المیہ جمعرات
 

254

فصل ششم
تحکیم ۔مارقین ۔شہادت
حضرت علی نے جنگ سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن معاویہ جنگ کے شعلے کا خواہش مند تھا ۔ آخر کار فریقین میں جنگ چھڑ گئی ۔ جب معاویہ نے محسوس کیا کہ اس کا لشکر شکست کھانے والا ہے تو اس نے عمرو بن العاص سے کہا کہ : تمہارے ذہن میں کوئی ایسی ترکیب موجود ہے جس سے ہمارہ لشکر متحد ہوسکے اور ہمارے مخالفین منتشر ہوسکیں ؟
عمرو بن العاص نے کہا : جی ہاں ۔
معاویہ نے کہا :- تم وہ ترکیب یہ ہے تا کہ ہم حتمی شکست سے بچ جائیں ۔
عمرو بن العاص نے کہا کہ : ترکیب یہ ہے کہ قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کیا جائے اور اہل عراق سے کہا جائے کہ جنگ بند کردیں ۔قرآن کے مطابق فیصلہ کریں ۔اس سے اہل عراق میں انتشار پیدا ہوگا اور شامی لشکر مضبوط ہوجائے گا ۔
چنانچہ شامی لشکر نے قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کرکے کہا : اہل عراق ! لڑائی بند کرو اللہ کی کتاب کو فیصل قراردو۔
حضرت علی (ع) کی فوج نے جب قرآن مجید کو دیکھا توکہا ۔ہم اللہ کی کتاب کو لبیک کہتے ہیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : بندگان خدا: اپنے حق پر قائم رہو اور اپنے حق کے اثبات کیلئے جنگ کرتے رہو ۔معاویہ ،عمرو بن العاص اور ابن ابی معیط نہ تو دیندار ہیں اور نہ ہی اہل قرآن ہیں ۔ میں تمہاری بہ نسبت ان لوگوں کو زیادہ بہتر جانتا ہوں ۔ میں انہیں بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے اس عمر تک بخوبی جانتا ہوں ۔انہوں نے قرآن کو صرف دھوکہ دینے کی غرض سے بلند کیا ہے ۔
حضرت علی (ع) کی فوج کی اکثریت نے کہا : یہ بات نازیبا ہے کہ مخالف

255
ہمیں قرآن کی دعوت دے او رہم اس دعوت کو قبول نہ کریں ۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا : میں بھی تو ان سے اسی لئے جنگ کررہا ہوں تاکہ یہ لوگ قرآنی فیصلوں کو تسلیم کریں یہ لوگ احکام خداوندی کی نافرمانی کرچکے ہیں ۔
مگر اہل عراق کی اکثریت نے ہتھیار ڈال دیئے اور جنگ کرنے سے انکار کردیا ۔
حضرت علی کو مجبورا جنگ روکنا پڑی ۔
طے یہ ہوا کہ فریقین اپنا ایک ایک نمائندہ منتخب کریں اور فریقین کے نمائندے جو فیصلہ کریں وہ دونوں کوقبول ہوگا ۔
معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص نمائندہ مقرر ہوا اور اہل عراق نے ابو موسی اشعری کے تقرر کی خواہش کی ۔ حضرت علی نے فرمایا تم جنگ بند کرکے میری نافرمانی کرچکے ہیں اب دوسری مرتبہ میری نافرمانی مت کرو مجھے ابو موسی اشعری پہ اعتماد نہیں ہے ۔میری طرف سے میرا فرزند حسن نمائندگی کرے گا ۔
اہل عراق نے اس پہ اعتراض کیا کہ وہ آپ کا فرزند ہونے کے ناطے خود ایک فریق ہے ۔حضرت علی نے فرمایا اگر تم بیٹے پر راضی نہیں ہو تو پھر میری نمائندگی عبداللہ بن عباس کرےگا ۔
مگر اہل عراق کے عقل پر پتھر برس چکے تھے انہوں نے کہا کہ وہ بھی آپ کے ابن عم ہیں ،ابو موسی ہر لحاظ سے غیر جانبدار ہے ۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ ابو موسی بھروسہ کے قابل نہیں ہے یہ ہمیشہ میری مخالفت میں پیش پیش رہا ہے اور لوگوں کو مجھ سے علیحدہ کرتارہا ہے مگر اہل عراق نے ابو موسی پر اصرار کیا ۔
مجبورا حضرت علی نے فرمایا پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے رہو ۔
اس کے بعد حکمین کے لئے شرائط نامہ لکھا گیا جس کے چیدہ نکات

