فیصلہ تجھے پیچھے ہٹا چکا ہے ۔آخر تجھے کسی مطلوب کی شکست سے اور فاتح کی کامرانی سے سروکار ہی کیا ہے ؟
تمہیں محسوس ہونا چاہئیے کہ تم حیرت وسرگشتگی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہو اور راہ راست سے منحرف ہو ۔آخر تم نہیں دیکھتے اور یہ میں جو کہتا ہوں ۔ تمہیں کوئی اطلاع دینا نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا ہے کہ مہاجرین و انصار اکا ایک گروہ خدا کی راہ میں شہید ہوا اور سب کے لئے فضیلت کا ایک درجہ ہے ۔مگر جب ہم میں سے شہید نے جام شہادت پیا تو اسے سید الشہدا کہا گیا (1)
اور پیغمبر نے صرف اسے یہ خصوصیت بخشی کہ اس کی جنازہ میں ستر تکبیریں کہیں اور کیا تم نہیں دیکھتے کہ بہت لوگوں کے ہاتھ خدا کی راہ میں کاٹے گئے اور ہر ایک کے لئے ایک حد تک فضیلت ہے مگر جب ہمارے آدمی کے ساتھ یہی ہوا جو اوروں کے ساتھ ہوچکا تھا تو اسے " الطیار فی الجنۃ" (جنت میں پرواز کرنے والا) اور "ذوالجناحین " (دو پروں والا) کہا گیا (2)
اور اگر خدا نے خود ثنائی سے روکا نہ ہوتا تو بیان کرنے والا اپنے وہ فضائل بیان کرتا کہو مومنوں کے دل جن کا اعتراف کرتے ہیں اور سننے والوں کے کان انہیں اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتے ۔ایسوں کا ذکر کیوں کرو جن کا تیر نشانوں سے خطا کرنے والا ہے ۔
ہم وہ ہیں براہ راست اللہ سے نعمتیں لے کر پروان چڑھے ہیں اور دوسرے ہمارے احسان پروردہ ہیں ۔ ہم نے اپنی نسل بعد نسلی چلی آنے والی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- رسول خدا نے حضرت حمزہ کو سید الشہدا کا لقب دیا تھا ۔
(2):- حضرت علی کے بڑے بھائی حضرت جعفر کے دونوں بازو جنگ موتہ میں قلم ہوئے تھے تو رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا : میں نے جعفر کو دیکھا کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہا ہے ۔ اللہ نے اسے دو زمرد کے پر عطا کئے ہیں ۔

324
عزت اور تمہارے خاندان پر قدیمی برتری کے باوجود کوئی خیال نہ کیا اور تم سے میل جول رکھا اور برابر والوں کی طرح رشتے دیئے لئے حالانکہ تم اس منزلت پر نہ تھے ۔
اور تم ہمارے برابر ہوکیسے سکتے ہو جب کہ ہم میں نبی ہیں اور تم میں جھٹلانے والا (1)۔ اور ہم میں اسد اللہ اور تم میں اسد الاحلاف (2)۔ اور ہم میں دو سردار جوانان اہل جنت اور تم میں جہنمی لڑکے (3) ۔ہم میں سردار زنان عالمیان اور تم میں "حمّالۃ الحطب"(4)
اور ایسی ہی بہت سی باتیں جو ہماری بلندی اور تمہاری پستی کی آئنہ دار ہیں ۔چنانچہ ہمارا ظہور ۔اسلام کے بعد کا دور بھی وہ ہے جس کی شہرت ہے اور جاہلیت کے دور کابھی ہمارا امتیار ناقابل انکار ہے اور اس کے باوجود جورہ جائے وہ اللہ کی کتاب ہمارے لئے جامع الفاظ میں بتا دیتی ہے ۔ ارشاد الہی ہے : "قرابت دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "
اور دوسری جگہ پرارشاد فرمایا :-
"ابراہیم کے زیادہ حقدار وہ لوگ تھے۔ جو ان کے پیروکار تھے اور یہ نبی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- جھٹلانے والوں میں سر فہرست معاویہ کاباپ ابو سفیان تھا ۔
(2):- رسول خدا(ص) نے حضرت حمزہ کو "اسد اللہ" (اللہ کا شیر ) کا لقب دیا تھا اور معاویہ کا نانا عتبہ بن ربیعہ "اسد الاحلاف" ہونے پر نازاں تھا ۔یعنی حلف اٹھانے والی جماعت کا شیر ۔
(3):- امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے " الحسن والحسین سید الشاب اھل الجنۃ " حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ اور جہنمی لڑکوں س مراد عتبہ بن ابی معیط کے لڑکوں کی طرف اشارہ ہے ۔ پیغمبر اکرم نے عتبہ سے کہا تھا ۔ :-لک ولھم النار " تیرے اور تیرے لڑکوں کے لئے جہنم ہے ۔
(4):- حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے لئے رسول خدا (ص) کا فرمان ہے :-"الفاطمۃ سیدۃ نساء العالمین " فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہے " حمّالۃ الحطب "معاویہ کی پھوپھی ام جمیل بنت حرب ہے جو کہ ابو لہب کے گھر میں تھی اور یہ کانٹے جمع کرکے رسول خدا کی راہ میں بچھایا کرتی تھی ۔قرآن مجید میں ابو لہب کے ساتھ اس کا تذکرہ ان لفظوں میں ہے :- سیصلی نارا ذات لھب وامراتہ حمّالۃ الحطب " وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں داخل ہو گا اور اس کی بیوی لکڑیوں کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہے ۔

