المیہ جمعرات
 

308

فصل ہشتم
کردار معاویہ کی چند جھلکیاں
حضرت علی علیہ السلام کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ "تعرف الاشیاء باضدادھا "چیزوں کی پہچان ا ن کے متضاد سے ہوتی ہے ۔
اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المومینین کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہوسکتی اور اگر کسی نے تپتی ہوئی دھوپ کو سرے سے دیکھا ہی نہ ہو تو اس کے لئے نخلستان کی ٹھنڈی چھاؤں کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل ہوجائے گا ۔
اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو اسے محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ سلم رافت کا صحیح علم نہ ہوسکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک علی علیہ السلام کی عدالت اجتماعی کی قدر منزلت کاپتہ نہیں لگ سکے گا ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ علی کا معاویہ سے موازنہ کرنا ضدین کے مابین موازنہ قرار پاتا ہے اور حضرت علی (ع) اور معاویہ کے کردار میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
مختصر الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی کے لئے وقف تھی ۔ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لئے وقف تھی ۔ حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح جانشین تھے ۔ اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ کے کردار وفضائل کا صحیح جانشین تھا ۔

309
حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد (رض) اور حضرت خدیجہ (رض) کی صفات جمیلہ کے وارث تھے جبکہ معاویہ اپنی ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا ۔
معاویہ نے مکر وفریب سے اپنا مقصد کیا اور امت اسلامیہ آج تک اس کے منحوس اثرات سے نجات حاصل نہیں کرسکی ۔
معاویہ نے قبائلی عصبیتوں کو ازسرنو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کررہی ہے ۔ ہم نے اس فعل میں اس کے کردار کی چند جھلکنا پیش کی ہیں تاکہ انصاف پسند اذہان علی علیہ السلام اور معاویہ کی سیاست کے فرق کو سمجھ سکیں
وبضدّھا تتبین الاشیاء

حضرت حجر بن عدی کا المیہ
مورخ ابن اثیر تاریخ کامل لکھتے ہیں :-
51 ہجری میں حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا ۔ اور اس کا سبب یہ کہ معاویہ نے 41 ہجری میں مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ :- " میں تجھے بہت سی نصیحتیں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم وفراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں ۔ علی کی مذمت اور سبّ وشتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لئے دعا ئے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہمیشہ تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازنا "
مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا عمل کیا وہ ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر بن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ

310
لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کررہے ہو وہ فضل وشرف کا مالک ہے ۔مغیرہ نے حجر بن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کردئیے حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہمارے عطیات بحال کرو ۔
مغیرہ مرگیا اور اس کی جگہ زیاد بن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا ۔ زیادہ نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیرالمومنین علیہ السلام پر سبّ وشتم کرتا تھا ۔ حجر بن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے ۔زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کرکے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے "جرائم" کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لئے اور حضرت حجر بن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کئے تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اکے دو بیٹے استحاق اور موسی اور زبیر کا بیٹا منذرعماد بن عقبہ بن ابی معیط سر فہرست تھے پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل بن حجر الحضرمی اور کثیر بن شہاب کے حوالے کرکے انہیں شام بھیجا۔
زیاد کے دونوں معتمد قیدیوں کو لے کر شام کی طرف چل پڑے جب "مقام غریین" پر یہ قافلہ پہنچا تو شریح بن بانی ان سے ملا اور وائل کو خط لکھ کر دیا کہ یہ خط معاویہ تک پہنچا دینا ۔ قیدیوں کا قافلہ شام سے باہر" مرج عذرا" کے مقام پر پہنچا تو قیدیون کو وہاں ٹھہرایا گیا اور وائل اور کثیر زیاد کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ کو زیاد کا خط دیا جس میں زیاد نے تحریر کیا تھا کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھی آپ کے شدید دشمن ہیں اور ابو تراب کے خیر خواہ ہیں اور حکومت کے کسی فرمان کو خاطر میں نہیں لاتے یہ لوگ کوفہ کی سرزمین کو آپ کے لئے تلخ بنانا چاہتے ہیں لہذا آپ جو مناسب سمجھیں انہیں سزا دیں تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہوسکے ۔

311
اس کے بعد وائل نے شریح بن ہانی کا خط معاویہ کے حوالے کیا جس میں تحریر تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے زیاد نے اپنے محضر نامہ میں میری گواہی بھی لکھی ہے اور حجر کے متعلق میری گواہی یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اس کا خون اور مال تم پر حرام ہے ۔
زیادنے جن محبان علی کو گرفتار کیا تھا ان کے نام درج ذیل ہیں
(1):- حجر بن عدی کندی (2):- ارقم بن عبداللہ کندی (3):- شریک بن شداد حضرمی (4):- صیفی بن فسیل شیبانی (5):- قبیصہ بن صنیع عبسی (6):- کریم بن عفیف خثمی (7):- عاصم بن عوف بجلی (8) :- ورقا بن سمی بجلی (9):- کدام بن حسان عنزی (10):- عبدالرحمن بن حسان غزی (11):- محرر بن شہاب تمیمی (12:- عبداللہ بن حویہ سعدی ۔
درج بالا بارہ افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد دو افراد عتبہ بن اخمس سعد بن بکر اور سعد بن نمران ہمدانی کو گرفتار کرے کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد چودہ ہوگئی ۔
حضرت حجر بن عدی کے واقعہ کو مورخ طبری نے یوں نقل کیا ہے :-
قیس بن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی بن فسیل اصحاب حجر کا سرگروہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے ۔زیاہ نے اسے بلایا ۔جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ "دشمن خدا تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے "؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا ۔
زیاد نے کہا!کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟
صیفی نے کہا:- جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں ۔