256
درج ذیل تھے :
یہ معاہدہ علی بن ابی طالب اورمعاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہے ۔
1:- ہم اللہ کے فرمان کی پابندی کریں گے ۔
2:- ہم کتاب اللہ کی پابندی کریں گے ۔
3:- حکمین کتاب اللہ پر خوب غور وخوص کرکے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔
4::- کتاب اللہ میں اگر انہیں اس نزاع کا حل نہ مل سکے تو پھر "سنت جامعہ غیر مفرقہ" کی روشنی میں اس نزاع کا حل تلاش کریں گے ۔
پھر حکمین نے فریقین سے پنی جان ومال کی حفاظت کا وعدہ لیا (1)۔
معاہدہ پر حضرت علی اور معاویہ کے گروہوں میں سے سربرآوردہ افراد نے دستخط کئے اور اس کے ساتھ یہ طے ہوا کہ حکمین مقام "دومۃ الجندل " میں ملاقات کریں گے اور وہیں اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔
حضرت علی اپنے لشکر کو لے کر کوفہ چلے آئے اور معاویہ دمشق روانہ ہوا ۔
جب مذکورہ تاریخ پر دومۃ الجندل کے مقام پر حکمین کی ملاقات ہوئی تو عمرو بن العاص نے ابو موسی اشعری سے کہا کہ تو معاویہ کو خلافت کیون نہیں سونپ دیتا ؟
ابو موسی اشعری :- نے کہا کہ معاویہ خلافت کے لائق نہیں ہے ۔
عمروبن العاص : کیا تجھے علم نہیں ہے کہ عثمان مظلوم ہو کر قتل ہوئے ہیں ؟
ابو موسی اشعری :جی ہاں !
عمرو بن العاص : معاویہ عثمان کے خون کا طالب ہے ۔
ابو موسی اشعری : عثمان کا بیٹا عمرو موجود ہے اس کی موجودگی میں معاویہ عثمان کا وارث نہیں بن سکتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن اثیر /الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص 160 ۔168

257
عمرو بن العاص :اگر آپ میرا کہنا مان لیں تو اس سے عمربن الخطاب کی سنت زندہ ہوجائےگی ۔ آپ میرے فرزند عبداللہ کو خلیفہ بنائیں ۔
ابو موسی اشعری : تیرے بیٹے کو خلیفہ بنانے کی بجائے عبداللہ بن عمر کو کیوں نہ خلیفہ نامزد کیا جائے ؟
عمر بن العاص : عبداللہ بن عمر خلافت کے لائق نہیں ۔خلافت کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کی دو داڑھیں ہوں ۔ایک داڑھ سے خود کھائے اور دوسری سے لوگوں کو کھلائے ۔
ابو موسی اشعری :" میں یہ چا ہتا ہوں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں اور مسلمانوں کو کھلی چھٹی دے دیں و ہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ منتخب کریں ۔"
عمر و بن العاص :- مجھے آپ کی یہ بات پسند ہے ۔اور اسی میں لوگوں کی بھلائی ہے ۔آپ چلیں اور مجمع عام میں اپنے اس فیصلہ کا اعلان کریں ۔
حکمین باہر آئے اور ابو موسی نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا ۔ ہم دونوں ایک نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں اور ہم خلوص دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں امت کی بھلائی ہے ۔
عمرو بن العاص نے کہا : بے شک آپ سچ کہتے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے ابو موسی اشعری کو کہا کہ احتیاط کرو ، اگر تم نے کوئی متفقہ فیصلہ کرلیا ہے تو پہلے عمرو بن العاص سے کہو کہ وہ آکر حاضرین کے سامنے اپنا فیصلہ بیان کرے تم بعد میں گفتگو کرنا ۔ تمہیں شاید علم نہیں ہے کہ تمہارا واسطہ ایک مکار اور عیار شخص سے ہے ۔ لہذا اس پر ہرگز اعتماد نہ کرو اور بولنے میں سبقت نہ کرو ۔
ابو موسی نے عمرو بن العاص سے کہا کہ پہلے تم آؤ اور فیصلے کا اعلان کرو لیکن مکار عمرو بن العاص نے کہا کہ آپ رسول خدا (ص) کے برگزیدہ صحابی ہیں میری

