المیہ جمعرات
 

293

قارئین کرام!
آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے عہد نامہ کا مطالعہ فرمایا ۔اس عہد نامہ کو اسلام کا دستور اساس کہا جاتا ہے یہ اس ہستی کاترتیب دیا ہوا ہ ےجو قانون الہی کا سب سے بڑا واقف کار اور سب سے زیادہ اس پر عمل پیرا تھا ۔ ان اوراق سے امیرا لمومینن کے طرز جہانبانی کا جائزہ ل ےکہ یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پیش نظر صرف قانون الہی کا نفاذ اور اصلاح معاشرت تھا ۔ نہ امن عامہ میں خلل ڈالنا نہ لوٹ کھسوٹ سے خزانوں کا منہ بھرنا اور نہ توسیع سلطنت کے لئے جائزہ و ناجائز مسائل سے آنکھ بند کرکے سعی وکوشش کرنا ان کا مقصود تھا۔

بیت المال اور علی (ع)
حضرت علی علیہ السلام بیت المال کے معاملہ میں انتہائی حساس تھا ۔ انہوں نے بیت المال کو ہمیشہ مسلمانوں کامال تصور کیا اور اپنے ذاتی تصرف میں اسے کبھی نہ لائے ۔
سابقہ اوراق میں ہم حضرت عقیل کا واقعہ بیان کرچکے ہیں ۔حضرت علی نے اپنے سگے بھائی کو ان کے حق سے زیادہ ایک درہم دینا بھی گوارا نہ فرمایا ۔ اور شہید کے لئے اپنے فرزند کو نصیحت فرمائی ۔
درج بالا واقعات کے علاوہ اور واقعات بھی بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
ہارون بن عنترہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے موسم سرما میں مقام خورنق پر علی علیہ السلام کو دیکھا ۔انہوں نے بوسیدہ لباس پہنا ہوا تھا اور سردی کی وجہ سے کانپ رہے تھے ۔میں نے ان سے کہا ۔
امیر المومنین ! بیت المال میں اللہ نے آپ کا اور آپ کے خاندان کا حصہ رکھا ہے مگر اس کے باوجود آپ نے کوئی گرم چادر تک نہیں خریدی جو آپ

294
کو سردی کی شدت سے بچائی ؟
میرے الفاظ سن کر حضرت علی نےفرمایا ۔میں اس میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا میں یہ معمولی چادر مدینہ سے لے کر آیا تھا (1)۔
حضرت علی (ع) نے کوفہ کے دارالامارہ میں قیام نہیں کیا تھا ۔انہوں نےایک کچے مکان میں رہائش اختیار کی تھی اور دارالامارہ میں غرباء کو رہائش دی تھی اور آپ نے کپڑے اور غذا خریدنے کے لئے کئی مرتبہ اپنی تلوار فروخت کی تھی ۔ عقبہ بن علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں علی کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں خشک روٹی کا ٹکڑا کھاتے ہو ئے دیکھا ۔ میں نے کہا ۔:
امیر المومنین ! آپ روٹی کے خشک ٹکڑے کھارہے ہیں ؟
آپ نے فرمایا : ابو الجنوب ! رسول خدا اس سے بھی زیادہ سوکھی روٹی کھایا کرتے تھے اور میرے کپڑوں کی بہ نسبت زیادہ کھردرے کپڑے پہنا کرتے تھے اور اگر میں نے حضور اکرم کے طریقہ کو چھوڑ دیا تو ڈر ہے کہ میں ان سے بچھڑ جاؤں گا ۔(2)
ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ علی کے پاس اصفہان سے مال لایا گیا تو آپ نے اس کے سات حصے کئے اور اس کے بعد قرعہ اندازی کی کہ پہلے حصہ کسے دیا جائے (3)۔
یحی بن مسلمہ راوی ہیں کہ حضرت علی نے عمرو بن مسلمہ کو اصفہان کا والی مقرر کیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ بہت سا مال لے کر دربار خلافت میں آیا اور اس مال میں چند مشکیں بھی تھیں جن میں شہد اور مکھن تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- استاد عقاد ۔عبقریۃ الامام علی ۔ص 13۔ و کامل ابن اثیر
(2):- عباس محمود عقاد ۔ عبقریۃ الام علی ۔ ص 20
(3):- الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص 200-202