312
زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے ۔
صیفی نے کہا!ہرگز نہیں وہ حسن اور حسین کے والد ہیں ۔
پولیس افسر نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے؟ حضرت صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کردوں ؟
زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کررہے ہو ۔میرا عصا لایا جائے ۔
جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو؟
صیفی نے فرمایا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے ۔
یہ سن کر زیادہ نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب زیاد ظلم کرکے تھک گیا تو پھر حضرت صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیاکہتے ہو؟
انہوں نے فرمایا ! اگرمیرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ۔ زیاد نے کہا تم باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا ۔
حضرت صیفی نے فرمایا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہوگا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی ۔
زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کردیا ۔چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا ۔بعد از اں زیاد نے حضرت حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کئے ۔

313
ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ " میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے ۔
زیادہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں ۔میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں ۔
عناق بن شر جیل بن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو ۔مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لئے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو ۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق بن طلحہ بن عبیداللہ اور موسی بن طلحہ اور اسماعیل بن طلحہ اور منذر بن زبیر اور عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط ،عبدالرحمان بن ہناد ،عمربن سعد بن ابی وقاص ،عامر بن سعود بن امیہ ،محرز بن ربیعہ بن عبدالعزی ابن عبدالشمس ،عبیداللہ بن مسلم حضرمی ، عناق بن وقاص حارثی نے دستخط کئے
ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح بن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے ۔
شریح بن ہانی حارثی کو علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کردی ہے میں دنیا وآخرت میں اس گواہی سے بری ہوں ۔ پھروہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل بن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط

314
معاویہ تک ضرور پہچانا ۔اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ نے حجر بن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ،زکواۃ دیتا ہے ، حج وعمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان ومال انتہائی محترم ہے ۔
قیدیوں کو دمشق کے قریب "مرج عذرا " میں ٹھہرا یا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کردیاگیا ۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں –
(1):- حجربن عدی رضی اللہ عنہ (2):- شریک بن شداد حضرمی (3):- صیفی بن فسیل شیبانی (4):- قبیصہ بن ضبیعہ عبسی(5):- محرز بن شہاب السعدی (6):- کدام بن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین ۔
اس کے علاوہ عبدالرحمن بن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کےپاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو ۔زیاد نے انہیں زندہ دفن کرادیا (1)۔
خدا کی رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر ہند بنت زید نے یہ مرثیہ پڑھا تھا :-
ترفع ایھا القمر المنیر ۔۔۔ تبصر ھل تری حجر الیسیر
یسیر الی معاویۃ بن حرب ۔۔۔ لیقتلہ کما زعم الامیر
الا یا حجر حجر بن عدی ۔۔۔ ترفتک السلامۃ والسرور
یری قتل الخیار علیہ حقا ۔۔۔ لہ شر امتہ وزیر
"اے قمر منیر! دیکھو تو سہی حجر جارہا ہے ۔حجر معاویہ بن حرب کے پاس جارہا ہے ۔امیر زیاد کہتا ہے کہ معاویہ اسے قتل کرےگا ، اے حجر بن عدی !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ طبری ۔جلد ششم –ص 155

315
تجھے ہمیشہ سلامتی اور خوشیاں نصیب ہوں ،معاویہ شریف لوگوں کو قتل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اور امت کا بد ترین شخص اس کا وزیر ہے ۔"
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں :-
ایک مسلمان حاکم نے اس گناہ کامباح اور اس بدعت کو حلال سمجھا اپنے لئے کہ ایسے لوگوں کو موت کی سزا دیدے جس کے خون کی اللہ نے حفاظت چاہی تھی اور پھر موت کا حکم بھی حاکم نے ملزموں کو بلا دیکھے اور ان کی کچھ سنے اور ان کو اپنے دفاع کا کچھ حق دیئے بغیر دیدیا ۔حالانکہ انہوں نے باربار مطلع کیا کہ انہوں نے حاکم کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ۔
اس سانحہ نے دور دور کے مسلمانوں کے دل ہلادیئے ۔حضرت عائشہ کو جب معلوم ہوا کہ اس جماعت کو شام بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے عبدالرحمن بن حارث ابن ہشام کو معاویہ کے پاس بھیجا کہ ان کے بارے میں اس سے گفتگو کریں ۔ لیکن جب عبدالرحمن پہنچے تو یہ جماعت شہید ہوچکی تھی ۔
اسی طرح عبداللہ بن عمر کو جب اس دردناک واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے عمامہ سر سے اتارکر لوگوں سے اپنا رخ پھیر لیا اور رونے لگے اور لوگوں نے ان کے رونے کی آواز سنی ۔
حجر کا قتل ایک سانحہ ہے ۔ اس دور کے بزرگوں میں سے کسی نے اس بات پر شک نہیں کیا کہ کہ یہ قتل اسلام کی دیوار میں ایک شگاف تھا اور معاویہ کو بھی اس کا اعتراف تھا چنانچہ وہ اسے اپنے آخری دنوں تک حجر کو نہ بھول سکا اور مرض الموت میں سب سے زیادہ اسے یاد کیا ۔مورخوں اور راویوں کا بیان ہے کہ معاویہ مرض الموت میں کہتا تھا :-حجر تو نے میری آخرت خراب کردی ۔ ابن عدی کے ساتھ میرا حساب بہت لمبا ہے ۔"(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 243