258
کیا مجال کہ میں آپ پر سبقت کروں آپ ہی اعلان میں پہل فرمائیں ۔
ابو موسی اشعری اس کے دھوکے میں آگیا اور اعلان کیا :- اے بندگان خدا! ہم نے اس مسئلہ پر تفصیلی غور کیا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں ۔ اسے کے بعد لوگ جسے چاہیں اپنا خلیفہ مقرر کریں ۔میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتا ہوں ۔
یہ اعلان کرکے ابو موسی اشعری پیچھے ہٹ گیا اور عمرو بن العاص نے آکر کہا : جو کچھ ابو موسی اشعری نے کہا ہے وہ تم نے سن لیا ہے اس نے اپنے ساتھی علی کو معزول کیا میں بھی اسے معزول کرتا ہوں اور میں اپنے ساتھی معاویہ کو خلافت پر بحال کرتاہوں کیوں کہ وہ عثمان بن عفان کا وارث اور اس کے خون کے بدلہ کا طالب ہے اور وہی اس کی نیابت کے قابل ہے ۔
ابو موسی اشعری : -عمرو بن العاص !خدا تجھے غارت کرے تو نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تیری مثال کتے کی جو ہر حالت میں بھونکتا رہتا ہے ۔
عمرو بن العاص ؛- تیری مثال گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا بو جھ لدا ہو ۔
اہل شام نے ابو موسی کی زبان درازی پر اسے سزا دینی چاہی اور اسے تلاش کیا ابو موسی چھپ گيا اور بعد ازاں مکہ چلا گیا ۔
حکمین کے اس فیصلہ کو کسی صورت بھی قرین عد ل نہیں کہا جا سکتا اس فیصلہ میں حق وصداقت کو قتل کیا گیا ہے ۔ابو موسی نے اس فیصلہ میں برادر حضرت علی (ع) سے اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے اور اپنی سادگی اور جہالت کی وجہ سے عمروبن العاص سے دھوکا بھی کھایا ہے اس لئے حضرت علی (ع) نے قرآن بلند کرنے کے وقت ہی فرمایا تھا کہ :- یہ دشمن کی چال ہے تم اس کے دام فریب میں مت پھنسو اور مزید یہ کہ معاویہ ،عمروبن العاص اور ابن ابی معیط کا قرآن سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا دین سے کوئی تعلق ہے ۔

259

عمر بن العاص کی شخصیت
تحکیم کی بحث سے پہلے ہم عمرو بن العاص کی شخصیت کے متعلق کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو معاویہ کے "دست راست" کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہوسکیں ۔عمرو کا باپ عاص السہمی ان لوگوں میں شامل تھا جو حضور کریم کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور انہیں کے متعلق اللہ تعالی نے سورۃ کوثر میں ارشاد فرمایا : انّ شائنک ھو الابتر" بے شک تیرا دشمن ہی بے نام ونشان ہوگا ۔(1)
"مستہزئین" یعنی حضور اکرم (ص) کا ٹھٹھہ مذاق اڑانے والی جماعت کے دوسرے افراد کا ذکر کرتے ہوئے ابن خلدون لکھتے ہیں :- جب قریش نے دیکھا کہ رسول خدا کا چچا اور ان کا خاندان محمد مصطفی (ص)کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہیں اوروہ کسی بھی قیمت پر رسول خدا (ص) پر آنچ نہیں آنے دیتے تو انہوں نے یہ وطیرہ بنایا کہ باہر سے جو بھی شخص مکہ آتا وہ اس کے پاس پہنچ جاتے اور اسے بتاتے کہ ہمارے ہاں ایک جادوگر ،شاعر اور مجنون موجود ہے ۔تم اس کی باتوں میں نہ آنا ۔(نعوذ باللہ)
اور رسول خدا کی اذیت وجماعت کے لئے ایک پوری جماعت تشکیل دی گئی جس میں ربیعہ کے دو بیٹے عتبہ اور شبہ اور عقبہ بن ابی المعیط اور ابو سفیان اور حکم بن امیہ اور عاص بن وائل اور اس کے دو چچا زاد نبیہ اور منبہ شامل تھے ۔
یہ لوگ ہر جگہ رسولخدا (ص)کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔اور اگر کبھی موقع پاتے تو حضور اکرم کو اپنے ہاتھوں سے بھی اذیت پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے ۔
عمرو بن العاص کی ماں اپنے زمانہ کی مشہور بدکردار عورت تھی جو اہل ثروت کے بستر کی زینت بنا کرتی تھی اور اس کے گھر پر اس دور کے دستور کے مطابق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن اثیر ۔ الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص 49-50