325
اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اللہ بھی ایمان والوں کا سرپرست ہے ۔"
تو ہمیں قرابت کی وجہ سے بھی دوسروں پر فوقیت حاصل ہے اور اطاعت کے لحاظ سے بھی ہمارا حق فائق ہے ۔
اور سقیفہ کے دن جب مہاجرین نے رسول (ص) کی قرابت کو استدلال میں پیش کیا تو انصار کے مقابلے میں کامیاب ہوئے ۔تو ان کی کا میابی اگر قرابت کی وجہ سے تھی تو پھر خلافت ہمارا حق ہے نہ کا ۔
اور اگر استحقاق کا کوئی اور معیار ہے تو انصار کا دعوی اپنے مقام پر برقرار رہتا ہے ۔ اور تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میں نے سب خلفا پر حسد کیا ہے اور ان کے خلاف شورشین کھڑی کی ہیں اگر ایسا ہی ہے تو اس سے میں نے تمہارا کیا بگاڑ ا ہے کہ تم سے معذرت کروں ۔بقول شاعر
"یہ ایسی خطا ہے جس سے تم پر کوئی حرف نہیں آتا "
اور تم نے لکھا ہے کہ مجھے بیعت کے لئے یوں کھینچ کر لایا جاتا تھا جس طرح نکیل پڑے اور اونٹ کو کھینچا جاتا ہے ۔
تو خالق کی ہستی کی قسم ! تم اترے تو برائی کرنے پر تھے کہ تعریف کرنے لگے ۔چاہا تویہ تھا کہ مجھے رسوا کرو کہ خود ہی رسوا ہوگئے ۔بھلا مسلمان آدمی کے لئے اس میں کون سی عیب کی بات ہے کہ وہ مظلوم ہو جب کہ وہ نہ اپنے دین میں شک کرتا ہو اور نہ اس کا یقین ڈانوں ڈول ہو اور میری اس دلیل کا تعلق اگرچہ دوسروں سے ہے مگر جتنا بیان یہاں مناسب تھا تم سے کردیا ۔
پھر تم نے میرے اور عثمان کے معاملہ کا ذکر کیا ہے تو وہاں اس میں تجھے حق پہنچتا ہے کہ تجھے جواب دیا جائے کیونکہ تمہاری ان سے قرابت ہے ۔اچھا تو پھر سچ سچ بتاؤ کہ ہم دونوں میں اس کے ساتھ زیادہ دشمنی کرنے والا اور ان کے قتل کاسرو سامان کرنے والا کون تھا ؟

326
وہ کہ جس نے اپنی امداد کی پیش کش کی اور انہوں نے اسے بٹھادیا اور روک دیا یا وہ کہ جس سے انہوں نے مدد چاہی اوروہ ٹال گیا اور ان کے لئے موت کے اسباب مہیا کئے ؟
یہاں تک کہ ان کے مقدر کی موت نے انہیں گھیرا ۔
خدا کی قسم ! اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو جنگ سے دوسروں کو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ اور خود بھی جنگ کے موقع پر برائے نام ٹھہرتے ہیں ۔
بے شک میں اس چیز کے لئے معذرت کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ میں ان کی بعض بدعتوں کو ناپسند کرتا تھا ۔ اگرمیری خطا یہی ہے کہ میں انہیں صحیح راہ دکھاتھا اور ہدایت کرتا تھا تو اکثر ناکردہ گناہ ملامتوں کانشانہ بن جایا کرتے ہیں ۔اور کبھی نصیحت کرنے والے کو بدگمانی کا مرکز بن جانا پڑتا ہے میں نے تو جہاں تک بھی بن پڑا یہی چاہا کہ اصلاح ہوجائے اور مجھے توفیق حاصل ہونا ہے تو اللہ سے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی سے لولگاتا ہوں ۔
تم نے لکھا کہ !" میرے ساتھیوں کے لئے تمہارے پاس بس تلوار ہے " یہ کہہ کر تو تم روتوں کو ہنسانے لگے بھلا بتاؤ کہ تم نے عبدالمطلب کی اولاد کو کب دشمن سے پیٹھ پھراتے ہوئے پایا اور کب تلواروں سے خوف زدہ ہوتے دیکھا ؟
عنقریب جسے تم طلب کررہے ہو وہ خود تمہاری تلاش میں نکل کھڑا ہوگا اور جسے دور سمجھ رہے ہو وہ قریب پہنچے گا ۔میں تمہاری طرف مہاجرین وانصار اور اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین کالشکر جرار لے کر عنقریب اڑتا ہوا آراہا ہوں ۔ایسا لشکر کہ جس میں بے پناہ ہجوم اور گرد وغبار ہوگا وہ موت کے کفن پہنے ہوئے ہوں گے اور ہر ملاقات سے زیادہ انہیں لقائے پروردگار

327
محبوب ہوگی اور ان کے ساتھ شہدائے بدر کی اولاد اور ہاشمی تلواریں ہوں گی جن کی تیز دھار کی کاٹ تم اپنے ماموں ۔بھائی ۔ نانا اور کنبہ والوں میں دیکھ چکے ہو وہ ظالموں سے اب بھی دور نہیں ہے ۔
٭٭٭٭٭