295
امیر المومنین کی صاحبزادی ام کلثوم نے عمرو کو پیغام بھیجا کہ ان کے پاس مکھن اور شہد بھیجا جائے ۔
عمرو نے دو مشکیزے روانہ کردیئے ۔دوسرے دن حضرت علی علیہ السلام آئے اور مال کی گنتی کی تو اس دومشکیزے کم نظر آئے ۔عمرو سے ان کے متعلق دریافت کیا تو وہ خاموش رہا ۔ آپ نے اسے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے دو مشکیزے آپ کی صاحبزادی کے پاس بھجوائے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی کے گھر سے دونوں مشکیزے طلب کئے ۔مشکیزے جب واپس آئے تو اس میں تین درہم کی مقدار کم ہوچکی تھی ۔ آپ نےتین درہم کی مقدار میں بازار سے شہد اور مکھن خرید کر انہیں پورا کیا اور بعد ازاں مستحقین میں تقسیم کردیا ۔"
سفیان کہتے تھے کہ علی علیہ السلام نے محلات نہیں بنائے اور نہ ہی جاگیر یں خریدیں اور نہ ہی کسی کا حق غصب کیا ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے تلوار فروخت کی اور فرمایا کہ " اگر آج میرے پاس چار درہم ہوتے تو میں اپنی تلوار نہ بیچتا ۔"
آپ کا دستور تھا کہ آپ واقف دکان دار سے سودا نہیں خریدتے تھے اور آپ جو کے آٹے کی تھیلی پر مہر لگادیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں صرف وہی غذا کھانا پسند کرتا ہوں جس کے متعلق مجھے علم ہوتا ہے کہ یہ بلکل طیب وحلال ہے ۔مشتبہ غذا کھانا مجھےپسند نہیں ہے ۔(1)

3 ۔آپ کی تواضع اور عدل
ابن اثیر شعبی کی زبانی رقم طراز ہیں :
حضرت علی (ع) کی زرہ گم ہوگئی ۔آپ نے وہ زرہ ایک نصرانی کے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔203۔

296
دیکھی تو اس نصرانی کو لے کے قاضی شریح کی عدالت میں آئے اور قاضی کے ایک سمت بیٹھ کر نصرانی سے مباحثہ کرنے لگے اور فرمایا کہ یہ میری زرہ ہے اسے نہ تو میں نے فروخت کیا اور نہ ہی ہبہ کیا ہے ۔
شریح نے نصرانی سے کہا کہ تم امیر المومنین کے دعوی کے جواب میں کیا کہنا چاہتے ہو؟
تو نصرانی نے کہا ! زرہ میری ہے لیکن امیر المومنین جھوٹے نہیں ہے ۔
شریح حضرت علی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ کیاآپ کے پاس کوئی ثبوت ہے ؟
حضرت علی علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا کہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
شریح نے زرہ نصرانی کے حوالے کردی اور وہ زرہ لےکر چل پڑا لیکن چند قدم چلنے کے بعد پھر واپس آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیا ء کافیصلہ ہے ۔
امیرالمومنین قدرت رکھنے کے باوجود مجھے قاضی کی عدالت میں لائے اور ان کے قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور انہوں نے کشادہ روئی سے فیصلہ قبول کرلیا ۔
یہ زرہ امیرالمومنین کی ہے اور پھر نصرانی نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا ۔
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں کہ :-
حضرت علی علیہ السلام کی عادت تھی کہ واقف دکاندار سے سودا نہیں خرید تے تھے ۔ تاکہ وہ آپ کو حاکم وقت سمجھ کر رعایت نہ کرے ۔حضرت علی رات کے وقت کھانے کی چیزیں اپنی پشت پر اٹھاتے اور غرباء ومساکین کے گھروں میں پہنچاتے اور انہیں آپ نے کبھی یہ علم نہیں ہونے دیا کہ رات کے وقت ان کی دست گیری کرنے والا کون ہے ۔ جب آپ کی شہادت ہوئی تو پھر فقراء ومساکین کو علم ہوا کہ تاریکی شب میں ان کی مدد کرنے والے علی تھے ۔
لوگوں کی دینی خدمت کا فرض جب تک ادا نہ کرلیتے حضرت علی مطمئن