260
جھنڈا بندھا رہتا تھا
جب عمرو کی پیدائش ہوئی تو اس پر عاص اور ابو سفیان کا جھگڑا ہوا ، دونوں اسے اپنے نطفہ کا ثمر قرار دیتے تھے ۔چنانچہ جب ان کے درمیان اختلاف بڑھا تو فیصلہ کے لئے اس کی ماں کی رائے دریافت کی گئی اس نے کہا کہ یہ عاص کا بیٹا ہے ۔
جب اس عورت سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنے بیٹے کا الحاق ابو سفیان کی بجائے عاص سے کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ ابو سفیان کنجوس ہے جب کہ عاص مجھ پر بے تحاشہ دولت لٹا تا ہے ۔
ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے ۔اور ماں کی شخصیت بچہ پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ عمرو اسی ماں کا دودھ پی کر بڑھا اور دشمن رسول (ص) باپ کی تربیت میں رہا ۔جب ماں اس قماش کی ہو اور باپ کا طرز عمل یہ ہو تو اولاد کب نجیب ہو سکتی ہے ۔(1)
عمر وبن العاص عنفوان شباب میں اسلام کا بد ترین دشمن تھا اور غزوہ احد میں کفار کے ساتھ شامل تھا اور غزوہ احد کیلئے اس کے شعر بھی بڑے مشہور ہیں ۔
جب عمرو نے دیکھا کہ رسول خدا(ص) ہر مقام پر فاتح بن رہے ہیں تو اسے اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ۔اس نے کھلم کھلا دشمنی کے بجائے دغا بازی اور مکاری سے کام کیا ۔
ابن ہشام عمرو کی زبانی نقل کرتے ہیں ۔
جب ہم غزوہ احزاب سے بے نیل ومرام واپس آئے تو میں نے قریش کے ان چند سرکردہ افراد کو جمع کیا جو میری بات سنتے اور مانتے تھے ۔
میں نے ان سے کہا کہ : میں دیکھ رہا ہوں کہ محمد کا امرروز بروز ترقی کررہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن خلدون ۔کتاب العبرودیوان المبتداوالخبر ۔جلد دوم ۔ص 177
وعبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص 270

161
ہے ،میرا خیال یہ ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اگر محمد ہماری قوم پر غالب آگئے تو ہمارے لئے محمد کی غلامی کی بہ نسبت نجاشی کی غلامی ہزار گنا بہتر ہوگی اور اگر ہماری قوم محمد غالب آگئی تو ہم اپنی قوم کا ساتھ دیں گے ۔(1)
عمرو بن العاص وہی شخص ہے جس نے عثمان بن عفان کو عبیداللہ بن عمر پر جاری کرنے سے منع کیا تھا ۔ اور انہیں کہا تھا کہ ہرمزان اور جفینہ کا بدلہ آپ پر واجب ہی نہیں ہے کیونکہ جس وقت عبیداللہ نے ان کو قتل کیا تھا اس وقت آپ حاکم نہیں تھے ۔(2)
ہمیں عمرو بن العاص پر تعجب ہے کہ اس نے حضرت عثمان کو ہرمزان اورجفینہ کے قتل کے بدلہ سے اس لئے بری قراردیا تھا کہ جب مذکورہ افراد قتل ہوئے تو اس وقت حضرت عثمان کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی لیکن قتل عثمان کے بعد حضرت علی سے قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے میں یہ شخص پیش پیش تھا تو کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب عثمان قتل ہوئے اس وقت حضرت علی کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ۔

عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس
عمرو بن العاص کے متعلق ہم سابقہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ موصوف حضرت عثمان کے شدید ترین مخالفوں میں سے ایک تھے اور اپنے ہر ملنے والے کو حضرت عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا کرتے تھے اور اپنے قول کے مطابق "میں نے جس چرواہے سے بھی ملاقات کی ۔اسے عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا ۔"
موصوف نے معاویہ بن ابی سفیان کا ساتھ مفت میں نہیں دیا تھا اس کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- سیرت ابن ہشام ۔جلد دوم ص 177
(2):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد چہارم ۔ص 83

262
باقاعدہ معاویہ سے قیمت وصول کی تھی ۔عمرو بن العاص خلیفہ ثالث کے عہد میں مصر کا گورنر تھا ۔ لیکن حضرت عثمان نے انہیں گورنری سے معزول کرکے ابن ابی سرح کو وہاں کا حاکم بنایا ۔
عمرو بن العاص کو اس پر بہت غصہ آیا اور عثمان کے ساتھ اس کی اچھی خاصی جھڑپ ہوئی اور بعد ازاں اپنی جاگیر پر آیا اس کی جاگیر فلسطین میں واقع تھی ۔وہاں اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ رہنے لگا اور مقامی آبادی کو حضرت عثمان کے خلاف ابھارتا رہا ۔ آخر کار وہ وقت آیا جس کا اسے انتظار تھا اس کو اطلاع ملی کہ حضرت عثمان مارے گئے اور حضرت علی (ع) خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے ہیں اور معاویہ نے مرکزی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا ہے ۔
معاویہ نے اسے اپنے ساتھ شمولیت کی دعوت دی تو اس نے مصر کی حکومت کا تحریری وعدہ لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا ۔ معاویہ نے اسے تحریر لکھ دی کہ اگر وہ مصر پر قابض ہوا تو وہاں گورنری اس کے حوالے کرے گا ۔
اس نے اپنے دونوں بیٹوں سے اپنے مستقبل کی سیاسی زندگی کے لئے مشورہ لیا ۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر تجھے ہر صورت حصہ لینا ہی ہے تو پھرعلی (ع)جماعت میں شامل ہو جا ۔
عمرو نے بیٹے ے کہا : اگر میں علی (ع) کی جماعت میں شامل ہوجاؤں تو مجھے وہاں سے کوئی مفاد حاصل نہیں ہوگا ۔
علی (ع) میرے ساتھ عام مسلمان کا سابرتاؤ کریں گے اور اس کے برعکس اگرمیں معاویہ کے پاس چلا گیا تو وہ میری بڑی عزت کرے گا اور اپنا مشیر خاص بنائے گا اور حسب وعدہ مصر کی حکومت بھی میرے حوالے کرے گا ۔
اس کے دوسرے بیٹے محمد نے معاویہ کے پاس جانے کا مشورہ دیا ۔ عمرو بن العاص نے اپنے بیٹے عبداللہ کے متعلق کہا کہ : تو نے مجھے آخرت سنوارنے کا

263
مشورہ دیا ہے اور میرے دوسرے بیٹے محمد نے مجھے دنیا سنوارنے ک مشورہ دیا ہے ۔ آخرت ادھار ہے اور دنیا نقد ہے ، عقلمند وہی ہے جو ادھار کو چھوڑ کر نقد کو اپنا ئے ۔
عمرو بن العاص ، معاویہ کے پاس آیا اور دوران ملاقات کہا کہ : معاویہ خدا لگتی بات یہی ہے کہ ہم علی (ع) سے افضل نہیں ہیں کہ اس کی مخالفت کریں ، ہم تو علی (ع) کی مخالفت حصول دنیا کی خاطر کررہے ہیں ۔(1)
تحکیم میں معاویہ کا نمائندہ یہی عمرو بن العاص تھا ۔
حضرت علی کانمائندہ ابو موسی اشعری تھا اوروہ جب کوفہ کا والی تھا تو لوگوں کو حضرت علی (ع) کی حمایت سے منع کرتا تھا ،آخر کار حضرت علی نے مجبورا اسے معزول کردیا تھا ۔

تحکیم اور موقف علی (ع)
حضرت علی (ع) کے موقف تحکیم کو سمجھنے کے لئے تحکیم کی اصلیت وماہیت کا جاننا ضروری ہے ۔
دینی اعتبار سے پوری امت اسلامیہ کا مشترکہ عقیدہ ہے کہ باہمی مشاجرات وتنازعات کے حل کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئیے اور حضرت علی کا بھی روز اول سے یہی نظریہ تھا ۔
حضرت علی (ع) کی سیاست کی بنیاد ہی قرآن مجید پر تھی آپ نے ہمیشہ اپنوں اور غیروں سے وہی سلوک کیا جس کا قرآن حکم دیتا تھا ۔
اور اسی تمسّک بالقرآن اور عدل قرآنی پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ کو چھوڑ کر مخالفین کے پاس چلے گئے تھے لیکن آپ نے عدل قرآنی کو ہمیشہ مقدّم رکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-عباس محمود العقاد ۔"معاویہ بن ابی سفیان ۔ص 53-55

264
حضرت علی قرآن کے فیصلہ کے حامی تھے قیام صفین میں حضرت علی نے تحکیم کی مخالفت صرف اس لئے فرمائی تھی کہ دشمن قرآن کو بلند کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔
تحکیم کی دعوت ہی وہ افراد دے رہے تھے جنہوں نے ہمیشہ قرآن اور صاحب قرآن سے جنگیں کی تھیں اور تحکیم کی دعوت دینے والے وہ افراد تھے جنہوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن کی کبھی پیروی نہ کی تھی ۔
عمرو بن العاص نے قرآن بلند کرنے کا مشورہ اتباع قرآن کے اشتیاق میں نہیں دیا تھا بلکہ اپنی حتمی شکست سے بچنے کے لئے دیا تھا ۔
قرآن مجید بلند کرنے کےلئے پورا پروگرام رات کی تاریکی میں مکمل کیا گیا ۔ دمشق کے مصحف اعظم کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پانچ نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔ علاوہ ازیں لشکر معاویہ میں جتنے قرآن مجید کے نسخے موجود تھے ، ان سب کو یکجا کیا گیا اور نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔
صبح صادق کے وقت شامی قرآن اٹھا کر عراقی لشکر کے سامنے آیا ۔ روشنی پھیلنے سے قبل عراقی لشکر کو پتا ہی نہ چل سکا کہ شامی لشکر نے کیا بلند کیا ہوا ہے ۔
جیسے ہی صبح کی روشنی پھیلی تو لشکر شام کا ایک افسر ابو الاعور السلمی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھا ، اس نے اپنے سر پر قرآن رکھا تھا اور یہ اعلان کررہا تھا :
"اے اہل عراق ! اللہ کی کتاب تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی یہ سن کر حضرت علی نے فرمایا ۔
بندگان خدا! میں سب سے پہلے کتاب اللہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتاہوں لیکن یاد رکھو کہ یہ لوگ قرآن کی آڑ میں تمہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں اب یہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں اور چند حملوں کے بعد انہیں شکست فاش ہونے والی ہے