297
نہ ہوتے چنانچہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ،اپنے قول وعمل سے انہیں تعلیم دیتے ،فقراء ومساکین کو کھانا کھلاتے اور ضرورت مندوں اور مسکینوں کو تلاش کرکے ان کو سوال سے بے نیاز کردیتے اور پھر جب رات ہوتی تو لوگوں سے الگ ہوجاتے اور تنہائی میں معمولات عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔تہجد کی نماز اداکرتے اور رات زیادہ ہوجانے پر آرام فرماتے اور پھر صبح اندھیرے ہی مسجد میں چلے آتے اور فرماتے رہتے ۔ نماز نماز اللہ کے بندو نماز ! گویا مسجد کے سونے والوں کو بیدار کرتے ،اس طرح آپ رات میں کسی بھی وقت اللہ کی یاد سے غافل نہ رہتے ۔
خلوت میں بھی یاد کرتے اور اس وقت بھی جب لوگوں کے مختلف معاملات کے لئے تدبیریں کرتے رہتے اور اس بات کی طرف لوگوں زیادہ متوجہ کرتے کہ آپ سے دینی مسائل دریافت کریں ۔
آپ کو اس کا بے حد خیال تھا کہ مال تقسیم کرتے وقت آپ اپنے قول وفعل میں اپنے ارادے اور تقسمی میں مساوات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔بلکہ سوال کرنے پر جو کچھ آپ دیتے تھے اس میں بھی مساوات کا سخت خیال رکھتے ۔ ایک دن آپ کے پاس دو عورتیں آئیں اور اپنی محتاجی کا اظہار کرکے سوال کیا ۔ آپ نے مستحق جان کر حکم دیا کہ ان کو کپڑا اور کھانا خرید کردیا جائے مزید برآں کچھ مال بھی دے دیا لیکن ان میں سے ایک نے کہا کہ اس کو کچھ زیادہ دیجئے کہ وہ عرب ہے اور اس کی ساتھی غیر عرب ۔
آپ نے تھوڑی سی مٹی ہاتھ میں لی اسے دیکھ کر کہا مجھے معلوم نہیں کہ اطاعت اور تقوی کے علاوہ کسی اور وجہ سے بھی اللہ نے کسی کو کسی پر فوقیت دی ہے ۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ۔ص۔109

298

4۔آپ کی سیاست عامہ کا تجزیہ
حضرت علی علیہ السلام کی حقیقت وفضیلت سےناآشنا افراد کا یہ خیال ہے کہ حضرت عمربن خطاب حضرت علی (ع) سے زیادہ سیاست دان تھے ۔ اگرچہ کہ علی علیہ السلام ان سے علم رکھتے تھے ۔
ابو علی سینا اور اس کے ہم مکتب افراد کا یہی نظریہ ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ علی سیاست کے میدان میں اس لئے کا میاب نہیں ہوسکے کیونکہ وہ ہمیشہ شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے تھے اور انہوں نے صلح وجنگ اور سیاست عامہ میں مصلحت عامہ کو مد نظر رکھا جبکہ حضرت عمر مصلحت عامہ کو مد نظر رکھ کر اجتہاد کیا کرتے تھے اور موقع کی مناسبت کے مطابق نص عمومی میں تخصیص کرتے تھے ارو اپنے مخالفین کے ساتھ حیلہ وفریب کرتے تھے اور درہ اور کوڑے کا بے تحاشہ استعمال کرتے تھے اور بعض اوقات مصلحت کے پیش نظر مجرمین سے در گزر کرتے تھے ۔اور حضرت علی کا طرز عمل اس سے بالکل جداگانہ تھا ۔ آپ نصوص شرعیہ سے سر مو انحراف نہیں کرتے تھے اور اجتہاد اور قیاس کے روادار نہیں تھے ۔ اور دنیاوی امور کی مطابقت ہمیشہ دینی امور سے کیا کرتے تھے اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے تھے اور ہرمعاملہ میں کتاب وسنت کی پیروی کرتے تھے ۔ دینی اور دنیاوی سیاست کی خاطر شریعت کی مخالفت کو جائز نہیں سمجھتے تھے ۔
دنیاوی سیاست کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا اور اس نے یہ بات کئی لوگوں کے سامنے بھی کہی تھی اور جب اس ملزم کو علی علیہ السلام کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں کسی کو جرم سے پہلے سزا نہیں دے سکتا ۔
دینی سیاست کی مثال ملاحظہ فرمائیں ۔ایک شخص کو چوری کی الزام میں