265
یہ لوگ قرآن بلند کرکے قضائے مبرم کو ٹالنا چاہتے ہیں ۔
ان سب حقائق کے علم کے باوجود بھی میں کتاب اللہ کو بطور حکم تسلیم کرتاہوں میں نے اہل شام سے جنگ قرآن کی حاکمیت اعلی تسلیم کرانے کے لئے کی ہے ۔(1)
حضرت علی (ع) نے نامناسب وقت اور حالات کے باوجود بھی قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا اور ابو سفیان کے بیٹے کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا :
"بغاوت اور جھوٹ انسان کے دین ودنیا کو تباہ کردیتے ہیں اور مخالفین کے سامنے اس کے نقائص کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں اور تجھے معلوم ہوا چاہیے کہ تیرے ہاتھ سے وقت اور موقع نکل چکا ہے ۔
جب کبھی لوگوں نے ناحق دعوے کئے اور کتاب خدا کو اپنے غلط دعوی کے اثبات کے لئے پیش کیا مگر اللہ نے انہیں جھٹلایا اور آج تو نے ہمیں قرآن کی دعوت دی میں جانتا ہوں کہ اہل قرآن نہیں ہے ۔ میں نے تیری بات کو تسلیم نہیں کیا ، میں نے قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا ہے ۔"
حضرت علی (ع) نے ایک اور موقع پر معاویہ کو مخاطب کرکے کہا :- اللہ نے تیرے ذریعہ سے میری آزمائش کی اور میرے ذریعہ سے تیری آزمائش کی ہے ۔ہم اور مجھ سے اس چیز کا مطالبہ کیا ہے ۔جس میں میری زبان اور ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔
تو نے اہل شام کو اپنے ساتھ ملا کر میری نافرمانی کی ۔تمہارے علما نے تمہارے جہال کو گمراہ کیا اور مخالفت کرنے والوں نے گھر بیٹھے ہوئے افراد کو میری مخالفت پر آمادہ کیا ۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الدینوری ۔الاخبار الطوال۔ص 191-192
(2):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص 113-160

266
درج بالا حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی (ع) قرآن کی حاکمیت اعلی کے خواہاں تھے لیکن جن حالات میں معاویہ نے دعوت تحکیم دی وہ حضرت علی (ع) کے لئے قابل قبول نہیں تھی اس کے علاوہ حضرت علی (ع) کو ابو موسی اشعری کے نمائندے بننے پر بھی اعتراض تھا ۔
عمرو بن العاص معاویہ کی نمائندگی کے لئے ہر طرح موزوں تھا ،جبکہ ابو موسی اشعری حضرت علی (ع) کی نمائیندگی کے لئے کسی طور بھی موزوں نہ تھا ۔مگر اہل عراق کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ نے اسے بھی بادل نخواستہ قبول کر لیا اور آپ نے یہ سوچا کہ جب حکمین فیصلہ کے لئے اکٹھے ہوں گے تو ممکن ہے کہ ابو موسی اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرلے ۔
اور آپ کا یہ خیال کہ حکمین درج ذیل نکات پر بحث کریں گے ۔
1:- کیا حضرت عثمان ناحق قتل ہوئے ہیں ؟
2:- کیا معاویہ کو خون عثمان کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ؟
3:- اگر بالفرض عثمان مظلوم ہو کر مارے گئے ہیں تو اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے خلیفہ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟
مگر حکمین نے اصل موضوع پر بحث ہی نہیں کی اور عمرو بن العاص نے ابو موسی کے کان میں یہ فسوں پھونکا کہ امت کی سلامتی اس میں ہے کہ دونوں کو رخصت کردیا جائے ۔ ابو موسی اشعری اپنی علی (ع) دشمنی اور سادگی کی وجہ سے عمرو بن العاص کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنستا چلا گیا اور آخر وقت تک اسے عمرو بن العاص کی چالاکی اور مکاری کا ادراک نہ ہوسکا ۔
اور عمرو بن العاص نے ایک سیدھے سادے بدو کی جہالت سے خوب فائدہ اٹھایا اور میدان میں ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ۔

267

حضرت علی (ع) کی مشکلات
تحکمیم کے نتیجہ میں خوارج کا ظہور ہوا ۔ خوارج کا گروہ فرومایہ اور جذباتی افراد پر مشتمل تھا ۔ جن کی نظر میں دلیل ومنطق کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔
حضرت علی (ع) کی مشکلات بیان کرتے ہوے ڈاکٹر طہ حسین رقم طراز ہیں :-
"حضرت علی (ع) کے لئے خوارج درد سر بن گئے نہروان میں تمام خوارج کا خاتمہ نہیں ہوا تھا البتہ ان کی ایک جماعت قتل ہوگئی تھی لیکن وہ ابھی کوفہ میں آپ کے ساتھ رہتے تھے اور بصرہ میں آپ کے گورنر کے ساتھ علاوہ ازیں کوفہ وبصرہ کے قرب وجوار میں پھیلے ہوئے تھے ۔
یہ خارجی نہروان میں قتل ہونے والے اپنے بھائیوں کا قصاص دل سے بھلانہ سکے تھے اور نہروان کی شکست ان کے فکر ونظر کے کسی گوشہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کرسکی بلکہ اس سے ان کی قوت میں اور اضافہ ہوا اور ان کو وہ مذموم اور ہولناک طاقت بھی ملی جس کا سرچشمہ بغض ،کینہ اور انتقام کے جذبات ہیں ۔
حالات و واقعات نے ان خارجیوں کے لئے ایک محاذ اور ایک پالیسی بنادی جس سے وہ اپنی طویل تاریخ میں کبھی منحرف نہیں ہوئے۔اور وہ محاذ اور پالیسی یہ تھی کہ خلفاء کے ساتھ مکاری اور فریب کیا جائے لوگوں کو ان کے خلاف ابھاراجائے ۔کسی بات میں ان کا ساتھ نہ دیا جائے اگڑ اقتدار اور قوت نہ ہو تو اپنے مسلک کی دعوت پیدا ہوجائے تو چھپ چھپا کر یا کھلے بندوں شہر سے دور باہر نکال کر ایک جگہ جمع ہوجائیں اور مقابلہ کی صورت میں اپنی نافرمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلواریں بے نیام کرلیں ۔
چنانچہ کوفہ میں حضرت علی کے گرد وپیش یہ لوگ مکروفریب کی کاروائیاں

268
کرتے رہے اور گھات میں لگے لوگوں کے خیالات اور دلوں کو پھراتے رہے ۔ آپ کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتے ،آپ کے خطابات اور آپ کی باتیں سنتے ،بعض اوقات خطبے اور گفتگو میں قطع کلامی بھی کرتے لیکن اس کے باوجود آپ کے انصاف سے مطمئن اور آپ کی گرفت سے بے خوف تھے ۔خوب جانتے تھ ےکہ جب تک پہل خود ان کی طرف سے نہ ہوگی ،آپ نہ ان پر ہاتھ اٹھائیں گے نہ ان کی پردہ دری کریں گے اور یہ مال غنیمت میں حصہ پاتے رہیں گے اور وقتا فوقتا جو کچھ ملتا رہے گا اس سے مقابلہ کی تیاری کریں گے ۔
حضرت علی (ع) کے اس عفو وعدل نے خارجیوں کے حوصلے بڑھا دیئے تھے ۔
آپ ان کے ارادوں سے پوری طرح باخبر اور اکثر اپنی داڑھی اور پیشانی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کرتے تھے کہ یہ ان سے رنگین ہورکر رہے گی چنانچہ جب آپ ساتھیوں کی نافرمانیوں سے اکتا جاتے تو خطبوں میں اکثر فرمایا کرتے "بد بخت نے کیوں دیر لگا رکھی ہے "
خوارج کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی آپ کے سامنے آجاتے اور بلاتردد اپنے خیالات کا اظہار کرتے چنانچہ ایک دن حریث بن راشد سامی آیا اور کہنے لگا :
خدا گواہ کہ میں نے نہ آپ کی اطاعت کی اور نہ آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے فرمایا : خدا تجھے غارت کرے تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ، اپنا عہد توڑا اور اپنے آپ کو دھوکا دیتا رکہا آخر تو ایسا کیوں کرتا ہے ؟
اس برملا مخالت کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نہ تو اس پر خفا ہوئے اور نہ ہی اسے گرفتار کیا بلکہ اسے مناظرے کی دعوت دی شاید وہ حق کی طرف لوٹ سکے ۔
اس کے بعد وہ رات کی تاریکی میں کوفہ سے لڑائی کے ارادے سے نکل گیا ۔راستے میں اس کو اور اس کے ساتھیوں کو دو آدمی ملے جن سے ان کا مذہب پوچھا گیا ۔ ان میں سے ایک یہودی تھا ۔ اس نے اپنا مذہب بتا دیا ۔ اس کو ذمّی