299
آپ کی عدالت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا : جب تک واضح ثبوت یا ملزم کی طرف سے اقرار نہ ہومیں محض شک کی بنا پر اس پر حد جاری نہیں کرسکتا ۔
حضرت علی (ع) کی نظر میں کسی فاسق کو والی مقرر کرناجائز نہیں تھا اور آپ معاویہ بن ابی سفیان کو فاسق سمجھتے تھے ۔ اور انہیں ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہیں تھے ۔
مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے سیاست مداروں نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ فی الحال معاویہ سے تعرض نہ کریں اور جب دیکھیں کہ حکومت مستحکم ہوگئی ہے تواسے معزول کردیں ۔
آپ نے فرمایا کہ میں ایک سال اسلامی صوبہ پر معاویہ جیسے فاسق کی حکومت برداشت نہیں کرسکتا اور میں اس کے لئے کسی مداہنت اور فریب کاری کو جائز نہیں سمجھتا ۔طلحہ وزبیر نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی اور پھر وہ نقض عہد پر تل گئے ۔حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور عمرہ کی اجازت طلب کی ۔آپ نے فرمایا پہلے تو وعدہ کرو کہ مسلمانوں میں تفریق پیدانہ کروگے جب انہوں نے وعدہ کرلیا تو آپ نے انہیں جانے کی اجازت دی ۔
حضرت علی (ع) نے انہیں محض شک وشبہ کی بنا پر مدینہ میں رہنے پر مجبور نہیں کیا ۔
یہ حضرت علی (ع) نے ہمیشہ اصول عدل کی سربلندی کے لئے کا م کیا ۔آپ کے اقتدار کا عرصہ اگرچہ قلیل تھا لیکن دنیا نے سیاست الہیہ کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تاریخ انسانی نے مسجد کوفہ سے قرآن کے سائے میں قائم ہونے والی ایک عظیم فلاحی ریاست کا نقشہ عملی طورپر دیکھ دلیا ۔

300

5- آپ کے چند اقوال زریں
1:- جب دنیا کسی پر مہربان ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے دے دیتی ہے اور جب کسی سے منہ موڑتی ہے تو اس کی ذاتی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے ۔
2:- میرے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق سے زیادہ مخفی کوئی چیز نہ ہوگی ۔اور باطل سے زیادہ کوئی چیز واضح نہ ہوگی اور اس دور میں اللہ پر زیادہ جھوٹ بولے جائیں گے ۔نیکی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھا جائے گا ۔
3:- لوگوں سے ایسی معاشرت رکھو اگر تم مرجاؤ وہ تم پر روئیں اور اگر تم زندہ رہو تو تم سے ملاقات کے خواہش مند ہوں ۔
4:- بھوکے شریف اور شکم سیر کمینے کے حملہ سے بچو ۔
5:- میرے متعلق دو شخص ہلاک ہوں گے ۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے ۔
6:- منافقین سے بچو کیونکہ وہ گمراہ کنندہ ہیں ۔
7:- حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائیدار نہیں ہوئی ۔اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی قراری پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو ۔ اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہو ۔
8:- ہر اس عمل سے بچو جس کا کرنے والا اسے اپنے لئے پسند کرے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے ناپسند کرے اور ہر اس عمل سے بچو جسے خلوت کی گھڑیوں میں کیا جائے اور جلوت میں اس سے پرہیز کیا جائے اور ہر اس عمل سے بچو جب اس کے عمل کرنے والے سے اس کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ اس کا انکار کرے اور معذرت پیش کرے ۔

301
9:-نیکی کے والا نیکی سے بہتر اور برائی کرنے والی برائی سے بدتر ہے۔
10:- صبر دوطرح کا ہے ۔ایک ناپسند امر پر صبر کرنا اور دوسرا پسندیدہ امر سے صبر کرا ۔
11:- مقام رہنمائی پر فائز ہونے والے کوچاہئے کہ دوسروں کی تعلیم سے قبل خود تعلیم حاصل کرے اور لوگوں کو اپنی زبان سے ادب سکھانے نے قبل خود ادب حاصل کرے -
12:- دنیا اور آخرت ایک دوسر ے کی ضد اور نقیض ہیں اور علیحدہ علیحدہ راستے ہیں ۔ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ آخرت سے نفرت کرتا ہے ۔ اور دنیا اور آخرت مشرق ومغرب کی طرح ہیں جتنا کوئی کسی کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی دوسرے سے دور ہوتا ہے ۔
13:- شاہ کا مصاحب شیر پر سواری کرنے والے کی مانند ہوتاہے لوگ تو اس پررشک کرتے ہیں جب کہ اسے خود معلوم ہوتاہے کہ وہ کس پر سوال ہے ۔
14:- جس کی نظر میں اس کے نفس کی عزت ہوتی ہے ، اسے خواہشات کم قیمت نظر آتی ہیں ۔
15:- عدل کی ایک صورت ہے اور ظلم کی کئی صورتیں ہیں اسی لئے ظلم کا ارتکاب آسان اور عدل کا جاری کرنا مشکل ہے اور عدل وظلم کی مثال تیرکے نشانے پرلگنے اور خطا ہوجانے کی مانند ہے ۔
صحیح نشانہ کے لئے کافی محنت اور ریاضت کی ضرورت ہے جبکہ غلط نشانے کے لئے محنت اور ریاضت کی ضرورت نہیں ہے ۔
16:- دنیا دوسری چیزوں سے غافل کردیتی ہے ۔دنیا دار جب ایک چیزحا صل کرلیتا ہے تو اسے دوسروی چیز کا حرص لاحق ہوجاتا ہے ۔
17:- تم ایسے زمانے میں رہ رہے ہو جس میں اچھائی منہ موڑ رہی ہے اور برائی

302
آگے بڑھ رہی ہے ۔
لوگوں کے مختلف طبقات پر نگاہ ڈال کر دیکھو تو تمہیں ایسے فقیر نظر آئیں گے جو اپنے فقر کی شکایات کرتے ہوں گے اور تمہیں ایسے دولت مند نظر آئیں گے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کررہے ہوں گے ۔تمہیں ایسے بخیل نظر آئیں گے جو حقوق الہی میں کنجوسی کرتے ہوں گے اور ایسے سرکش نظر آئیں گے جن کے کان مواعظ کے سننے سے بہرے ہوچکے ہوں گے ۔ اللہ کی لعنت ہو ان لوگوں پر جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔اور برائی سے ورکتے ہیں لیکن خود اس پر عمل کرتے ہیں ۔
18:- مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے اور منافق کا دل ان کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے ۔کیونکہ مومن جب کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس پر خوب غور وخوص کرتا ہے ۔اگر بات اچھی ہوتی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اگر بات اچھی نہ ہو تو اسے چھپا لیتا ہے ۔اور منافق ہر وہ بات کہتا ہے جو اس کی زبان پر آتی ہے اور وہ اس بات کی کبھی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کا فائدہ کس بات میں ہے اور نقصان کس بات میں ہے ۔
19:- خدا کی قسم ! معاویہ مجھ سے زیادہ دانا نہیں ہے لیکن وہ غداری اور مکر وفریب سے کام لیتاہے ۔

حسن علیہ السلام کو وصیت
20:- صفّین سے واپسی پر اپنے فرزند حسن مجتبی کو درج ذیل وصیت لکھائی ،جس کے چیدہ چیدہ نکات ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں :
یہ وصیت ہے اس باپ کی جو فنا ہونے والا اور زمانے کی چیرہ دستیوں کا اقرار کرنے والا ہے ۔ جس کی عمر پیٹھ پھرائے ہوئے ہے اور جو زمانے کی سختیوں