269
خیال کرکے چھوڑ دیا گیا اور دوسرا عجمی مسلمان تھا ۔جب اس نے اپنا مذہب بتایا تو اس سے حضرت علی (ع) کے بارے میں سوال پوچھا گیا ۔اس نے حضرت علی (ع) کی تعریف کی تو اس کے ساتھی اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو قتل کردیا ۔(1)
ناکثین ، قاسطین ، اور مارقین غرضیکہ یہ تینوں گروہ حضرت علی کے مخالفین تو تھے ہی لیکن حضرت علی کو غیروں کے علاوہ اپنوں کی طوطا چشمی کی بھی شکایت تھی ۔ عبداللہ بن عباس جو حضرت علی کی طرف سے بصرہ میں گورنر تھے اور حضرت علی (ع) کے ابن عم تھے اور ان کے پاس دین ودنیا کا بھی وسیع علم تھا اور انہیں قریش میں عمومی اور بنی ہاشم میں خصوصی مقام تھا وہ بھی حضرت علی (ع) کے مخلص نہ رہے ۔
ابو الاسود ؤلی بصرہ کے بیت المال کے خازن تھے انہوں نے عبداللہ بن عباس کی طرف سے مالی بے ضابطہ گیاں ملاحظہ کیں تو انہوں نے حضرت علی (ع) کو خط لکھ کر مطلع کیا حضرت علی (ع) نے ابن عباس کو خط لکھا جس میں تحریر کیا :
"مجھے تمہارے متعلق کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں اگر تم نے واقعی ایسا کیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اپنی امانت میں خیانت کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور مسلمانوں کے مال میں خیانت کے مرتکب ہوئے لہذا تمہارا فرض ہے کہ اپنا حساب لے کرمیرے پاس آجاؤ اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کا حساب لوگوں کے حساب سے سخت ہے ۔"
حضرت علی (ع) مالی بے ضابطگی کو کسی بھی صورت معاف کرنے کے عادی نہیں تھے اور مسلمانوں کے مال کے متعلق کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے ۔
لیکن ابن عباس نے حساب دینے کے بجائے بصرہ کی گورنری کو چھوڑ دیا اور مکہ چلے گئے ،لیکن مقام افسوس تو یہ ہے کہ وہ بصرہ سے خالی ہاتھ نہیں گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 133

270
بصرہ کے بیت المال کو صاف کرکے روانہ ہوئے اور بنی تمیم نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی حالات کے تغیر کو دیکھ کر ابن عباس نے اپنے ماموؤں یعنی بن ازد کی پناہ لی ۔ اور مذکورہ مال کی وجہ سے بنی ازد اور بنی تمیم میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی ۔آخر کا ابن عباس مال لے جانے میں کامیاب ہوگئے جب کہ ابن عباس کو بخوبی علم تھا کہ یہ مال ان کا نہیں ہے ۔(1)
دن گزر نے کے ساتھ ساتھ حضرت علی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ، گورنروں کی جانب سے خیانت سامنے آئی اور دشمنوں کی طرف سے جفائیں سامنے آئیں مگر ان حوصکہ شکن حالات میں بھی حضرت علی نے جادہ حق سے سرمو انحراف نہ کیا اور اپنی قرآنی سیاست سے ایک انچ ہونا گوارا نہ کیا ۔ یکے بعد دیگرے مشکلات بڑھتی گئیں مگر شیر خدا نے مشکلات میں گھبرانا نہیں سیکھا تھا ۔ حضرت علی (ع) نے زندگی کے آخری نفس تک حق وصداقت کے پر چم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اور انہوں نے ہمیشہ حق کی سربلندی کے لئے مصائب کے دریا عبور کیا یہاں تک کہ ابن ملجم لعین نے آپ کو شہید کردیا ، لیکن حضرت علی (ع) کے عدل کو ملاحظہ فرمائیں کہ اپنے قاتل کے لئے بھی حق سے ہٹنا قبول نہ کیا اور اپنی اولاد کو آخری وصیت میں ارشادفرمایا :" اپنے قیدی کو اچھا کھانا دینا ۔اگرمیں اس ضرب سے بچ گیا تو میں اپنے قصاص کا خود مالک ہوں مجھے اختیار ہوگا کہ اسے معاف کروں یا اس سے بدلہ لوں اور اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم قاتل کو ایک ضرب سے زیادہ ضربیں نہ مارنا کیوں کہ اس نے مجھ پر ایک ضرب چلائی تھی اور قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔اللہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الفتنتہ الکبری ۔ علی وبنوہ ۔129