303
سے لاچار ہے اور دنیا کی برائیوں کو محسوس کرچکا ہے اور مرنے والوں کے گھروں میں مقیم اور کل کو یہاں سے رخت سفر باندھ لینے والا ہے ۔
اس بیٹے کے نام ۔جو نہ ملنے والی باتوں کا آرزو مند ،جادہ عدم کا راہ سپار ،بیماریوں کا ہدف ۔زمانے کے ہاتھ گروی ،مصیبتوں کا نشانہ ، دنیا کا پابند اور اس کی فریب کاریوں کا تاجر ، موت کا قرض دار ،اجل کا قیدی غموں کا حلیف ،حزن وملال کا ساتھی ،آفتوں میں مبتلا ،نفس سے عاجز اور مرنے والوں کا جانشین ہے ۔
میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا ،اس کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کے ذکر سے قلب کو آباد رکھنا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا ۔تمہارے اور اللہ کے درمیان جو رشتہ ہے اس سے زیادہ مضبوط اور رشتہ ہو بھی کیا سکتاہے ؟
بشرطیکہ مضبوطی سے اسے تھامے رہو ۔وعظ وپند سے دل کو زندہ رکھنا اور زہد سے اس کی خواہشوں کو مردہ اور یقین سے اسے سہار دینا اور حکمت سے اسے پر نور بنانا ۔موت کی یادہ سے اسے قابو میں کرنا ۔فنا کے اقرار پر اسے ٹھہرانا ۔ دنیا کے حادثے اس کے سامنے لانا ۔گردش روزگار سے اسے ڈرانا ۔ گزرے ہوؤں کے واقعات اس کے سامنے رکھنا ۔تمہارے والے لوگوں پر جو بیتی ہے اسے یاد لانا ۔ان کے گھروں اور کھنڈروں میں چلنا پھرنا ۔
اپنی اصل منزل کا انتظام کرو اور اپنی آخرت کا دنیا سے سودا نہ کرو اور جس بات کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ اور جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس راہ میں قدم نہ اٹھاؤ ۔نیکی کی تلقین کرو تاکہ خود بھی اہل خیر میں محسوب ہو ۔ہاتھ اور زبان کے ذریعہ سے برائی کو روکتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو بروں سے الگ رہو ۔خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر نہ لو ۔حق جہاں ہو ۔

304
سختیوں میں پھاند کر اس تک پہنچ جاؤ ۔دین میں سوجھ بوجھ پیدا کرو سختیوں کو جھیل لے جانے کے خو گر بنو ۔اپنے ہر معاملہ میں اللہ کے حوالے کردو ۔
میرے فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ یقین رکھو کہ جس کے ہاتھ میں موت ہے اسی کے ہاتھ میں زندگی بھی ہے اور جو پیدا کرنے والا ہے ۔وہی مارنے والا بھی ہے ۔اور جو نیست ونابود کرنے والا ہے ،وہی دوبارہ پلٹانے والا بھی ہے ، اورجو بیمار کرنے وال ہے وہی صحت عطا کرنے والا بھی ہے ۔
اے فرزند ! اپنے اور دوسروں کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قراردو اورجو اپنے لئے پسند کرتے ہو ،وہی دوسروں کے لئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے ، وہ دوسروں کے لئے بھی نہ چاہو ۔ جس طرح چاہتے ہو کہ تم پرزیادتی نہ ہو ۔یو نہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ ہو۔ اور جس طرح چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حسن سلوک ہو ،یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ دوسروں کی جس چیز کو برا سمجھتے ہو اسے اپنے میں بھی ہو تو برا سمجھو اور لوگوں کے ساتھ تمہارا جو رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو ۔دوسروں کے لئے وہ بات نہ کہو ۔جو اپنے لئے سننا پسند نہیں کرتے ۔دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محنت مزدوری کرلینا بہتر ہے ۔جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے ۔اور سوچ وبچار سے کام لینے والا صحیح راستہ دیکھ لیتا ہے ۔نیکوں سے میل جول رکھوگے تو تم بھی نیک ہوجاؤ گے ۔ بروں سے بچے رہوگے تو ان کے اثرات سے محفوظ رہو گے ۔
بد ترین کھانا وہ ہے جو حرام اور بد ترین ظلم وہ ہے جو کسی کمزور اور ناتوان پر کیا جائے ۔خبردار امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا ۔کیونکہ امیدیں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں ۔ تجربوں کو محفوظ رکھنا عقل مندی ہے ۔بہترین تجربہ وہ

305
ہے جو پندو نصیحت دے ۔ جو تم سے حسن ظن رکھے ،اس کے حسن ظن کو سچا ثابت کرو ۔باہمی روابط کی بنا پر اپنے کسی بھائی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ پھروہ بھائی کہاں رہا جس کا حق تم تلف کرو ۔یہ نہ ہونا چاہیئے کہ تمہارے گھر والے تمہارے ہاتھوں دنیا جہاں میں سب سے زیادہ بد بخت ہوجائیں ۔جو تم سے تعلقات قائم رکھنا پسند ہی نہ کرت ہو۔ اس کے خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑو تمہار دوست قطع تعلق کرے ۔تو تم رشتہ محبت جوڑنے میں اس پر بازی لے جاؤ اور وہ برائی سے پیش آئے تو تم حسن سلوک میں اس سے بڑھ جاؤ ۔
اے فرزند ! یقین رکھو رزق دو طرح کا ہوتاہے ۔ایک وہ جس کی تم جستجو کرتے ہو اور ایک ہو جو تمہاری جستجو میں لگا ہوا ہے ۔ اگر تم اس کی طرف نہ جاؤگے تو بھی وہ تم تک آکر رہے گا ۔
پردیسی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو ۔ اور جو حق سے تجاوز کرجاتا ہے اس کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے ۔ جو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھتا ۔اس کی منزلت برقرار رہتی ہے ۔ جاہل سے علاقہ توڑنا ، عقل مند سے رشتہ جوڑنے کے برابر ہے ۔جو دنیا پر اعتماد کرکے مطمئن ہوجاتا ہے ۔ دنیا اسے دغا دے جاتی ہے جو اسے عظمت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے وہ اسے پست وذلیل کرتی ہے ۔
راستے سے پہلے شریک سفر اور گھر سے پہلے ہمسایہ کے متعلق پوچھ گچھ کرلو ۔ خبردار ! اپنی گفتگو میں ہنسانے والی باتیں نہ لاؤ ۔اگر چہ وہ نقل قول کی حیثیت سے ہوں ۔عورتوں سے ہرگز مشورہ نہ لو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور ارادہ سست ہوتا ہے ۔انہیں پردہ میں بٹھا کران کی آنکھوں کو تاک جھانک سے روکو ۔کیونکہ پردہ کی سختی ان کی عزت وآبرو کو برقرار رکھنے والی ہے ۔ان کا گھر وں سے نکلنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا کسی ناقابل اعتماد کو گھر میں آنے دینا اور اگر بن پڑے تو ایسا کرنا تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ پہچانتی ہی نہ ہو ۔

306
عورت کو اس کے ذاتی امور کے علاوہ دوسرے اختیارات نہ سونپو کیونکہ عورت ایک پھول ہے وہ کارفرما اور حکمران نہیں ہے ۔
21:- انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے ۔
22:- جو شخص اپنی قدر ومنزلت کو نہیں پہنچانتا وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔
23:- جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو ۔
24:- جو خود رائی سے کام لے گا وہ تباہ وبرباد ہوگا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہوجائے گا ۔

6- حضرت علی (ع) اور انطباق آیات
حضرت علی علیہ السلام کے حق میں قرآن مجید کی بہت سے آیات نازل ہوئیں ۔بقول ابن عباس ان کے حق میں تین سو ساٹھ آیات نازل فرمائیں ۔
حضرت علی (ع) کی زندگی پر درج ذیل آیات مکمل طورپر منطبق ہوتی ہیں :
1:- ومن یطع اللہ والرسول فاولآءک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصالحین وحسن اولآءک رفیقا "۔
اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے تعمتیں نازل فرمائیں یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین اور وہ بہت اچھے رفیق ہیں (سورۃ النساء)
2:-ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتزل علیھم الملائکۃ الّا تخافوا ولا تحزنو! وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیاء وکم فی الحیاۃ الدنیا وفی الآخرۃ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تد عون ۔"

307
بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ( اور کہتے ہیں کہ ) تم نہ ڈرو اور نہ گھبراؤ اور تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیاجاتا تھا ۔ ہم دنیا اور آخرت کی زندگی میں تمہارے دوست ہیں ۔ اور تمہارے لئے جنت میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی خواہش تمہارے دل کریں اور جو کچھ تم پکارو وہ سب موجود ہے (سورۃ فصّلت )
3:- "واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فانّ الجنۃ ھی الماوی "۔
اور جو کوئی اپنے رب کے مقام عظمت سے خوف کرے اور نفس کو خواہشات سے روک لے تو بے شک جنّت (اسکا ) ٹھکانہ ہے (سورۃ النازعات)